مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

بچے یا بچی کے کان میں اذان

فونٹ سائز:
فتاویٰ علمائے حدیث کتاب الصلاۃ جلد 1 ص 169

بچہ یا بچی کی پیدائش پر اذان کا طریقہ

جب کسی کے ہاں بچہ یا بچی پیدا ہو، تو دونوں کے کان میں یکساں اذان کہی جاتی ہے۔ شریعت میں لڑکے اور لڑکی کی اذان میں کوئی فرق نہیں کیا گیا ہے۔

اذان اور تکبیر کا طریقہ:

➊ دائیں کان میں اذان کہی جائے گی۔

➋ بائیں کان میں تکبیر کہنی جائے گی۔

یہی عمل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے اور یہی مسنون طریقہ ہے۔

الگ اذان کا کوئی ثبوت نہیں:

جو لوگ کہتے ہیں کہ لڑکے اور لڑکی کی اذان الگ ہوتی ہے، ان کا یہ کہنا غیر ثابت ہے اور شرعی دلیل سے اس کی کوئی بنیاد نہیں ملتی۔

حوالہ:

(اہل حدیث سوہدرہ، جلد نمبر ۸، شمارہ نمبر ۳۷)

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