مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

بدعت کی شرعی حیثیت اور بریلوی دلائل

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ابو حذیفہ محمد جاوید سلفی کی کتاب آئینہ توحید و سنت بجواب شرک کیا ہے مع بدعت کی حقیقت سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

بدعت کیا ہے؟

لغت میں بدعت دو معنوں کے لیے مستعمل ہے۔
➊ وہ نئی چیز جو سابقہ کسی مثال کے بغیر بنائی گئی ہو چنانچہ اسی معنی میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد بھی ہے۔
قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ (سورۃ الاحقاف :9)
کہہ دیجئے کہ میں کوئی نیا پیغمبر نہیں ہوں۔
یعنی میں کوئی پہلا رسول نہیں بلکہ مجھ سے پہلے بہت سے رسول علیہم السلام بھیجے جاچکے ہیں اور ایک وقت کے بعد مجھے بھی مبعوث کیا گیا ہے اور قرآن مجید کے دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا :
بَدِيعُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ (سورۃ البقرۃ : 117)
یعنی آسمانوں اور زمین کو ایک نئے انداز سے پیدا فرمانے والا۔
کیونکہ اس نے آسمان وزمین کو اس انداز سے بنایا کہ جس کی کوئی سابقہ مثال نہ تھی۔
➋ بدعت کا دوسرا معنی تھکنے اور عاجز ہو جانے کے ہیں چنانچہ اونٹ جب بیماری یا کمزوری یا تھکن کے سبب راستے میں بیٹھ جائے تو اس وقت کہا جاتا ہے۔ ابدعت الابل یعنی اونٹ تھک کر بیٹھ گیا وغیرہ۔ (لسان العرب لابن منظور : 7/8)

بدعت کا شرعی مفہوم :۔

بدعت کا شرعی مفہوم کے تعین کے سلسلہ میں علماء کا قدرے اختلاف ہے چنانچہ بعض تو بدعت کو سنت کا مقابل قرار دیتے ہیں جب کہ بعض دیگر علماء کا خیال ہے کہ ہر وہ چیز جو عہد رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ایجاد کی گئی ہو بدعت ہے خواہ وہ اچھی چیز ہو یا بری۔
بدعت کی جامع تعریف جو امام شاطبی نے نقل کی ہے۔ یعنی بدعت دین میں نکالے گئے اس طریقے کو کہتے ہیں جو شریعت کی شکل میں ہو اور اس سے اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل کرنا مقصود ہو مگر اس طریقے کی صحت کے سلسلے میں کیفیت یا اصل کے اعتبار سے کوئی صحیح اور شرعی دلیل موجود نہ ہو۔ (الاعتصام للشاطبي : 731)

