بعض مخصوص افراد کے روزوں کے احکام و مسائل صحیح احادیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس فضیلتہ الشیخ مُبشر احمد ربانی رحمہ اللہ کی کتاب احکام و مسائل رمضان سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

بعض مخصوص افراد کے روزوں کے احکام و مسائل :۔

جس شخص کے ذمہ رمضان کے روزوں کی قضاء ہو اس کے لیے نفلی روزے مثلاً شوال کے چھ روزے، عشرہ ذی الحجہ کے روزے اور عاشوراء کا روزہ رکھنا ضروری نہیں۔ کیونکہ جس کے ذمہ رمضان کے روزوں کی قضاء ہو علماء کے صحیح ترین قول کے مطابق نفلی روزوں سے پہلے اس پر رمضان کے روزوں کی قضا واجب ہے کیونکہ فرائض نوافل سے اہم ہیں۔
(مجموع فتاوی ابن باز : 15/ 392)

روزہ میں بھول کر کھانا پینا :۔

جو شخص روزہ کی حالت میں بھول کر کچھ کھا پی لے ایسے شخص پر حرج نہیں اور اس کا روزہ صحیح ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَاالبقرہ : 286
”اے ہمارے رب ! ہم اگر بھول گئے یا غلطی کر بیٹھے تو ہماری گرفت نہ کر۔“
نیز سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
جس نے روزہ کی حالت میں بھول کر کچھ کھا لیا یا پی لیا وہ اپنا روزہ پورا کر لے کیونکہ اسے اللہ نے کھلایا پلایا ہے۔
(بخاری کتاب الصوم : باب الصائم إذا أكل أو شرب ناسياً 1933 ، مسلم کتاب الصیام باب أكل الناسي وشربه 1155 ، مستدرک حاکم : 1/ 430)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے :
جس نے رمضان میں بھول کر روزہ توڑ دیا تو اس پر نہ قضا ہے نہ کفارہ۔
(مستدرک حاکم: 1/ 430)
اس حدیث کو امام حاکم رحمہ اللہ نے نقل کیا ہے اور صحیح قرار دیا ہے۔ اس حدیث کے الفاظ میں جماع اور دیگر تمام مفطرات شامل ہیں۔

تارک نماز کے روزے کا حکم :۔

صحیح بات یہ ہے کہ عمداً نماز ترک کرنے والا کافر ہے لہذا جب تک وہ اللہ تعالیٰ سے توبہ نہ کر لے اس کا روزہ اور اسی طرح دیگر عبادات درست نہیں، کیونکہ اللہ عزوجل کا ارشاد ہے :
وَلَوْ أَشْرَكُوا لَحَبِطَ عَنْهُمْ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَسورۃ الانعام : 88
”اور اگر انہوں نے شرک کیا ہوتا تو وہ سب اکارت ہو جاتا جو وہ کرتے تھے۔“
نیز اس معنی کی دیگر آیات اور احادیث بھی تارک نماز کے اعمال اکارت ہو جانے کی دلیل ہیں۔ لیکن کچھ اہل علم اس طرف گئے ہیں کہ تارک نماز اگر نماز کی فرضیت کا معترف ہے لیکن سستی و بے پروائی کی وجہ سے نماز چھوڑتا ہے تو اس کا روزہ اور دیگر عبادات برباد نہیں ہوں گی، لیکن پہلا قول ہی زیادہ صحیح ہے یعنی عمداً نماز ترک کرنے والا کافر ہے بھلے وہ نماز کی فرضیت کا معترف ہو کیونکہ اس قول پر بے شمار دلائل موجود ہیں، انہی دلائل میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد گرامی بھی ہے :
”بندہ کے درمیان اور کفر و شرک کے درمیان بس نماز چھوڑنے کا فرق ہے۔“
(مسلم کتاب الایمان باب بیان اطلاق اسم الکفر : 82)
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید فرمایا :
ہمارے اور ان کافروں کے درمیان جو معاہدہ ہے وہ نماز ہے تو جس نے نماز چھوڑ دی اس نے کفر کیا۔
(ترمذی کتاب الایمان باب ما جاء في ترک الصلاۃ 1621 ، ابن ماجہ کتاب اقامۃ الصلاۃ باب ما جاء فی من ترک الصلاۃ 1079 ، نسائی کتاب الصلاۃ باب الحکم فی ترک الصلاۃ 463 ، مسند احمد 5/ 346)
اس حدیث کو امام احمد، ابو داؤد، نسائی، ترمذی اور ابن ماجہ نے بریدہ بن حصیب اسلمی رضی اللہ عنہ کے طریق سے صحیح سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔

جھوٹ بولنے والے کا روزہ :۔

روزے کی حالت میں جھوٹ بولنے والے یا جھوٹی باتوں پر عمل کرنے والے کا روزہ ضائع ہو جاتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
من لم يدع قول الزور والعمل به فليس لله حاجة فى أن يدع طعامه وشرابه
”جس آدمی نے روزے کی حالت میں جھوٹ بولنا اور اس پر عمل کرنا ترک نہ کیا تو اللہ کو اس کے کھانا پینا چھوڑنے کی کوئی حاجت نہیں۔“
صحیح بخاری کتاب الصوم: باب من لم يدع قول الزور والعمل به (1903)
اسی طرح سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ایک اور حدیث میں ذکر ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
كم من صائم ليس له من صيامه إلا الظمأ وكم من قائم ليس له من قيامه إلا السهر
”کتنے ہی روزہ دار ایسے ہیں جنہیں اپنے روزے سے پیاس کے سوا کچھ حاصل نہیں اور کتنے ہی قیام کرنے والے ایسے ہیں جنہیں اپنے قیام سے بیداری کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔“
ابن ماجہ کتاب الصیام باب ما جاء في الغیبة والرفث للصائم (1690) ، سنن الدارمی (2723)
مذکورہ احادیث صحیحہ سے معلوم ہوا کہ روزہ دار آدمی کو حالت روزہ میں گالی گلوچ، تہمت طرازی، عیب جوئی، جھوٹ پر عمل اور اس کی اشاعت وغیرہ جیسے اعمال قبیحہ سے مکمل اجتناب کرنا چاہیے ورنہ اسے روزے سے سوائے فاقہ کے کچھ حاصل نہ ہوگا اللہ کریم کو وہی روزہ قبول ہوگا جو منع کیے گئے کاموں سے بچایا ہوا ہوگا۔

ہوائی سفر کرنے والا کب افطاری کرے :۔

سوال :۔

اگر کوئی روزہ دار سورج غروب ہونے سے ایک گھنٹہ قبل یا اس سے کم وقت میں ہوائی جہاز میں سفر کرتا ہے اور وہ شہر سے دور بھی ہو جاتا ہے تو اس صورت میں روزہ کس وقت افطار کیا جائے گا؟

جواب :۔

اگر روزہ دار جہاز میں سورج غروب ہونے سے ایک گھنٹہ یا کم و بیش وقت قبل سوار ہے تو وہ جہاز میں اس وقت تک افطار نہیں کرے گا جب تک وہ سورج کو غروب ہوتا نہ دیکھ لے یا سورج غروب ہو جائے یا وہ کسی ایسے شہر میں اترے جہاں سورج غروب ہو چکا ہے۔
اس کی دلیل میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
إذا أقبل الليل من ها هنا وأدبر النهار من ها هنا وغربت الشمس فقد أفطر الصائم
”جب رات اس سمت سے آئے اور دن اس سمت سے چلا جائے اور سورج غروب ہو جائے تو اس وقت روزہ دار روزہ افطار کر لے۔“
بخاری کتاب الصوم : باب متی يحل فطر الصائم (1954) ، مسلم کتاب الصیام باب بیان وقت انقضاء الصوم (1100)
اور صحیح مسلم میں ہے : عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رمضان میں سفر میں تھے کہ جب غروب شمس ہونے کے قریب ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے فلاں ! سواری سے نیچے اتر کر ہمارے لیے ستو تیار کرو۔ تو اس نے کہا : ابھی تو دن باقی ہے یعنی ابھی سورج غروب نہیں ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا : نیچے اتر کر ستو تیار کرو پس اس نے نیچے اتر کر ستو تیار کیے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ پیے اور ہاتھ کے ساتھ اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : جب سورج اس سمت سے غائب ہو جائے اور رات اس سمت سے آجائے تو روزہ دار روزہ افطار کر لے۔
(بخاری کتاب الصوم باب الصوم في السفر والإفطار 1941 ، مسلم کتاب الصیام : باب وقت انقضاء الصوم وخروج النهار 1101)
صحیح بخاری کی ایک اور روایت میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب تم رات کو اس سمت سے آتا دیکھو تو اس وقت روزہ دار روزہ افطار کر لے۔
(بخاری کتاب الصوم : باب متی يحل فطر الصائم : 1955)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں : یعنی مشرق کی سمت سے اندھیرا آجائے اس کا مطلب یہ ہے کہ رات کا اندھیرا محسوس ہونے لگے۔
(فتح الباری 4/ 250)
شیخ ابن باز رحمہ اللہ فرماتے ہیں : جب جہاز ریاض سے غروب شمس سے پہلے مغرب کی جانب پرواز کر جائے تو آپ اس وقت تک روزے کی حالت میں ہوں گے جب تک سورج غروب نہ ہو جائے اور آپ اس وقت فضا میں ہوں، یعنی سورج غروب ہونے تک آپ افطار نہیں کر سکتے۔ یا دوسری صورت میں آپ کسی ایسے شہر میں اتر جائیں جہاں سورج غائب ہو چکا ہے۔
(مجموع فتاوی و مقالات: 15/ 322)
حاصل کلام یہ کہ جب تک سورج غروب نہ ہو جائے جہاز میں سوار صائم روزہ افطار نہیں کر سکتا۔ والله اعلم

