بچوں کی تربیت کے لئے صحیح اسلامی عقیدہ قرآن و حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ الاسلام محمد بن عبدالوھاب رحمہ اللہ کی کتاب تعلیم الصبیان التوحید سے ماخوذ ہے
مضمون کے اہم نکات

بچوں کو توحید کی تعلیم

سوال نمبر1:

اگر تم سے پوچھا جائے: تمہارا رب کون ہے؟

جواب:

میرا رب اللہ ہے۔

سوال نمبر2:

اور رب کا مطلب کیا ہے؟

جواب:

کہہ دو: رب کا معنی ہے: مالک، معبود اور مدد کرنے والا۔
وہی اللہ ہے جو اپنی تمام مخلوق پر الوہیت اور عبادت کا حق رکھتا ہے۔

سوال نمبر 3:

اگر تم سے پوچھا جائے: تم نے اپنے رب کو کیسے پہچانا؟

جواب:

کہہ دو:
میں نے اپنے رب کو اس کی نشانیوں اور اس کی مخلوقات کے ذریعے پہچانا ہے۔

اس کی نشانیوں میں سے:

① رات اور دن

② سورج اور چاند

اور اس کی مخلوقات میں سے:

① آسمان اور زمین

② اور جو کچھ ان میں موجود ہے۔

③ دلیل (قرآن سے) اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

[اِنَّ رَبَّکُمُ اللّٰہُ الَّذِیۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ فِیۡ سِتَّۃِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسۡتَوٰی عَلَی الۡعَرۡشِ ۟ یُغۡشِی الَّیۡلَ النَّہَارَ یَطۡلُبُہٗ حَثِیۡثًا ۙ وَّ الشَّمۡسَ وَ الۡقَمَرَ وَ النُّجُوۡمَ مُسَخَّرٰتٍۭ بِاَمۡرِہٖ ؕ اَلَا لَہُ الۡخَلۡقُ وَ الۡاَمۡرُ ؕ تَبٰرَکَ اللّٰہُ رَبُّ الۡعٰلَمِیۡنَ]

بے شک تمھارا رب اللہ ہے، جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا، پھر وہ عرش پر بلند ہوا، رات کو دن پر اوڑھا دیتا ہے، جو تیز چلتا ہوا اس کے پیچھے چلا آتا ہے اور سورج اور چاند اور ستارے (پیدا کیے) اس حال میں کہ اس کے حکم سے تابع کیے ہوئے ہیں، سن لو! پیدا کرنا اور حکم دینا اسی کا کام ہے، بہت برکت والا ہے اللہ جو سارے جہانوں کا رب ہے۔ [ الأعراف:54 ].

سوال نمبر 4:

اگر تم سے پوچھا جائے: تمہیں کس لیے پیدا کیا گیا؟

جواب:

کہہ دو:

مجھے اس کی عبادت کے لیے پیدا کیا گیا ہے، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں،
اور اس کی اطاعت اس طرح کروں کہ جو وہ حکم دے اسے بجا لاؤں،
اور جن چیزوں سے وہ منع کرے ان سے رک جاؤں،
جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: [وَ مَا خَلَقۡتُ الۡجِنَّ وَ الۡاِنۡسَ اِلَّا لِیَعۡبُدُوۡنِ]

اور میں نے جنوں اور انسانوں کو پیدا نہیں کیا مگر اس لیے کہ وہ میری عبادت کریں۔ [الذاريات:56].

اور جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: [اِنَّہٗ مَنۡ یُّشۡرِکۡ بِاللّٰہِ فَقَدۡ حَرَّمَ اللّٰہُ عَلَیۡہِ الۡجَنَّۃَ وَ مَاۡوٰىہُ النَّارُ]

بے شک حقیقت یہ ہے کہ جو بھی اللہ کے ساتھ شریک بنائے سو یقینا اس پر اللہ نے جنت حرام کر دی اور اس کا ٹھکانا آگ ہے۔[المائدة:72 ].

