مرکزی مواد پر جائیں
17 شعبان، 1447 ہجری

بچوں اور فیملی کی تصاویر رکھنے اور تصویر والے کمرے میں نماز کا حکم

فونٹ سائز:
ماخوذ : قرآن و حدیث کی روشنی میں احکام و مسائل، جلد 01، صفحہ 513

سوال

کئی لوگ اپنے بچوں کی تصاویر بنوا کر محفوظ کر لیتے ہیں کہ جب وہ بڑے ہوں گے تو انہیں دکھائیں گے، یا اپنی فیملی کی تصاویر یادگار کے طور پر رکھ لیتے ہیں۔ ان تصاویر کے بارے میں کیا حکم ہے؟
کیا تصویر بنوا کر بریف کیس یا اٹیچی کیس میں رکھی جا سکتی ہے؟
جس کمرے میں تصویر ہو، کیا اس کمرے میں نماز ادا کی جا سکتی ہے یا نہیں؟

جواب

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

➊ بچوں یا فیملی کی تصاویر رکھنا ناجائز ہے

رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم جب گھر میں کوئی تصویر دیکھتے تو اسے توڑ ڈالتے۔ آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:

إِنَّ الَّذِیْنَ یَصْنَعُوْنَ ہٰذِہِ الصُّوَرَ یُعَذَّبُوْنَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ

\[بے شک یہ تصویروں والے قیامت کے دن عذاب دیے جائیں گے]

➋ بریف کیس یا اٹیچی کیس میں تصاویر رکھنا جائز نہیں

ان تصاویر کو محفوظ کرنے کی اجازت نہیں۔

➌ تصویر والے کمرے میں نماز کا حکم

اگر تصویر کی عبادت کا کوئی خیال یا تصور نہ ہو تو نماز ادا ہو جائے گی، لیکن بہتر اور ضروری یہ ہے کہ تصویر کو کمرے سے نکال دیا جائے یا توڑ پھوڑ دیا جائے۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