مضمون کے اہم نکات
محترم قارئین! دینِ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے، جو صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اسی کی بندگی کی تعلیم دیتا ہے۔ نبی کریم ﷺ کی تعلیمات اور قرآنِ کریم کے نصوص سے ہمیں یہ واضح رہنمائی ملتی ہے کہ عبادت صرف اللہ کے لیے خاص ہے، اور کسی نبی، ولی یا بزرگ کی قبروں کو تعظیمی طور پر بوسہ دینا یا ان پر سجدہ کرنا شرعاً ثابت نہیں۔
❖ اس مضمون میں ہم بریلوی مفتری حشثتی کی پیش کردہ پوسٹ کا تحقیقی جائزہ لیں گے۔
❖ وہ قبروں اور بزرگانِ دین کے ہاتھ پاؤں چومنے کو قرآن و حدیث سے ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
❖ ہم اس کے ہر اعتراض کو اصل عبارت کے ساتھ ذکر کریں گے اور پھر دلائلِ شرعیہ اور اقوالِ محدثین سے اس کا رد کریں گے۔
❖ ہر دلیل کو مکمل عربی متن، اردو ترجمہ اور حوالہ کے ساتھ ذکر کیا جائے گا تاکہ حقیقت واضح ہو۔
اصل اعتراض (بریلوی کی دلیل 01)
بریلوی مفتری نے قرآن کی ایک آیت پیش کی ہے:
① عربی متن:
﴿وَادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَقُوۡلُوۡا حِطَّةٌ﴾
(سورۃ البقرۃ، آیت نمبر 58)
② ترجمہ:
"اے بنی اسرائیل! تم اس دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہو جاؤ اور کہو: ہمارے گناہ معاف ہوں۔”
بریلوی کا استدلال:
اس آیت سے پتہ چلتا ہے کہ چونکہ بیت المقدس انبیاء کرام علیہم السلام کی آرام گاہ ہے، اس لیے بنی اسرائیل کو حکم دیا گیا کہ وہ وہاں سجدہ کریں۔ اس سے یہ بات بھی ظاہر ہوتی ہے کہ مقدس مقامات پر توبہ جلد قبول ہوتی ہے۔
الجواب 01
یہ استدلال سراسر باطل اور قرآنِ کریم پر جھوٹ باندھنے کے مترادف ہے۔ اس کی وضاحت درج ذیل ہے:
❖ سب سے پہلی بات یہ کہ قرآن کی مذکورہ آیت میں یہ کہا گیا ہے کہ بنی اسرائیل کو دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہونا ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ قبر یا انبیاء کی آرام گاہ کو سجدہ کریں۔ اس آیت میں صرف اللہ تعالیٰ کے حضور انکسار اور عاجزی کا اظہار مقصود ہے، جیسا کہ مفسرین نے واضح کیا ہے۔
❖ دوسری بات یہ کہ اس واقعے کے وقت بیت المقدس میں کوئی نبی دفن نہیں تھے، لہٰذا یہ کہنا کہ "یہ حکم انبیاء کی قبروں کے احترام میں تھا” سراسر غلط اور جھوٹ ہے۔
❖ اس طرح کے بے اصل استنباط قرآن پر اپنی طرف سے بات کہنا ہے، حالانکہ رسول اللہ ﷺ نے سختی سے متنبہ فرمایا ہے:
① حدیث:
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الأَعْلَى، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
«مَنْ قَالَ فِي القُرْآنِ بِغَيْرِ عِلْمٍ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ»
② ترجمہ:
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جو شخص قرآن کی تفسیر اپنی رائے اور بغیر علم کے کرے، وہ اپنی جگہ جہنم میں بنا لے۔”
③ حوالہ: سنن الترمذی، حدیث نمبر 2950، وقال: حدیث حسن۔
❖ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ قرآن کی تفسیر بغیر دلیل کے کرنا حرام اور جہنم کا باعث ہے۔ لہٰذا بریلوی مفتری کا یہ کہنا کہ "بنی اسرائیل نے انبیاء کی قبروں کو سجدہ کیا” بالکل جھوٹ اور من گھڑت بات ہے۔ قرآن میں ایسی کوئی تصریح موجود نہیں۔
اصل اعتراض (بریلوی کی دلیل 02)
بریلوی مفتری نے ایک اور دلیل پیش کی ہے:
❖ حدیث (مشکوٰۃ باب الکبائر وعلامات النفاق):
حضرت صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:
"فَأَتَيَاهُ فَسَأَلاَهُ عَنْ آيَةِ الْمَحْوِ، فَقَالَ: نَعَمْ، عَلَيْكُمْ بِكِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَتَعَلَّمُوهُ وَعَلِّمُوهُ، فَأَتَيَاهُ فَقَبَّلَا يَدَيْهِ وَرِجْلَيْهِ.”
ترجمہ: ایک یہودی اپنے ساتھی سے کہنے لگا: ’’آؤ اس نبی کے پاس چلیں‘‘۔ اس کے ساتھی نے کہا: ’’مت کہو نبی‘‘۔ پھر دونوں نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور آپ سے آیتِ محو کے بارے میں سوال کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’ہاں! تم پر لازم ہے کہ تم اللہ کی کتاب کو پڑھو اور دوسروں کو پڑھاؤ‘‘۔ پھر دونوں (یہودیوں نے) آپ ﷺ کے ہاتھ اور پاؤں چومے۔
حوالہ: سنن الترمذی، حدیث نمبر 2733، مشکوٰۃ المصابیح، باب الکبائر وعلامات النفاق، ص 770۔
تحقیقی جواب (الجواب 02)
یہ روایت سند کے اعتبار سے قابلِ احتجاج نہیں۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن سلمہ المرادی ہے، جس پر خود احناف کے معتبر محدثین نے شدید جرح کی ہے۔ اس لیے بریلوی حضرات کا اس روایت سے استدلال خود اپنے اصول کے خلاف ہے۔
① علامہ بدر الدین عینی حنفی لکھتے ہیں:
"إسناده منكر، فيه عبد الله بن سلمة، وقد تكلّم فيه الأئمة.”
ترجمہ: اس روایت کی سند منکر ہے، اس میں عبد اللہ بن سلمہ ہے، اور اس پر ائمہ نے کلام کیا ہے۔
حوالہ: شرح سنن ابی داؤد للعیانی، نقلًا عن نسائی و منذری۔
② زیلعی حنفی فرماتے ہیں:
"إن مدار هذا الحديث على عبد الله بن سلمة المرادي الكوفي، وقد قال البيهقي: لما كبر ساء حفظه، فكان يحدث بالشيء فيغلط فيه.”