والشرك :

اور شرک یہ ہے: کہ انسان اللہ کے لیے کسی کو شریک ٹھہرائے، اسے پکارے، اس سے امید رکھے، یا اس سے ڈرے، یا اس پر بھروسہ کرے،یا اللہ کے سوا کسی اور کی طرف رغبت کرے،اور اسی طرح عبادت کی دیگر قسموں میں بھی کسی کو اللہ کا شریک بنائے۔

فإن العبادة :

پس عبادت یہ ہے کہ:عبادت ایک ایسا جامع نام ہے جو ہر اس بات اور عمل کو شامل ہے
جسے اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے اور جس سے وہ راضی ہوتا ہے،خواہ وہ قول (بات) ہو یا عمل،اور وہ ظاہر ہو یا باطن (دل کا عمل)۔

اور عبادت کی قسموں میں سے دعا بھی ہے۔

اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: [وَّ اَنَّ الۡمَسٰجِدَ لِلّٰہِ فَلَا تَدۡعُوۡا مَعَ اللّٰہِ اَحَدًا]

اور یہ کہ مساجد اللہ کے لیے ہیں، پس اللہ کے ساتھ کسی کو مت پکارو۔ [الجن:18].

اور اس بات کی دلیل کہ اللہ کے سوا کسی اور کو پکارنا کفر ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

[وَ مَنۡ یَّدۡعُ مَعَ اللّٰہِ اِلٰـہًا اٰخَرَ ۙ لَا بُرۡہَانَ لَہٗ بِہٖ ۙ فَاِنَّمَا حِسَابُہٗ عِنۡدَ رَبِّہٖ ؕ اِنَّہٗ لَا یُفۡلِحُ الۡکٰفِرُوۡنَ]

اور جو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو پکارے، جس کی کوئی دلیل اس کے پاس نہیں تو اس کا حساب صرف اس کے رب کے پاس ہے۔ بے شک حقیقت یہ ہے کہ کافر فلاح نہیں پائیں گے۔ [المؤمنون:117].

اور یہ اس لیے کہ دعا عبادت کی سب سے بڑی قسموں میں سے ہے،

جیسا کہ تمہارے رب نے فرمایا:
[وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ]

اور تمھارے رب نے فرمایا مجھے پکارو، میں تمھاری دعا قبول کروں گا۔ بے شک وہ لوگ جو میری عبادت سے تکبر کرتے ہیں عنقریب ذلیل ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے۔ [غافر:60].

اور ((سنن)) میں ہے، سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت ہے:

 [الدُّعَاءُ مُخُّ الْعِبَادَةِ]

دعا عبادت کا مغز (حاصل و نچوڑ) ہے۔ [سنن ترمذی:3371]

اور سب سے پہلی چیز جو اللہ نے اپنے بندوں پر فرض کی وہ طاغوت کا انکار کرنا اور اللہ پر ایمان لانا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: [وَ لَقَدۡ بَعَثۡنَا فِیۡ کُلِّ اُمَّۃٍ رَّسُوۡلًا اَنِ اعۡبُدُوا اللّٰہَ وَ اجۡتَنِبُوا الطَّاغُوۡتَ]

اور بلاشبہ یقینا ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیجا کہ اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت سے بچو، [النحل:36].

