بچے کی ولادت کے بعد نفاس والی عورت کے لیے کیا حکم ہے؟

ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال:

بچے کی ولادت کے بعد نفاس والی عورت کے لیے کیا حکم ہے؟

جواب:

خون نفاس دراصل خون حیض ہوتا ہے، اس کا وہی حکم ہے جو حیض کا ہے۔
حیض کا خون نجس ہے، نفاس کا خون بھی نجس ہے۔
حیض کے بعد غسل واجب ہے، نفاس کے بعد بھی غسل واجب ہے۔
حیض میں جماع حرام اور ممنوع ہے، نفاس میں بھی حرام و ممنوع ہے۔
حیض میں شرمگاہ کے علاوہ جنسی تعلق قائم کرنا جائز ہے، نفاس میں بھی جائز ہے۔
❀ علامه ابن قدامه رحمه الله فرماتے ہیں:
نفاس اور حیض کا حکم ایک ہے، جو اعمال و افعال حائضه پر حرام ہیں، وہی نفاس والی پر حرام ہیں، جو عمل حائضه سے ساقط ہے وہی نفاس والی سے ساقط ہے، اس میں کوئی اختلاف نہیں، اسی طرح نفاس والی سے جماع حرام اور مباشرت جائز ہے، شرمگاہ کے علاوہ فائده اٹھانا بھی درست ہے۔
(المغني: 362/1)
شیخ الاسلام ابن تیمیه رحمه الله فرماتے ہیں:
وطء النفساء كوطء الحائض حرام باتفاق الائمه.
حائضه کی طرح نفاس والی سے جماع با اتفاق ائمه حرام ہے۔
(مجموع الفتاوى: 624/21)
❀علامه شوکانی رحمه الله (1250ھ) فرماتے ہیں:
قد وقع الاجماع على ان النفاس كالحيض في جميع ما يحل ويحرم ويكره ويندب.
نفاس کے احکام حیض کی طرح ہیں۔
(نيل الأوطار في شرح المنتقى من الأخبار في الأحكام: 353/1)
حیض میں نماز، روزه، قرآن مجید کی تلاوت، مسجد میں داخل ہونا اور طواف کعبه ممنوع ہے، اسی طرح نفاس میں ممنوع ہے۔
حیض کے بعد غسل سے پہلے جماع جائز نہیں، نفاس کے بعد بھی غسل سے پہلے جماع جائز نہیں۔
حیض رات کو ختم ہو تو فجر سے پہلے غسل کر کے نماز ادا کرے گی، یہی حکم نفاس کا ہے۔
اعتکاف میں حیض کا خون جاری ہو تو اعتکاف فاسد ہوگا، نفاس کا حکم بھی یہی ہے۔
نفاس کا خون ختم ہونے پر نماز، روزه کی ادائیگی کرے، چالیس دن کے اندر اندر پھر خون جاری ہو تو نماز، روزه سے رک جائے، کیونکہ یہ نفاس کا خون ہے۔ چالیس دن کے بعد بھی خون جاری رہے تو نماز روزے کی ادائیگی کرے، کیونکہ یہ نفاس کا خون نہیں، بلکہ کوئی بیماری ہے۔
حیض و نفاس میں روزه حرام ہے۔ علم کے باوجود روزه رکھنا گناہ ہے۔
نماز فجر کے فورا بعد یا دن کے اول حصے میں حیض و نفاس ختم ہو تو اسی وقت روزے کی نیت کرنا درست نہیں، اگر ایسا کرے گی تو گناہ گار ٹھہرے گی اور روزے کی قضاء دینا ہوگی۔
پیدائش آپریشن سے ہوئی اور نفاس کا خون نہیں آیا تو بھی غسل فرض ہوگا۔
جس طرح حیض اور حمل میں دی گئی طلاق واقع ہو جاتی ہے، اسی طرح نفاس میں دی گئی طلاق بھی واقع ہو جاتی ہے۔
اگر کوئی آدمی اپنی بیوی کو نفاس میں طلاق دے، تو ایام نفاس عدت میں شمار نہیں ہوں گے۔ ان کے بعد تین حیض عدت شمار کی جائے گی۔
❀ سیدنا زید بن ثابت رضی الله عنه نے فرمایا:
اذا طلق الرجل امراته وهي نفساء لم تعتد بدم نفاسها في عده.
اگر کوئی شخص نفاس میں طلاق دے، تو عورت ایام نفاس کو عدت شمار نہیں کرے گی۔
(مصنف ابن ابي شيبه: 159/5، وسنده صحيح)
اسقاط حمل (Miscarriage) کی صورت میں دیکھنا ہوگا کہ حمل واضح ہے یا نہیں۔ اگر واضح ہے تو خون نفاس کا ہی ہوگا۔ حمل نود دن میں واضح ہو جاتا ہے۔
حمل واضح نہیں تو خون نفاس کا نہیں۔
ولادت کے بعد خون نہیں آیا، تو بھی غسل فرض ہوگا۔

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سوشل میڈیا پر یہ مضمون فیچرڈ امیج کے ساتھ شئیر کرنے کے لیے یہ تصویر محفوظ کریں ⬇️