بچے کے کام میں آذان دینے سے متعلق حدیث کی صحت اور تعامل اُمت

فونٹ سائز:
یہ اقتباس مکتبہ دارالسلام کے شعبہ تصنیف و تالیف کی شائع کردہ کتاب ناموں کی ڈکشنری اور نومولود کے احکام و مسائل سے ماخوذ ہے۔

بچے کے کان میں اذان کہنے کے احکام و مسائل

ہماری شریعت مطہرہ نے بچے کی پیدائش کے وقت جن احکام شرعیہ سے آگاہ کیا ہے ان میں سے ایک ولادت کے فوراً بعد بچے کے دائیں کان میں اذان کہنا ہے۔
حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم أذن فى أذن الحسن بن علي، حين ولدته فاطمة، بالصلاة
”جب حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے حسن بن علی رضی اللہ عنہما کو جنم دیا تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے اس کے کان میں نماز والی اذان کہی۔“
سنن أبي داود، الأدب، باب فى المولود يؤذن في أذنه، حديث : 5105 و جامع الترمذى، الأضاحي، باب الأذان في أذن المولواد، حديث : 1514 والحديث ضعيف، ضعفه الشيخ الألباني في هداية الرواة: 138/4 وفواز احمد زمرلي في تخريج تحفة المودود، ص: 53 و حسین سلیم اسد في تحقيق مسند أبي يعلى: 151/12
[یہ روایت اگر چہ ضعیف ہے لیکن شروع سے لے کر یہ معمول بہ رہی ہے۔ امام ترمذی رحمہ اللہ اس روایت کو ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں: و العمل عليه اور اس روایت پر عمل موجود ہے۔ اسی بنا پر بعض اہل علم نے بچے کے کان میں صرف اذان کہنے کو جائز قرار دیا ہے۔ ] واللہ اعلم۔ (ناصر)

✿ اذان کہنے کی حکمتیں:

اذان کہنے کی متعدد حکمتیں بیان کی جاتی ہیں جن میں سے چند ایک کا اختصار کے ساتھ ہم ذکر کرتے ہیں۔
➊ ولادت کے وقت اذان کہنے کا ایک فائدہ یہ ہے کہ انسان کے کانوں میں سب سے پہلے وہ عالی شان اور بلند مرتبہ آواز داخل ہو جس میں رب العالمین کی عظمت و کبریائی کا بیان ہے اور اس شہادت و گواہی کا تذکرہ ہے کہ جس کے ساتھ انسان اسلام میں داخل ہوتا ہے۔ گویا کہ دنیا میں آتے ہی انسان کو تلقین کر دی جاتی ہے کہ اسلام کے یہ بنیادی قوانین ہیں۔ اسی طرح جب وہ دنیا سے رخصت ہونے لگتا ہے تو موت کے وقت اسے کلمہ توحید کی تلقین کی جاتی ہے جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان عالی شان ہے:
لقنوا موتاكم لا إلٰه إلا الله
”اپنے قریب المرگ لوگوں کو لا إله إلا الله کی تلقین کیا کرو۔“
صحيح مسلم ، الجنائز، باب تلقين الموتى لا إله إلا الله، ح: 916 و سنن أبي داود، الجنائز، باب في التلقين، حديث : 3117
یقیناً اللہ کی قدرت کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے یہ بات بعید از قیاس محسوس نہیں ہوتی کہ اذان کا اثر بچے کے کانوں سے ہوتا ہوا اس کے دل پر پہنچ جاتا ہے اور وہ بچہ اس تلقین سے متاثر ہوتا اگر چہ بظاہر کسی کو محسوس نہیں ہوتا۔
➋ اذان کے کلمات سن کر شیطان دور بھاگتا ہے۔ صحيح البخارى، بدء الخلق، باب صفة إبليس وجنوده، حدیث: 5823 چونکہ بچے کی پیدائش کے وقت شیطان بھی گھات لگا کر بیٹھا ہوتا ہے تو اذان کی آواز سنتے ہی اس کے اثر میں کمی واقع ہو جائے گی بچے کے ساتھ اس کے ابتدائی تعلقات میں رکاوٹ کھڑی ہو جائے گی اور شیطان غصے سے پیچ و تاب کھاتا ہوا نا کام ونامراد لوٹے گا۔
➌ دنیا دار الامتحان ہے اس لیے یہاں آتے ہی بچے کو سب سے پہلے اللہ دین اسلام اور عبادت الہی کا درس دیا جاتا ہے اور شیطان کی دعوت سے پہلے ہی اسے رحمن کی دعوت پہنچائی جاتی ہے۔ بندہ کی ابتدا فطرت سلیمہ سے ہوتی ہے یعنی وہ پیدا ہوتا ہے تو اسلام کے مطابق اس کی زندگی ہوتی ہے اور وہ مسلمانوں میں سے ہوتا ہے لیکن پیدا ہونے کے بعد شیطان کوشش کرتا ہے کہ اس کی فطرت میں تغیر و تبدل پیدا کر کے اسے اسلام سے دور کیا جائے اور فطرت سلیمہ سے ہٹا دیا جائے۔
تحفة المودود: 54
امام ابن قیم رحمہ اللہ کے بیان کردہ فوائد اور حکمتیں اس بات کی بہت بڑی دلیل ہیں کہ اسلاف سے اخلاف تک تمام اہل علم نے عقیدہ توحید کے ساتھ ساتھ ایمان کی دعوت دینے کا کس قدر اہتمام کیا۔ شیطان کی دعوت کے سدِ باب اور خواہش پرستی کی روک تھام کے لیے کس قدر انتھک دوڑ دھوپ کی حتی کہ انسان کے کانوں میں اسی وقت یہ باتیں ڈال دی جاتی ہیں جبکہ وہ اپنے دنیاوی وجود کی باد نسیم سے لطف اندوز ہونے کی ابتدا اور آغاز کرتا ہے۔