ترجمہ: یہ ساری روایت عبد اللہ بن سلمہ مرادی کوفی پر موقوف ہے۔ امام بیہقی نے فرمایا کہ جب یہ بوڑھے ہوئے تو ان کا حافظہ خراب ہوگیا اور یہ روایت میں کثرت سے غلطیاں کرنے لگے۔
حوالہ: نصب الرایۃ للزیلعی۔
③ مغلطائی حنفی نے بھی اس راوی پر سخت جرح نقل کی ہے۔
-
امام خطابی نے کہا: "ضعیف”
-
امام شافعی نے اس کو ناقابل اعتماد کہا۔
-
امام بیہقی نے کہا: "كان كثير الوهم” (یہ بہت وہم کرنے والا تھا)
-
امام شعبہ، ابو محمد الفارسی، ابو حاتم، امام ساجی اور امام حاکم سب نے اس کو ضعیف قرار دیا۔
حوالہ: المغلطای، شرح سنن ابی داؤد۔
❖ لہٰذا جب جمہور محدثین نے اس راوی کی روایت کو منکر و ضعیف کہا تو بریلوی حضرات کا اسی روایت کو اپنی بدعت کے اثبات میں لانا خود ان کے اصول کے خلاف ہے۔
اصل اعتراض (بریلوی کی دلیل 03)
بریلوی مفتری نے ایک اور روایت پیش کی ہے:
❖ حدیث (مشکوٰۃ شریف، باب ما یقال عند من حضرہ الموت):
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
① عربی متن:
1456 – حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:
«قَبَّلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُثْمَانَ بْنَ مَظْعُونٍ وَهُوَ مَيِّتٌ، فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى دُمُوعِهِ تَسِيلُ عَلَى خَدَّيْهِ»
② ترجمہ:
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: رسول اللہ ﷺ نے حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کو اس حالت میں بوسہ دیا کہ وہ فوت ہو چکے تھے، اور میں دیکھ رہی تھی کہ حضور ﷺ کے آنسو آپ ﷺ کے رخسار پر بہہ رہے تھے۔
③ حوالہ: سنن ابن ماجہ، کتاب الجنائز، باب ما جاء فی تقبیل المیت، حدیث نمبر 1456۔ نیز: مسند احمد (ج 6، ص 43)، مستدرک حاکم (ج 3، ص 209، حدیث 4848)، سنن ابوداؤد (ج 3، ص 201، حدیث 3163، دارالفکر بیروت)۔
تحقیقی جواب (الجواب 03)
❖ اس روایت کی سند میں عاصم بن عبیداللہ نامی راوی ہے جو سخت ضعیف اور منکر الحدیث ہے۔ اس پر محدثین کرام کی متعدد جروحات موجود ہیں:
① امام بخاری رحمہ اللہ:
"عاصم بن عبيد الله العمري المدني، منكر الحديث.”
ترجمہ: عاصم بن عبیداللہ عمری مدنی منکر الحدیث ہے۔
حوالہ: (التاريخ الكبير للبخاري، رقم: 3088)
② امام ابو زرعہ رازی رحمہ اللہ:
"منكر الحديث في الأصل، وهو مضطرب الحديث.”
ترجمہ: یہ اصلًا منکر الحدیث ہے اور اس کی حدیث مضطرب ہے۔
حوالہ: (الجرح والتعديل لابن أبي حاتم، رقم: 1917)
③ امام ابوحاتم رازی رحمہ اللہ:
"منكر الحديث مضطرب الحديث.”
ترجمہ: یہ راوی منکر الحدیث اور مضطرب الحدیث ہے۔
حوالہ: (الجرح والتعديل لابن أبي حاتم، رقم: 1917)
④ امام ابن حبان رحمہ اللہ:
"سييء الحفظ، كثير الوهم، فاحش الخطأ، فترك من أجل كثرة خطئه.”
ترجمہ: یہ راوی خراب حافظہ والا تھا، کثرت سے وہم کرتا اور سخت غلطیاں کرتا تھا، اسی وجہ سے اس کو ترک کردیا گیا۔
حوالہ: (المجروحين من المحدثين لابن حبان، رقم: 722)
❖ پس اس روایت کی بنیاد عاصم بن عبیداللہ پر ہے جو کہ ضعیف و متروک ہے۔ ایسی روایت سے نہ حکم شرعی ثابت ہوسکتا ہے اور نہ کوئی بدعتی عمل (جیسے میت یا قبر کو بوسہ دینا) ثابت کیا جاسکتا ہے۔
اصل اعتراض (بریلوی کی دلیل 04)
بریلوی مفتری نے اپنی پوسٹ میں یہ دلیل پیش کی ہے:
❖ العبارة (الشفا شریف):
"جس منبر پر حضور علیہ السلام خطبہ فرماتے تھے اس پر حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اپنے ہاتھ لگاکر اپنے چہرے پر رکھتے تھے (یعنی اسے چومتے تھے)”۔
اور اس پر وہ حوالہ دیتے ہیں:
**أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنُ أَبِي فُدَيْكٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ حَمْزَةَ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ القاري أنه أنظر إلى ابن عمر. وَضَعَ يَدَهُ عَلَى مَقْعَدِ النَّبِيِّ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – مِنَ الْمِنْبَرِ ثُمَّ وَضَعَهَا عَلَى وَجْهِهِ.”
حوالہ: (الطبقات الكبرى لابن سعد)
ترجمہ:
حضرت ابراہیم بن عبدالرحمن بن عبدالقاری رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے منبرِ مبارک کی نشست پر اپنا ہاتھ رکھتے اور پھر اسے اپنے چہرے پر مل لیتے۔
تحقیقی جواب (الجواب 04)
یہ روایت بھی سند کے اعتبار سے ضعیف ہے، کیونکہ اس میں دو راوی مجہول ہیں۔
❖ راوی اوّل: حَمْزَةَ بْنُ أَبِي جَعْفَر
❖ راوی دوم: إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ القاري
محدثین کے نزدیک یہ دونوں راوی مجہول الحال ہیں، اور مجہول راوی سے ثابت ہونے والی روایت قابلِ استدلال نہیں ہوتی۔
مزید برآں، اگر یہ فعل ثابت بھی ہو تو یہ محض حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کا انفرادی عمل ہے، جس پر نہ نبی کریم ﷺ کی تائید منقول ہے اور نہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی عمومی روش۔ بلکہ اس کے برعکس رسول اللہ ﷺ نے اپنی امت کو قبور پر جھکنے، چھونے یا بوسہ دینے سے منع فرمایا ہے، جیسا کہ پہلے ذکر ہوا۔
لہٰذا اس روایت سے قبور یا منبر کو تعظیمی طور پر چومنے کا جواز ثابت نہیں ہوتا بلکہ یہ دلیل خود بریلوی موقف کو کمزور کرتی ہے۔
اصل اعتراض (بریلوی کی دلیل 05)
بریلوی مفتری نے یہ بات لکھی:
❖ العبارة:
"امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ان سے کسی نے پوچھا کہ حضور علیہ السلام کے مزارِ اقدس یا منبر کو بوسہ دینا کیسا ہے؟ تو فرمایا کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔”
تحقیقی جواب (الجواب 05)
❖ یہ قول جو امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کی طرف منسوب کیا جاتا ہے، درحقیقت شاذ اور غیر معتبر روایت ہے جس کی مکمل تفصیل اس مضمون میں ملاحظہ کریں۔ اس کے بارے میں محققین و محدثین نے وضاحت کی ہے:
① یہ قول صرف امام احمد کے بیٹے عبداللہ سے منقول ہے، جبکہ امام احمد کے دوسرے بیٹے قاضی ابو الفضل صالح اور دو معتبر شاگرد امام احمد بن محمد ابو بکر الاثرم اور اسحاق المروزی نے اس کے برعکس قول نقل کیا ہے۔ یعنی امام احمد سے منبر یا قبر کو چومنے کی اجازت کا موقف ثابت نہیں بلکہ اس کی نفی ثابت ہے۔
② لہٰذا یہ روایت مرجوح اور غیر معتبر ہے۔ اس پر اعتماد کرنا، خصوصاً احناف و بریلوی حضرات کی طرف سے، ان ہی کے اصولِ جرح و تعدیل کے خلاف ہے کیونکہ وہ ایسے منفرد اقوال کو حجت نہیں مانتے۔
❖ مزید وضاحت کے لیے محققین اہل سنت نے واضح کیا ہے کہ:
اگر کوئی قول سنداً ضعیف یا شاذ ہو اور جمہور کے خلاف ہو تو وہ حجت نہیں ہوتا۔ خاص طور پر جب امام کے اپنے دیگر شاگرد یا اہلِ علم اس کے خلاف روایت کریں، تو منفرد نقل کردہ قول ہرگز قابلِ اعتماد نہیں رہتا۔
اسی وجہ سے امام احمد سے قبر یا منبر کے بوسے کا جواز ثابت نہیں ہوتا، اور بریلوی حضرات کا یہ استدلال سراسر باطل ہے۔
اصل اعتراض (بریلوی کی دلیل 06)
بریلوی مفتری نے اپنی پوسٹ میں یہ لکھا:
❖ العبارة (الشفا شریف):
"ابن ابی الصَّیف یمانی جو کہ مکہ کے علما شافعیہ میں سے ہیں، ان سے منقول ہے کہ قرآن کریم اور حدیث کے اوراق، اور بزرگانِ دین کی قبریں چومنا جائز ہے۔”
حوالہ: (الشفا شریف، جلد ۲، ص 70)
ترجمہ:
ابن ابی الصیف یمانی فرماتے ہیں کہ قرآنِ کریم اور حدیث کے اوراق کو چومنا اور صالحین کی قبروں کو بوسہ دینا جائز ہے۔
تحقیقی جواب (الجواب 06)
❖ یہ قول بالکل بے سند ہے اور صیغۂ تمریض (یعنی بغیر وضاحت کے کسی نامعلوم سے روایت کرنا) کے ساتھ منقول ہے۔
❖ علامہ سمهودی رحمہ اللہ نے بھی اس قول کو نقل کرنے کے بعد اس کا رد کیا ہے۔
① اصل عبارت:
وَنَقَلَ عَنْ ابْنِ أَبِي الصَّيْفِ اليَمَانِيِّ أَحَدِ عُلَمَاءِ مَكَّةَ مِنَ الشَّافِعِيَّةِ جَوَازَ تَقْبِيلِ الْمُصْحَفِ وَأَجْزَاءِ الْحَدِيثِ وَقُبُورِ الصَّالِحِينَ.
وَنَقَلَ الطَّيِّبُ النَّاشِرِيُّ عَنِ الْمُحِبِّ الطَّبَرِيِّ أَنَّهُ يَجُوزُ تَقْبِيلُ الْقَبْرِ وَمَسُّهُ.
② ترجمہ:
علامہ سمهودی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "ابن ابی الصیف یمانی جو مکہ کے علما شافعیہ میں سے ہیں، ان سے منقول ہے کہ قرآنِ کریم اور حدیث کے اوراق اور صالحین کی قبروں کو چومنا جائز ہے۔ اور طیب ناشری نے محب طبری سے نقل کیا ہے کہ وہ قبر کو چومنے اور ہاتھ لگانے کو جائز سمجھتے تھے۔”
③ حوالہ: (وفاء الوفاء بأخبار دار المصطفی للسمہودی)
مزید وضاحت
❖ سمهودی رحمہ اللہ نے ان اقوال کو نقل کر کے فوراً ان پر رد بھی کیا اور فرمایا کہ قبروں کو چومنا یا جھک کر تعظیم کرنا دراصل بدعت ہے اور یہ عمل یہود و نصاریٰ کی مشابہت ہے۔
② عربی نص:
قال ابن جماعة: قال بعض العلماء: إنه من البدع، ويظن من لا علم له أنه من شعار التعظيم، وأقبح منه تقبيل الأرض للقبر، ومن خطر بباله أن تقبيل الأرض أبلغ في البركة فهو من جهالته وغفلته؛ لأن البركة إنما هي فيما وافق الشرع وأقوال السلف وعملهم.
ترجمہ:
امام ابن جماعہ فرماتے ہیں: "کچھ علماء نے کہا ہے کہ قبر کے سامنے جھکنا بدعت ہے، اور جو شخص یہ سمجھے کہ یہ تعظیم کی علامت ہے تو یہ اس کی جہالت ہے۔ اس سے بھی برا یہ ہے کہ قبر کی زمین کو بوسہ دیا جائے۔ اور جس کے دل میں یہ گمان ہو کہ قبر کی مٹی کو چومنے میں برکت ہے تو یہ اس کی جہالت اور غفلت ہے، کیونکہ برکت صرف اسی میں ہے جو شریعت اور سلف کے قول و عمل کے مطابق ہو۔”
حوالہ: (وفاء الوفاء بأخبار دار المصطفی للسمہودی)
❖ اس سے صاف ظاہر ہے کہ خود علماء شوافع و احناف نے بھی ایسے افعال کو بدعت اور یہود و نصاریٰ کی مشابہت قرار دیا ہے۔ لہٰذا بریلوی کا استدلال نہ صرف ناقابلِ قبول ہے بلکہ اس کے اپنے ائمہ اس کے خلاف ہیں۔
اصل اعتراض (بریلوی کی دلیل 07)
بریلوی مفتری نے ایک اور عبارت ذکر کی ہے:
❖ العبارة (علامہ جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ):
"استنبط بعض العارفین من تقبيل الحجر الأسود تقبيل قبور الصالحین”
ترجمہ:
"بعض عارفین نے حجرِ اسود کو چومنے سے یہ استنباط کیا ہے کہ اولیاء و صالحین کی قبروں کو چومنا بھی جائز ہے۔”
بریلوی حضرات اس کو اپنی بدعت یعنی قبروں کو بوسہ دینے کے جواز پر دلیل بناتے ہیں۔
تحقیقی جواب (الجواب 07)
سب سے پہلے ہم اصل عبارت اور اس پر محققین کے کلام پیش کرتے ہیں:
① اصل عبارت:
وَذَكَرَ السُّيُوطِيّ فِي التوشيح على الجامع الصغير أَنَّهُ اسْتَنْبَطَ بَعْضُ الْعُلَمَاءِ الْعَارِفِينَ مِنْ تَقْبِيلِ الْحَجَرِ الْأَسْوَدِ تَقْبِيلَ قُبُورِ الصَّالِحِينَ. انتهى.
أقول: في الاستنباط المذكور مع صحة النهي عما يشعر بتعظيم القبور توقف ظاهر، ولو سلم فينبغي لمن يقتدي به أن لا يفعل نحو تقبيل قبور الأولياء في حضور الجهال الذين لا يميزون بين التعظيم والتبرك، والله أعلم.