بدعت کی تعریف زبان نبوت سے :۔

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب خطبہ دیتے تو سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کے شایان شان اس کی حمد و ثناء کرتے اس کے بعد فرماتے :
من يهده الله فلا مضل له ومن يضلل فلا هادي له وخير الحديث كتاب الله وخير الهدى هدى محمد وشر الأمور محدثاتها وكل بدعة ضلالة(سنن ابن ماجه مقدمه باب اجتناب البدع والجدل حدیث : 45)
اللہ جسے ہدایت دے اسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں اور جسے گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں سب سے بہتر حدیث اللہ کی کتاب اور سب سے بہتر راستہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا راستہ ہے اور سب سے بدترین کام وہ ہے جو دین کے اندر ایجاد کیا گیا ہو اور ہر نو ایجاد کام بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔
دوسری حدیث مبارکہ میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ جمعہ میں یہ الفاظ ارشاد فرماتے :
أن خير الحديث كتاب الله وخير الهدى هدى محمد وشر الأمور محدثاتها وكل بدعة ضلالة(صحیح مسلم شريف كتاب الجمعة ج 2 ص 221 مع شرح نووی)
بہترین کلام اللہ کی کتاب قرآن ہے اور راستوں میں بہترین راستہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے اور بدترین کام وہ ہیں جو نئے نکالے جائیں اور ہر بدعت گمراہی ہے۔
اس حدیث مبارکہ پر غور فرمائیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سیرت وسنت، اور اپنے راستے کا بدعت سے تقابل کر کے یہ بات سمجھائی ہے کہ میری سنت اور میرے لائے ہوئے دین کے خلاف جو کچھ ایجاد ہوگا وہ بدعت ہوگا اور ہر بدعت گمراہی ہے اور گمراہی باعث دخول نار ہے۔
جیسا کہ ایک اور مقام پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
من أحدث فى أمرنا هذا ما ليس منه فهو رد(صحیح بخاری کتاب الصلح باب اذا اصلحوا علی صلح جور فهو مردود حديث : 3697)
یعنی جس شخص نے ہمارے امر دین میں کوئی ایسی چیز ایجاد کی جو دین میں نہ تھی تو وہ چیز رد کر دی جائے گی۔
ایک حدیث میں فرمایا :
من عمل عملا ليس عليه أمرنا فهو رد(صحیح مسلم شريف كتاب الاقضية باب نقض الاحكام الباطلة ورد محدثات الامور حدیث : 1718)
جس نے کوئی ایسا عمل کیا جس کا ہم نے حکم نہ دیا ہوتو وہ عمل غیر مقبول مردود ہے۔
ایک حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :
وإياكم ومحدثات الأمور فإن كل محدثة بدعة وكل بدعة ضلالة(ترمذی، سنن ابی داود : 4607 ، سنن الترمذى : 2675)
نئی نئی بدعات سے اپنے آپ کو بچائے رکھنا بلاشبہ ہر نئی بات بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
من أحدث فى أمرنا هذا ما ليس فيه فهو رد(شرح النسبه للبغوى حديث : 103)
جس نے ہمارے دین میں ایسی بات نکالی جو اس میں موجود نہیں وہ مردود ہے۔
حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے :
عن جابر بن عبد الله ، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم أما بعد فإن خير الحديث كتاب الله وخير الهدى هدى محمد وشر الأمور محدثاتها وكل بدعة ضلالة(صحیح مسلم شریف باب تخفيف الصلاة والخطبة حديث : 867)
جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حمد وثنا کے بعد بہترین بات اللہ کی کتاب ہے بہترین راستہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا راستہ ہے اور بدترین کام دین میں نئی بات ایجاد کرنا ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔
سنن نسائی کے الفاظ یہ ہیں حدیث کا آخری حصہ نقل کر دیتا ہوں :
كل محدثة بدعة وكل بدعة ضلالة وكل ضلالة فى النار(سنن نسائی کتاب صلاة العيدين باب كيف الخطبة حديث : 154)