والطاغوت: اور طاغوت یہ ہے:

ہر وہ چیز جس کی اللہ کے سوا عبادت کی جائے، یا شیطان، یا کاہن (غیب کی خبریں بتانے والا)، یا نجومی، یا وہ شخص جو اللہ کے نازل کردہ حکم کے خلاف فیصلہ کرے، اور ہر وہ جس کی ناحق پیروی اور اطاعت کی جائے۔

علامہ ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

طاغوت وہ ہے جس کے ذریعے بندہ اپنی حد سے تجاوز کرے، خواہ وہ معبود ہو، یا جس کی پیروی کی جائے، یا جس کی اطاعت کی جائے۔

سوال نمبر 5:

اگر تم سے پوچھا جائے: تمہارا دین کیا ہے؟

جواب:

کہہ دو:میرا دین اسلام ہے۔

اور اسلام کا معنی یہ ہے:

① اللہ کے لیے توحید کے ساتھ جھک جانا

② اس کی اطاعت کے ساتھ اس کے فرمانبردار بن جانا

③ مسلمانوں سے محبت رکھنا

④ اور مشرکوں سے براءت اختیار کرنا

جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

[اِنَّ الدِّیۡنَ عِنۡدَ اللّٰہِ الۡاِسۡلَامُ وَ مَا اخۡتَلَفَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡکِتٰبَ اِلَّا مِنۡۢ بَعۡدِ مَا جَآءَہُمُ الۡعِلۡمُ بَغۡیًۢا بَیۡنَہُمۡ ؕ وَ مَنۡ یَّکۡفُرۡ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ فَاِنَّ اللّٰہَ سَرِیۡعُ الۡحِسَابِ]

بے شک دین اللہ کے نزدیک اسلام ہی ہے اور وہ لوگ جنھیں کتاب دی گئی انھوں نے اختلاف نہیں کیا مگر اس کے بعد کہ ان کے پاس علم آ چکا، آپس میں ضد کی وجہ سے اور جو اللہ کی آیات کا انکار کرے تو بے شک اللہ بہت جلد حساب لینے والاہے۔ [آل عمران:19].

اور جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: [وَمَنۡ یَّبۡتَغِ غَیۡرَ الۡاِسۡلَامِ دِیۡنًا فَلَنۡ یُّقۡبَلَ مِنۡہُ ۚ وَ ہُوَ فِی الۡاٰخِرَۃِ مِنَ الۡخٰسِرِیۡنَ]

اور جو اسلام کے علاوہ کوئی اور دین تلاش کرے تو وہ اس سے ہرگز قبول نہ کیا جائے گا اور وہ آخرت میں خسارہ اٹھانے والوں سے ہوگا۔ [آل عمران:85].

اور نبی ﷺ سے صحیح ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا:

[أن تشهد أن لا إله إلا الله ، وأن محمدا رسول الله صلى الله عليه وسلم ، وتقيم الصلاة ، وتؤتي الزكاة ، وتصوم رمضان ، وتحج البيت إن استطعت إليه سبيلا]

تم اس بات کی گواہی دو کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور محمد اس کے رسول ہیں، نماز کا اہتمام کرو، زکاۃ ادا کرو، رمضان کے روزے رکھو اور اگر اللہ کے گھر تک راستہ (طے کرنے) کی استطاعت ہو تو اس کا حج کرو۔[صحیح المسلم:93 [8] ]

ومعنى لا إله إلا الله:

اور "لا إله إلا الله” کا معنی یہ ہے: اللہ کے سوا کوئی بھی سچا معبود نہیں،

جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: [وَ اِذۡ قَالَ اِبۡرٰہِیۡمُ لِاَبِیۡہِ وَ قَوۡمِہٖۤ اِنَّنِیۡ بَرَآءٌ مِّمَّا تَعۡبُدُوۡنَ]،[ اِلَّا الَّذِیۡ فَطَرَنِیۡ فَاِنَّہٗ سَیَہۡدِیۡنِ]،[ وَ جَعَلَہَا کَلِمَۃًۢ بَاقِیَۃً فِیۡ عَقِبِہٖ لَعَلَّہُمۡ یَرۡجِعُوۡنَ]

[اور جب ابراہیم نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا بے شک میں ان چیزوں سے بالکل بری ہوں جن کی تم عبادت کرتے ہو]،[ سوائے اس کے جس نے مجھے پیدا کیا، پس بے شک وہ مجھے ضرور راستہ دکھائے گا]،[ اور اس نے اس (توحید کی بات) کو اپنے پچھلوں میں باقی رہنے والی بات بنا دیا، تاکہ وہ رجوع کریں]۔ [الزخرف: 26 تا 28].

