بچے کا نام رکھنے کا حق کس کو ہے
اس مسئلے میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ والدین اگر بچے کا نام رکھنے کے معاملے میں با ہم تنازعہ کریں تو باپ کا تجویز کیا ہوا نام ہی رکھا جائے گا اور اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ بچہ اپنے باپ کے نام کے ساتھ پکارا جاتا ہے ، اپنی ماں کے نام کے ساتھ نہیں ۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ یہ فلاں بن فلاں ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے بھی فرمایا ہے کہ :
ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِندَ اللَّهِ ۚ فَإِن لَّمْ تَعْلَمُوا آبَاءَهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَمَوَالِيكُمْ [الأحزاب: 5]
”لے پالکوں کو ان کے (حقیقی) باپوں کی طرف نسبت کر کے بلاؤ اللہ کے نزدیک پورا انصاف یہی ہے۔ پھر اگر تمہیں ان کے (حقیقی) باپوں کا علم ہی نہ ہو تو وہ تمہارے دینی بھائی اور دوست ہیں ۔“
اور ایک حدیث میں ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلى الله عليه وسلم نے فرمایا:
ولـدلــي الليـلـة غـلام فسميتـه بـاسـم أبى إبراهيم
”رات کو میرے ہاں ایک بچہ پیدا ہوا ہے اور میں نے اس کا نام اپنے باپ ابراہیم علیہ السلام کے نام پر رکھا ہے ۔“
[مسلم: 2315 ، كتاب الفضائل: باب رحمة النبى الصبيان والعيال ، بخاري: 1303 ، كتاب الجنائز: باب قول النبى إنا بك لمحزونون ، ابو داود: 3126 ، كتاب الجنائز: باب فى البكاء على الميت ، احمد: 194/3 ، ابن حبان فى صحيحه: 245/4 ، طحاوى: 454/1 ، بيهقى فى السنن الكبرى: 589/9 ، وفى دلائل النبوة: 430/5 ، شرح السنة: 269/11]
نیز بچہ آزادی اور غلامی میں ماں کے تابع ہوتا ہے اور حسب و نسب اور نام رکھنے میں باپ کے تابع ہوتا ہے ۔
(ابن قیمؒ) اسی کے قائل ہیں ۔
[تحفة المودود بأحكام المولود: ص/ 129]
تحریر: عمران ایوب لاہوری