② ترجمہ:
علامہ جلال الدین سیوطی نے التوشیح علی الجامع الصغیر میں ذکر کیا کہ بعض علماء و عارفین نے حجرِ اسود کو بوسہ دینے سے یہ استنباط کیا کہ صالحین کی قبروں کو بھی بوسہ دیا جاسکتا ہے۔
علامہ ابن حجر ہیتمی رحمہ اللہ اس پر فرماتے ہیں: "یہ استنباط صحیح نہیں، کیونکہ قبروں کی تعظیم کے بارے میں ممانعت وارد ہوئی ہے، اور اگر بالفرض کسی نے اسے درست بھی مان لیا تو بھی عوام الناس کے سامنے اولیاء کی قبروں کو بوسہ دینا درست نہیں، کیونکہ جاہل لوگ تعظیم اور تبرک کے درمیان فرق نہیں کر سکتے، اور یہ عمل بدعت ہے۔ اور اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔”
③ حوالہ: (تحفۃ المحتاج فی شرح المنہاج، لابن حجر الہیتمی)
مزید وضاحت
❖ یہاں بریلوی حضرات نے سیوطی رحمہ اللہ کے قول کو دلیل بنایا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ سیوطی نے خود قبروں کو چومنے کو ناجائز اور بدعت قرار دیا ہے۔
① عبارت علامہ سیوطی رحمہ اللہ:
وقال السيوطيُّ الشافعيُّ (ت: 911هـ):
"ومِنَ البِدَع أيضًا: أكل العوام التمر الصيحاني في الروضة الشريفة بين المنبر والقبر، وطوافُهم بالقبرِ الشريف، ولا يحلُّ ذلك، وكذلك إلصاقُهم بُطونَهم وظُهورَهم بجدارِ القَبر، وتقبيلُهم إيَّاه بالصُّندوق الذي عند رأسِ النبيِّ صلَّى اللهُ عليهِ وَسَلَّمَ، ومسْحُه باليد؛ وكل ذلك مَنهيٌّ عنه.”
ترجمہ:
امام سیوطی شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "یہ بھی بدعت ہے کہ عوام روضۂ اقدس میں منبر اور قبر کے درمیان کھجور کھاتے ہیں، یا قبرِ رسول ﷺ کا طواف کرتے ہیں، یہ جائز نہیں ہے۔ اسی طرح قبر کی دیواروں کو پیٹ یا پیٹھ لگا دینا، قبر یا صندوق کو جو رسول اللہ ﷺ کے سر مبارک کے پاس ہے چومنا اور ہاتھ سے مس کرنا—یہ سب امور ممنوع اور حرام ہیں۔”
حوالہ: (الأمر بالاتباع والنهي عن الابتداع، للسيوطي)
❖ گویا سیوطی رحمہ اللہ کے کلام کا درست فہم یہ ہے کہ انہوں نے قبروں کو چومنے کے عمل کو منع و مردود قرار دیا ہے۔ لہٰذا بریلوی حضرات کا استدلال نہ صرف کمزور بلکہ الٹا انہی کے خلاف حجت ہے۔
اصل اعتراض (بریلوی کی دلیل 08)
بریلوی مفتری نے ایک اور روایت ذکر کی ہے:
❖ عبارت (مسند احمد):
"داؤد بن ابی صالح کہتے ہیں: ایک دن مروان آیا، اس نے دیکھا کہ ایک شخص قبرِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اپنا چہرہ رکھے ہوئے ہے۔ مروان نے کہا: تم جانتے ہو کیا کر رہے ہو؟ وہ شخص مروان کی طرف متوجہ ہوئے تو وہ حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ تھے۔ انہوں نے فرمایا: ہاں! میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں، کسی پتھر کے پاس نہیں آیا۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: جب دین کے معاملات اہل لوگوں کے ہاتھ میں ہوں تو اس پر مت روؤ، ہاں جب امورِ دین نااہل لوگوں کے ہاتھ میں ہوں تو اس پر روؤ۔"
① عربی متن:
23585 – حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، قَالَ:
أَقْبَلَ مَرْوَانُ يَوْمًا فَوَجَدَ رَجُلًا وَاضِعًا وَجْهَهُ عَلَى الْقَبْرِ، فَقَالَ: أَتَدْرِي مَا تَصْنَعُ؟ فَأَقْبَلَ عَلَيْهِ فَإِذَا هُوَ أَبُو أَيُّوبَ، فَقَالَ: نَعَمْ، جِئْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ آتِ الْحَجَرَ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:
"لَا تَبْكُوا عَلَى الدِّينِ إِذَا وَلِيَهُ أَهْلُهُ، وَلَكِنْ ابْكُوا عَلَيْهِ إِذَا وَلِيَهُ غَيْرُ أَهْلِهِ”.
② ترجمہ:
داؤد بن ابی صالح بیان کرتے ہیں: "ایک دن مروان آیا، اس نے دیکھا کہ ایک شخص قبر پر اپنا چہرہ رکھے ہوئے ہے۔ مروان نے کہا: کیا تمہیں معلوم ہے تم کیا کر رہے ہو؟ وہ شخص مڑ کر اس کی طرف متوجہ ہوا تو وہ ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ تھے۔ انہوں نے فرمایا: ہاں! میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں، کسی پتھر کے پاس نہیں آیا۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: دین پر نہ روؤ جب تک وہ اہل لوگوں کے ہاتھ میں ہو، ہاں اس وقت روؤ جب دین نااہل لوگوں کے ہاتھ میں چلا جائے۔”
③ حوالہ: (مسند الإمام أحمد بن حنبل، حدیث نمبر 23585، جلد 5، ص 422)
تحقیقی جواب (الجواب 08)
❖ یہ روایت سخت ضعیف ہے، کیونکہ اس کی سند میں ایسے رواۃ موجود ہیں جن پر محدثین نے سخت جرح کی ہے:
① کثیر بن زید الاسلمی، ابو محمد مدنی
-
محدثین نے اس کو ضعیف قرار دیا ہے۔
"الرتبة: ضعیف، لا يحتج به.”
حوالہ: (الأباطيل والمناكير والضَّعفاء والمتروكون للجورقاني)
② داود بن ابی صالح
یہ راوی مجہول ہے۔ اس کے حالات و ثقاہت کے بارے میں کوئی معتبر تذکرہ نہیں۔ اس لیے اس سے مروی روایت ناقابلِ حجت ہے۔
③ امام البانی رحمہ اللہ نے اس روایت کو کمزور قرار دیا ہے:
"975 – … حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل … عَنْ أُمِّ أَبَانَ بِنْتِ الْوَازِعِ، … قَالَ الشیخ الألباني: ضعيف الإسناد.”
