مضمون کے اہم نکات
الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلامُ عَلَى سَيِّدِ الأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ، وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ أَجْمَعِينَ، وَبَعْدا
حدیث نمبر:1
عن ابن عمر رضي الله عنهما، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: بني الإسلام على خمس، شهادة أن لا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله، وإقام الصلاة، وإيتاء الزكاة، والحج، وصوم رمضان.
سیدناعبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر قائم کی گئی ہے۔ اول گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور بیشک محمد ﷺ اللہ کے سچے رسول ہیں، اور نماز قائم کرنا، اور زکوٰۃ ادا کرنا، اور حج کرنا، اور رمضان کے روزے رکھنا۔
[صحیح البخاری: 8]
وضاحت:
اس حدیث میں نبی اکرم ﷺ ہمیں یہ بتا رہے ہیں کہ پانچ چیزیں ایسی ہیں جو اہم ترین مہمات اور دینِ اسلام کے واجبات میں سب سے زیادہ واجب ہیں، اور ان امور کو (ارکانِ اسلام)کہا جاتا ہے۔
پہلا رکن:
اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ یہ رکن تمام ارکان میں سب سے عظیم ہے؛ چنانچہ جس نے اپنی زبان سے کہا: [أشهد ألا إله إلا الله، وأن محمدًا رسول الله] اور اپنے دل سے اس پر ایمان لایا، وہ دینِ اسلام میں داخل ہوگیا۔
دوسرا رکن:
نماز قائم کرنا، بے شک نماز (شہادتین کے بعد) اسلام کا سب سے عظیم رکن ہے، اسی لیے نبی اکرم ﷺ نے ان دونوں کے فوراً بعد اس کا ذکر فرمایا۔
تیسرا رکن:
زکوٰۃ؛ زکوٰۃ مال کی وہ مقدار ہے جسے شریعت نے متعین کیا ہے، مسلم پر واجب ہے کہ وہ اسے فقراء، مساکین اور دیگر مستحقین کو دے۔
چوتھا رکن:
رمضان کے روزے؛ مسلمان پر واجب ہے کہ وہ رمضان کے پورے مہینے کے روزے رکھے، سوائے اس کے جو معذور (شرعی عذر رکھنے والوں) میں سے ہو۔
پانچواں رکن:
اللہ کے گھر (بیت اللہ) کا حج کرنا، اور یہ انسان کی پوری زندگی میں ایک بار واجب ہے، اس شخص کے لیے جو وہاں تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو۔
یہ وہ ارکان ہیں جن پر دینِ اسلام کی بنیاد رکھی گئی ہے، اور ان کے احکام و آداب کی تفصیلات عقائد اور فقہ کی کتب میں مذکور ہیں۔
حدیث نمبر:2
عن أنس رضي الله عنه، قال: سئل النبي صلى الله عليه وسلم عن الكبائر؟ قال: الإشراك بالله، وعقوق الوالدين، وقتل النفس، وشهادة الزور.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ، رسول اللہ ﷺ سے کبیرہ گناہوں کے متعلق پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا ، ماں باپ کی نافرمانی کرنا ، کسی کی جان لینا اور جھوٹی گواہی دینا۔
[صحیح البخاری:2653 ]
وضاحت:
اس حدیث میں نبی ﷺ ہمیں چار امور کے بارے میں خبر دے رہے ہیں جو کبیرہ گناہوں اور عظیم خطاؤں میں سے ہیں۔ وہ کبیرہ گناہ جن کا ذکر نبی ﷺ نے اس حدیث میں فرمایا ہے، چار ہیں:
پہلا:
اللہ کے ساتھ شرک کرنا؛ کیونکہ اللہ کے ساتھ شرک کرنا مسلم کو اسلام سے نکال دیتا ہے، اور اسے کفر میں داخل کر دیتا ہے۔ اور اس لیے بھی کہ یہ جہنم میں ہمیشہ رہنے کا سبب ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:[إِنَّهُ مَن يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ وَمَأْوَاهُ النَّارُ وَمَا لِلظَّالِمِينَ مِنْ أَنصَارِ]
ترجمہ: بے شک حقیقت یہ ہے کہ جو بھی اللہ کے ساتھ شریک بنائے،سو یقینا اس پر اللہ نے جنت حرام کر دی، اور اس کا ٹھکانا آگ ہے۔ اور ظالموں کے لیے کوئی مدد کرنے والے نہیں۔ [المائدة: 72]
دوسرا:
والدین کی نافرمانی کرنا؛ اور اس میں شامل ہے: ان کو چھوڑ دینا (تعلق توڑ لینا)، ان سے قطع تعلقی کرنا، انہیں قول یا فعل سے تکلیف پہنچانا، ان کی اطاعت نہ کرنا، اور ان کے ساتھ مختلف قسم کی بدسلوکی کرنا۔
تیسرا:
کسی جان کو قتل کرنا؛ پس قتل ایک عظیم گناہ ہے، اور یہ اللہ کے غضب اور جہنم میں داخلے کا سبب ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:[وَمَن يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيهَا وَغَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذَابًا عَظِيمًا]
اور جو کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کی جزا جہنم ہے، جس میں ہمیشہ رہنے والا ہو اور اللہ اس پر غصے ہوگیا اور اس نے اس پر لعنت کی اور اس کے لیے بہت بڑا عذاب تیار کیا ہے۔[النساء: 93]
چوتھا:
جھوٹی گواہی دینا؛ اور ،،زور،، سے مراد جھوٹ ہے، پس جس نے کسی دوسرے کے خلاف جھوٹی گواہی دی، اس نے قولِ منکر (ناپسندیدہ بات) اور کبیرہ گناہوں میں سے ایک گناہ کا ارتکاب کیا۔
اور مسلمان پر واجب ہے کہ وہ ہر چیز میں سچا رہے، اور اسی میں سے: گواہی ادا کرنے میں سچائی ہے، چنانچہ جب اس سے کسی چیز پر گواہی طلب کی جائے، خواہ عدالتوں میں ہو یا ان کے علاوہ، تو اسے حق اور سچائی کے ساتھ گواہی دینی چاہیے، اور جھوٹی گواہی و جھوٹ سے بچنا چاہیے؛ تاکہ وہ کبیرہ گناہوں میں سے کسی گناہ میں نہ جا پڑے۔
حدیث نمبر:3
عن ابن جريج، أنه سمع أبا الزبير، يقول: سمعت جابرا، يقول: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم، يقول :المسلم من سلم المسلمون من لسانه، ويده.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ کہتے ہوئے سنا: مسلم وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلم محفوط رہیں۔
[صحیح البخاری: 6484]،[صحیح المسلم:41]
وضاحت:
مسلم کبھی قوی الاسلام ہوتا ہے اور کبھی ضعیف الاسلام، جیسا کہ مومن کبھی قوی الایمان ہوتا ہے اور کبھی ضعیف الایمان۔
پس وہ مسلم جو اسلام کی قوت، اس کے کمال اور اس کی تمامیت کے ساتھ متصف ہوا، وہی سچا مسلمان ہے، اور اس کا اسلام ہی وہ حقیقی اسلام ہے جسے اللہ پسند کرتا ہے اور اس سے راضی ہوتا ہے۔
اور ہمیں نبی ﷺ نے اس حدیث میں خبر دی ہے کہ سچا مسلم وہ ہے، جو اپنی زبان اور اپنے ہاتھ کی حفاظت کرے؛ پس وہ مسلمانوں کو اپنی زبان سے تکلیف دے نہ اپنے ہاتھ سے، نہ انہیں گالی دے، نہ ان کی غیبت کرے اور نہ اپنی زبان سے انہیں اذیت پہنچائے، اور نہ انہیں مارے، نہ ان کے ساتھ برا سلوک کرے اور نہ اپنے ہاتھ سے ان پر زیادتی کرے۔
یہ اس شخص کی صفات ہیں جس کا اسلام مکمل ہو گیا؛ کہ مسلمان اس کی زبان اور اس کے ہاتھ (کی تکلیف) سے محفوظ رہیں۔
اور رہا وہ شخص جس نے مسلمانوں کو اپنی زبان یا اپنے ہاتھ سے تکلیف پہنچائی، تو وہ ناقص الاسلام ہے، ضعیف الایمان ہے، اور اللہ تبارک و تعالیٰ کے ہاں پسندیدہ نہیں ہے۔
حدیث نمبر:4
عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: آية المنافق ثلاث، إذا حدث كذب، وإذا وعد أخلف، وإذا اؤتمن خان.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہیں کہ، آپ ﷺ نے فرمایا: منافق کی علامتیں تین ہیں۔ جب بات کرے جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے اس کے خلاف کرے، اور جب اس کو امین بنایا جائے تو خیانت کرے۔
[صحیح البخاری:33]،[صحیح المسلم:59 ]
وضاحت:
منافقین اللہ کی مخلوق میں سب سے بدتر ہیں، اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں آخرت میں ان کے حال کے بارے میں خبر دی ہے، پس فرمایا: [إِنَّ الْمُنفِقِينَ فِي الدَّرْكِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ]
ترجمہ: بے شک منافق لوگ آگ کے سب سے نچلے درجے میں ہوں گے اور تو ہرگز ان کا کوئی مدد گار نہ پائے گا۔[النساء: 145]
اور اس حدیث میں نبی ﷺ نے ہمارے لیے تین نشانیاں ذکر فرمائی ہیں؛ یعنی منافق کی نشانیوں میں سے تین نشانیاں؛ تاکہ ہم ان سے بچیں اور ان سے محتاط رہیں۔
پہلی نشانی:جھوٹ بولنا۔
دوسری نشانی:وعدہ خلافی کرنا۔
تیسری نشانی:امانت میں خیانت کرنا۔
یہ تین صفات منافق کی صفات ہیں۔ رہا مومن؛ تو وہ جب بات کرتا ہے، سچ بولتا ہے اور جھوٹ نہیں بولتا، اور جب کسی سے کوئی وعدہ کرتا ہے، تو اس وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا، بلکہ اسے پورا کرتا ہے اور نبھاتا ہے، اور جب کوئی اس کے پاس امانت رکھتا ہے، تو وہ اس تک وہ امانت پہنچا دیتا ہے، بغیر کسی ہچکچاہٹ، تاخیر یا ٹال مٹول کے۔
اور اسی طرح جب اسے کوئی کسی خبر یا راز کی بات بتاتا ہے، اور اس سے اس خبر یا اس راز کو چھپانے کا مطالبہ کرتا ہے، تو وہ اسے چھپاتا ہے اور کسی کو اس کی خبر نہیں دیتا؛ کیونکہ رازوں کو فاش کرنا خیانت کی اقسام میں سے ایک قسم ہے۔ ہم اللہ سے اس سے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔
حدیث نمبر:5
عن أبي سفيان، قال: سمعت جابرا، يقول: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم، يقول: إن بين الرجل، وبين الشرك والكفر، ترك الصلاة.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا:انسان کو شرک و کفر سے جوڑنے والی چیز نماز چھوڑنا ہے۔
[صحیح المسلم:82]
وضاحت:
نماز شہادتین (شهادة ألا إله إلا الله، وأن محمدا رسول الله)اس بات کی گواہی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں) کے بعد اسلام کا سب سے عظیم رکن ہے۔اسی لیے بہت سی آیات میں اسے قائم کرنے کا حکم اور اسے چھوڑنے کی ممانعت آئی ہے، اور نبی ﷺ سے مروی متعدد احادیث میں بھی۔
اور یہ حدیث ہمیں نماز کے معاملے میں سستی برتنے کی سنگینی پر دلالت کرتی ہے؛ پس اس میں نبی ﷺ نے واضح فرمایا ہے، کہ انسان کے درمیان اور کفر و شرک کے درمیان سوائے نماز چھوڑنے کے (کچھ حائل) نہیں ہے، پس اگر اس نے اسے چھوڑ دیا تو وہ کفر اور اللہ کے ساتھ شرک تک پہنچ گیا۔ہم اس سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔
اور اس میں اس بات کی واضح دلیل ہے کہ نماز چھوڑنا کبیرہ گناہوں میں سب سے بڑا اور ہلاک کرنے والے کاموں میں سب سے عظیم ہے، اور یہ بڑے گناہوں مثلاً سود، زنا، چوری اور شراب نوشی سے بھی زیادہ سخت گناہ ہے؛ باوجود اس کے کہ یہ معاصی (گناہ) بھی کبیرہ گناہوں میں سے ہیں۔
پس ہر مسلمان مرد اور عورت پر واجب ہے کہ وہ نماز کی سخت ترین حرص رکھے، اور اس کا انتہائی درجہ اہتمام کرے؛ کیونکہ اس کی ادائیگی خیر، برکت اور رزق کا سبب ہے، اور جنت، مغفرت اور اللہ کی رضا کا ذریعہ ہے۔
حدیث نمبر:6
عن عبدالله بن مسعود رضي الله عنه قال: سألت النبي صلى الله عليه وسلم، أي العمل أحب إلى الله؟ قال: الصلاة على وقتها، قال: ثم أي؟ قال: ثم بر الوالدين،
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، کہ میں نے رسول اللہﷺ سے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کون سا عمل زیادہ محبوب ہے ؟ آپﷺنے فرمایا: کہ اپنے وقت پر نماز پڑھنا ، پھر پوچھا ، اس کے بعد ، فرمایا والدین کے ساتھ نیک معاملہ رکھنا۔
[صحیح البخاری:527]،[صحیح المسلم:85]
وضاحت:
صحابہ کرام نبی ﷺ سے ان نیک اعمال کے بارے میں سوال کیا کرتے تھے۔ جو اللہ کو محبوب ہیں، اور جن سے وہ راضی ہوتا ہے؛ تاکہ وہ ان کے ذریعے اللہ کا قرب حاصل کر سکیں۔
اور اس حدیث میں جلیل القدر صحابی عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ہمیں بتایا ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ سے ان نیک اعمال کے بارے میں سوال کیا جو اللہ کو محبوب ہیں، تو نبی ﷺ نے ان کے سامنے ذکر فرمایا کہ اہم ترین اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک پسندیدہ ترین اعمال یہ ہیں: نماز کو اس کے وقت پر ادا کرنا؛ یعنی اس کے اول وقت میں، پس اول وقت میں نماز کی طرف جلدی کرنا اس کی رغبت اور اس سے محبت کی دلیل ہے، اور جس نے اللہ کی اطاعت سے محبت کی، اللہ اس سے محبت فرماتا ہے۔
پس مسلمان مردوں اور عورتوں پر واجب ہے کہ وہ نماز کی سخت ترین حرص رکھیں، مرد اسے مسجدوں میں مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ ادا کریں، اور عورتیں اسے گھروں میں اول وقت میں ادا کریں۔
اور ان باتوں میں سے جن پر متنبہ کرنا ضروری ہے (وہ یہ ہے کہ): ہر مسلمان مرد اور عورت پر واجب ہے کہ وہ نماز کے اوقات کو پہچانے، کیونکہ نماز کے اوقات کا معاملہ بہت بڑا ہے، اور جس نے جان بوجھ کر نماز چھوڑی اور اسے ادا نہ کیا یہاں تک کہ اس کا وقت نکل گیا، تو اس نے گناہوں میں سے ایک بہت بڑے گناہ اور کبیرہ گناہوں میں سے ایک بہت بڑے کبیرہ گناہ کا ارتکاب کیا۔
پھر نبی ﷺ نے اس حدیث میں ان کے لیے ایک اور نیک عمل کا ذکر فرمایا جو اللہ تعالیٰ کو محبوب ہے، اور وہ ہے والدین کے ساتھ حسنِ سلوک (بر الوالدین)۔
اور والدین کے ساتھ حسنِ سلوک اللہ تبارک و تعالیٰ کے مقرب ترین اور عظیم ترین پسندیدہ کاموں اور اطاعتوں میں سے ہے، اور وہ یہ ہے کہ اولاد — خواہ بیٹا ہو یا بیٹی — اپنے والدین کے ساتھ اپنے اقوال اور افعال کے ذریعے بھلائی کرے؛ اور وہ ان کی اطاعت، ان کی تکریم، ان کا خیال رکھنے اور کسی بھی قول یا عمل کے ذریعے ان کے ساتھ بدسلوکی نہ کرنے کے ذریعے ہو؛ کیونکہ (بدسلوکی) کرنا والدین کی نافرمانی (عقوق) میں سے ہے، اور یہ کبیرہ گناہوں میں سے ہے، ہم اللہ سے معافی اور عافیت کا سوال کرتے ہیں۔
حدیث نمبر:7
عن عثمان بن عفان، قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم، يقول: من توضأ للصلاة، فأسبغ الوضوء، ثم مشى إلى الصلاة المكتوبة، فصلاها مع الناس، أو مع الجماعة، أو في المسجد، غفر الله له ذنوبه.
سیدناعثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا:جس نے نماز کے لیے وضو کیا اور وضو کی تکمیل کی، پھر فرض نماز کے لیے چل کر گیا اور لوگوں کے ساتھ یا جماعت کے ساتھ یا مسجد میں نماز ادا کی، اللہ تعالیٰ اس کے گناہ معاف کر دے گا۔
[صحیح المسلم:232 ]
وضاحت:
اس حدیث میں نبی ﷺ نے ہمیں ایک ایسے عظیم عمل کی خبر دی ہے، کہ جو شخص اس پر عمل کرے گا، اللہ اسے بہترین ثواب سے نوازے گا، اور وہ بہترین ثواب یہ ہے کہ: اللہ اس کے گناہوں کو بخش دے گا۔
اور یہ عمل نماز سے متعلق ہے، اور یہ تین امور پر مشتمل ہے جنہیں مسلمان اللہ عزوجل کا قرب حاصل کرنے کے لیے انجام دیتا ہے:
پہلا:یہ کہ وہ مکمل وضو (اسباغ الوضوء) کرے، اور وضو کو مکمل کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اسے کامل اور پورا کرے، اس طرح کہ پانی وضو کے ہر عضو تک یقینی طور پر پہنچ جائے۔
دوسرا: یہ کہ وہ مسجد کی طرف چل کر جائے جس کا مقصد ،،صلاۃ مکتوبہ،، کی ادائیگی ہو، اور اس سے مراد فرض نماز ہے۔
تیسرا: یہ کہ وہ فرض نماز مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ ادا کرے۔
پس جس نے یہ کیا کہ مکمل وضو کیا، پھر مسجد کی طرف چل کر گیا، پھر جماعت کے ساتھ نماز ادا کی، تو اس نے یہ بہترین ثواب حاصل کر لیا: اور وہ یہ ہے کہ اللہ اس کے گناہوں کو بخش دے، اور جس کے گناہوں کو اللہ نے بخش دیا تو وہ دنیا اور آخرت میں کامیاب ہونے والوں میں سے ہے۔
حدیث نمبر:8
عن أبى هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من كذب علي متعمدا، فليتبوأ مقعده من النار.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:جس نے عمداً مجھ پر جھوٹ بولا وہ آگ میں اپنا ٹھکانا بنا لے۔
[صحیح المسلم:8]
وضاحت:
نبی ﷺ کی حدیث میں جھوٹ بولنا کبیرہ گناہوں اور عظیم خطاؤں میں سے ہے؛ پس جس نے کوئی بات گھڑی اور یہ دعویٰ کیا کہ یہ نبی ﷺ کا کلام ہے، تو اس نے بہت بڑے گناہ کا بہتان باندھا۔
اور جس نے رسول اللہ ﷺ کی طرف منسوب کوئی جھوٹی حدیث نقل کی (بغیر یہ واضح کیے کہ یہ جھوٹی ہے)، تو اس نے حد سے تجاوز کیا، ظلم کیا اور بہت بڑی برائی کا ارتکاب کیا۔ اور یہ بات افسوسناک ہے کہ: نبی ﷺ کی طرف منسوب جھوٹی احادیث پھیل گئی ہیں۔
اور یہ بھی افسوسناک ہے کہ: بعض نیک لوگ نیک نیتی کے ساتھ ان احادیث کو نشر کرتے ہیں، اور یہ ایک ایسی بڑی برائی ہے جس سے بچنے کی ایک دوسرے کو وصیت کرنا ہم پر واجب ہے۔
آپ ﷺ نے فرمایا: [إن كذبا علي ليس ككذب على أحد ؛ فمن كذب علي متعمدا فليتبوأ مقعده من النار]
بیشک مجھ پر جھوٹ بولنا کسی اور پر جھوٹ بولنے کی طرح نہیں ہے؛ پس جس نے مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ بولا، وہ اپنا ٹھکانا آگ (جہنم) میں بنا لے۔ (اسے بخاری نے روایت کیا)۔[صحیح البخاری:1291]
اور آپ ﷺ نے فرمایا:[من حدث عني حديثا وهو يرى أنه كذب، فهو أحد الكاذبين]
جس نے میری طرف سے کوئی ایسی حدیث بیان کی جس کے بارے میں وہ سمجھتا ہو کہ وہ جھوٹ ہے، تو وہ بھی جھوٹوں میں سے ایک ہے۔ (اسے ترمذی نے روایت کیا اور کہا کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے)۔[سنن ترمذی:2662]
پس ہم پر واجب ہے کہ ہم احادیث کو نبی ﷺ کی طرف منسوب کرنے سے پہلے ان کی صحت کی یقین دہانی کر لیں۔ اور یہ ہم پر اللہ کا فضل ہے کہ: اس نے ہمارے لیے اس زمانے میں احادیث کی تصدیق کے معاملے کو آسان کر دیا ہے، اور وہ معتبر کتب اور ویب سائٹس کی مراجعت کے ذریعے ممکن ہے۔
اور اس میدان میں مشہور ترین کتابوں میں سے: شیخ البانی رحمہ اللہ کی کتب ہیں۔
حدیث نمبر:9
عن عبد الله بن مسعود، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: لا يدخل الجنة من كان في قلبه مثقال ذرة من كبر،
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریمﷺ سے روایت کی،آپ نے فرمایا:جس کے دل میں ذرہ برابر تکبر ہو گا، وہ جنت میں داخل نہ ہو گا۔
[صحیح المسلم:91]
وضاحت:
دینِ اسلام پاکیزہ اخلاق اور کریمانہ صفات کا دین ہے؛ اسی لیے اس نے نرمی، عاجزی اور انکساری کا حکم دیا ہے، اور غرور، تکبر اور بڑائی چاہنے سے روکا ہے۔
اور اس حدیث میں نبی ﷺ کی طرف سے ان متکبرین کے لیے تنبیہ ہے جو لوگوں کو حقیر سمجھتے ہیں اور ان پر بڑائی جتاتے ہیں؛ پس متکبر لوگ جنت میں داخل نہیں ہوں گے۔ ہم اللہ سے سلامتی اور عافیت کا سوال کرتے ہیں۔
اور آپ ﷺ کے فرمان: ،،وہ شخص جنت میں داخل نہیں ہوگا جس کے دل میں ذرہ برابر بھی تکبر ہو،،کا مطلب یہ ہے کہ تکبر ایک سنگین معاملہ ہے، خواہ وہ تھوڑا ہی کیوں نہ ہو جیسے کہ وہ ایک ذرے کے برابر ہو، اور یہ بہت ہی تھوڑی مقدار ہوتی ہے۔
اور نبی ﷺ نے ہمیں تکبر کے معنی کے بارے میں خبر دیتے ہوئے فرمایا:،،تکبر حق کی مخالفت کرنے (حق کو رد کرنے) اور لوگوں کو حقیر جاننے کا نام ہے۔ ،،بطر الحق،،کا معنی ہے: اسے رد کر دینا، اور ،،غمط الناس،، کا معنی ہے: انہیں حقیر سمجھنا۔
اور تکبر کی حرمت اور اس کی مذمت پر جو چیز دلالت کرتی ہے وہ نبی ﷺ کا یہ فرمان ہے: [من تعظم في نفسه، أو اختال في مشيته، لقي الله وهو عليه غضبان]
جس نے اپنے نفس کو بڑا سمجھا، یا اپنی چال میں تکبر کیا، وہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ اس پر غضبناک ہو گا۔
(اسے بخاری نے ،،الادب المفرد:549،، میں جید سند کے ساتھ روایت کیا ہے)۔
پس جب ہمیں یہ معلوم ہو گیا کہ تکبر ایک عظیم گناہ اور قابلِ مذمت خصلت ہے، تو ہم پر واجب ہے کہ ہم اس سے بچیں، اور وہ نیک اعمال کریں جو ہمیں اس سے دور کر دیں؛ جیسے نصیحت کو قبول کرنا، حق کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنا، اور جیسے فقراء، کمزوروں، ضرورت مندوں اور خادموں وغیرہ سے محبت کرنا، ان کے ساتھ نرمی برتنا، ان کا خیال رکھنا اور ان کے لیے عاجزی اختیار کرنا؛ کیونکہ یہ وہ امور ہیں جو دل کو پاک کرتے ہیں اور نفس کو غرور، بڑائی اور تکبر سے بری کرتے ہیں۔
حدیث نمبر:10
عن عثمان رضي الله عنه، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: خيركم من تعلم القرآن وعلمه.
سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:کہ تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو قرآن مجید پڑھے اور پڑھائے۔
وضاحت:
یہ حدیث قرآن کریم سیکھنے اور سکھانے کی اہمیت پر دلالت کرتی ہے؛ پس نبی ﷺ ہمیں خبر دے رہے ہیں کہ وہ لوگ جو قرآن سیکھتے ہیں اور وہ جو اسے سکھاتے ہیں، وہ لوگوں میں سب سے بہتر، افضل اور پاکیزہ ترین ہیں۔
اور جب جلیل القدر تابعی ابو عبد الرحمن السلمی نے یہ حدیث بیان کی (اور وہی ہیں جنہوں نے اسے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے) تو انہوں نے کہا: اسی بات نے مجھے اس جگہ بٹھایا ہے، یعنی وہ اسی حدیث شریف میں مذکور فضیلت اور خیر میں داخل ہونے کی رغبت میں دسیوں سال قرآن پڑھانے کے لیے بیٹھے رہے۔
اور اسی بنا پر؛ ہر مسلمان مرد اور عورت کے لیے ضروری ہے، کہ وہ قرآن کریم کا اہتمام کرے، پس اس کے سیکھنے، اسے ضبط کرنے (حفظ کرنے) اور اس میں مہارت حاصل کرنے کی حرص رکھے، پھر اس کے بعد دوسروں کو اسے سکھانے میں شریک ہو۔
اور نفع بخش اور بہترین امور میں سے (یہ ہے): سیکھنے کی غرض سے مسجدوں، مدرسوں اور اداروں میں قرآن پاک کے حفظ کے حلقوں میں شامل ہونا؛ پس جس نے ایسا کیا وہ خیر، نور اور ہدایت پر ہے۔
حدیث نمبر:11
عن أبي هريرة رضي الله عنه، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم: كلمتان حبيبتان إلى الرحمن خفيفتان على اللسان، ثقيلتان في الميزان، سبحان الله وبحمده، سبحان الله العظيم.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے کہا کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا:دو کلمے ایسے ہیں جو اللہ تبارک و تعالیٰ کو بہت ہی پسند ہیں جو زبان پر ہلکے ہیں اور قیامت کے دن اعمال کے ترازو میں بوجھل اور باوزن ہوں گے، وہ کلمات مبارکہ یہ ہیں۔
[سبحان الله وبحمده، سبحان الله العظيم]
[صحیح البخاری: 7563]،[صحیح المسلم:2694]
وضاحت:
نبی ﷺ نے ہمیں کثرت سے ذکر کرنے کی ترغیب دی ہے، اور ہمارے لیے اس کی فضیلت اور اہمیت کو بیان فرمایا ہے، اور ہمارے لیے صبح و شام کے اذکار، سونے کے اذکار اور بیدار ہونے کے وقت کے اذکار مشروع فرمائے ہیں؛ یہ سب اور اس جیسی دیگر مثالیں اذکار کی کتابوں میں مذکور ہیں؛ (جیسے)امام نووی رحمہ اللہ کی ،،کتاب الاذکار،،اور ابن باز رحمہ اللہ کی ،،تحفۃ الاخیار،، اور قحطانی رحمہ اللہ کی ،،حصن المسلم،، وغیرہ۔
اور کچھ اذکارِ مطلق (عام اذکار) ہیں جنہیں مسلمان کے لیے ہر وقت کہنا اور کسی وقت یا عدد کی قید کے بغیر ان کی کثرت کرنا مستحب ہے؛ ان میں سے:[سبحان الله والحمد لله، ولا إله إلا الله، والله أكبر، ولا حول ولا قوة إلا بالله]کہنا ہے۔
اور انہیں میں سے یہ دو عظیم کلمات ہیں:[سبحان الله وبحمده، سبحان الله العظيم]، پس ہمارے نبی علیہ الصلاۃ والسلام نے ہمیں بتایا ہے کہ یہ تین خصوصیات کی وجہ سے ممتاز ہیں:
① یہ دونوں زبان پر ہلکے ہیں، پس انسان کے لیے بغیر کسی مشقت کے ان کا ورد کرنا بہت آسان ہے۔
② یہ دونوں میزان (ترازو) میں وزنی ہیں، اور اس کا مطلب یہ ہے کہ: جس نے انہیں کہا، اس کے لیے ایسا عظیم اجر ہے جس سے اللہ اس کی نیکیوں کے ترازو کو بھر دے گا۔
③ یہ دونوں رحمن کو محبوب ہیں؛ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ ان دونوں سے محبت فرماتا ہے، اور یہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ یہ دونوں کلمات انتہائی اہمیت اور عظمت والے ہیں۔
اور ان سب وجوہات کی بنا پر، ہمیں چاہیے کہ ہم ان دو عظیم کلمات اور ان کے علاوہ دیگر اذکارِ مطلق کا اہتمام کریں، اور ہر وقت اور ہر حال میں ان کی حرص رکھیں اور انہیں کثرت سے پڑھیں؛ تاکہ ربِ کریم جل جلالہ سے عظیم اجر حاصل کر سکیں۔
حدیث نمبر:12
عن أبي هريرة رضي الله عنه، قال: أوصاني خليلي صلى الله عليه وسلم بثلاث: صيام ثلاثة أيام من كل شهر، وركعتي الضحى، وأن أوتر قبل أن أنام.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ، میرے خلیل ﷺ نے مجھے ہر مہینے کی تین تاریخوں میں روزہ رکھنے کی وصیت فرمائی تھی۔ اسی طرح چاشت کی دو رکعتوں کی بھی وصیت فرمائی تھی اور اس کی بھی کہ سونے سے پہلے ہی میں وتر پڑھ لیا کروں۔
[صحیح البخاری:1981]
وضاحت:
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ایک جلیل القدر صحابی ہیں، جو رسول اللہ ﷺ کے مقرب تھے۔ وہ ہمیں نبی ﷺ کی اپنی ذات کے لیے وصیت کے بارے میں خبر دیتے ہوئے کہتے ہیں: ،،اوصانی خلیلی،،(میرے خلیل نے مجھے وصیت فرمائی)؛ اور لفظ ،،خلیلی،، لفظ ،،حبیبی،، کی طرح ہے، لیکن یہ بہت زیادہ عظیم محبت پر دلالت کرتا ہے؛ پس یہ لفظ ،،حبیبی،،سے زیادہ بلیغ اور قوی ہے۔
وہ کہتے ہیں: میرے خلیل نے مجھے تین باتوں کی وصیت فرمائی:
پہلی وصیت:
ہر مہینے کے تین دن کے روزے رکھنا؛ اور ہر مہینے کے تین روزے رکھنا ایک عظیم سنت ہے۔ جس کی فضیلت بہت بڑی ہے، اور نبی ﷺ نے خبر دی ہے کہ ہر مہینے کے تین دن کے روزے رکھنا پورے سال کے روزے رکھنے کی طرح ہے، اور یہ اپنے بندوں پر اللہ کا کرم اور فضل ہے۔ اور اس سے مراد نفلی روزے ہیں؛ اور وہ اس طرح کہ انسان ہر مہینے میں تین دن کے روزے رکھے، خواہ وہ تین دن لگاتار ہوں یا الگ الگ۔
دوسری وصیت:
چاشت (ضحیٰ) کی نماز کی وصیت؛ اور یہ دو رکعت یا اس سے زیادہ ہے جو چاشت کے وقت ادا کی جاتی ہے۔ اور وہ صبح کا درمیانی وقت ہے، پس مسلمان کے لیے مستحب ہے، کہ وہ چاشت کے وقت دو، چار یا اس سے زیادہ رکعتیں پڑھے؛ کیونکہ اس کا اجر بڑا اور فضیلت عظیم ہے۔
تیسری وصیت:
وتر کی وصیت؛ اور وتر نفلی نمازوں میں سب سے افضل ہے، اس کا وقت عشاء کی نماز کے بعد سے لے کر فجر کی اذان تک رہتا ہے؛ اور وہ اس طرح کہ مسلمان اللہ کے لیے نفلی طور پر ایک، تین، پانچ یا اس سے زیادہ رکعتیں پڑھے، اہم بات یہ ہے کہ ان کی تعداد طاق (Odd) ہو، اور لفظ ،،وتر،، سے یہی مراد ہے۔
یہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے لیے نبی ﷺ کی وصیت ہے، اور یہ ہم سب کے لیے ہمارے رسول اور حبیب محمد علیہ الصلاۃ والسلام کی طرف سے وصیت ہے۔
حدیث نمبر:13
عن أبي هريرة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: أقرب ما يكون العبد من ربه وهو ساجد، فأكثروا الدعاء.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:بندہ اپنے رب کے سب سے زیادہ قریب اس حالت میں ہوتا ہے جب وہ سجدے میں ہوتا ہے، لہٰذا اس میں کثرت سے دعا کرو۔
[صحیح المسلم:482]
وضاحت:
اللہ عزوجل نے اپنے بندوں کو حکم دیا ہے کہ وہ مختلف قسم کی قربتوں اور طرح طرح کی اطاعتوں کے ذریعے اس کا قرب حاصل کریں۔
اور اللہ کے قریب کرنے والی عظیم ترین چیزوں میں سے نماز ہے، اپنے فرائض اور نوافل کے ساتھ؛ پس جب مسلمان اپنی نماز میں داخل ہوتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کے قریب ہوتا ہے۔
اور باوجود اس کے کہ پوری نماز بندہ مومن کو اللہ کے قریب کرتی ہے، لیکن سجدے کے دوران وہ ایسی حالت میں ہوتا ہے جو قرب کی حالتوں میں سب سے عظیم ہے؛ کیونکہ بندہ اپنے سجدے میں اللہ کے سامنے عاجزی کرتا ہے، اس کی تسبیح و تقدیس بیان کرتا ہے، اور خشوع، عاجزی اور فقر و احتیاج کی حالت میں اس سے دعا مانگتا ہے۔
اسی لیے سجدہ دعا کی قبولیت کے مقامات میں سے ہے، جیسا کہ نبی ﷺ نے دوسری حدیث میں فرمایا: [وأما السجود فاجتهدوا في الدعاء فقمن أن يستجاب لكم]
اور رہا سجدہ، تو اس میں دعا کی بھرپور کوشش کرو، پس وہ اس لائق ہے کہ تمہاری دعا قبول کی جائے۔[صحیح المسلم:479]
اور ،،قمن،، کا معنی ہے: ،،حري،، یعنی اس میں دعا کی قبولیت کی امید کی جاتی ہے۔
اسی لیے انسان کے لیے مستحب ہے کہ وہ سجدہ طویل کرے اور کثرت سے دعا مانگے؛ کیونکہ سجدہ اور دعا دنیا اور آخرت میں خیر اور کامیابی کے عظیم ترین اسباب میں سے ہیں۔
حدیث نمبر:14
عن ثابت بن الضحاك، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال : …..ولعن المؤمن كقتله……
سیدنا ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور مومن پر لعنت بھیجنا اسے قتل کرنے کے برابر ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[صحیح البخاری: 6105]،[صحیح المسلم:110]
وضاحت:
لعنت کرنا ایک بہت بڑا گناہ اور بہت بڑی معصیت ہے۔
اور ہمارے نبی ﷺ نے ہمیں بہت سے احادیث میں لعنت کرنے سے ڈرایا ہے، اور اس سے منع فرمایا ہے۔ جن میں سے ایک یہ حدیث ہے، اور وہ آپ ﷺ کا یہ فرمان ہے: [ولعن المؤمن كقتله]
مومن پر لعنت کرنا اسے قتل کرنے کی طرح ہے۔
اور انہیں میں سے آپ ﷺ کا یہ فرمان ہے: [لا تلاعنوا بلعنة الله، ولا بغضبه]
ایک دوسرے پر اللہ کی لعنت اور اس کے غضب کے ساتھ لعنت نہ بھیجو۔ (اسے ترمذی نے روایت کیا اور کہا کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے)۔[سنن ترمذی:1976]
اور نبی ﷺ نے خبر دی ہے جیسا کہ:[ أن الرجل إذا لعن شيئًا بغير حق، فإن اللعنة ترجع إليه]
بیشک آدمی جب کسی چیز پر ناحق لعنت کرتا ہے، تو وہ لعنت اسی کی طرف لوٹ آتی ہے۔ سنن ابی داؤد میں حسن سند کے ساتھ مرو ی ہے:
[سنن ابی داؤد:4905]
( یعنی) وہ لعنت اس کے کہنے والے کی طرف ہی واپس آ جاتی ہے۔ اور طبرانی نے جید اسناد کے ساتھ سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، انہوں نے کہا:[ كنا إذا رأينا الرجل يلعن أخاه، رأينا أنه قد أتى بابا من الكبائر]
ہم جب کسی آدمی کو دیکھتے کہ وہ اپنے بھائی پر لعنت کر رہا ہے، تو ہم یہ سمجھتے تھے کہ اس نے کبیرہ گناہوں میں سے ایک دروازے پر قدم رکھ دیا ہے۔ [المعجم الأوسط للطبراني: 6674]
شیخ ابن باز رحمہ اللہ نے فرمایا:[ لعن المسلم كبيرة من كبائر الذنوب]
مسلمان پر لعنت کرنا کبیرہ گناہوں میں سے ایک کبیرہ گناہ ہے۔ [الدرر الثرية من الفتاوى البازية:390]
اور یہ بات رنجیدہ اور افسوسناک ہے کہ: بہت سے مسلمانوں کے درمیان لعنت کرنا پھیل گیا ہے۔ واللہ المستعان (اور اللہ ہی سے مدد طلب کی جاتی ہے)۔ پس ہم سب پر واجب ہے: کہ ہم اس کا انکار کریں، اس سے بچیں، اور اس سے انتہائی درجہ بچنے کی تلقین کریں۔
حدیث نمبر:15
عن أبي هريرة رضي الله عنه، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: قال الله: أنفق يا ابن آدم أنفق عليك.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے ابن آدم! تو خرچ کر تو میں تجھ کو دیئے جاؤں گا۔
[صحیح البخاری:5352]،[صحیح المسلم:993]
وضاحت:
اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کی جن عظیم ترین صفات کی تعریف فرمائی ہے، ان میں سے ایک اللہ کی راہ میں خرچ کرنا ہے۔ اس بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
[ الم ]،[ذَلِكَ الْكِتَبُ لَا رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ]،[الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ وَيُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَمِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنفِقُونَ]
ترجمہ: [ الم ]،[یہ وہ کتاب ہے جس میں کوئی شک نہیں، ہدایت ہے تقویٰ والوں کے لیے]،[ جو غیب پر ایمان لاتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں]۔ [البقرة:1 تا 3 ]
اور خرچ کرنے میں بہت سی چیزیں شامل ہیں، جن میں سے ایک مرد کا اپنی بیوی اور بچوں پر خرچ کرنا ہے، اور ان میں سے مسکینوں اور محتاجوں پر اس کا خرچ کرنا ہے، اور ان میں سے خیر کے کاموں میں خرچ کرنا ہے؛ جیسے قرآن مجید کی اشاعت، نفع بخش کتابوں کی تقسیم، مریضوں کا علاج، اور اس کے علاوہ دیگر رفاہی منصوبے۔
اور اس حدیث میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس شخص کے لیے وعدہ ہے جس نے اپنا مال خیر کے کاموں میں خرچ کیا، کہ اللہ اس پر خرچ فرمائے گا، اسے اپنے فضل سے رزق عطا کرے گا، اور اپنی وسیع عطا سے اسے نعم البدل (عوض) عطا فرمائے گا،
جیسا کہ اللہ عزوجل نے فرمایا:
[قُلْ إِنَّ رَبِّي يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَن يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ وَيَقْدِرُ لَهُ وَمَا أَنفَقْتُم مِّن شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُةٌ وَهُوَ خَيْرُ الرَّازِقِينَ]
ترجمہ: کہہ دیجیے کہ میرا رب اپنے بندوں میں سے جس کے لیے چاہتا ہے رزق کشادہ کر دیتا ہے، اور جس کے لیے چاہتا ہے تنگ کر دیتا ہے، اور تم جو کچھ بھی خرچ کرو گے وہ اس کا بدلہ دے گا، اور وہ بہترین رزق دینے والا ہے۔[سبأ:39]
پس جس نے اپنے خاندان پر، یا اپنے والدین پر، یا اپنے رشتہ داروں پر، یا فقراء اور ضرورت مندوں پر خرچ کیا، یا خیر کے مختلف کاموں میں خرچ کیا، اللہ اس کے لیے اجر و ثواب لکھ دیتا ہے، اور اسے ایسا رزق عطا فرماتا ہے،جو اس کے خرچ کیے ہوئے کا بدل بن جاتا ہے، اور یہ اللہ کا فضل ہے وہ جسے چاہتا ہے عطا فرماتا ہے، اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔
حدیث نمبر:16
وعن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: ما يصيب المسلم من نصب، ولا وصب، ولا هم، ولا حزن، ولا أذى، ولا غم، حتى الشوكة يشاكها، إلا كفر الله بها من خطاياه.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ، نبی کریم ﷺ نے فرمایا:کہ مسلمان جب بھی کسی پریشانی، بیماری، رنج و ملال، تکلیف اور غم میں مبتلا ہو جاتا ہے یہاں تک کہ اگر اسے کوئی کانٹا بھی چبھ جائے تو اللہ تعالیٰ اسے اس کے گناہوں کا کفارہ بنا دیتا ہے۔
[صحیح البخاری: 5642]،[صحیح المسلم:2573]
وضاحت:
انسان اس دنیا میں مصائب، مشکلات، فکروں اور غموں کا شکار رہتا ہے۔ اور اس حدیث میں نبی ﷺ ہمیں ایک عظیم بات بتاتے ہیں، جسے ہمیں اپنے تمام حالات میں یاد رکھنا چاہیے؛ کیونکہ یہ ایسی بات ہے جو دل کو خوش کرتی اور اطمینان لاتی ہے۔
وہ بات یہ ہے کہ انسان کو جو بھی تھکن (نصب) پہنچتی ہے، یا بیماری (وصب)، یا کوئی فکر، غم، دکھ اور تکلیف پہنچتی ہے، اللہ تعالیٰ ان کے بدلے اس کے گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔ پس یہ مصائب گناہوں کی مغفرت، انہیں مٹانے اور ختم کرنے کا سبب بن جاتے ہیں، چنانچہ انسان مصیبت سے اس حال میں نکلتا ہے کہ وہ اپنے گناہوں اور خطاؤں سے پاک اور اپنے رب اور مولیٰ کے قریب ہوتا ہے۔
اور آپ ﷺ کے فرمان: [حتى الشوكة يشاكها] ،،حتیٰ کہ وہ کانٹا جو اسے چبھتا ہے،، میں اس بات کی دلیل ہے کہ انسان کو پہنچنے والی تکلیف اس کے لیے کفارہ بن جاتی ہے، خواہ وہ کانٹا چبھنے جیسی معمولی تکلیف ہی کیوں نہ ہو۔
جب انسان کو یہ معلوم ہو جائے، تو اسے اللہ کے فضل پر خوش ہونا چاہیے، اور اس بات کی حرص کرنی چاہیے کہ وہ ہمیشہ صبر کرنے والا، ثواب کی امید رکھنے والا اور اللہ سے راضی رہنے والا بنے۔ پس جو اللہ سے راضی ہوا، اللہ اس سے راضی ہو گیا اور اسے خوش کر دیا، اور اسے عزت دی، نعمتوں سے نوازا اور عطا فرمایا۔
حدیث نمبر:17
عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا تدخلون الجنة حتى تؤمنوا، ولا تؤمنوا حتى تحابوا أولا، أدلكم على شيء إذا فعلتموه تحاببتم، أفشوا السلام بينكم.