ہر نیا کام بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے جس کا انجام جہنم ہے۔
ابن ماجہ میں حدیث مبارکہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
عن العرباض بن سارية قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم فإياكم والأمور المحدثات فإن كل بدعة ضلالة(سنن ابن ماجه مقدمه حدیث : 42)
حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دین میں نئی چیزوں سے بچو اس لیے کہ ہر نئی بات گمراہی ہے۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنھم بدعتی کے سلام کا جواب دینا بھی پسند نہیں کرتے تھے :
حضرت نافع رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور کہنے لگا فلاں آدمی آپ کو سلام کہتا ہے سیدنا عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ اس آدمی نے بدعت ایجاد کی ہے لہذا اگر اس نے واقعی بدعت ایجاد کی ہے تو میری طرف سے اسے سلام نہ کہنا۔(جامع ترمذی ابواب القدر باب ماجاء في الرض بالقض حديث : 1748)
بدعت جاری کرنے پر اللہ کی لعنت ہے :
عن عاصم قال قلت لأنس أحرم رسول الله المدينة قال نعم ما بين كذا وكذا لا يقطع شجرها من أحدث فيها حدثا فعليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين(صحیح بخاری شریف کتاب الحج حديث : 1867)
عاصم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کو حرم قرار دیا ہے؟ انہوں نے کہا ہاں فلاں جگہ سے لے کر فلاں تک کوئی درخت نہ کاٹا جائے نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص یہاں کوئی بدعت رائج کرے اس پر اللہ تعالیٰ کی فرشتوں کی اور سارے لوگوں کی لعنت ہے۔
حدیث مبارکہ میں آپ کا ارشاد ہے بدعت ایجاد کرنے والے پر دوسروں کا بوجھ بھی ہوگا :
عن كثير بن عبد الله بن عمرو بن عوف المزني قال حدثني أبى عن جدي أن رسول الله قال من أحيا سنة من سنتي فعمل بها الناس كان له مثل أجر من عمل بها لا ينقص من أجورهم شيئا ومن ابتدع بدعة فعمل بها كان عليه أوزار من عمل بها لا ينقص من أوزار من عمل بها شيئا(ابن ماجه كتاب المقدمة باب من احياء سنة امیقیت حدیث : 9-20)
کثیر بن عبد اللہ بن عمر بن عوف مزنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھ سے میرے باپ نے میرے باپ سے دادا نے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے میری سنتوں میں سے کوئی ایک سنت زندہ کی اور لوگوں نے اس پر عمل کیا تو زندہ کرنے والے کو بھی اتنا ہی ثواب ملے گا جتنا اس سنت پر عمل کرنے والے تمام لوگوں کو ملے گا جب کہ لوگوں کے اپنے ثواب میں سے کوئی کمی نہیں کی جائے گی اور جس نے کوئی بدعت جاری کی اور پھر لوگوں نے عمل کیا تو بدعت جاری کرنے والے پر تمام لوگوں کا گناہ ہو گا جو اس بدعت پر عمل کریں گے جبکہ بدعت پر عمل کرنے والے لوگوں کے اپنے گناہوں کی سزا سے کوئی چیز کم نہیں ہوگی۔
بدعتی کی حمایت کرنے والے پر اللہ کی لعنت ہے۔
عن على رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لعن الله من ذبح لغير الله ولعن الله من سرق منار الأرض ولعن الله من لعن والده ولعن الله من آوى محدثا(صحیح مسلم شریف کتاب الاضاحي باب تحريم الذبح لغير الله حديث : 1978)
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالی نے لعنت کی ہے اس شخص پر جو غیر اللہ کے نام پر جانور ذبح کرے جو زمین کے نشانات چوری کرے جو اپنے والدین پر لعنت کرے اور جو بدعتی کو پناہ دے۔
غور فرمائیں کہ بدعتی کو پناہ دینے والے پر لعنت ہے تو جو خود بدعتی ہو اس پر کتنی لعنت ہوگی جس کی وجہ سے دوسرا بھی لعنتی بنا مسلمانوں کو اس ملعون فعل سے بچنا چاہیے۔

گمراہی کی طرف بلانے والے کا انجام :۔

عن أبى هريرة أن رسول الله قال من دعا إلى هدى كان له من الأجر مثل أجور من تبعه لا ينقص ذلك من أجورهم شيئا ومن دعا إلى ضلالة كان عليه من الإثم مثل آثام من تبعه لا ينقص ذلك من آثامهم شيئا(صحيح مسلم كتاب العلم باب من سن سنة حديث : 2674)
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے لوگوں کو ہدایت کی طرف دعوت دی اسے ہدایت پر عمل کرنے والے تمام لوگوں کے برابر اجر ملے گا اور ہدایت پر عمل کرنے والوں کا اپنا اجر بھی کم نہیں ہوگا اس طرح جس شخص نے لوگوں کو گمراہی کی طرف بلایا اس شخص پر ان تمام لوگوں کا گناہ ہوگا جو اس گمراہی پر عمل کریں گے جب کہ گناہ کرنے والوں کے اپنے گناہوں میں بھی کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔
فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق بدعت ایک بڑی گمراہی ہے اسکی طرف دعوت دینے والے تمام لوگ مجرم ہیں اور ان کی دعوت پر چلنے والے بھی تمام لوگ مجرم ہیں اللہ کی گرفت سے نہیں بچیں گے۔ اللہ کے بھیجے ہوئے حق اور ہدایت کی طرف دعوت دینے والے اور قبول کرنے والے اجر عظیم کے مستحق ہیں۔
حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
فعليكم بسنتي وسنة الخلفاء الراشدين المهديين عضوا عليها بالنواجذ وإياكم ومحدثات الأمور فإن كل بدعة ضلالة(سنن ابی داود كتاب السنة حديث : 2676 باب في لزوم السنة حديث 4607 ، جامع ترمذی ابواب العلم باب الاخذ بالسنة واجتناب البدعة)
تم میری سنت کو لازم پکڑو اور میرے ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کا طریقہ اپناؤ اسی پر مضبوطی سے کار بند رہو اور دین میں ایجاد کی گئی بدعتوں سے بچو کیونکہ ہر بدعت گمراہی ہے۔
اس حدیث مبارکہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اتباع سنت کے ساتھ ہی بدعات سے اجتناب کرنے کا بھی حکم دیا ہے اللہ سے ہر وقت یہ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو سنت پر چلائے اور بدعت وضلالت سے بچائے کیوں کہ بدعت پر چلنا باعث دخول جہنم ہے اور سنت پر چلنا دخول جنت کا باعث ہے۔
اللہ بدعتی کا کوئی عمل قبول نہیں فرماتا اور بدعتی اسلام سے بھی خارج ہو جاتا ہے۔
چنانچہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
لا يقبل الله لصاحب بدعة صوما ولا صلاة ولا صدقة ولا حجا ولا عمرة ولا جهادا ولا صرفا ولا عدلا يخرج من الإسلام كما تخرج الشعرة من العجين(ابن ماجه ج اول صفحه : 6)
اللہ تعالیٰ بدعتی کا نہ روزہ قبول کرتا ہے نہ نماز نہ اس کا صدقہ قبول کرتا ہے اور حج نہ عمرہ نہ اس کا جہاد قبول کرتا ہے اور نہ بدعتی کی کوئی فرضی نفلی عبادت قبول کرتا ہے بلکہ بدعت کرنے والا اسلام سے اس طرح خارج ہو جاتا ہے جس طرح گوندھے ہوئے آٹے سے بال نکال لیا جاتا ہے۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالی بدعتی کی توبہ قبول نہیں کرتا جب تک وہ بدعت چھوڑ نہ دے۔(طبراني صحيح الترغيب والترهيب للالباني جزء الأول رقم الحديث : 52)
ان ارشادات نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے بدعت کی سنگینی کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے اور اس کے بعد ہر مسلمان پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ ایمانداری سے بدعت جیسے بڑے جرم سے بچنے کی فکر کرے اور بدعت کی تعریف جاننے کے لیے محنت کرے تا کہ وہ بدعت کی پہچان کے بعد بدعت کے کاموں سے اپنے آپ کو با آسانی دور رکھ سکے۔

بدعت کی تعریف کا خلاصہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کی روشنی میں :۔

ہم اجمالی طور پر بدعت کی تعریف اس طرح کر سکتے ہیں کہ دین میں کسی نئی بات کا اضافہ کرنا اسے بدعت کہتے ہیں اور ذرا تفصیل سے ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ دین میں کسی ایسے کام کا اضافہ کرنا جس کا ثبوت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم سے نہیں ملتا جب کہ کرنے والا اسے کار ثواب اور اپنے لیے ذریعہ نجات سمجھتا ہے۔
دین اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اور شعبہ ہائے زندگی کے لیے دستور العمل ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ ایک بہترین نمونہ اور اسوہ حسنہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی چیز ایسی نہیں جو تمہیں جنت کے قریب اور جہنم سے دور کرے لیکن میں نے تمہیں اس پر عمل پیرا ہونے کا حکم دیا ہے اور کوئی ایسی چیز نہیں جو تمہیں جہنم کے قریب اور جنت سے دور کرے لیکن میں نے تمہیں اس سے روک دیا ہے۔(صحیح مصنف ابن ابی شیبه ج 7 حدیث : 34332)
دین اسلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں مکمل ہو چکا تھا اب اس میں کسی قسم کے اضافہ کی گنجائش باقی نہیں رہی جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔
الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا (سورۃ المائدہ : 3)
آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا اور اپنی نعمت تم پر پوری کر دی اور تمہارے لیے اسلام کو بطور دین پسند کر لیا۔

آخر اس میں حرج ہی کیا ہے؟

ایک مغالطہ دیا جاتا ہے کہ اگر یہ عمل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں تو کیا ہوا کام تو اچھا ہے اس میں کونسی برائی ہے لیکن یاد رکھیں بدعت ہمیشہ نیکی کے روپ میں ہی ظاہر ہوئی مطلب یہ نہیں کہ یہ کام لوگوں کی نگاہ میں اچھا ہے اور یہ نیکی ہے۔
ایسی باتیں سن کر سنت کے پابند لوگ بھی اس کا شکار ہو جاتے ہیں اور اس طرح کی باتیں سن کر پہلے انتشار میں مبتلا ہو جاتے ہیں وہ یہ کہ صاحب ہم جو کام کر رہے ہیں جب یہ نیکی کا کام ہے اچھا ہے تو آخر اس کے کرنے میں کیا حرج ہے بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یا صحابہ کرام رضی اللہ عنھم سے ثابت تو نہیں ہے لیکن جب اس میں برائی یا قباحت نہیں تو پھر اس سے آپ کیوں روکتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ نیکی کے کام کرنے میں کوئی حرج نہیں اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ اچھا کام قابل تعریف ہے جب کیا جائے جہاں کیا جائے اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ نیکی کے کام سے روکنے والے نافرمان و گناہ گار ہیں۔

لیکن…! سوال یہ ہے کہ نیکی آخر ہے کیا؟

کون بتائے گا کہ یہ نیکی ہے ثواب ہے اجر ہے اور یہ گناہ ہے برائی ہے اور پھر اس بات کا فیصلہ کون کرے گا کہ نیکی کرنے کا طریقہ یہ ہے فلاں ثواب حاصل کرنے کا ذریعہ یہ ہے اور اس کی حدود و قیود یہ ہیں اگر ہر شخص اپنی طرف سے نیکی کی تعریف اور طریقہ متعین کرے گا تو پھر دین تو ایک مذاق بن کر رہ جائے گا۔ انبیاء کرام علیھم السلام کی بعثت کا مقصد فوت ہو جائے گا اس بات کا تعین صرف اور صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کر سکتے ہیں کہ نیکی کرنے کا طریقہ کیا ہے اور اس کی کیا حدود ہیں۔ ہر شخص کو اس کا اختیار نہیں دیا جاسکتا صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے دور میں متعدد ایسے واقعات رونما ہوئے جن میں کچھ لوگوں نے اچھے کام کیے جن میں اللہ کا ذکر تھا اور اس کی عبادت تھی مگر اس کے باوجود وہ روک دیے گئے اور جب انہیں بتایا گیا کہ یہ طریقہ خیر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں تو فورا اس سے رک گئے۔
ہم ذیل میں اس کی چند مثالیں پیش کرتے ہیں کہ وہ کام جن کے بظاہر کرنے میں کوئی ہرج نہیں اور نیکی کے کام تھے لیکن اس کے باوجود حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہ ہونے کی وجہ سے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے انہیں رائج نہ ہونے دیا۔ مثلاً ایک لمبی روایت میں ایک صحابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہتے ہیں کہ ہم نماز فجر سے پہلے حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے دروازے پر بیٹھ جاتے اور وہ جب گھر سے نکلتے تو ان کے ساتھ مسجد روانہ ہو جاتے ایک دن ہم بیٹھے ہوئے تھے کہ ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ آئے اور کہا کہ کیا ابو عبد الرحمن (عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ) نکل گئے ؟ ہم نے جواب دیا نہیں یہ سن کر ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ بھی بیