مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

بغیر ولی کے نکاح کے بعد ولی کی اجازت سے دوسرا نکاح کا کیا حکم ہے؟

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال:

بالغہ کا ایک نکاح ولی کی اجازت کے بغیر ہوا، بعد میں دوسرے مرد سے ولی کی اجازت کے ساتھ ہوا، تو کیا حکم ہے؟

جواب:

پہلا نکاح چونکہ ولی کی اجازت کے بغیر ہوا، تو وہ باطل ہے، منعقد ہی نہیں ہوا، اس لیے بغیر طلاق یا خلع لڑکی کا آگے نکاح کرنا جائز ہے۔ لہذا دوسرا نکاح جو ولی کی اجازت سے ہوا، وہ نکاح صحیح ہے۔
ايما امراة نكحت بغير اذن وليها فنكاحها باطل نكاحها باطل نكاحها باطل
سنن أبي داود: 2083، سنن الترمذي: 1102، السنن الكبرى للبيهقي: 105/7، وسندہ حسن
جو عورت اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کرتی ہے، اس کا نکاح باطل ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