والدليل على الصلاة والزكاة: قوله تعالى:

اور نماز اور زکوٰۃ کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے:

[وَ مَاۤ اُمِرُوۡۤا اِلَّا لِیَعۡبُدُوا اللّٰہَ مُخۡلِصِیۡنَ لَہُ الدِّیۡنَ حُنَفَآءَ وَ یُقِیۡمُوا الصَّلٰوۃَ وَ یُؤۡتُوا الزَّکٰوۃَ وَ ذٰلِکَ دِیۡنُ الۡقَیِّمَۃِ]

اور انھیں اس کے سوا حکم نہیں دیا گیا کہ وہ اللہ کی عبادت کریں، اس حال میںکہ اس کے لیے دین کو خالص کرنے والے، ایک طرف ہونے والے ہوں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں اور یہی مضبوط ملت کا دین ہے۔ [البينة:5].

پس اس آیت میں سب سے پہلے توحید اور شرک سے براءت کا ذکر کیا گیا ہے،

کیونکہ:

سب سے بڑا حکم توحید ہے ،اور سب سے بڑی ممانعت شرک ہے

پھر اس کے بعد:

  • نماز قائم کرنے کا حکم دیا ،اور زکوٰۃ ادا کرنے کا حکم دیا ، اور یہی دین کا بڑا حصہ ہے،اور اس کے بعد آنے والے تمام احکام اسی کے تابع ہیں۔

والدليل على فرض الصيام: قوله تعالى:

اور روزے کی فرضیت کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے:

[یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا کُتِبَ عَلَیۡکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِکُمۡ لَعَلَّکُمۡ تَتَّقُوۡنَ]،[ اَیَّامًا مَّعۡدُوۡدٰتٍ ؕ فَمَنۡ کَانَ مِنۡکُمۡ مَّرِیۡضًا اَوۡ عَلٰی سَفَرٍ فَعِدَّۃٌ مِّنۡ اَیَّامٍ اُخَرَ ؕ وَ عَلَی الَّذِیۡنَ یُطِیۡقُوۡنَہٗ فِدۡیَۃٌ طَعَامُ مِسۡکِیۡنٍ ؕ فَمَنۡ تَطَوَّعَ خَیۡرًا فَہُوَ خَیۡرٌ لَّہٗ ؕ وَ اَنۡ تَصُوۡمُوۡا خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ]،[ شَہۡرُ رَمَضَانَ الَّذِیۡۤ اُنۡزِلَ فِیۡہِ الۡقُرۡاٰنُ ہُدًی لِّلنَّاسِ وَ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الۡہُدٰی وَ الۡفُرۡقَانِ ۚ فَمَنۡ شَہِدَ مِنۡکُمُ الشَّہۡرَ فَلۡیَصُمۡہُ ؕ]

[اے لوگو جو ایمان لائے ہو! تم پر روزہ رکھنا لکھ دیا گیا ہے، جیسے ان لوگوں پر لکھا گیا جو تم سے پہلے تھے، تاکہ تم بچ جائو]،[ گنے ہوئے چند دنوں میں، پھر تم میں سے جو بیمار ہو، یا کسی سفر پر ہو تو دوسرے دنوں سے گنتی پوری کرنا ہے اور جو لوگ اس کی طاقت رکھتے ہوں ان پر فدیہ ایک مسکین کا کھانا ہے، پھر جو شخص خوشی سے کوئی نیکی کرے تو وہ اس کے لیے بہتر ہے اور یہ کہ تم روزہ رکھو تمھارے لیے بہتر ہے، اگر تم جانتے ہو]،[ رمضان کا مہینا وہ ہے جس میں قرآن اتارا گیا، جو لوگوں کے لیے سراسر ہدایت ہے اور ہدایت کی اور (حق و باطل میں) فرق کرنے کی واضح دلیلیں ہیں، تو تم میں سے جو اس مہینے میں حاضر ہو وہ اس کا روزہ رکھے]۔ [البقرة:183تا185].