آکسیجن اور روزہ :۔

کسی ایسے مریض کو جسے سانس کی تکلیف ہو آکسیجن وغیرہ گیس لگائی جا سکتی ہے جبکہ اسے سانس لینے میں تکلیف محسوس ہوتی ہے اس عمل سے روزہ نہیں ٹوٹے گا۔ آکسیجن یا کوئی اور گیس جو سانس کے مریضوں کو لگائی جاتی ہے اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا جس کی وجوہ درج ذیل ہیں :
➊ یہ ایک ہوا ہے جو سانس کی بحالی کے لیے استعمال ہوتی ہے اور ہوا سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔
➋ اس گیس یا آکسیجن میں کوئی غذائی مواد یا دوائی نہیں ہوتی جو جسم میں داخل ہو۔ ڈاکٹر محمد علی البار لکھتے ہیں : ایسی آکسیجن جو سانس کے مریضوں کو لگائی جاتی ہے، اس میں کوئی غذائی مواد یا دوائی نہیں ہوتی اور یہ زیادہ تر سانس کی بحالی کے لیے استعمال کی جاتی ہے اور ہوا میں سانس لینا انسانی زندگی کے لیے ضروری ہے اور ہوا کے جسم میں داخل ہونے سے روزے کے فاسد ہونے کا کوئی بھی قائل نہیں ہے۔
(مجلہ مجمع الفقه الاسلامی : 10/ 2/ 240)
اسی طرح ڈاکٹر حسان شمسی پاشا لکھتے ہیں : جو آکسیجن سانس کے مریضوں کو لگائی جاتی ہے اس میں کوئی غذائی اجزاء یا دیگر جسم میں داخل ہونے والا مواد نہیں ہوتا اور یہ سانس کی بحالی کے لیے استعمال کی جاتی ہے جس سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔ حاصل کلام یہ ہے کہ اس طرح کی گیس وغیرہ کا استعمال روزے کو فاسد نہیں کرتا۔

واللہ اعلم

مریض کا روزہ :۔

روزے دار کے لیے اس کے مرض کے مطابق فیصلہ کیا جاتا ہے یعنی بعض حالات میں اس کے لیے روزہ چھوڑنا جائز ہوتا ہے اور کبھی ناجائز اسی طرح کبھی اس کے لیے روزہ چھوڑنا واجب ہوتا ہے اور کبھی افضل۔ یہ مریض اور بیماری کے حساب سے حکم لگایا جاتا ہے۔
شیخ صالح العثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بعض امراض سے روزہ متاثر نہیں ہوتا مثلاً : زکام یا ہلکا سر درد یا دانت کا درد اور اس جیسے دیگر امراض ان امراض سے روزہ ترک کرنا حلال نہیں۔ اگر چہ بعض علماء اس آیت کریمہ : وَمَنْ كَانَ مَرِيضًا کو سامنے رکھتے ہوئے ترک روزہ کو درست قرار دیتے ہیں، لیکن ہم کہتے ہیں بے شک یہ حکم معلل بعلت ہے وہ یہ ہے کہ اگر روزہ ترک کرنے میں اس کے لیے آسانی ہو تو ہم کہیں گے کہ روزہ ترک کرنا افضل ہے اور اگر روزہ رکھنے سے اس کا مرض متاثر نہیں ہوگا تو اس پر روزہ رکھنا واجب ہے اور روزہ چھوڑنا جائز نہیں۔
دوسری حالت یہ ہے کہ جب روزہ اس پر شاق ہو مگر اسے تکلیف نہ پہنچائے تو روزہ رکھنا یا ترک کرنا چاہے تو اس کی مرضی ہے۔
تیسری صورت یہ ہے کہ جب روزہ اس پر شاق ہو اور اسے ضرر پہنچنے کا اندیشہ ہو مثلاً : مکمل بیمار آدمی یا شوگر کا مریض یا اس جیسے دیگر امراض ہوں تو اس صورت میں روزہ رکھنا حرام ہے۔
یعنی ایسا مرض جو ہلاکت کا سبب بنتا ہو خواہ وہ شوگر کا مرض ہو یا کوئی اور مرض ہو مگر جب مریض کو اس کی بیماری سے کوئی نقصان پہنچنے کا اندیشہ نہ ہو جبکہ اسے کوئی مستند ڈاکٹر روزہ رکھنے کی اجازت بھی دے دے تو اس پر روزہ رکھنا ضروری ہے۔