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تک تم ایمان نہیں لاؤ گے جنّت میں داخل نہیں ہو سکو گے، اور تم اس وقت تک صحیح مومن نہیں ہوگے، جب تک ایک دوسرے سے محبت نہیں کرو گے۔ کیا میں تمھیں ایسی چیز نہ بتاؤں کہ اگر تم اس پر عمل پیرا ہو گے، تو باہمی محبت کرنے لگو گے؟ ایک دوسرے کو بکثرت سلام کہو۔
[صحیح المسلم:54]
وضاحت:
یہ حدیث ہمیں ایک انتہائی اہم معاملے کی ترغیب دیتی ہے: اور وہ یہ کہ ہم آپس میں ایک دوسرے سے محبت کرنے والے بن جائیں۔ پس نبی ﷺ ہمیں خبر دیتے ہیں کہ ہم جنت میں داخل نہیں ہوں گے یہاں تک کہ ہم ایمان لانے والے بن جائیں، اور ہم حقیقت میں مومن نہیں ہو سکتے یہاں تک کہ ہم ایک دوسرے سے محبت کرنے لگیں۔ اور تاکہ ہمارے درمیان باہمی محبت پیدا ہو، ایک بہت آسان اور سہل کام ہے، اگر ہم اسے کریں گے تو ہمارے درمیان محبت عام ہو جائے گی۔
وہ آسان اور سہل کام ،،سلام کو عام کرنا،،ہے۔ اور سلام کو عام کرنے کا مطلب اسے لوگوں کے درمیان پھیلانا اور رواج دینا ہے۔
پس ہم نے اس حدیث سے یہ جانا: کہ مسلمانوں کے درمیان سلام ان کے درمیان محبت کے حصول کا سبب ہے، اور محبت کا حصول ایمان میں زیادتی کا سبب ہے، اور ایمان کی زیادتی جنت میں داخلے کا سبب ہے۔
اور سلام کی بہترین قسم یہ ہے کہ انسان کہے: ،،السلام عليكم ورحمة الله وبركاته،،۔ اور جواب کی بہترین قسم یہ ہے: ،،وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته،،۔
پس اگر انسان نے ،،السلام عليكم ورحمة الله،، کہا، یا صرف ،،السلام عليكم،، کہا، تو ان شاء اللہ یہ کافی ہے، لیکن مکمل سلام افضل ہے، اور وہ: ،،السلام عليكم ورحمة الله وبركاته،، کہنا ہے۔
چنانچہ مسلمان کو چاہیے کہ وہ سلام کو عام کرنے کی حرص رکھے، اس کا اہتمام کرے، اور اس میں شرم محسوس نہ کرے، کیونکہ یہ اجر کا سبب ہے، ایمان میں زیادتی کا سبب ہے، اور جنت میں داخلے کا سبب ہے۔
حدیث نمبر:18
عن عبد الرحمن بن أبي سعيد الخدري، عن أبيه، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم ، قال: لا ينظر الرجل إلى عورة الرجل، ولا المرأة إلى عورة المرأة،
عبدالرحمن بن ابی سعید رحمہ اللہ اپنے باپ سے روایت بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مرد کسی مرد کی شرمگاہ کو نہ دیکھے اور عورت کسی عورت کی شرمگاہ کو نہ دیکھے۔
[صحیح المسلم:338]
وضاحت:
یہ حدیث ایک بہت اہم معاملے پر دلالت کرتی ہے جسے جاننا اور اس پر عمل کرنا ہم پر واجب ہے۔
پس انسان خواہ مرد ہو یا عورت، اس کا ایک ستر (عورت) ہے جسے چھپانا اس پر واجب ہے، اور دوسروں پر واجب ہے کہ وہ اس سے اپنی نظریں نیچی رکھیں۔ یہ مرد کا مرد کے ساتھ اور عورت کا عورت کے ساتھ تعلق کے بارے میں ہے، اور مرد کا عورت کے ساتھ اور عورت کا مرد کے ساتھ تعلق میں تو یہ بدرجہ اولیٰ (زیادہ ضروری) ہے۔جب ہم نے یہ جان لیا، تو ہم پر واجب ہے کہ ہم اپنے ستر کی حفاظت کریں اور اسے چھپائیں؛ تاکہ لوگ اسے نہ دیکھ سکیں، اور ہم اس میں کبھی بھی سستی نہ برتیں، نہ دیکھنے میں اور نہ چھونے میں، اور ہم یہ جان لیں کہ یہ ایسا معاملہ ہے جس میں کسی بھی حال میں نہ رعایت (تسامح) درست ہے، نہ سستی اور نہ ہی مذاق۔
حدیث نمبر:19
عن الصعب بن جثامة الليثي، أنه أهدى لرسول الله صلى الله عليه وسلم حمارا وحشيا وهو بالأبواء، أو بودان فرده عليه، فلما رأى ما في وجهه، قال: إنا لم نرده عليك ، إلا أنا حرم.
سیدنا صعب بن جثامہ لیثی رضی اللہ عنہ نے کہ، جب وہ ابواء یا ودان میں تھے تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو ایک گورخر کا تحفہ دیا تو آپ نے اسے واپس کر دیا تھا ، پھر جب آپ نے ان کے چہروں پر ناراضگی کا رنگ دیکھا تو آپ نے فرمایا واپسی کی وجہ صرف یہ ہے کہ ہم احرام باندھے ہوئے ہیں۔
[صحیح البخاری:1825]،[صحیح المسلم:1193]
وضاحت:
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم رسول اللہﷺ کو تحائف پیش کرنا پسند کرتے تھے، اور نبیﷺ کی یہ عادت مبارکہ تھی کہ آپ ﷺ تحائف قبول فرماتے اور ان کا بدلہ (ہدیہ) دیا کرتے تھے۔
حج کے سفر کے دوران، نبیﷺ کے پاس ایک شخص آئے جن کا نام صعب بن جثامہ تھا، اور ان کے پاس ایک شکار تھا، جو انہوں نے رسول اللہﷺ کے لیے کیا تھا، تاکہ آپﷺ اس میں سے کھائیں، لیکن نبیﷺ نے وہ ہدیہ قبول نہیں فرمایا؛ کیونکہ آپﷺ محرم (احرام کی حالت میں) تھے، اور شکار کرنا احرام کی ممنوعات میں سے ہے۔ جب نبیﷺ نے اس شخص کا ہدیہ واپس کر دیا، تو وہ شخص غمگین ہوا اور متاثر ہوا، چنانچہ نبیﷺ نے عذر ذکر کرنے اور وجہ بیان کرنے میں پہل فرمائی اور فرمایا: [إنا لم نرده عليك إلا أنا حرم]
ہم نے اسے تم پر صرف اس لیے لوٹایا ہے کہ ہم احرام کی حالت میں ہیں۔
اس سے اس شخص کی آنکھیں ٹھنڈی ہو گئیں، اور وہ اپنے ساتھیوں اور شاگردوں کو یہ خبر سنانے لگا۔
اور اس سے ہم اسباب واضح کرنے اور عذر بیان کرنے میں پہل کرنے کی اہمیت سیکھتے ہیں؛ تاکہ ہم شیطان کا راستہ روک سکیں، اللہ تبارک و تعالیٰ کے اس فرمان پر عمل کرتے ہوئے:
[وَقُل لِعِبَادِي يَقُولُوا الَّتِي هِيَ أَحْسَنُ إِنَّ الشَّيْطَانَ يَنزَعُ بينهم]
ترجمہ: اور میرے بندوں سے کہہ دیجیے کہ وہ ایسی بات کہیں جو بہترین ہو، بے شک شیطان ان کے درمیان فساد ڈالتا ہے۔[الإسراء: 53]
اور امام نووی نے اس حدیث کو کتاب ،،ریاض الصالحین،، کے حسنِ اخلاق کے باب میں ذکر کیا ہے؛ تاکہ یہ بیان کریں کہ دل جوئی کرنا، خاطر داری کرنا اور عذر بیان کرنا، مکارمِ اخلاق (بہترین اخلاق) میں سے ہے۔
حدیث نمبر:20
قال: كنا مع حذيفة، فقيل له: إن رجلا يرفع الحديث إلى عثمان، فقال له حذيفة سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول: لا يدخل الجنة قتات.
ہم سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھے، ان سے کہا گیا کہ ایک شخص ایسا ہے جو یہاں کی باتیں عثمان سے جا لگاتا ہے۔ اس پر حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے نبی کریمﷺ سے سنا ہے، آپﷺنے بتلایا کہ جنت میں چغل خور نہیں جائے گا۔
[صحیح البخاری: 6056]،[صحیح المسلم:105]
وضاحت:
یہ حدیث ان احادیث میں سے ہے جو ہمیں زبان کی آفتوں سے ڈراتی ہیں۔ زبان کی آفتیں بہت سی اور متنوع ہیں، اور ان میں سے: غیبت اور نمیمہ (چغلی) ہیں۔ امام نووی رحمہ اللہ نے فرمایا: (جان لو کہ یہ دونوں خصلتیں بدترین برائیوں میں سے ہیں اور لوگوں میں سب سے زیادہ پھیلی ہوئی ہیں، یہاں تک کہ ان سے بہت کم ہی لوگ بچ پاتے ہیں)۔ اور اس حدیث میں ہمارے نبی ہمیں ایک مذموم خصلت اور عظیم گناہ سے منع فرما رہے ہیں جو کہ کبیرہ گناہوں میں شمار ہوتا ہے، اور وہ ہے نمیمہ (چغلی)۔ اور ،،قتات،،: چغل خور کو کہتے ہیں، اور نبی ﷺ نے خبر دی ہے کہ وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا۔ اور نمیمہ (چغلی) سے مراد: لوگوں کے درمیان بگاڑ پیدا کرنے کی غرض سے باتیں ادھر ادھر منتقل کرنا ہے، اور یہ مسائل، جھگڑوں اور دشمنیوں کے پیدا ہونے کے اسباب میں سے ایک سبب ہے۔ پس ہر مسلمان مرد اور عورت پر واجب ہے کہ وہ چغلی سے سخت ترین پرہیز کرے، اور اس سے دوسروں کو بھی ڈرائے؛ کیونکہ یہ جنت سے محرومی کے اسباب میں سے ایک سبب ہے، اور قبر کے عذاب کے اسباب میں سے ایک سبب ہے، ہم اس سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔
حدیث نمبر:21
عن أنس بن مالك رضي الله عنه، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:ما من مسلم يغرس غرسا أو يزرع زرعا فيأكل منه طير أو إنسان أو بهيمة إلا كان له به صدقة.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ، کوئی بھی مسلمان جو ایک درخت کا پودا لگائے یا کھیتی میں بیج بوئے ، پھر اس میں سے پرند یا انسان یا جانور جو بھی کھاتے ہیں وہ اس کی طرف سے صدقہ ہے۔
[صحیح البخاری: 2320]،[صحیح المسلم:1553]
وضاحت:
کاشتکاری انسانی سرگرمیوں میں سے ایک اہم سرگرمی ہے، کیونکہ یہ خوراک کے حصول کا ذریعہ ہے، اور بسا اوقات مالداری اور ثروت کا سبب بھی بنتی ہے۔اور اپنے بندوں پر اللہ کے فضل میں سے یہ ہے کہ: جب انسان کوئی پودا لگاتا ہے اور اس میں سے کوئی انسان، پرندہ یا چوپایہ کھاتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اسے اگانے والے کے لیے صدقہ لکھ دیتا ہے، باوجود اس کے کہ اس اگانے والے نے اصل میں صدقے کی نیت سے نہیں اگایا تھا، بلکہ خوراک یا تجارت کی خاطر اگایا تھا۔
اور یہ معاملہ صرف کاشتکاری تک محدود نہیں ہے، بلکہ انسان جو بھی نیک کام کرتا ہے، اسے اس کا اجر ملتا ہے بشرطیکہ اس سے دوسرے فائدہ اٹھائیں، چنانچہ جس نے کنواں کھودا اور اس سے کسی انسان، پرندے یا چوپائے نے پانی پیا، یا (دھوپ سے بچنے کے لیے) کوئی سایہ دار جگہ (مظلہ) بنائی اور اس کے سائے میں کسی انسان، پرندے یا چوپائے نے آرام کیا، تو اسے اس پر اجر و ثواب ملے گا، اور اسی طرح کے دیگر اچھے اور مفید کاموں پر بھی۔ اور ان سب میں اہم بات یہ ہے کہ انسان ان کاموں کو کرتے وقت اجر کی نیت (احتساب) رکھے۔
حدیث نمبر:22
عن أبي هريرة رضي الله عنه، أتى النبي صلى الله عليه وسلم رجل يتقاضاه، فأغلظ له فهم به أصحابه، فقال: دعوه، فإن لصاحب الحق مقالا.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ، نبی کریم ﷺ کی خدمت میں ایک شخص قرض مانگنے اور سخت تقاضا کرنے لگا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے اس کی گوشمالی کرنی چاہی تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: کہ اسے چھوڑ دو، حقدار ایسی باتیں کہہ سکتا ہے۔
[صحیح البخاری: 2401]،[صحیح المسلم:1601]
وضاحت:
نبی ﷺ نے ایک شخص سے اونٹ خریدا، اور اس کے ساتھ یہ طے پایا کہ ایک مدت کے بعد اسے اس کی قیمت ادا کریں گے۔
جب وہ مدت گزر گئی، تو وہ شخص نبی ﷺ سے مال لینے آیا، وہ آپ کے پاس داخل ہوا اور غصے اور بلند آواز میں اپنے مال کا مطالبہ کیا۔
جب صحابہ کرام نے اس کی گفتگو سنی، تو وہ اس پر غصہ ہوئے اور قریب تھا کہ اسے ماریں؛ کیونکہ اس نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مکمل ادب کا مظاہرہ نہیں کیا تھا، تو نبی ﷺ نے ان سے فرمایا: [دَعُوهُ]؛ یعنی: اسے چھوڑ دو، [فَإِنَّ لِصَاحِبِ الْحَقِّ مَقَالًا]؛ یعنی: جب تک وہ اپنے حق کا مطالبہ کر رہا ہے، اسے اپنی مرضی سے بات کرنے کا حق حاصل ہے۔
اور اس حدیث سے ہم ایک اہم فائدہ حاصل کرتے ہیں جو لوگوں کے ساتھ ہمارے معاملات میں ہمیں نفع دیتا ہے، اور وہ یہ ہے کہ: جب انسان اپنے حق کا مطالبہ کر رہا ہو، تو ہمیں چاہیے کہ ہم اسے سنیں، اس کی بات کو اہمیت دیں، اور اگر وہ آواز بلند کرے یا غصے میں کچھ کہے تو اس کا مواخذہ نہ کریں۔
اور اس نبوی ادب کی پابندی سے حقوق ان کے حقداروں تک پہنچ جاتے ہیں، اور ہمارے درمیان مسائل، اختلافات اور جھگڑے کم ہو جاتے ہیں۔
حدیث نمبر:23
عن عبد الله بن أبي قتادة، أن أبا قتادة:طلب غريما له فتوارى عنه، ثم وجده، فقال: إني معسر، فقال: آلله، قال: آلله، قال: فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم، يقول: من سره أن ينجيه الله من كرب يوم القيامة، فلينفس عن معسر، أو يضع عنه .