حوالہ: (سلسلة الأحاديث الضعيفة للألباني)
❖ معلوم ہوا کہ یہ روایت سنداً ضعیف اور مجہول راویوں پر مبنی ہے۔ لہٰذا اس سے قبور پر چہرہ رکھنے یا بوسہ دینے کا جواز لینا قطعاً درست نہیں۔
اصل اعتراض (بریلوی کی دلیل 09)
بریلوی مفتری نے ایک اور روایت ذکر کی ہے:
❖ العبارة (امام ذہبی رحمہ اللہ، سیر اعلام النبلاء):
"امام ذہبی رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ کی وہ مشہور روایت ذکر کی ہے جس میں آتا ہے کہ آپ قبرِ انور پر اپنا چہرہ ملنے لگے اور بوسہ دینے لگے۔”
حوالہ: (سیر أعلام النبلاء، جلد 1، ص 358)
تحقیقی جواب (الجواب 09)
یہ روایت موضوع اور ناقابلِ اعتبار ہے، کیونکہ اس کی سند میں ایسے رواۃ ہیں جو مجہول اور ضعیف ہیں۔
① اصل روایت:
إِبْرَاهِيْمُ بنُ مُحَمَّدِ بنِ سُلَيْمَانَ بنِ أَبِي الدَّرْدَاءِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي سُلَيْمَانَ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ:
لَمَّا دَخَلَ عُمَرُ الشَّامَ، سَأَلَ بِلاَلٌ أَنْ يُقِرَّهُ بِهِ، فَفَعَلَ. … فَمَا رُؤِيَ يَوْمٌ أَكْثَرَ بَاكِياً وَلَا بَاكِيَةً بِالمَدِينَةِ بَعْدَ رَسُولِ اللهِ -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- مِنْ ذَلِكَ اليَوْمِ.
حوالہ: (سیر أعلام النبلاء، للذہبی)
سندی تحقیق
❖ امام ذہبی رحمہ اللہ نے خود اس روایت پر کلام کرتے ہوئے لکھا:
"إِسْنَادُهُ لَيِّنٌ، وَهُوَ مُنْكَرٌ.”
ترجمہ: "اس کی سند ضعیف ہے اور یہ روایت منکر ہے۔”
حوالہ: (سیر أعلام النبلاء، ج 1، ص 358)
❖ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اس روایت کو موضوع (من گھڑت) قرار دیا ہے:
② عبارت:
"عن أم الدرداء عن أبي الدرداء في قصة رحيل بلال إلى الشام، وفي قصة مجيئه إلى المدينة وإذانه بها وارتجاج المدينة بالبكاء لأجل ذلك، وهي قصة بينة الوضع.”
ترجمہ:
"ام الدرداء سے ابو الدرداء کے واسطے روایت ہے کہ جب بلال شام گئے اور پھر مدینہ واپس آئے اور اذان دی تو پورا مدینہ گریہ و زاری میں ڈوب گیا۔ یہ روایت سراسر من گھڑت ہے۔”
حوالہ: (لسان الميزان لابن حجر، ج 2، ص 320)
اصل اعتراض (بریلوی کی دلیل 10)
بریلوی مفتری نے اپنی پوسٹ میں ایک اور دلیل ذکر کی ہے:
❖ العبارة (علامہ عبدالحکیم لکھنوی):
"وفی مطالب المومنین: ولا بأس بتقبیل قبر والدیہ کما فی کفایۃ الشعبی… ان رجلا جاء الی النبی صلی اللہ علیہ وسلم فقال: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انی حلفت ان اقبل عتبۃ باب الجنۃ، فامر النبی صلی اللہ علیہ وسلم ان یقبل رجل ووجہ الاب ویدہ، و روی انہ قال: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان لم یکن ابوان؟ فقال: قبل قبرہما، قال: فان لم اعرف قبرہما؟ قال: خط خطین، فانو أنّ احداہما قبر الام والآخر قبر الاب، فقبلہما فلا تحنث فی یمینک.”
حوالہ: (نور الایمان، مطبوعہ لکھنو، حاشیہ شرح الیاس، ج ۲، ص ۳۰۳، مطبوعہ قصہ خوانی پشاور)
ترجمہ:
"امام عبدالحکیم لکھنوی لکھتے ہیں: مطالب المومنین میں ہے کہ ماں باپ کی قبروں کو بوسہ دینے میں کوئی حرج نہیں، جیسا کہ کفایۃ الشعبی میں مذکور ہے کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میں نے یہ قسم کھائی تھی کہ جنت کے دروازے کی چوکھٹ کو بوسہ دوں گا۔ حضور ﷺ نے فرمایا: اپنے باپ کے قدم اور ماں کے چہرے کو بوسہ دے۔ اس نے عرض کیا کہ اگر میرے والدین فوت ہوچکے ہوں؟ تو فرمایا: ان کی قبروں کو بوسہ دے۔ اور اگر قبریں نہ معلوم ہوں تو دو لکیریں کھینچ لے، ایک ماں کی نیت سے اور دوسری باپ کی نیت سے، پھر ان کو بوسہ دے، تیری قسم پوری ہوجائے گی۔”
تحقیقی جواب (الجواب 10)
❖ یہ روایت بالکل من گھڑت ہے، اس کی کوئی معتبر سند دنیا کی کسی بھی مستند حدیث یا فقہی کتاب میں موجود نہیں۔
❖ بریلوی حضرات نے اس روایت کو کبھی مطالب المومنین کی طرف منسوب کیا، کبھی کفایۃ الشعبی کی طرف، اور کبھی ایک غیر معروف رافضی کی کتاب کشف الارتیاب کی طرف۔ لیکن تحقیقی طور پر جب "کفایۃ الشعبی” کے موجودہ مخطوطات کی تحقیق کی گئی تو اس روایت کا کوئی وجود وہاں نہیں ملا۔
❖ پھر یہ بھی حقیقت ہے کہ کفایۃ الشعبی کے مصنف ابو جعفر محمود بن عمر الشعبی حنفی کو غیر معتبر قرار دیا گیا ہے، جیسا کہ محققینِ احناف ہی نے لکھا ہے۔
① حوالہ:
علامہ عبدالعزیز محدث دہلوی اور مولانا عبدالحی لکھنوی دونوں نے صراحت کی ہے کہ کفایۃ الشعبی کی کتاب معتبر نہیں۔ (حوالہ: اسکین موجود ہے)
❖ اس سے صاف ظاہر ہے کہ بریلوی مفتری کی یہ دلیل بغیر سند اور باطل ماخذ پر مبنی ہے۔ ایسی روایت کو پیش کرنا اور اس سے دین میں بدعت ثابت کرنا جھوٹ اور فریب کے سوا کچھ نہیں۔
اصل اعتراض (بریلوی کی دلیل 11)
بریلوی مفتری نے کہا:
❖ عبارت (عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری، علامہ بدر الدین عینی):
"محب طبری نے کہا کہ حجرِ اسود اور دیگر ارکان کو بوسہ دینے سے ہر اس چیز کو بوسہ دینے کا جواز ثابت ہوتا ہے جس کو بوسہ دینے میں اللہ تعالیٰ کی تعظیم ہو۔ اور میرے جد محمد بن ابی بکر محمد بن ابی صیف نے روایت کی ہے کہ بعض حضرات مصحف کو دیکھتے تو بوسہ دیتے، احادیث کے اوراق کو دیکھتے تو بوسہ دیتے، اور صالحین کی قبروں کو دیکھتے تو بوسہ دیتے، اور یہ بعید نہیں ہے۔”
حوالہ: (عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری، ج 9، ص 241)
تحقیقی جواب (الجواب 11)
❖ یہ استدلال قابلِ حجت نہیں، کیونکہ یہ مجرد اقوال اور غیر معروف افراد کے افعال ہیں۔ نہ یہ قرآن و سنت سے ثابت ہیں، نہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے۔
❖ مزید یہ کہ خود علامہ بدر الدین عینی حنفی نے واضح الفاظ میں لکھا ہے کہ زمین کو بوسہ دینا بت پرستی کے مشابہ عمل ہے:
① عبارت:
"وأما تقبيل الأرض بين يدي العلماء وغيرهم، قالوا: إنه حرام لا إشكال فيه، والفاعل والراضي به آثم؛ لأنه يشبه عبادة الوثن.”
