مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

بھائی اور بھتیجے کے درمیان ترکہ کی تقسیم کا شرعی حکم

فونٹ سائز:
ماخوذ : فتاویٰ راشدیہ، صفحہ نمبر 614

سوال

علماء دین اس مسئلہ میں کیا فرماتے ہیں کہ بنام حاجی ابوطالب کا انتقال ہوگیا، جس نے ورثاء میں ایک بھائی جان محمد اور بھتیجے چھوڑے۔ شریعت محمدی کے مطابق ہر ایک کو کتنا حصہ ملے گا؟

(سائل: جان محمد)
(1) گواہ: حاجی محمد صادق
(2) نور محمد
(3) محمد قاسم
(4) حاجی غلام قادر

جواب

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

سب سے پہلے یہ بات ذہن نشین کر لی جائے کہ مرحوم کی ملکیت سے سب سے پہلے اس کے کفن دفن کے اخراجات نکالے جائیں گے۔
اس کے بعد اگر مرحوم پر کوئی قرض باقی ہو تو اسے ادا کیا جائے گا۔
پھر اگر مرحوم نے کوئی وصیت کی ہو تو کل مال کے تیسرے حصے سے پوری کی جائے گی۔

ان تمام مراحل کے بعد جو مال (منقولہ یا غیر منقولہ) باقی بچے گا، اسے ایک روپیہ فرض کر کے ورثاء میں درج ذیل طریقے سے تقسیم کیا جائے گا:

مرحوم حاجی ابوطالب

◈ کل ملکیت: 1 روپیہ

ورثاء میں تقسیم

◈ بھائی: پورا 1 روپیہ
◈ بھتیجا: محروم

جیسا کہ حدیث مبارکہ میں آیا ہے:

((الحقوا الفرائض بأهلها فما بقى فلأولى رجل ذكر.))
صحيح بخارى، كتاب الفرائض، باب ميراث ابن الابن اذا لم يكن ابن، رقم الحديث: ٦٧٣٥
صحيح مسلم، كتاب الفرائض، باب ألحقوا الفرائض بأهلها، رقم: ٤١٤١

جدید اعشاریہ فیصد طریقہ تقسیم

◈ کل ملکیت: 100 فیصد
◈ سگا بھائی (عصبہ): 100 فیصد
◈ بھتیجا: محروم

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