سوال:
بھوک ہڑتال کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟
جواب:
بھوک ہڑتال حرام ہے۔ اپنے مطالبات منوانے کے لیے اس طرح کے حیلے قطعاً نامناسب ہیں۔
❀ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ
(سورة البقرة: 195)
خود کو ہلاکت میں مت ڈالو۔
❀ فرمان باری تعالیٰ ہے:
وَلَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ
(سورة النساء: 29)
اپنے آپ کو قتل مت کرو۔
❀ علامہ ابو الولید باجی رحمہ اللہ (474ھ) فرماتے ہیں:
لا خلاف أنه لا يجوز له قتل نفسه بالإمساك عن الأكل وأنه مأمور بالأكل على وجه الوجوب
اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ کسی کے لیے جائز نہیں کہ وہ کھانا ترک کر کے خودکشی کر لے، نیز کھانا کھانا واجب حکم ہے۔
(المنتقى شرح الموطأ: 141/3، المسالك شرح موطأ الإمام مالك لابن العربي المالكي: 324/5، تفسير القرطبي: 233/2)
❀ مفتی احمد یار خان نعیمی بریلوی رحمہ اللہ (1971ء) سورة الملک (آیت: 15) کے تحت لکھتے ہیں:
معلوم ہوا کہ کھانا فرض ہے، کیونکہ اس سے زندگی کی بقا ہے اور زندگی تمام عبادات کا مدار ہے، اس لیے مرن پرت رکھنا، بھوک ہڑتال کرنا حرام ہے۔
(نور العرفان، ص 898)