بحری بری اور فضائی سفر میں روزہ کی رخصت :۔

ایسا شخص جس نے ہوائی جہاز یا گاڑی میں سفر کرنا ہے اور اسے مشقت کا کوئی احساس بھی نہیں ہوتا تو وہ روزہ ترک کر سکتا ہے۔
ایسے شخص کے لیے سفر میں روزہ ترک کرنا جائز ہے خواہ سفر ہوائی جہاز میں ہو۔ اس لیے کہ روزہ ترک کرنے کی وجہ سفر میں مشقت نہیں بلکہ سفر ہی ہے خواہ اسے سفر میں مشقت حاصل ہو یا نہ ہو۔ روزہ ترک کرنا اس کے لیے جائز ہے اور قرآن وحدیث کے عمومی دلائل اس پر موجود ہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :
وَمَنْ كَانَ مَرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ(سورہ البقرہ: 185)
”پس تم میں جو مریض ہو یا مسافر ہو تو وہ دیگر ایام میں روزوں کی گنتی مکمل کرے۔“
اس آیت کریمہ میں سفر کی وجہ سے روزہ ترک کرنے کا جواز ملتا ہے اس میں مشقت کا ذکر نہیں ہے۔ نیز ایک حدیث ہے کہ محمد بن کعب رحمہ اللہ فرماتے ہیں : میں انس بن مالک رضی اللہ عنہ ان کے پاس رمضان میں آیا تو وہ سفر کی تیاری کر رہے تھے اور ان کی سواری اور ساز و سامان تیار ہو چکا تھا۔ اسی اثنا میں انہوں نے کچھ کھایا تو میں نے ان سے پوچھا : کیا یہ عمل سنت ہے؟ تو انہوں نے کہا : ہاں ! سنت ہے۔ پھر سواری پر سوار ہو گئے۔
ترمذی، کتاب الصوم : باب ماجاء فيمن أكل ثم خرج يريد سفرا (799، 800) ، بیهقی (4/ 248)
اس حدیث مبارکہ کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن قرار دیا ہے اور علامہ البانی رحمہ اللہ نے بھی اسے صحیح الترمذی (799) میں ذکر کیا ہے۔
اب سیدنا انس رضی اللہ عنہ اپنے گھر میں کوچ کرنے سے قبل ہی روزہ نہیں رکھ رہے۔ حالانکہ انہیں ابھی کوئی مشقت بھی نہیں پہنچی اور اس عمل کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کر رہے ہیں۔
امام ترمذی رحمہ اللہ بھی یہ حدیث درج کرنے کے بعد رقمطراز ہیں کہ اکثر اہل علم نے اس حدیث کو دلیل بنا کر یہ فرمایا ہے کہ مسافر کے لیے درست ہے کہ وہ گھر سے نکلنے سے پہلے ہی روزہ افطار کرے، مگر نماز اپنے شہر یا بستی سے نکلنے سے قبل قصر نہیں کر سکتا۔ یہی مذہب اسحاق بن ابراہیم الحنظلی یعنی اسحاق بن راہویہ رحمہ اللہ کا بھی ہے۔
عبید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں : میں صحابی رسول ابو بصرہ غفاری رضی اللہ عنہ ان کے ساتھ ماہ رمضان میں کشتی میں سوار تھا کہ انہوں نے کشتی روکی پھر اس کے لیے کھانا لایا گیا حالانکہ ابھی ہم گھروں سے زیادہ دور نہیں گئے تھے۔ سیدنا ابو بصرہ رضی اللہ عنہ نے دستر خوان منگوا کر کہا : قریب آجاؤ۔ میں نے کہا آپ گھروں کو نہیں دیکھ رہے یعنی ہم ابھی زیادہ دور نہیں آئے ؟ تو ابو بصرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے بے رغبتی کرتا ہے؟ پھر انہوں نے کھانا کھا لیا۔ اب ابو بصرہ رضی اللہ عنہ نے کشتی میں سوار ہوتے ہی روزہ افطار کر لیا اور سفر کی مشقت کا انتظار نہیں کیا۔ پس ان دلائل سے ثابت ہوا کہ سفر میں مشقت و تکلیف کا کوئی اعتبار نہیں اور شارع نے سفر میں افطار کرنے کا یہ وصف بیان نہیں کیا۔
(مسند احمد : 18/ 488 ، بیهقی : 4/ 246)
نیز صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سفر کرتے تو ان میں سے بعض کا روزہ ہوتا اور بعض روزہ نہیں رکھتے تھے لیکن کوئی دوسرے پر نکتہ چینی نہیں کرتا تھا۔ کیونکہ سفر میں روزہ سے رخصت ہے۔ اب جس نے روزہ رکھ لیا تو اس نے بھی درست کام کیا اور اللہ تعالیٰ اپنی عطا کردہ رخصت قبول کرنے کو پسند کرتا ہے جس طرح کہ وہ دیگر عطا کردہ امور پر عمل کو پسند کرتا ہے۔