ترجمہ:
"جہاں تک علما یا کسی اور کے سامنے زمین بوس کرنے کا تعلق ہے تو کہا گیا ہے کہ یہ حرام ہے اور اس میں کوئی شک نہیں، اور جو یہ عمل کرے یا اس پر راضی ہو وہ گناہگار ہے، کیونکہ یہ بت پرستی کے مشابہ عمل ہے۔”
حوالہ: (البناية شرح الهداية، للعینی)
❖ پس جب زمین بوس کرنا بت پرستی کے مشابہ ہے تو قبر کو بوسہ دینا بدرجہ اولیٰ ناجائز اور بدعت ہے۔
اصل اعتراض (بریلوی کی دلیل 12)
بریلوی مفتری نے کہا:
❖ حدیث:
"عن عمر رضی اللہ عنه أنه جاء إلى الحجر الأسود فقبله وقال: إني أعلم أنك حجر لا تضر ولا تنفع، ولولا أني رأيت النبي صلى الله عليه وسلم يقبلك ما قبلتك.”
حوالہ: (صحیح بخاری، حدیث نمبر 1520)
ترجمہ:
حضرت عمر رضی اللہ عنہ حجرِ اسود کے پاس آئے، اس کو بوسہ دیا اور فرمایا: "میں جانتا ہوں کہ تو پتھر ہے، نہ نفع دیتا ہے نہ نقصان۔ اگر میں نے نبی ﷺ کو تجھے بوسہ دیتے نہ دیکھا ہوتا تو میں بھی تجھے نہ چومتا۔”
بریلوی مفتری نے اس سے یہ استدلال کیا کہ "چونکہ حجرِ اسود کو بوسہ دیا گیا، لہٰذا قبروں کو بھی بوسہ دیا جا سکتا ہے۔”
تحقیقی جواب (الجواب 12)
❖ یہ استدلال بالکل غلط ہے، کیونکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے خود اس حدیث میں وضاحت کردی کہ یہ بوسہ صرف اتباعِ رسول ﷺ کی وجہ سے ہے، حجرِ اسود کی اپنی کوئی تاثیر یا برکت نہیں۔
❖ مزید برآں، فقہائے احناف اور مفسرین نے اس روایت کی روشنی میں تصریح کی ہے کہ قبروں کو چھونا یا بوسہ دینا ناجائز ہے۔
① عبارت (طحطاوی حنفی):
"ولا يمس القبر ولا يقبله فإنه من عادة أهل الكتاب، ولم يعهد الاستلام إلا للحجر الأسود والركن اليماني خاصة.”
ترجمہ:
"قبر کو نہ چھوا جائے اور نہ چوما جائے، کیونکہ یہ اہلِ کتاب کی عادت ہے۔ اور استلام (چھونا اور بوسہ دینا) صرف حجرِ اسود اور رکنِ یمانی کے ساتھ خاص ہے۔”
حوالہ: (حاشیة الطحطاوي على مراقي الفلاح)
② عبارت (عینی حنفی):
"قال الفقهاء الخراسانيون: لا يمسح القبر، ولا يقبله، فإن كل ذلك من عادة النصارى، قال: وما ذكروه صحيح.”
ترجمہ:
"فقہائے خراسان نے فرمایا ہے کہ قبر کو نہ چھوا جائے اور نہ چوما جائے، کیونکہ یہ نصاریٰ کی عادت ہے، اور یہ بات صحیح ہے۔”
حوالہ: (البناية شرح الهداية)
❖ پس حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا حجرِ اسود کو بوسہ دینا قبروں کے بوسے کی دلیل نہیں بلکہ اس کے خلاف ہے۔
اصل اعتراض (بریلوی کی دلیل 13)
بریلوی مفتری نے کہا:
❖ "حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ امام حسن رضی اللہ عنہ کی ناف کو بوسہ دیتے تھے۔”
اصل روایت:
وقد سأل أبو هريرة الحسنَ رضي الله تعالى عنه أن يكشف له المكانَ الذي قبَّله رسولُ الله صلى الله عليه وآله وسلم وهو سرته، فقبله تبركًا بآثاره وذريته صلى الله عليه وآله وسلم.
ترجمہ:
"حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ وہ اپنا وہ حصہ ظاہر کریں جسے رسول اللہ ﷺ نے بوسہ دیا تھا، یعنی ناف۔ پھر انہوں نے اسے بوسہ دیا تاکہ رسول اللہ ﷺ اور آپ کی اولاد کے آثار سے برکت حاصل کریں۔”
تحقیقی جواب (الجواب 13)
یہ روایت سخت ضعیف ہے۔ اس کی سند میں راوی عمیر بن اسحاق ہے، جو مجہول الحال ہے۔
محدثین کی جرح:
① ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ: "مقبول” (یعنی صرف متابعت میں معتبر، تنہا حجت نہیں)۔
② ابن معین رحمہ اللہ: "لا يساوي شيئا” (کچھ بھی حیثیت نہیں رکھتا)۔
③ ابو الفرج ابن جوزی رحمہ اللہ: "ضعیف”۔
④ عقیلی رحمہ اللہ: "حديث لا يتابع عليه” (ایسا حدیث بیان کرتا ہے جس پر کوئی متابع نہیں)۔
⑤ خطيب بغدادی رحمہ اللہ: "مجهول عند أصحاب الحديث” (محدثین کے نزدیک مجہول ہے)۔
حوالہ: (الكفاية في علم الرواية، للخطيب البغدادي)
❖ چونکہ یہ راوی صرف ابن عون سے روایت کرتا ہے، اس لیے اس کی جہالت رفع نہیں ہوئی۔ نتیجتاً یہ روایت ناقابلِ احتجاج ہے۔
اصل اعتراض (بریلوی کی دلیل 14)
بریلوی مفتری نے کہا:
❖ "امام ثابت بنانی رحمہ اللہ جب تک حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا ہاتھ بوسہ نہ لیتے، ہاتھ نہ چھوڑتے اور کہا کرتے: یہ وہ ہاتھ ہے جس نے رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ کو چھوا ہے۔”
اصل روایت:
1492 – … قَالَتْ جَمِيلَةُ مَوْلَاةُ أَنَسٍ: كَانَ ثَابِتٌ إِذَا جَاءَ، قَالَ أَنَسٌ: يَا جَمِيلَةُ نَاوِلِينِي طِيبًا أُمِسُّ بِهِ يَدِي، فَإِنَّ ابْنَ أُمِّ ثَابِتٍ لَا يَرْضَى حَتَّى يُقَبِّلَ يَدِي، وَيَقُولُ: قَدْ مَسَسْتَ يَدَ رَسُولِ اللهِ ﷺ.
