بھتیجے کے نام وصیت اور وراثت کی شرعی تقسیم”

فونٹ سائز:
ماخوذ : فتاویٰ راشدیہ، صفحہ نمبر 569

سوال

علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کیا فرماتے ہیں کہ حسن علی کا انتقال ہوگیا اور اس کے ورثاء میں چار بھتیجے، دس بھتیجیاں اور ایک بھانجہ ہے۔ جبکہ فوت ہونے والے نے اپنی زندگی کے آخری وقت میں پوری جائیداد کی وصیت صرف ایک بھتیجے کے نام پر کی۔ اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

جواب

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

یہ بات جاننی چاہیے کہ میت کے چھوڑے ہوئے مال کے بارے میں شرعی ترتیب یہ ہے:

سب سے پہلے اس مال میں سے میت کے کفن و دفن کا خرچ نکالا جائے۔
دوسرے نمبر پر اگر میت پر کوئی قرض باقی ہے تو وہ ادا کیا جائے۔
تیسرے نمبر پر اگر میت نے کسی کے لیے وصیت کی ہے تو وہ وصیت مال کے صرف ایک تہائی حصے تک پوری کی جائے گی۔

لیکن سوال میں ذکر کردہ صورت میں بھتیجے کے نام کی وصیت پر عمل نہیں کیا جائے گا، کیونکہ بھتیجا میت کا وارث ہے اور وارث کے لیے وصیت کرنا جائز نہیں ہے۔ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

((لا وصية لوارث))
(مسند احمد، ج ٤، ص ٨٦، رقم: ١٧٦٨٠)

یعنی: وارث کے لیے وصیت جائز نہیں ہے۔

لہٰذا اس اصول کے مطابق بھتیجے کے نام کی وصیت کالعدم ہے اور اس میں سے بھتیجے کو کچھ نہیں دیا جائے گا۔

ترکہ کی تقسیم

اب میت کے کل ترکے کو ایک روپیہ فرض کر کے اس کی تقسیم یوں ہوگی:

◄ چاروں بھتیجے وارث ہیں، اس لیے تمام جائیداد انہی میں تقسیم ہوگی۔
◄ ہر بھتیجے کو چار آنے ملیں گے۔
◄ دس بھتیجیاں اور بھانجہ ترکے سے محروم رہیں گے، انہیں کچھ نہیں ملے گا۔

موجودہ اعشاری نظام میں تقسیم

کل ترکہ = 100 حصے

چار بھتیجے (عصبہ 100%) → ہر بھتیجے کو 25، 25 حصے
دس بھتیجیاں → محروم
بھانجہ → محروم

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب