سوال:
جو زیور شوہر کی طرف سے بیوی کو ملتا ہے، کیا بیوی اس کی مالک ہوتی ہے یا نہیں؟ اور کیا طلاق یا خلع کی صورت میں وہ واپس دینے کی پابند ہوگی یا نہیں؟
جواب :
شادی کے موقع پر لڑکے والے زیورات، کپڑوں وغیرہ کی صورت میں کچھ سامان لڑکی کو دیتے ہیں، اسے عرف میں ”بری“ کہتے ہیں ۔ طلاق یا خلع کی صورت میں اگر شوہر ان کی واپسی کا مطالبہ کرتا ہے، تو دیکھا جائے گا کہ اگر نکاح کے وقت ایسی کوئی شرط عائد کی گئی تھی کہ طلاق یا خلع کی صورت میں عورت ان کو واپس کرنے کی پابند ہوگی تو شوہر واپسی کا مطالبہ کر سکتا ہے اور لڑکی پر اس شرط کے مطابق ”بری“ کو واپس کرنا ضروری ہے۔ اگر ایسی کوئی شرط عائد نہیں کی گئی ، تو یہ ”بری“ شوہر کی طرف سے ہبہ اور تحفہ ہے۔ اور باپ کے علاوہ کوئی شخص ہبہ شدہ چیز کی واپسی کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔ لہذا عورت اس ”بری“ کی مالکہ ہے، شوہر اس سے واپس لینے کا مجاز نہیں۔
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اور سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”کسی کے لیے جائز نہیں کہ وہ کسی کو تحفہ دے کر اس سے واپس لے لے، بجز والد کے، جو وہ اپنے بیٹے کو دیتا ہے۔ جو تحفہ دے کر واپس لیتا ہے، اس کی مثال کتے جیسی ہے، جو کھاتا ہے، جب سیر ہو جاتا ہے، تو قے کرتا ہے، پھر اسے چاٹ لیتا ہے۔“
(مسند الإمام أحمد : 27/78 ، سنن أبي داود : 3539، سنن النسائي : 3720، سنن الترمذي : 2132، سنن ابن ماجه : 2377 ، وسنده صحيح)
اسے امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن صحیح ، امام ابن الجارود رحمہ اللہ (994) نے صحیح، امام حاکم رحمہ اللہ (46/2) نے صحیح الاسناد اور حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے صحیح کہا ہے۔