حوالہ: (شعب الإيمان، للبیہقی)
ترجمہ:
"جمیلہ (کنیزِ انس) بیان کرتی ہیں کہ جب بھی ثابت آتے تو حضرت انس رضی اللہ عنہ خوشبو لگواتے، اور ثابت ان کا ہاتھ چومتے اور کہتے: یہ وہ ہاتھ ہے جس نے رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ کو چھوا ہے۔”
تحقیقی جواب (الجواب 14)
یہ روایت بھی ضعیف ہے۔
وجوہِ ضعف:
① اس میں راوی عبداللہ بن المثنیٰ الانصاری ہے، جس کے بارے میں ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
"صدوق كثير الغلط”
ترجمہ: "یہ صدوق ہے مگر بہت غلطیاں کرتا ہے۔”
حوالہ: (تقريب التهذيب)
② دوسرا راوی جمیلہ مولاتہ انس ہے، جو مجہول ہے۔
نور الدین ہیثمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
"جميلة هذه لم أر من ترجمها.”
ترجمہ: "یہ جمیلہ نامی خاتون میرے علم میں غیر معروف ہے، کسی محدث نے اس کا ترجمہ ذکر نہیں کیا۔”
حوالہ: (مجمع الزوائد، رقم: 546)
❖ اس لیے یہ روایت سنداً ضعیف ہے اور اس سے کسی شرعی مسئلے کا اثبات ممکن نہیں۔
اصل اعتراض (بریلوی کی دلیل 15)
بریلوی مفتری نے کہا:
❖ "حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ہم ایک غزوہ میں تھے… پھر ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور آپ کے ہاتھوں کو بوسہ دیا۔”
اصل روایت:
972 – حَدَّثَنَا مُوسَى قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ:
كُنَّا فِي غَزْوَةٍ فَحَاصَ النَّاسُ… فَقَبَّلْنَا يَدَهُ ﷺ.
حوالہ: (الأدب المفرد للبخاري، رقم 972)
ترجمہ:
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: "ہم ایک غزوہ میں تھے، لوگ پیچھے ہٹ گئے۔ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور آپ کے ہاتھوں کو بوسہ دیا۔”
تحقیقی جواب (الجواب 15)
❖ اس روایت کی سند میں راوی يزيد بن أبي زياد ہے، جو سخت ضعیف ہے۔
جرح محدثین:
① امام احمد: "ضعيف الحديث.”
② امام نسائی: "ليس بالقوي.”
③ امام ابن معین: "لا يحتج به.”
④ امام ابن حبان: "كان رديء الحفظ، يقلب الأسانيد.”
⑤ امام ذہبی: "ضعيف، شيعي.”
حوالہ: (ميزان الاعتدال للذهبي، تذكرة الحفاظ)
❖ اس لیے یہ روایت سنداً ضعیف ہے اور اس سے شرعی حکم ثابت نہیں ہوتا۔
اصل اعتراض (بریلوی کی دلیل 16)
بریلوی مفتری نے کہا:
❖ "عبدالرحمن بن رزین کہتے ہیں کہ ہم حضرت سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، انہوں نے اپنے ہاتھ نکالے اور کہا: ان ہاتھوں سے میں نے رسول اللہ ﷺ کی بیعت کی تھی۔ پھر ہم نے ان کے ہاتھوں کو بوسہ دیا۔”
اصل روایت:
973 – حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ قَالَ: حَدَّثَنَا عَطَّافُ بْنُ خَالِدٍ قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ رَزِينٍ قَالَ:
مَرَرْنَا بِالرَّبَذَةِ… فَأَخْرَجَ يَدَيْهِ فَقَالَ: بَايَعْتُ بِهَاتَيْنِ نَبِيَّ اللهِ ﷺ… فَقَبَّلْنَاهَا.
حوالہ: (الأدب المفرد للبخاري، رقم 973)
ترجمہ:
"عبدالرحمن بن رزین کہتے ہیں: ہم ربذہ میں حضرت سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، انہوں نے اپنے ہاتھ دکھائے اور کہا کہ انہی ہاتھوں سے میں نے نبی کریم ﷺ سے بیعت کی تھی۔ تو ہم نے ان کے ہاتھوں کو بوسہ دیا۔”
تحقیقی جواب (الجواب 16)
❖ اس روایت کی سند بھی ضعیف ہے، کیونکہ اس میں راوی عبدالرحمن بن رزین مجہول ہے۔
جرح محدثین:
① ابن قطان فاسی: "لا تعرف حاله، فهو مجهول.”
② جورقانی: "هذا حديث منكر، ومداره على عبد الرحمن بن رزين… وهم مجهولون.”
③ امام دارقطنی: "عبد الرحمن بن رزين مجهول.”
④ بدر الدین عینی: "وثلاثتهم مجهولون.”
حوالہ: (بیان الوهم والإيهام، الأباطيل والمناكير، شرح سنن أبي داود للعيني)
❖ اس لیے یہ روایت بھی ناقابلِ احتجاج ہے۔
اصل اعتراض (بریلوی کی دلیل 17)
بریلوی مفتری نے کہا:
❖ "حضرت وازع بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے، ہمیں بتایا گیا کہ یہ رسول اللہ ﷺ ہیں، تو ہم آپ کے ہاتھ اور پاؤں پکڑنے لگے اور انہیں بوسہ دینے لگے۔”
اصل روایت:
975 – حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَطَرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْنَقُ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي امْرَأَةٌ مِنْ صُبَاحِ عَبْدِ الْقَيْسِ، يُقَالُ لَهَا: أُمُّ أَبَانَ بِنْتُ الْوَازِعِ، عَنْ جَدِّهَا، أَنَّ جَدَّهَا الْوَازِعَ بْنَ عَامِرٍ قَالَ:
"قَدِمْنَا فَقِيلَ: ذَاكَ رَسُولُ اللهِ ﷺ، فَأَخَذْنَا بِيَدَيْهِ وَرِجْلَيْهِ نُقَبِّلُهَا.”
حوالہ: (الأدب المفرد للبخاري، رقم 975)
ترجمہ:
حضرت وازع بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: "ہم حاضر ہوئے، لوگوں نے کہا یہ رسول اللہ ﷺ ہیں۔ تو ہم نے آپ کے ہاتھ اور پاؤں پکڑے اور ان کو بوسہ دیا۔”
تحقیقی جواب (الجواب 17)
❖ یہ روایت بھی ضعیف ہے۔
وجہِ ضعف:
اس روایت میں راویہ ام أبان بنت الوازع ہے جو کہ مجہولہ ہے۔
جرح محدثین:
-
علامہ البانی رحمہ اللہ نے فرمایا: "ضعيف الإسناد.”
-
دیگر محدثین نے بھی اس راویہ کو غیر معروف کہا ہے۔
❖ لہٰذا یہ روایت حجت نہیں اور اس سے قبور یا ہاتھ پاؤں چومنے کا جواز لینا قطعاً باطل ہے۔
اصل اعتراض (بریلوی کی دلیل 18)
بریلوی مفتری نے کہا:
❖ "حضرت صہیب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے ہاتھ اور پاؤں چومتے دیکھا۔”
اصل روایت:
976 – حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُبَارَكِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ حَبِيبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرٌو، عَنْ ذَكْوَانَ، عَنْ صُهَيْبٍ، قَالَ:
"رَأَيْتُ عَلِيًّا يُقَبِّلُ يَدَ الْعَبَّاسِ وَرِجْلَيْهِ.”
حوالہ: (الأدب المفرد للبخاري، رقم 976)
ترجمہ:
حضرت صہیب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: "میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے ہاتھ اور پاؤں چوم رہے تھے۔”
تحقیقی جواب (الجواب 18)
❖ یہ روایت بھی سنداً ضعیف ہے۔
وجوہِ ضعف:
① اس روایت میں راوی صہیب ہے، جو کہ حضرت عباس کا غلام تھا، لیکن محدثین نے لکھا ہے کہ وہ مجہول ہے۔
② امام البانی رحمہ اللہ نے اس روایت پر حکم لگایا: "ضعيف الإسناد موقوف.”
③ محقق شعیب ارناؤوط رحمہ اللہ نے کہا: "رجالُه ثقات خلا صهيب هذا فإنه لا يُعرف.”
❖ پس اس روایت کی بنیاد ایک مجہول راوی پر ہے، اور ایسی روایت حجت نہیں بن سکتی۔
اصل اعتراض (بریلوی کی دلیل 19)
بریلوی مفتری نے کہا:
❖ "یہی امام مسلم کا عقیدہ ہے کہ انہوں نے امام بخاری کے قدم چومنے کی اجازت مانگی۔”
اصل روایت:
أخبرنا أبو القاسم زاهر بن طاهر، أنبأنا أبو عثمان سعيد بن أحمد بن محمد البحيري، قراءة عليه وأنا حاضر، أنبأنا أبو نصر أحمد بن الحسن بن أحمد بن حموية الوراق، حدثنا أبو حامد أحمد بن حمدون بن رستم، قال:
"سمعت مسلم بن الحجاج جاء إلى محمد بن إسماعيل البخاري فقبل بين عينيه، وقال: دعني حتى أقبل رجليك، يا أستاذ الأستاذين، وسيد المحدثين، وطبيب الحديث في علله.”
حوالہ: (تاريخ دمشق لابن عساكر)
ترجمہ:
"امام مسلم رحمہ اللہ امام بخاری رحمہ اللہ کے پاس آئے اور ان کی آنکھوں کے درمیان بوسہ دیا اور کہا: مجھے اجازت دیں کہ میں آپ کے قدم بھی چوم لوں، اے استاذ الاساتذہ، اے محدّثین کے سردار، اے حدیث کے امراض کے طبیب۔”
تحقیقی جواب (الجواب 19)
❖ یہ روایت سنداً قابلِ اعتبار نہیں، کیونکہ اس کی سند میں راوی أبو نصر أحمد بن الحسن بن حموية الوراق مجہول الحال ہے۔
اقوال محدثین:
① حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے اس کے بارے میں صرف "شیخ” کہا ہے، جو کہ تعدیل کی نچلی ترین درجہ بندی ہے، یعنی صرف متابعت و شواہد میں ذکر کیا جا سکتا ہے۔
حوالہ: (سیر أعلام النبلاء)
② امام ابن ابی حاتم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
"وإذا قيل شيخ فهو بالمنزلة الثالثة، يكتب حديثه وينظر فيه، إلا أنه دون الثانية.”
ترجمہ:
"جب کسی راوی کے بارے میں صرف شیخ کہا جائے تو یہ تعدیل کا تیسرا درجہ ہے۔ اس کی حدیث لکھی تو جائے گی مگر اس سے احتجاج نہیں کیا جاتا۔”
حوالہ: (الجرح والتعديل لابن أبي حاتم)
❖ لہٰذا یہ واقعہ ثابت نہیں، اور اس سے کوئی شرعی حکم یا جواز لینا محال ہے۔
اصل اعتراض (بریلوی کی دلیل 20)
بریلوی مفتری نے کہا:
❖ "امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: برکت کی نیت سے مقاماتِ مقدسہ کو بوسہ دینا اور صالحین کے ہاتھ پاؤں کو چومنا جائز ہے۔”
اصل حوالہ:
عینی حنفی نے یہ قول نقل کیا:
"وَقَالَ شَيْخُنَا زَيْنُ الدِّينِ: وَأَمَّا تَقْبِيلُ الْأَمَاكِنِ الشَّرِيفَةِ عَلَى قَصْدِ التَّبَرُّكِ، وَكَذَلِكَ تَقْبِيلُ أَيْدِي الصَّالِحِينَ وَأَرْجُلِهِمْ، فَهُوَ حَسَنٌ مَحْمُودٌ بِاعْتِبَارِ الْقَصْدِ وَالنِّيَّةِ.”
حوالہ: (عمدة القاري شرح صحيح البخاري)
تحقیقی جواب (الجواب 20)
❖ درحقیقت یہ قول امام شافعی رحمہ اللہ کا نہیں بلکہ امام زین الدین عراقی رحمہ اللہ (م 804ھ) کا ہے، اور اس کو عینی حنفی نے نقل کیا ہے۔
❖ مزید یہ کہ حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ (شاگردِ زین الدین عراقی) نے اپنے استاد کے اس قول کی نفی کرتے ہوئے فرمایا:
عبارت:
"قال شيخنا – يعني زين الدين العراقي – في شرح الترمذي: فيه كراهة تقبيل ما لم يرد الشرع بتقبيله.”
ترجمہ:
"ہمارے شیخ زین الدین عراقی نے شرح الترمذی میں فرمایا: جس چیز کے چومنے کا شریعت میں حکم وارد نہیں، اسے چومنا مکروہ ہے۔”
حوالہ: (فتح الباري لابن حجر، 3/463)
❖ پس یہ دعویٰ کہ امام شافعی رحمہ اللہ نے قبروں یا ہاتھ پاؤں کے بوسے کو جائز کہا، سراسر باطل نسبت ہے۔
خلاصہ و نتیجہ
❖ بریلوی مفتری نے کل 20 دلائل ذکر کیے، مگر تحقیق سے واضح ہوا کہ:
-
اکثر روایات میں یا تو مجہول راوی ہیں، یا وہ منکر و موضوع ہیں۔
-
بعض اقوال محض ضعیف آثار یا غیر معتبر علما کے اقوال ہیں۔
-
کئی جگہ بریلوی حضرات نے ائمہ کی طرف غلط نسبتیں کی ہیں۔
❖ نتیجہ یہ ہے کہ قبروں، ہاتھ پاؤں یا مقاماتِ مقدسہ کو بوسہ دینا شریعت میں ثابت نہیں، بلکہ یہ بدعت ہے اور یہود و نصاریٰ کی مشابہت ہے۔
اہم حوالوں کے سکین








