عبداللہ بن ابی قتادہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے ایک مقروض کو تلاش کیا، تو وہ ان سے چھپ گیا، پھر انہوں نے اسے پا لیا، تو اس نے کہا، میں تنگدست ہوں، ابو قتادہ رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا، اللہ کی قسم، (واقعی تم تنگدست ہو؟) اس نے جواب دیا، اللہ کی قسم (میں واقعی تنگدست ہوں) انہوں نے کہا، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے، جس شخص کو یہ پسند ہو کہ اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن کی تکالیف اور گھٹن سے نجات دے، تو وہ تنگدست کو سہولت و آسانی یا گنجائش دے یا اسے چھوڑ دے۔
[صحیح المسلم:1563]
وضاحت:
قیامت کا دن وہ دن ہے جس میں اللہ بندوں کا محاسبہ فرمائے گا، ان کے اعمال پر ان سے پرسش کرے گا، ان کے کیے ہوئے خیر و شر کا انہیں بدلہ دے گا، ان کے درمیان ان باتوں کا فیصلہ فرمائے گا جن میں وہ اختلاف کرتے تھے، اور انہیں جنت یا دوزخ کی طرف (جانے کا) حکم دے گا۔
اس عظیم دن میں لوگوں پر سخت تکلیف (کرب) ہوگی؛ کیونکہ اس میں عجیب احوال اور ہولناک مناظر ہوں گے۔
پس جو شخص یہ چاہے کہ اللہ اسے قیامت کے دن ان ہولناکیوں اور تکلیفوں سے نجات دے، تو اسے چاہیے کہ وہ تنگ دستوں کو مہلت دے یا ان کا قرض معاف کر دے۔ تنگ دست کو مہلت دینا اور (قرض) معاف کرنا جلیل القدر نیک اعمال ہیں، لیکن یہ مستحب ہیں واجب نہیں؛ اور وہ اس طرح کہ انسان اپنے بھائی پر موجود اپنے مال کے مطالبے کو مؤخر کر دے (اور یہی مہلت دینا ہے) یا اس مال کے پورے یا کچھ حصے لینے سے دستبردار ہو جائے (اور یہی معاف کرنا ہے)۔
چنانچہ اگر کسی نے تم سے قرض لیا، پھر (ادائیگی کی) مدت آ گئی اور تمہیں معلوم ہوا کہ وہ تنگ دست ہے، ادائیگی کی استطاعت نہیں رکھتا، تو اسے مہلت دو، یا اسے معاف کر دو اور اپنے پورے حق یا کچھ حصے سے دستبردار ہو جاؤ۔ اگر تم نے ایسا کیا تو تم عظیم خیر پر ہو، اور تمہارے لیے قیامت کی تکلیفوں سے نجات، جنت کے حصول اور اللہ کی رضا کی امید ہے۔
حدیث نمبر:24
عن أبي هريرة ، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم، مر على صبرة طعام فأدخل يده فيها، فنالت أصابعه بللا، فقال: ما هذا يا صاحب الطعام؟ قال: أصابته السماء يا رسول الله، قال: أفلا جعلته فوق الطعام كي يراه الناس، من غش، فليس مني.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ غلے کی ایک ڈھیری کے پاس سے گزرے تو، آپ نے اپنا ہاتھ اس میں داخل کیا، آپ کی انگلیوں نے نمی محسوس کی تو آپ نے فرمایا:غلے کے مالک! یہ کیا ہے؟ اس نے عرض کی: اے اللہ کے رسول ﷺ! اس پر بارش پڑ گئی تھی۔ آپ نے فرمایا:تو تم نے اسے (بھیگے ہوئے غلے) کو اوپر کیوں نہ رکھا، تاکہ لوگ اسے دیکھ لیتے؟ جس نے دھوکا کیا، وہ مجھ سے نہیں۔
[صحیح المسلم:102]
وضاحت:
نبی اکرم ﷺ مدینہ منورہ کے بازاروں میں سے ایک بازار میں تشریف لے جا رہے تھے اور وہ بارش کا دن تھا۔
جب آپ ﷺ اس بازار میں چل رہے تھے، تو آپ ﷺ کا گزر ایک ایسے شخص کے پاس سے ہوا جو غلے (جیسے گندم وغیرہ) کا ڈھیر بیچ رہا تھا۔ بارش کی وجہ سے وہ غلہ بھیگ گیا تھا، تو اس شخص نے یہ کیا کہ اس گیلے پن کو چھپا دیا اور اسے ڈھیر کے نچلے حصے میں کر دیا تاکہ لوگ اسے دیکھ نہ سکیں۔
نبی اکرمﷺ نے محسوس کیا کہ اس سامان میں کوئی عیب ہے، چنانچہ آپﷺ نے اپنا ہاتھ اس غلے میں ڈالا تو آپﷺ نے گیلے پن کو محسوس کیا۔
جب آپﷺ کو اس بات کا علم ہوا تو آپﷺ نے اس شخص کو تنبیہ کی اور فرمایا: (تم نے اس [گیلے حصے] کو اوپر کیوں نہ رکھا تاکہ لوگ اسے دیکھ لیتے؟ جس نے ہمیں دھوکہ دیا وہ ہم میں سے نہیں)۔ یعنی: بیچنے والے پر لازم ہے کہ وہ اپنے معاملات میں واضح اور سچا ہو، وہ ایسی شے کی تعریف نہ کرے جو تعریف کے قابل نہ ہو، اور سامان کا ایسا عیب نہ چھپائے جسے جان کر خریدار اسے خریدنے سے کترائیں، اور نہ ہی ناحق اپنے سامان کی قیمت بڑھائے۔
اس حدیث میں اس گھٹیا گناہ اور مذموم خصلت یعنی ،،دھوکہ دہی،،(غش) سے روکا گیا ہے، اور لوگوں کو اس سے بچنے اور خبردار رہنے کی ترغیب دی گئی ہے۔ کیونکہ ایک مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنی تجارت میں، اپنے کام میں، اپنی نصیحت میں، اپنی پڑھائی میں یا اپنے دیگر معاملات میں دھوکہ دے؛ دھوکہ دہی اللہ کے دین میں اپنی تمام صورتوں، اقسام اور شکلوں میں حرام ہے۔
حدیث نمبر:25
عن أبي أمامة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: من اقتطع حق امرئ مسلم بيمينه، فقد أوجب الله له النار، وحرم عليه الجنة، فقال له رجل: وإن كان شيئا يسيرا يا رسول الله؟ قال: وإن قضيبا من أراك .
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: جس نے اپنی قسم کے ذریعے سے کسی مسلمان کا حق مارا، اللہ نے اس کے لیے آگ واجب کر دی اور اس پر جنت حرام ٹھہرائی۔ ایک شخص نے آپ ﷺسے عرض کی: اگرچہ وہ معمولی سی چیز ہو، اے اللہ کے رسول! آپ ﷺنے فرمایا:چاہے وہ پیلو کے درخت کی ایک شاخ ہو۔
[صحیح المسلم:137]
وضاحت:
لوگوں کے حقوق ان معاملات میں سے ہیں،جن پر اسلامی شریعت نے شدید ترین توجہ دی ہے۔ لہٰذا ہمارے لیے جائز نہیں کہ ہم کسی سے اس کے حقوق میں سے کوئی بھی حق لیں؛ خواہ وہ مال ہو یا کچھ اور۔
اس حدیث میں نبی ﷺ ہمیں لوگوں کے حقوق غصب کرنے سے ڈرا رہے ہیں، اور ہمیں خبر دے رہے ہیں کہ جس نے کسی مسلمان کا حق جھوٹی قسم کے ذریعے لیا، تو اس کی جزا اسے آگ میں داخل کرنا اور اسے جنت میں داخل ہونے سے محروم کرنا ہے۔ جب نبی ﷺ کے صحابہ نے یہ بات سنی تو انہوں نے آپ سے پوچھا: اے اللہ کے رسول، خواہ وہ کوئی معمولی چیز ہی کیوں نہ ہو؟ یعنی: کیا یہ سزا اس شخص کو بھی شامل ہے، جس نے لوگوں کے حقوق میں سے کوئی حق لیا ہو خواہ وہ معمولی اور قلیل سی چیز ہی کیوں نہ ہو؟ تو نبی ﷺ نے فرمایا:خواہ وہ پیلو (اراک) کی ایک ٹہنی ہی کیوں نہ ہو؛ یعنی لوگوں کا مال اور ان کے حقوق لینا بہت بڑا معاملہ ہے، یہاں تک کہ اگر لی گئی چیز بہت معمولی ہی کیوں نہ ہو؛ جیسے اراک کی ٹہنی، اور وہ مسواک کی لکڑی ہے۔ ہم اللہ سے عفو و عافیت کا سوال کرتے ہیں۔
حدیث نمبر:26
عن سعيد بن أبي بردة، عن أبيه، عن جده، أن النبي صلى الله عليه وسلم بعث معاذا وأبا موسى إلى اليمن، قال:يسرا ولا تعسرا، وبشرا ولا تنفرا، وتطاوعا ولا تختلفا.
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہ، نبی کریم ﷺ نے معاذ رضی اللہ عنہ اور ابوموسیٰ کو یمن بھیجا آپﷺ نے اس موقع پر یہ ہدایت فرمائی تھی کہ (لوگوں کے لیے) آسانی پیدا کرنا ‘ انہیں سختیوں میں مبتلا نہ کرنا ان کو خوش رکھنا ،،نفرت نہ دلانا،، اور تم دونوں آپس میں اتفاق رکھنا ‘ اختلاف نہ پیدا کرنا ۔
[صحیح البخاری: 3038]،[صحیح المسلم:1733]
وضاحت:
نبی کریم ﷺ نے دو جلیل القدر صحابہ کرام، سیدنا ابو موسیٰ اشعری اور سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہما کو یمن روانہ فرمایا تاکہ وہ دین کی تبلیغ کریں اور لوگوں کو تعلیم دیں۔
ان کے سفر پر روانہ ہونے سے پہلے، نبی ﷺ نے انہیں ایک مختصر اور جامع، مگر عظیم اور پر اثر وصیت فرمائی۔
آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: ،،آسانی پیدا کرنا اور تنگی میں نہ ڈالنا،،؛ یعنی لوگوں کے ساتھ نرمی کا معاملہ کرنا اور ان تک دین کی بات بغیر کسی سختی اور دشواری کے پہنچانا: ان کے ساتھ نرمی سے پیش آنا اور انہیں بتانا کہ دین سراسر آسانی ہے، اس میں نہ سختی ہے اور نہ ہی تنگی۔ اور آپ ﷺ نے ان سے یہ بھی فرمایا: ،،خوشخبری دینا اور متنفر نہ کرنا،،؛ یعنی لوگوں سے ایسی باتیں کرنا جو انہیں اللہ کے فضل کی بشارت دیں، اور ان کے دلوں میں وہ تڑپ پیدا کریں جو اللہ کے پاس ہے، اور ان سے ایسے انداز میں بات نہ کرنا جو نفرت پیدا کرے اور انہیں ایمان و نیک کاموں سے روک دے۔
پھر آپ ﷺ نے انہیں تیسری وصیت فرمائی جو ہر دو بھائیوں، دو دوستوں یا سفر کے دو ساتھیوں کے لیے اہم ہے؛ آپ ﷺ نے فرمایا:،،ایک دوسرے کی بات ماننا اور اختلاف نہ کرنا،، یعنی تم میں سے ہر ایک دوسرے کی اطاعت کرے، پس جب تم میں سے کوئی اپنے ساتھی کو کسی معاملے پر حریص (بضد) دیکھے تو اس کی بات مان لے؛ تاکہ یہ عمل محبت و الفت کی بقا اور دوستی و رفاقت کے تسلسل کا سبب بنے۔
اور اس سے ہم ایک اہم بات سیکھتے ہیں: وہ یہ کہ جو دوست اپنے ساتھیوں کی بات مانتا ہے اور حتی الامکان ان کی مخالفت نہیں کرتا، اس نے سنت پر عمل کیا، اور جو شخص کثرت سے اختلاف، بحث و تکرار اور مخالفت کرتا ہے؛ وہ اپنے اس عمل کی وجہ سے نبی ﷺ کی سنت سے دور ہے۔
حدیث نمبر:27
عن أبي موسى، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: من حمل علينا السلاح فليس منا.
سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ، نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جس نے ہم مسلمانوں پر ہتھیار اٹھایا وہ ہم سے نہیں ہے۔
[صحیح البخاری: 7071]،[صحیح المسلم:100]
وضاحت:
امن اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے ایک عظیم نعمت ہے، اور یہ زندگی کی ضروریات میں سے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر امن کی نعمت کا احسان جتایا ہے، چنانچہ ارشاد فرمایا: [فَلْيَعْبُدُوا رَبَّ هَذَا الْبَيْتِ]،[الَّذِي أَطْعَمَهُم مِّن جُوعٍ وَءَامَنَهُم مِّنْ خَوْفِ]
[پس انہیں چاہیے کہ اس گھر کے رب کی عبادت کریں]،[ جس نے انہیں بھوک میں کھانا کھلایا اور خوف سے امن عطا کیا]۔ [قریش: 3-4]
اور معاشرے میں امن و امان کے قیام کی اہمیت کے پیشِ نظر، نبی ﷺ نے لوگوں کو ڈرانے، ان میں رعب و دہشت پھیلانے اور انہیں قتل کی دھمکی دینے کے لیے اسلحہ اٹھانے سے خبردار کیا ہے؛ اور اس میں حکمرانوں کے خلاف خروج کرنا، اطاعت کا طوق گردن سے نکالنا اور جماعت (مسلم معاشرے) سے علیحدگی اختیار کرنا بھی شامل ہے۔
اس حدیث میں آپ ﷺ کا یہ فرمانا:،،جس نے ہم پر اسلحہ اٹھایا وہ ہم میں سے نہیں،، اس بات کی دلیل ہے کہ جس نے اس مقصد کے لیے اسلحہ اٹھایا وہ آپ ﷺ کے پیروکاروں میں سے نہیں ہے، اور یہ گناہ کبیرہ گناہوں میں سے ایک بڑا گناہ ہے۔
حدیث نمبر:28
عن ابن بريدة، قال: رأى عبد الله بن المغفل رجلا من أصحابه يخذف، فقال له: لا تخذف، فإن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يكره، أو قال: ينهى عن الخذف، فإنه لا يصطاد به الصيد ولا ينكأ به العدو ولكنه يكسر السن ويفقأ العين.
سیدناعبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں میں سے ایک شخص کو کنکر سے (کسی چیز کو) نشانہ بناتے ہوئے دیکھا تو کہا: کنکر سے نشانہ مت بناؤ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے ناپسند فرماتے تھے۔ یا کہا: کنکر مارنے سے منع فرماتے تھے، کیونکہ اس کے ذریعے سے نہ کوئی شکار مارا جا سکتا ہے۔ نہ دشمن کو (پیچھے) دھکیلا جا سکتا ہے یہ (صرف) دانت توڑتا ہے یا آنکھ پھوڑتا ہے۔
[صحیح المسلم:1954]
وضاحت:
نبی ﷺ لوگوں کو ان کی دینی اور دنیاوی امور میں نفع بخش باتیں سکھانے اور نقصان دہ چیزوں سے خبردار کرنے کے بہت حریص تھے۔ اسی بنا پر اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا:
[لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُم بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ]
بے شک تمہارے پاس تمہی میں سے ایک رسول تشریف لائے، جن پر تمہارا مشقت میں پڑنا گراں گزرتا ہے، وہ تمہاری بھلائی کے بہت حریص ہیں اور مومنوں پر نہایت شفیق اور مہربان ہیں۔[سورۃ التوبۃ:128]
اور اللہ نے آپ ﷺ کی بعثت کے ذریعے احسان جتلاتے ہوئے فرمایا:
[قَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولًا مِّنْ أَنفُسِهِمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَإِن كَانُوا مِن قَبْلُ لَفِي ضَلَالٍ مبين]
بے شک اللہ نے مومنوں پر بڑا احسان کیا کہ ان میں انہی میں سے ایک رسول بھیجا جو ان پر اس کی آیات تلاوت کرتا ہے، انہیں پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے، اگرچہ وہ اس سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے۔[آل عمران:164]
اس حدیث میں نبی ﷺ نے ایک ایسے کام سے منع فرمایا ہے، جو بعض لوگ جاہلیت کے زمانے میں اور اسلام کے ابتدائی دور میں کیا کرتے تھے، اور وہ ہے ،،الخذف،، (کنکری پھینکنا)؛ یعنی ہاتھ کی انگلیوں سے کنکری مارنا۔ آپ ﷺ نے اس ممانعت کی وجہ بھی بیان فرمائی کہ اس طرح کنکری پھینکنے میں کوئی فائدہ نہیں؛ یہ نہ تو شکار کو مارتی ہے اور نہ دشمن کو شکست دیتی ہے، بلکہ یہ ایسی چیز ہے جو نقصان کا سبب بنتی ہے، یہ دانت پر لگ کر اسے توڑ دیتی ہے اور آنکھ میں لگ کر اسے ضائع کر دیتی ہے۔
یہ ممانعت تمام لوگوں کے لیے عام ہے، خواہ وہ بڑے ہوں یا چھوٹے، لیکن بچوں کو اس کی یاد دہانی کرانے کی ضرورت زیادہ ہے؛ کیونکہ ان کے درمیان ،،الخذف،،(کنکریاں مارنا) کثرت سے ہوتا ہے، اسی لیے انہیں نصیحت کرنا، ان کی رہنمائی کرنا اور انہیں تعلیم دینا ضروری ہے۔
حدیث نمبر:29
حدثنا أنس رضي الله عنه، قال: خدمت النبي صلى الله عليه وسلم عشر سنين، فما قال لي أف ولا لم صنعت ولا ألا صنعت.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ، میں نے رسول اللہ ﷺ کی دس سال تک خدمت کی لیکن آپ نے کبھی مجھے اف تک نہیں کہا اور نہ کبھی یہ کہا کہ فلاں کام کیوں کیا اور فلاں کام کیوں نہیں کیا ۔
[صحیح البخاری:6038]
وضاحت:
جب نبی ﷺ مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ منورہ پہنچے، تو سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی والدہ (رضی اللہ عنہا) آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں، ان کے ساتھ انس (رضی اللہ عنہ) بھی تھے جن کی عمر اس وقت دس سال تھی۔ انہوں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول، یہ میرا بیٹا انس ہے، میں اسے آپ کے پاس لائی ہوں تاکہ یہ آپ کی خدمت میں رہے۔ نبی ﷺ نے انہیں خوش آمدید کہا۔
اسی دن سے سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کے خادم بن گئے، وہ آپ ﷺ کی خدمت کرتے، آپ ﷺ کی بہت سی ضروریات پوری کرتے اور بہت کم آپ ﷺ سے جدا ہوتے تھے۔
اس حدیث میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ ہمیں نبی ﷺ کے اخلاق کے بارے میں بتا رہے ہیں، وہ ذکر کرتے ہیں کہ نبی ﷺ کی خدمت میں ان کے دس سال گزرے، اور اس طویل مدت کے دوران انہوں نے کبھی نبی ﷺ سے عتاب، ملامت یا ڈانٹ ڈپٹ کا کوئی لفظ نہیں سنا، یہاں تک کہ ،،اف،، تک کا لفظ بھی کبھی آپ ﷺ سے نہیں سنا۔ یہ بات اپنے صحابہ کے ساتھ نبی ﷺ کے عظیم اخلاق پر دلالت کرتی ہے، خواہ وہ چھوٹے ہوں یا بڑے، اور خواہ وہ خادم ہوں یا قوم کے بڑے لوگ۔
اس حدیث سے ہمیں ایک اہم فائدہ حاصل ہوتا ہے، اور وہ ہے ان لوگوں کے ساتھ نرمی برتنے کی مشروعیت جو ہمارے ماتحت ہیں جیسے ملازمین اور خادم؛ وہ بھی ہماری طرح انسان ہیں، اور ان کے متعلق ہمارا فرض ہے کہ ہم ان کا احترام کریں، ان کی قدر کریں اور انہیں ان کے حقوق دیں۔
حدیث نمبر:30
عن أبي هريرة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: إذا قام أحدكم، وفي حديث أبي عوانة: من قام من مجلسه ثم رجع إليه فهو أحق به.
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اٹھے۔ ابو عوانہ کی روایت میں ہےجو اپنی مجلس سے اٹھا، پھر اس کی طرف واپس لوٹ آیا تو وہی اس کا زیادہ حقدار ہے۔
[صحیح المسلم:2179]
وضاحت:
ہمارا دین ایک مکمل دین ہے، اس نے ایسی کوئی چھوٹی یا بڑی بات نہیں چھوڑی جو ہماری دنیا اور آخرت میں نفع بخش ہو مگر اسے ہمارے لیے بیان اور واضح کر دیا ہے۔
انہیں باتوں میں سے ایک وہ ہے جو اس حدیث میں بیان ہوئی ہے، اور وہ محفل کے آداب میں سے ایک ادب ہے۔
یہ ادب یہ ہے: کہ جب کوئی انسان کسی مجلس (بیٹھنے کی جگہ) میں بیٹھے، پھر وہاں سے اٹھے اور دوبارہ وہیں لوٹ آئے، تو وہ اس جگہ کا زیادہ حقدار ہے؛ کسی دوسرے کے لیے جائز نہیں کہ وہ جگہ اس سے چھین لے، پس جب بھی وہ واپس آئے تو وہ اپنی اس جگہ کا سب سے زیادہ حقدار ہے جہاں سے وہ اٹھا تھا۔
اس میں ہر وہ جگہ شامل ہے جہاں بیٹھا جاتا ہے جیسے عام مجالس، مساجد، علمی حلقے، درسی کلاسیں یا ان کے علاوہ دیگر مقامات۔
پس اگر انسان مجلس سے اٹھا اور تھوڑی دیر بعد وہاں واپس آ گیا، تو وہ اس کا زیادہ حقدار اور حق رکھنے والا ہے، لیکن اگر وہ مجلس سے اٹھا اور ایک طویل مدت کے بعد واپس آیا تو پھر وہ اس کا حقدار نہیں رہے گا؛ جیسے کوئی ظہر کے بعد مجلس سے اٹھا اور عصر یا مغرب کے بعد یا اگلے دن واپس آیا، تو یہ شخص اس جگہ کا نہ تو زیادہ حقدار ہے اور نہ ہی اسے ترجیح حاصل ہے۔
اور یہ بات مشاہدے میں ہے کہ بہت سے جھگڑے (خاص طور پر نوجوانوں کے درمیان) بیٹھنے کی جگہوں کی وجہ سے ہوتے ہیں۔
اگر ہم اپنی مجالس میں شرعی آداب کی پابندی کریں، تو ہماری الفت میں اضافہ ہوگا اور ہمارے اختلافات کم ہو جائیں گے۔
حدیث نمبر:31
أن أبا هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: حق المسلم على المسلم خمس، ح وحدثنا عبد بن حميد، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا معمر، عن الزهري، عن ابن المسيب، عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: خمس تجب للمسلم على أخيه رد السلام، وتشميت العاطس، وإجابة الدعوة، وعيادة المريض، واتباع الجنائز،
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:مسلمان کے مسلمان پر پانچ حق ہیں۔ نیز عبدالرزاق نے کہا: ہمیں معمر نے (ابن شہاب) زہری سے خبر دی، انہوں نے ابن مسیب سے، انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:ایک مسلمان کے لیے اس کے بھائی پر پانچ چیزیں واجب ہیں: سلام کا جواب دینا، چھینک مارنے والے کے لیے رحمت کی دعا کرنا، دعوت قبول کرنا، مریض کی عیادت کرنا اور جنازوں کے ساتھ جانا۔
[صحیح المسلم:2162]
وضاحت:
ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر بہت سے حقوق ہیں، ان میں سے اہم ترین وہ مسنون حقوق ہیں جو اس حدیث میں ذکر کیے گئے ہیں:
پہلا حق: سلام؛
پس جب تم اپنے بھائی سے ملو تو اسے سلام کرو، اور جب وہ تمہیں سلام کرے تو اس کے سلام کا جواب دو۔
دوسرا حق: دعوت قبول کرنا؛
پس جب وہ تمہیں دعوت دے تو اس کی دعوت قبول کرو، خاص طور پر جب وہ تمہیں ولیمے کی دعوت دے؛ تو اس کی قبولیت زیادہ اہم اور واجب ہوتی ہے۔
تیسرا حق: نصیحت؛
پس جب تمہارا بھائی تم سے نصیحت طلب کرے، یا تم سے کسی چیز کے بارے میں پوچھے، تو اسے خیر خواہی، سچائی اور اخلاص کے ساتھ وہ بات بتاؤ جو وہ چاہتا ہے۔
چوتھا حق: چھینک کا جواب دینا؛
پس جب تمہارا بھائی چھینکے اور اللہ کی حمد بیان کرے (الحمد للہ) کہے تو اس کا جواب دو، یعنی اسے کہو: "یرحمک اللہ” (اللہ تم پر رحم فرمائے)۔ پس جب تم اسے "یرحمک اللہ” کہو، تو اسے کہنا چاہیے: "یہدیکم اللہ ویصلح بالکم” (اللہ تمہیں ہدایت دے اور تمہارے حالات درست فرمائے)۔
پانچواں حق: عیادت؛
اور یہ بیمار پرسی ہے، پس جب تمہارا مسلمان بھائی بیمار ہو جائے تو اس کی عیادت کرو (یعنی اس کی زیارت کو جاؤ)، اور جان لو کہ تمہاری یہ زیارت اس کے نفس پر بہت گہرا اثر ڈالتی ہے اور اللہ کے ہاں اس کا اجر بہت عظیم ہے۔
چھٹا حق: اس کے جنازے کے پیچھے چلنا؛
بے شک ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر حقوق اس کی موت کے بعد بھی جاری رہتے ہیں، پس جب وہ فوت ہو جائے تو اس کے جنازے کے پیچھے چلو؛ یعنی اس کی نمازِ جنازہ کے لیے جاؤ، پھر اس کی تدفین کے لیے قبرستان جاؤ۔ اس میں بڑی خیر ہے؛ اس میں میت کے لیے نیک دعا ہے اور زندہ کے لیے بہت بڑا ثواب ہے۔
حدیث نمبر:32
عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه، أن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: إياكم والجلوس بالطرقات، فقالوا: يا رسول الله، ما لنا من مجالسنا بد نتحدث فيها، فقال: إذ أبيتم إلا المجلس، فأعطوا الطريق حقه، قالوا: وما حق الطريق يا رسول الله، قال: غض البصر، وكف الأذى، ورد السلام، والأمر بالمعروف، والنهي عن المنكر .
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیاکہ، نبی کریم ﷺ نے فرمایا:راستوں پر بیٹھنے سے بچو ! صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ ! ہماری یہ مجالس تو بہت ضروری ہیں ، ہم وہیں روزمرہ گفتگو کیا کرتے ہیں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: کہ اچھا جب تم ان مجلسوں میں بیٹھنا ہی چاہتے ہو تو راستے کا حق ادا کیا کرو یعنی راستے کو اس کا حق دو ۔ صحابہ نے عرض کیا: راستے کا حق کیا ہے یا رسول اللہ ! فرمایا ( غیر محرم عورتوں کو دیکھنے سے ) نظر نیچی رکھنا، راہ گیروں کو نہ ستانا ، سلام کا جواب دینا ، بھلائی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا۔
[صحیح البخاری: 6229]
وضاحت:
نبی ﷺ کے عہد میں لوگ راستوں (سڑکوں) کے کناروں پر بیٹھا کرتے تھے، وہاں وہ جمع ہوتے، گفتگو کرتے اور ایک دوسرے سے دل بہلاتے تھے۔
تو نبی ﷺ نے ان سے فرمایا: ،،راستوں میں مت بیٹھو،،۔ انہوں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول، ہمیں اپنی ان مجلسوں کے بغیر چارہ نہیں؛ یعنی ہمیں ان مجلسوں کی ضرورت ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ،،اگر ایسا ہے تو پھر راستے کو اس کا حق دو،،۔ انہوں نے پوچھا: راستے کا حق کیا ہے؟ تو آپ ﷺ نے انہیں راستے کے حقوق میں سے یہ چار حقوق بتائے:
پہلا:
نظریں نیچی رکھنا؛ پس جو شخص راستے میں بیٹھے اور کسی کا کھلا ہوا گھر دیکھے، تو وہ اس کی طرف نہ دیکھے، اور اسی طرح اگر راستے میں کسی عورت کو دیکھے تو اپنی نظریں اس سے نیچی رکھے؛ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی وجہ سے: [قُل لِّلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ]
آپ مومن مردوں سے فرما دیں کہ وہ اپنی نظریں نیچی رکھیں۔ [النور: 30]
دوسرا:
تکلیف دہ چیز کو روکنا؛ اور یہ اس طرح کہ راستے کو تنگ نہ کیا جائے، اور اس میں ایسی چیزیں نہ پھینکی جائیں جو لوگوں کو تکلیف دیں جیسے کوڑا کرکٹ اور گندگی وغیرہ۔
تیسرا:
سلام کا جواب دینا؛ پس جب کوئی سلام کرے، تو بیٹھنے والوں پر لازم ہے کہ وہ سلام کا جواب دیں؛ کیونکہ سلام کرنا سنت ہے اور اس کا جواب دینا واجب ہے؛ اللہ تبارک و تعالیٰ کے اس ارشاد کی وجہ سے: [وَإِذَا حُيِّيتُم بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّوا بِأَحْسَنَ مِنْهَا أَوْ رُدُّوهَا]
اور جب تمہیں کسی دعا (سلام) کے ذریعے تحفہ دیا جائے تو تم اس سے بہتر انداز میں جواب دو یا وہی لوٹا دو۔ [النساء: 86]
چوتھا: نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا؛ اللہ تعالیٰ نے مومنوں کی تعریف کی ہے کہ وہ نیکی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
[وَالْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ يَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ وَيُقِيمُونَ الصَّلَوَةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَيُطِيعُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ أَوْلَئِكَ سَيَرْحَمُهُمُ اللَّهُ إِنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ]
اور مومن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے مددگار ہیں، وہ نیکی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں، زکوٰۃ دیتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں، یہی وہ لوگ ہیں جن پر اللہ عنقریب رحم فرمائے گا، بے شک اللہ غالب اور حکمت والا ہے۔[التوبة:71]
حدیث نمبر:33
عن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: ما حق امرئ مسلم له شيء يوصي فيه يبيت ليلتين إلا ووصيته مكتوبة عنده.
سیدناعبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کسی مسلمان کے لیے جن کے پاس وصیت کے قابل کوئی بھی مال ہو درست نہیں کہ دو رات بھی وصیت کو لکھ کر اپنے پاس محفوظ رکھے بغیر گزارے ۔
[صحیح البخاری: 2738]،[صحیح المسلم:1627]
وضاحت:
یہ حدیث اس شخص کے لیے وصیت کی مشروعیت پر دلالت کرتی ہے جس کے پاس ایسی کوئی چیز ہو جس کی وصیت کی جانی چاہیے۔
پس اگر انسان پر کوئی قرض ہو، یا اس پر زکوٰۃ واجب ہو جو اس نے ادا نہ کی ہو، یا اس کے پاس کوئی امانت یا ودیعت ہو یا اس کے علاوہ دیگر حقوق ہوں، تو ایسی صورت میں وصیت کرنا اس کے حق میں واجب ہے۔
اور اگر اس پر کوئی حق (ذمہ داری) نہ ہو تو وصیت اس پر واجب نہیں ہے، لیکن اس کے لیے مستحب ہے؛ اور وہ اس طرح کہ وہ اپنے مال کے تہائی حصے (یا اس سے کم) کی خیراتی منصوبوں اور بھلائی کے کاموں میں وصیت کرے۔ یہاں اس بات پر توجہ دلانا مناسب ہے کہ وصیت چھوٹی چیزوں میں بھی ہوتی ہے، جیسے کسی نے معمولی رقم ادھار لی ہو، یا کوئی سامان خریدا ہو اور اس کی قیمت بعد میں ادا کرنے کی نیت کی ہو، اور اس طرح کی دیگر صورتیں جو لوگوں کی روزمرہ زندگی میں پیش آتی رہتی ہیں۔
یہاں ایک اور بات کی طرف توجہ دلانا بھی بہتر ہے کہ وصیت کا کوئی خاص صیغہ (الفاظ) مقرر نہیں ہے، بلکہ وصیت کرنے والے پر لازم ہے کہ وہ جو وصیت کرنا چاہتا ہے اسے واضح اور سمجھ میں آنے والے طریقے سے لکھ دے، خواہ وہ اسے کاغذ پر لکھے، یا ای میل کے ذریعے پیغام کی صورت میں لکھے، یا فون کے پیغامات کے ذریعے، یا بغیر لکھے اپنی زبان سے وہ الفاظ کہہ دے؛ تو یہ سب درست ہے اور ان شاء اللہ کافی ہے۔
حدیث نمبر:34
عن ابن عمر رضي الله عنهما، قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم: لا تحلفوا بآبائكم ومن كان حالفا فليحلف بالله.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ، نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اپنے باپ دادوں کی قسم نہ کھایا کرو، اگر کسی کو قسم کھانی ہی ہو تو اللہ کے نام کی قسم کھائے ورنہ خاموش رہے۔
[صحیح البخاری: 7401]،[صحیح المسلم:1646]
وضاحت:
صحابہ کرام اپنے اسلام کے ابتدائی دور میں جاہلیت کے ایام کی اپنی عادت کے مطابق اللہ تعالیٰ کے علاوہ دیگر چیزوں کی قسم کھایا کرتے تھے؛ چنانچہ وہ اپنے آباؤ اجداد، اپنی ماؤں، عزت اور امانت وغیرہ کی قسمیں کھاتے تھے۔
پس نبی ﷺ نے انہیں غیر اللہ کی قسم کھانے سے منع فرما دیا، اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے یہ ممانعت سنی، تو انہوں نے فوراً اس حکم کی تعمیل کی اور پھر کبھی ان کی زبان پر غیر اللہ کی قسم جاری نہیں ہوئی۔
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے یہ حدیث بیان کرنے کے بعد کہا: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ،،اللہ کی قسم! جب سے میں نے نبی ﷺ کو اس سے منع کرتے ہوئے سنا ہے، میں نے کبھی ان کی قسم نہیں کھائی،،۔ اور ایک مسلمان پر یہی واجب ہے: کہ وہ اللہ کے حکم کی تعمیل پختگی اور عزم کے ساتھ کرے، بغیر کسی ہچکچاہٹ، ٹال مٹول یا کمزوری کے۔
موجودہ زمانے میں غیر اللہ کی قسم کھانے کی صورتوں میں سے بعض لوگوں کا یہ کہنا ہے: ،،تمہاری زندگی کی قسم،، (وحياتك)، اور ان کا یہ کہنا: ،،نبی کی قسم،، (والنبی)، اور ان کا یہ کہنا: ،،کعبہ کی قسم،،(والكعبة)۔
یہ سب حرام قسموں میں سے ہے، بلکہ یہ اللہ کے ساتھ شرک ہے۔
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک شخص کو یہ کہتے ہوئے سنا: ،،نہیں، کعبہ کی قسم!،، تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس سے فرمایا: اللہ کے علاوہ کسی کی قسم نہ کھاؤ؛ کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ،،جس نے غیر اللہ کی قسم کھائی اس نے کفر کیا یا شرک کیا،،۔ (اسے امام احمد، ابوداؤد اور ترمذی نے روایت کیا ہے اور امام ترمذی نے کہا ہے کہ یہ حدیث حسن ہے، اور شیخ البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح قرار دیا ہے)۔
حدیث نمبر:35
عن أبي هريرة رضي الله عنه، قال: ما عاب النبي صلى الله عليه وسلم طعاما قط إن اشتهاه أكله، وإلا تركه.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ، نبی کریم ﷺ نے کبھی کسی کھانے میں عیب نہیں نکالا ، اگر آپ کو مرغوب ہوتا تو کھاتے ورنہ چھوڑ دیتے ۔
[صحیح البخاری:3563]،[صحیح المسلم:2064]
وضاحت:
نبی ﷺ بلند اخلاق کے مالک تھے، اور آپ ﷺ کے اخلاقِ کریمہ میں سے یہ تھا، کہ آپ ﷺ اچھے اور پاکیزہ کلمات کو پسند فرماتے تھے، اور برے و ناگوار کلمات کو ناپسند کرتے تھے۔
اس حدیث میں نبی ﷺ کے آداب میں سے ایک ادب یہ ہے، کہ جب آپ ﷺ کے سامنے کھانا پیش کیا جاتا، تو آپ ﷺ اس میں کبھی عیب نہیں نکالتے تھے؛ چنانچہ آپ ﷺ یہ نہیں فرماتے تھے کہ: یہ کھانا ٹھنڈا ہے، یا یہ کھانا ناقص ہے، یا یہ پکا ہوا نہیں ہے، یا یہ لذیذ نہیں ہے، یا اس میں نمک کم ہے، یا اس جیسی دیگر مذمت کی باتیں۔ بلکہ آپ ﷺ کی عادت اور طریقہ یہ تھا کہ: اگر کھانے کی خواہش ہوتی اور اسے پسند فرماتے تو کھا لیتے، اور اگر رغبت نہ ہوتی تو اسے چھوڑ دیتے اور اس کی برائی بیان نہ کرتے۔
پس ہمیں چاہیے کہ ہم نبی ﷺ کی اقتدا کریں؛ کبھی کسی کھانے کی مذمت نہ کریں، بلکہ اللہ کی نعمتوں پر اس کی حمد اور شکر بجا لائیں، اور زبان سے ہمیشہ اچھی اور پاکیزہ بات ہی نکالیں۔
حدیث نمبر:36
عن أبي إسحاق، قال: سمعت البراء، يقول: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم: أحسن الناس وجها وأحسنه خلقا ليس بالطويل البائن ولا بالقصير.
ابواسحٰق نے بیان کیا کہ میں نے سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے سنا ، آپ نے بیان کیا کہ، رسول اللہ ﷺ حسن و جمال میں بھی سب سے بڑھ کر تھے اور جسمانی ساخت میں بھی سب سے بہتر تھے۔ آپ کا قد نہ بہت لانبا تھا اور نہ چھوٹا (بلکہ درمیانہ قد تھا)۔
[صحیح البخاری: 3549]،[صحیح المسلم:2337]
وضاحت:
نبی ﷺ تمام لوگوں میں سب سے بہترین خُلق والے تھے؛ یعنی اخلاق کے لحاظ سے سب سے اچھے تھے، اور اسی بارے میں اللہ تبارک و تعالیٰ آپ ﷺ کے متعلق فرماتا ہے: [وَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٍ]
اور بے شک آپ عظیم اخلاق کے مرتبے پر فائز ہیں۔[القلم: 4]
آپ ﷺ اخلاق کے جمال کے ساتھ ساتھ، بہترین خَلقت والے بھی تھے؛ یعنی آپ ﷺ کی بناوٹ اور شکل و صورت نہایت خوبصورت تھی، اور اسی بارے میں جلیل القدر صحابی سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: (رسول اللہ ﷺ تمام لوگوں میں سب سے خوبصورت چہرے والے اور سب سے بہترین ساخت والے تھے)۔
آپ ﷺ درمیانہ قد کے تھے، بہت زیادہ لمبے قد والے نہیں تھے؛ یعنی آپ کا قد حد سے زیادہ لمبا نہیں تھا، اور نہ ہی آپ ﷺ پست قد تھے۔ ایک روایت میں ہے کہ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: (نبی ﷺ میانہ قد تھے، آپ کے دونوں کندھوں کے درمیان فاصلہ زیادہ تھا، آپ کے بال آپ کے کانوں کی لو تک پہنچتے تھے، میں نے آپ ﷺ کو سرخ جوڑے میں دیکھا، میں نے آپ سے زیادہ خوبصورت کوئی چیز نہیں دیکھی)۔
بخاری اور مسلم نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا: (رسول اللہ ﷺ ازہر اللون تھے؛[ صحیح البخاری:3547]
( یعنی) آپ کا رنگ سفید تھا جس میں سرخی ملی ہوئی تھی)۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: (رسول اللہ ﷺ ایسے سفید رنگ کے تھے جیسے چاندی سے ڈھالے گئے ہوں)۔[شمائل ترمذی:12]
اور سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں: (میں نے رسول اللہ ﷺ کو چاندنی رات میں دیکھا—یعنی ایسی رات جو چاند کی روشنی سے منور تھی—تو میں کبھی آپ ﷺ کی طرف دیکھتا اور کبھی چاند کی طرف، تو آپ ﷺ میرے نزدیک چاند سے بھی زیادہ خوبصورت تھے)۔[سنن ترمذی:2811]
اللہ تعالیٰ آپ ﷺ پر، آپ کی آل اور آپ کے صحابہ پر بہت زیادہ درود و سلام نازل فرمائے۔
حدیث نمبر:37
عن أبي عثمان، قال: حدثني عمرو بن العاص رضي الله عنه، أن النبي صلى الله عليه وسلم بعثه على جيش ذات السلاسل فأتيته، فقلت: أي الناس أحب إليك؟ قال: عائشة، فقلت: من الرجال، فقال: أبوها، قلت: ثم من، قال: ثم عمر بن الخطاب, فعد رجالا.
ابوعثمان نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ، نبی کریم ﷺ نے انہیں غزوہ ذات السلاسل کے لیے بھیجا ( عمرو رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ) پھر میں آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے پوچھا کہ سب سے زیادہ محبت آپ کو کس سے ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :کہ عائشہ سے میں نے پوچھا ، اور مردوں میں ؟ فرمایا: کہ اس کے باپ سے ۔ میں نے پوچھا ، اس کے بعد ؟ فرمایا: کہ عمر بن خطاب سے ۔ اس طرح آپ ﷺ نے کئی آدمیوں کے نام لیے۔
[صحیح البخاری: 3662]
وضاحت:
جلیل القدر صحابی سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ، نبی ﷺ کے بڑے اور مشہور صحابہ میں سے ہیں۔
انہوں نے ہمیں اس حدیث میں بتایا ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ سے سوال کیا کہ آپ ﷺ کو لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب کون ہے؟ تو نبی ﷺ نے انہیں جواب دیا کہ لوگوں میں آپ ﷺ کی سب سے محبوب شخصیت آپ کی زوجہ سیدہ عائشہ (رضی اللہ عنہا) ہیں۔
پھر عمرو رضی اللہ عنہ نے پوچھا: مردوں میں آپ کو سب سے زیادہ کون محبوب ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ،،ان کے والد،،؛ یعنی سیدہ عائشہ کے والد، اور وہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں۔
پھر عمرو رضی اللہ عنہ نے پوچھا: اے اللہ کے رسول، پھر ان کے بعد کون؟ تو نبی ﷺ نے فرمایا: ،،عمر بن خطاب،،۔ اور یہ ان تینوں معزز ہستیوں—سیدہ عائشہ، سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہم—کے لیے بہت بڑی فضیلت ہے کہ وہ نبی ﷺ کے نزدیک لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب تھے۔
اور یہ بات جان لینی چاہیے کہ اہل سنت و جماعت کا یہ ماننا ہے کہ خلفائے راشدین ہی تمام صحابہ میں سب سے افضل ہیں، اور فضیلت میں ان کی ترتیب وہی ہے جو خلافت میں ان کی ترتیب ہے؛ چنانچہ ان میں سب سے افضل ابوبکر صدیق ہیں، پھر عمر بن خطاب، پھر عثمان بن عفان، پھر علی بن ابی طالب (رضی اللہ عنہم) ہیں۔
یہ حضرات امتِ محمدیہ ﷺ کےمطلقا بہترین لوگ ہیں، اور ان کے اور دیگر تمام صحابہ کے متعلق ہمارا فرض یہ ہے کہ: ہم ان سے محبت کریں، ان کی توقیر و احترام کریں، اور ان کے لیے ،،رضی اللہ عنہم وارضاهم،، (اللہ ان سے راضی ہوا اور انہیں راضی کر دیا) کہیں۔
حدیث نمبر:38
عن عبد العزيز وهو ابن صهيب ، قال: سأل قتادة أنسا أي دعوة كان يدعو بها النبي صلى الله عليه وسلم أكثر؟، قال: كان أكثر دعوة يدعو بها يقول:اللهم آتنا في الدنيا حسنة، وفي الآخرة حسنة، وقنا عذاب النار، قال: وكان أنس إذا أراد أن يدعو بدعوة دعا بها، فإذا أراد أن يدعو بدعاء دعا بها فيه .
قتادہ رحمۃ اللہ علیہ نے سیدنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے دریافت کیا،کون سی دعا ہے جو نبی اکرم ﷺ زیادہ کرتے تھے؟انھوں نے جواب دیا، آپ کی اکثر دعا جو آپ کرتے تھے،یہ ہے "اے اللہ!ہمیں دنیا میں بھی خیرعطا فر اور آخرت میں بھی خیر عطا فر اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا۔اور سیدنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب کوئی دعا کرنا چاہتے تو یہی دعا کرتے اور جب کوئی اور دعا کرنا چاہتے اس میں یہ دعا بھی کرتے ہیں۔
[صحیح البخاری: 4522]،[صحیح المسلم:2690]
وضاحت:
دعا عظیم ترین نیک اعمال میں سے ہے، اور یہ اللہ کی تعظیم اور اس کی توحید کی دلیل ہے، اور اس کی رحمت، مغفرت اور رضا کا سبب ہے، اور اس کی محبت، قبولیت اور عطا کا ذریعہ ہے۔
نبی ﷺ کثرت سے دعا فرمایا کرتے تھے، اور آپ ﷺ کی دعائیں کتبِ سنت میں پھیلی ہوئی ہیں، جن میں "کتبِ ستہ” شامل ہیں، یعنی: صحیح بخاری، صحیح مسلم، سنن ابوداؤد، سنن ترمذی، سنن نسائی اور سنن ابن ماجہ۔
باوجود اس کے کہ نبی ﷺ کی دعائیں بہت زیادہ ہیں، لیکن آپ ﷺ اس دعا کو کثرت سے مانگا کرتے تھے:
[اللَّهُمَّ آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً، وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ]
(اے اللہ! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی عطا فرما اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما، اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا)
اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ ایک عظیم دعا ہے جو قرآن میں وارد ہوئی ہے، اور دنیا و آخرت کی تمام بھلائیوں کی جامع ہے۔
شیخ عبد الرحمن السعدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:دنیا میں مطلوبہ "حسنة” (بھلائی) میں وہ تمام چیزیں داخل ہیں جن کا انسان کو ملنا اچھا لگتا ہے، جیسے کشادہ و حلال خوشگوار رزق، نیک بیوی، ایسی اولاد جو آنکھوں کی ٹھنڈک ہو، راحت و خوشی، نافع علم، عملِ صالح، اور اس جیسی دیگر محبوب خواہشات۔
اور آخرت کی "حسنة” (بھلائی) یہ ہے: قبر، میدانِ حشر اور آگ کی سزاؤں سے سلامتی، اللہ کی رضا کا حصول، دائمی نعمتوں کی کامیابی اور ربِ رحیم کا قرب۔
پس یہ دعا سب سے زیادہ جامع اور ترجیح دیے جانے کے لائق ترین دعا بن گئی؛ اسی لیے نبی ﷺ کثرت سے یہ دعا مانگتے تھے اور اس کی ترغیب دلاتے تھے۔
حدیث نمبر:39
عن أبي هريرة: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال:إذا مات الإنسان انقطع عنه عمله إلا من ثلاثة، إلا من صدقة جارية، أو علم ينتفع به، أو ولد صالح يدعو له.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب انسان فوت ہو جائے تو اس کا عمل منقطع ہو جاتا ہے سوائے تین اعمال کے (وہ منقطع نہیں ہوتے): صدقہ جاریہ، یا ایسا علم جس سے فائدہ اٹھایا جائے، یا نیک بیٹا جو اس کے لیے دعا کرے۔
[صحیح المسلم:1631]
وضاحت:
اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کو حکم دیا ہے کہ وہ ایسے نیک اعمال کریں جو انہیں اس کی رحمت کے قریب کر دیں اور اس کے غضب و سزا سے نجات دلائیں۔
نبی ﷺ نے ہمیں اس حدیث میں خبر دی ہے، کہ جب انسان مر جاتا ہے تو اس کے عمل کا سلسلہ منقطع ہو جاتا ہے۔ سوائے تین چیزوں کے، اور یہ وہ امور ہیں جن کی وجہ سے اسے مرنے کے بعد بھی اجر ملتا رہتا ہے:
پہلی چیز:
یہ کہ وہ اپنی زندگی میں صدقہ جاریہ دے؛ جیسے اپنی زندگی میں کوئی کنواں کھدوائے اور اس کنویں کا فائدہ اس کے مرنے کے بعد بھی جاری رہے، تو جب بھی کوئی اس کنویں سے فائدہ اٹھائے گا، اسے کھدوانے والے کو اس کا اجر و ثواب ملتا رہے گا خواہ وہ اپنی قبر ہی میں کیوں نہ ہو۔ اس کی مثالیں مساجد، ہسپتال اور مدارس کی تعمیر، قرآن مجید کے نسخے صدقہ کرنا اور اس جیسے دیگر صدقاتِ جاریہ ہیں۔
دوسری چیز:
وہ علم جس سے نفع اٹھایا جائے؛ پس جس نے کسی قوم کو تعلیم دی یا انہیں وعظ و نصیحت کی اور ان کی رہنمائی کی، یا کوئی کتاب تصنیف کی، یا نافع علم کی طباعت، تقسیم یا نشر و اشاعت میں حصہ لیا، تو اس کا اجر اسے اس کی زندگی میں بھی اور مرنے کے بعد بھی ملتا رہے گا۔
تیسری چیز:
نیک اولاد (اور لفظ ،،ولد،، میں بیٹا اور بیٹی دونوں شامل ہیں)؛ پس جب مرد اپنے بچوں کی یا عورت اپنے بچوں کی نیک تربیت کرتی ہے، تو ان کے تمام نیک اعمال ان کی تربیت کرنے والے کے میزانِ حسنات میں ہوں گے، اور اسی طرح نیک اولاد اپنی ماں اور باپ کے لیے دعا کرتی ہے، جس سے اللہ کے ہاں ان دونوں کا اجر، ثواب اور فضل مسلسل جاری رہتا ہے۔
حدیث نمبر:40
عن جابر، قال: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم، يقول: يبعث كل عبد على ما مات عليه.
سیدنا جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا:ہر بندہ اس حالت پر اٹھایا جائے گا، جس پر وہ فوت ہوا تھا۔
[صحیح المسلم:2878]
وضاحت:
یہ حدیث حسنِ خاتمہ (اچھے انجام) کے بارے میں ہے، اور یہ ان عظیم ترین امور میں سے ہے جن کی فکر نبی ﷺ کے صحابہ کے زمانے سے لے کر آج تک اہل خیر اور صالحین کرتے آئے ہیں۔
حسنِ خاتمہ کا مطلب یہ ہے کہ انسان کی زندگی کا اختتام ایمان، خیر اور عملِ صالح پر ہو۔
اس حدیث میں ہمارے نبی ﷺ ہمیں خبر دے رہے ہیں کہ انسان جس حال پر مرتا ہے، قیامت کے دن اسی حال پر اٹھایا جائے گا؛ پس جو شخص حج یا عمرہ میں لبیک پکارتے ہوئے فوت ہوا، وہ قیامت کے دن لبیک پکارتے ہوئے اٹھایا جائے گا، اور جو اللہ کا ذکر کرتے ہوئے فوت ہوا، وہ قیامت کے دن اللہ کا ذکر کرتے ہوئے اٹھایا جائے گا، اور جو کسی گناہ کی حالت میں مرا، وہ قیامت کے دن اسی گناہ کی حالت میں اٹھایا جائے گا۔ ہم اللہ سے سلامتی اور عافیت کا سوال کرتے ہیں۔
اسی لیے ہمیں چاہیے کہ برے کاموں سے بچنے کی حرص کریں اور اپنے اوقات کو نیک اعمال سے بھر دیں؛ تاکہ ہمارا خاتمہ بالخیر ہو، اور تاکہ ہم قیامت کے دن اس حال میں اٹھائے جائیں کہ ہم اللہ کی رحمت، مغفرت اور اس کی رضا میں ہوں۔
خاتمة الكتاب
میں اللہ کی حمد و ثناء اور اس کا شکر بجا لاتا ہوں، اور اس کی بہترین تعریف کرتا ہوں اور اس سے مغفرت طلب کرتا ہوں، اور اپنے لیے اور ان کے لیے جنہوں نے میری ان باتوں کو پڑھا، عفو و عافیت اور رحمت و رضا کا سوال کرتا ہوں۔
پھر یہ کہ میں اس کتاب کے اختتام پر ان اشارات کو درج کرنا پسند کرتا ہوں، چنانچہ میں کہتا ہوں:
① یہ کتاب چھوٹوں اور بڑوں (دونوں) کے لیے موزوں ہے، کیونکہ اس میں صرف آیت یا حدیث ہے، یا اہل علم کی کتابوں سے لیا گیا کوئی ایسا درس ہے جو بعینہٖ ان کے الفاظ میں ہے یا ان کے مفہوم کے مطابق ہے۔
② میں نے ان مختصر احادیث کا انتخاب کیا ہے تاکہ ان کا حفظ کرنا آسان ہو، اور ان کے موضوعات میں تنوع رکھا ہے تاکہ ان سے حاصل ہونے والا فائدہ زیادہ سے زیادہ ہو۔
③ میں نے کتاب کے آخر میں تمام احادیث کو مکمل اور ترتیب وار درج کر دیا ہے تاکہ یہ حفظ کرنے اور دہرانے میں زیادہ آسان اور مددگار ثابت ہو۔
④ میں نے ان ،،چالیس ولدانیہ،، (بچوں کے لیے چالیس احادیث) کو اصل میں اس لیے جمع کیا ہے تاکہ بچے انہیں یاد کر لیں، لہٰذا میں نصیحت کرتا ہوں کہ گھروں، اسکولوں، کلبوں اور ان کے علاوہ دیگر مقامات پر ان کے حفظ کے لیے مقابلوں اور پروگراموں کا انعقاد کیا جائے۔
⑤ میں باپوں، ماؤں اور مرد و خواتین اساتذہ کو ابھارتا ہوں کہ وہ بیٹوں اور بیٹیوں کے ساتھ مل کر اس کتاب کو پڑھیں، تاکہ احادیث حفظ کرنے سے پہلے ان کی زبان کی درستی ہو سکے، اور تاکہ انہیں ان احادیث سے حاصل ہونے والے اسلامی آداب سکھائے جا سکیں۔
⑥ اگرچہ میں نے احادیث کی شرح میں بہت سے معانی، فوائد اور ہدایات کا ذکر کر دیا ہے، لیکن (حقیقت یہ ہے کہ) باقی رہ جانے والے معانی، فوائد اور ہدایات اس سے کہیں زیادہ ہیں جن کا میں نے ذکر کیا ہے، لہٰذا میں بیٹوں اور بیٹیوں سے یہ امید رکھتا ہوں کہ وہ ان فوائد کا استنباط اور استخراج خود یا دوسروں کے ساتھ مل کر مکمل کریں، اور ان فوائد کو لکھ لیں، تاکہ وہ خود بھی فائدہ اٹھائیں اور دوسروں کو بھی فائدہ پہنچائیں۔
اور اللہ ہی کی طرف سے توفیق ہے، اور اللہ تعالیٰ ہمارے نبی محمد ﷺ پر درود و سلام اور برکتیں نازل فرمائے۔