سوال :
کیا بولی والی کمیٹی جائز ہے؟ اس کی صورت یہ ہے کہ اگر 10 افراد مل کر ایک ہزار روپے کمیٹی ڈالتے ہیں تو دس ماہ تک ایک آدمی کا دس ہزار روپیہ جمع ہوتا ہے اور ہر ماہ کمیٹی نکالیں تو ایک آدمی کو دس ہزار ملنے چاہییں، لیکن ہوتا یہ ہے کہ جب کمیٹی نکلتی ہے تو اس کی بولی لگاتے ہیں، جو کم پیسوں میں اسے خرید لیتا ہے اسے دے دیتے ہیں۔ اگر ایک آدمی کہتا ہے کہ میں 9 ہزار میں لیتا ہوں اور ایک ہزار چھوڑ دیتا ہوں اور دوسرا کہتا ہے میں 8 ہزار میں لیتا ہوں اور 2 ہزار چھوڑتا ہوں تو جس کی بولی کم ہوتی ہے کمیٹی اسے دے دیتے ہیں۔ اب اگر کمیٹی 8 ہزار کی بولی دینے والے کو دی جائے تو اوپر والا دو ہزار کمیٹی کے افراد میں برابر تقسیم کر دیا جاتا ہے، ایسی کمیٹی کا شرعی حکم کیا ہے؟
جواب :
اسلام نے ربا (سود) کے حوالے سے جو قانون اور ضابطہ بتایا ہے اس میں یہ ہے کہ ایک جنس کی دو چیزوں کی آپس میں بیع کرتے وقت ان میں برابری اور مجلس میں نقد بنقد ہو۔ ایک ہی جنس کی دو چیزوں کی آپس میں کمی بیشی کے ساتھ بیع نا جائز اور حرام ہے، جیسا کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
الذهب بالذهب لا فضل بينهما والورق بالورق لا فضل بينهما
(مسلم کتاب المساقاة باب الصرف وبيع الخ 1588/85، مسند احمد 485/2ح : 10298)
دینار دینار کے بدلے میں ہو تو ان کے درمیان اضافہ نہیں اور درہم درہم کے بدلے میں ہو تو ان کے درمیان اضافہ نہیں ہے ۔
اس زمانے میں سونے کے سکوں کو دینار اور چاندی کے سکوں کو درہم کہا جاتا تھا، تو شرح نے دینار کو دینار کے بدلے اور درہم کو درہم کے بدلے کمی بیشی کے ساتھ فروخت کرنے سے منع کر دیا۔ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا تبيعوا الدينار بالدينارين ولا الدرهم بالدرهمين
(مسلم کتاب المساقاة باب الصرف ح 1585/78، السنن الكبرى للبيهقي 278/5 ح 10485)
”ایک دینار کو دو دیناروں کے ساتھ اور ایک درہم کو دو درہموں کے ساتھ مت بیچو۔“
معلوم ہوا بولی والی کمیٹی جس میں کم رقم کی زیادہ رقم کے ساتھ بیع ہوتی ہے، حرام و ناجائز اور صریح سود ہے۔ یہ ایک جنس کی اس جنس کے ساتھ کمی بیشی والی بیع ہے، اس لیے یہ کسی طرح بھی درست نہیں۔ البتہ وہ کمیٹی جس میں جتنے پیسے پیسے جمع کروائیں اتنے ہی لیں، وہ درست ہے اور ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کا بھی بہترین ذریعہ ہے۔ جو لوگ بیک وقت اپنی ضرورت پوری نہیں کر پاتے وہ کمیٹی ڈال کر اپنی اہم حاجات و ضروریات پوری کر لیتے ہیں۔ اکل حلال میں کفایت کرنا ہر مسلم پر لازم ہے۔ اللہ توفیق دینے والا ہے۔