والدليل على فرض الحج: قوله تعالى:

اور حج کی فرضیت کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے:

[وَ لِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الۡبَیۡتِ مَنِ اسۡتَطَاعَ اِلَیۡہِ سَبِیۡلًا]

اور اللہ کے لیے لوگوں پر اس گھر کا حج (فرض) ہے، جو اس کی طرف راستے کی طاقت رکھے۔ [آل عمران:97].

وأصول الإيمان ستة:

اور ایمان کی بنیادیں چھ ہیں:

یہ ہے کہ تم ایمان لاؤ: اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر، اس کے رسولوں پر، آخرت کے دن پر، اور تقدیر پر، اس کے اچھے اور برے ہونے (سمیت)۔

اور اس کی دلیل وہ حدیث ہے جو ((صحیح)) میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔

[صحیح المسلم:93 [8] ]

سوال نمبر 6:

اگر تم سے پوچھا جائے: تمہارے نبی کون ہیں؟

کہہ دو: ہمارے نبی محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب بن ہاشم بن عبد مناف ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے انہیں قریش میں سے منتخب فرمایا، اور قریش، اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے بہترین لوگ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو تمام انسانوں (گورے اور کالے) کی طرف رسول بنا کر بھیجا، اور آپ ﷺ پر کتاب (قرآن) اور حکمت نازل فرمائی، تاکہ آپ لوگوں کو اس بات کی دعوت دیں کہ:

عبادت کو خالص اللہ کے لیے کریں، اور ان تمام چیزوں کو چھوڑ دیں جن کی وہ اللہ کے سوا عبادت کرتے تھے، جیسے:  بت، پتھر، درخت، انبیاء، صالحین، فرشتے، (اور دیگر تمام معبودانِ باطل)

پس آپ ﷺ نے لوگوں کو شرک چھوڑنے کی دعوت دی،

اور ان سے اس بات پر قتال کیا کہ وہ اسے ترک کر دیں، اور اللہ کی عبادت کو خالص کریں،

جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

[قُلۡ اِنَّمَاۤ اَدۡعُوۡا رَبِّیۡ وَ لَاۤ اُشۡرِکُ بِہٖۤ اَحَدًا]

کہہ دے میں تو صرف اپنے رب کو پکارتا ہوں اور میں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا۔ [الجن:20].

اور اللہ تعالی کا فرمان ہے:[قُلِ اللّٰہَ اَعۡبُدُ مُخۡلِصًا لَّہٗ دِیۡنِیۡ]

کہہ دے میں اللہ ہی کی عبادت کرتا ہوں، اس حال میں کہ اسی کے لیے اپنے دین کو خالص کرنے والا ہوں۔ [الزمر:14].

اور اللہ تعالی کا فرمان ہے: [قُلۡ اِنَّمَاۤ اُمِرۡتُ اَنۡ اَعۡبُدَ اللّٰہَ وَ لَاۤ اُشۡرِکَ بِہٖ ؕ اِلَیۡہِ اَدۡعُوۡا وَ اِلَیۡہِ مَاٰبِ]

ہہ دے مجھے تو یہی حکم دیا گیا ہے کہ میںاللہ کی عبادت کروں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائوں۔ میں اسی کی طرف دعوت دیتا ہوں اور اسی کی طرف میرا لوٹنا ہے۔ [الرعد:36].