حیض و نفاس والی عورتوں کے لیے روزوں کی قضا :۔

حیض اور نفاس والی عورتوں کے لیے ضروری ہے کہ حیض اور نفاس کے وقت وہ روزہ توڑ دیں، حیض اور نفاس کی حالت میں روزہ رکھنا اور نماز پڑھنا جائز نہیں اور نہ ایسی حالت میں نماز روزہ صحیح ہے انہیں بعد میں صرف روزوں کی قضا کرنی ہوگی، نماز کی نہیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث ہے ان سے سوال کیا گیا کہ کیا حائضہ عورت نماز اور روزے کی قضا کرے؟ تو انہوں نے فرمایا :
”ہمیں روزوں کی قضا کرنے کا حکم دیا جاتا تھا اور نماز کی قضا کرنے کا حکم نہیں دیا جاتا تھا۔“
ابوداؤد كتاب الطهارة : باب في الحائض لا تقضى الصلاة (262) ، نسائی کتاب الصيام باب وضع الصيام عن الحائض (2320)
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی بیان کردہ حدیث پر علماء کا اتفاق ہے کہ حیض و نفاس والی عورتوں کو صرف روزوں کی قضا کرنی ہے نماز کی نہیں اور یہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی طرف سے ایک طرح کی رحمت اور آسانی ہے کیونکہ نماز ایک دن میں پانچ مرتبہ پڑھی جاتی ہے اس لیے نماز کی قضا مذکورہ عورتوں پر بھاری تھی اس لیے برخلاف روزہ کے کہ وہ سال میں ایک بار فرض ہے اور وہ ماہ رمضان کا روزہ ہے اس لیے اس کی قضا میں کوئی مشقت و دشواری نہیں ۔

دوران روزہ ٹوتھ پیسٹ کا استعمال :۔

دوران روزہ ٹوتھ پیسٹ کے ذریعے دانت صاف کرنے سے بالکل اسی طرح روزہ نہیں ٹوٹتا جیسے مسواک کرنے سے نہیں ٹوٹتا اسی طرح آنکھ اور ناک میں دوا کے قطرے بھی ڈالے جاسکتے ہیں اور اگر ان قطروں کا ذائقہ حلق میں محسوس کرے تو اس روزہ کی قضا کر لینا احتیاط کی بنا پر ہے واجب نہیں کیونکہ آنکھ اور کان کھانے پینے کے راستے نہیں ہیں، البتہ ناک کے قطرے استعمال کرنا جائز نہیں کیونکہ ناک کھانے پینے کے راستے میں شمار ہوتی ہے۔ اسی لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
”ناک میں (وضو کرتے وقت) خوب اچھی طرح پانی چڑھاؤ الا کہ تم روزہ دار ہو۔“
ابو داؤد كتاب الطهارة باب في الاستثناء (142) وكتاب الصيام (2326) ، ترمذی کتاب الصوم باب ما جاء في كراهية مبالغة الاستنشاق للصائم (788) ، نسائی کتاب الطهارة باب المبالغة في الاستنشاق (87)
لہذا مذکورہ حدیث اور اس معنی کی دیگر احادیث کی روشنی میں اگر کسی نے روزہ کی حالت میں ناک کے قطرے استعمال کیے اور حلق میں اس کا اثر محسوس ہوا تو اس روزہ کی قضا واجب ہے۔