اور اللہ تعالی کا فرمان ہے: [ قُلۡ اَفَغَیۡرَ اللّٰہِ تَاۡمُرُوۡٓنِّیۡۤ اَعۡبُدُ اَیُّہَا الۡجٰہِلُوۡنَ]،[ وَ لَقَدۡ اُوۡحِیَ اِلَیۡکَ وَ اِلَی الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِکَ ۚ لَئِنۡ اَشۡرَکۡتَ لَیَحۡبَطَنَّ عَمَلُکَ وَ لَتَکُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰسِرِیۡنَ]،[ بَلِ اللّٰہَ فَاعۡبُدۡ وَ کُنۡ مِّنَ الشّٰکِرِیۡنَ]

[کہہ دے پھر کیا تم مجھے غیراللہ کے بارے میں حکم دیتے ہو کہ میں (ان کی) عبادت کروں اے جاہلو!]،[ اور بلا شبہ یقینا تیری طرف وحی کی گئی اور ان لوگوں کی طرف بھی جو تجھ سے پہلے تھے کہ بلاشبہ اگر تو نے شریک ٹھہرایا تو یقینا تیرا عمل ضرور ضائع ہو جائے گا اور تو ضرور بالضرور خسارہ اٹھانے والوں سے ہو جائے گا]،[ بلکہ اللہ ہی کی پھر عبادت کر اور شکر کرنے والوں سے ہو جا]

[الزمر:64تا66].

ومن أصول الإيمان المنجي من الكفر:

اور کفر سے نجات دلانے والے ایمان کے اصولوں میں سے یہ بھی ہے کہ :

دوبارہ زندہ کیے جانے (بعث) پر ایمان لایا جائے، اور اٹھائے جانے (نشر) پر ایمان رکھا جائے، اور بدلے (جزاء) پر ایمان ہو، اور حساب کتاب پر یقین ہو، اور جنت کے حق ہونے پر ایمان ہو، اور جہنم کے حق ہونے پر ایمان ہو۔

اللہ تعالی کا فرمان ہے: [مِنۡہَا خَلَقۡنٰکُمۡ وَ فِیۡہَا نُعِیۡدُکُمۡ وَ مِنۡہَا نُخۡرِجُکُمۡ تَارَۃً اُخۡرٰی]

اسی سے ہم نے تمھیں پیدا کیا اور اسی میں تمھیں لوٹائیں گے اور اسی سے تمھیں ایک اور بار نکالیں گے۔ [طه:55].

اللہ تعالی کا فرمان ہے: [وَ اِنۡ تَعۡجَبۡ فَعَجَبٌ قَوۡلُہُمۡ ءَ اِذَا کُنَّا تُرٰبًا ءَ اِنَّا لَفِیۡ خَلۡقٍ جَدِیۡدٍ اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا بِرَبِّہِمۡ ۚ وَ اُولٰٓئِکَ الۡاَغۡلٰلُ فِیۡۤ اَعۡنَاقِہِمۡ ۚ وَ اُولٰٓئِکَ اَصۡحٰبُ النَّارِ ۚ ہُمۡ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ]

اور اگر تو تعجب کرے تو ان کا یہ کہنا بہت عجیب ہے کہ کیا جب ہم مٹی ہو جائیں گے تو کیا واقعی ہم یقینا ایک نئی پیدائش میں ہوں گے۔ یہی لوگ ہیں جنھوں نے اپنے رب کا انکار کیا اور یہی ہیں جن کی گردنوں میں طوق ہوں گے اور یہی آگ والے ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔ [الرعد:5].

اور اس آیت میں اس بات کی دلیل ہے کہ جو شخص بعث (دوبارہ زندہ کیے جانے) کا انکار کرے،

وہ ایسا کفر کرتا ہے جو اسے ہمیشہ کے لیے جہنم میں داخل کر دیتا ہے۔

اللہ ہمیں کفر اور کفر کے کاموں سے محفوظ رکھے۔

پس ان آیات میں اس بات کا بیان ہے کہ نبی ﷺ کو جس چیز کے ساتھ بھیجا گیا وہ یہ ہے کہ:عبادت کو خالص اللہ کے لیے کیا جائے، اور اللہ کے سوا کسی کی عبادت سے منع کیا جائے، اور عبادت کو صرف اللہ ہی کے لیے خاص کر دیا جائے، اور یہی آپ ﷺ کا دین ہے جس کی طرف آپ نے لوگوں کو دعوت دی، اور اسی پر ان کے ساتھ جہاد کیا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: [وَ قَاتِلُوۡہُمۡ حَتّٰی لَا تَکُوۡنَ فِتۡنَۃٌ وَّ یَکُوۡنَ الدِّیۡنُ کُلُّہٗ لِلّٰہِ]

اور ان سے لڑو، یہاں تک کہ کوئی فتنہ نہ رہے اور دین سب کا سب اللہ کے لیے ہو جائے، [الأنفال:39].

اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو چالیس سال کی عمر میں مبعوث فرمایا، پھر آپ نے تقریباً دس سال تک لوگوں کو اخلاص (توحید) کی دعوت دی اور اللہ کے سوا ہر ایک کی عبادت چھوڑنے کا حکم دیا۔اس کے بعد آپ ﷺ کو آسمان پر لے جایا گیا (معراج)، اور اللہ تعالیٰ نے آپ پر پانچ وقت کی نمازیں فرض کیں، اس میں آپ اور اللہ کے درمیان کوئی واسطہ نہیں تھا۔ پھر اس کے بعد آپ ﷺ کو ہجرت کا حکم دیا گیا، تو آپ نے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی،اور آپ کو جہاد کا حکم دیا گیا، تو آپ نے اللہ کے راستے میں حق کے ساتھ تقریباً دس سال جہاد کیا، یہاں تک کہ لوگ جوق در جوق اللہ کے دین میں داخل ہونے لگے۔ پھر جب آپ کی عمر تریسٹھ (63) سال ہوئی، تو (الحمد للہ) دین مکمل ہو گیا، اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنی وفات کی خبر دے دی۔ (صلوات الله عليه وسلم)

اور سب سے پہلے رسول نوح علیہ السلام ہیں، اور سب سے آخری رسول محمد ﷺ ہیں،

جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: [اِنَّاۤ اَوۡحَیۡنَاۤ اِلَیۡکَ کَمَاۤ اَوۡحَیۡنَاۤ اِلٰی نُوۡحٍ وَّ النَّبِیّٖنَ مِنۡۢ بَعۡدِہٖ]

بلاشبہ ہم نے تیری طرف وحی کی، جیسے ہم نے نوح اور اس کے بعد (دوسرے) نبیوں کی طرف وحی کی۔ [النساء:163].

اور اللہ تعالی کا فرمان ہے: [وَ مَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوۡلٌ]

اور نہیں ہے محمد مگر ایک رسول۔۔۔۔۔ [آل عمران:144].

اور اللہ تعالی کا فرمان ہے: [مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنۡ رِّجَالِکُمۡ وَ لٰکِنۡ رَّسُوۡلَ اللّٰہِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمًا]

محمد تمھارے مردوں میں سے کسی کا باپ نہیں اور لیکن وہ اللہ کا رسول اور تمام نبیوں کا ختم کرنے والا ہے اور اللہ ہمیشہ سے ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔  [الأحزاب:40].

وأفضل الرسل:

اور سب سے افضل رسول ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، اور انبیاء علیہم السلام کے بعد سب سے افضل انسان: ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ، عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ، عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ، علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ، اور اللہ ان سب سے راضی ہو۔

اور سب سے بہتر زمانہ میرا زمانہ ہے، پھر وہ لوگ جو ان کے بعد آئیں گے، پھر وہ جو ان کے بعد آئیں گے۔ اور سیدنا عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہوں گے اور دجال کو قتل کریں گے۔

 

تمت على ما تقدم.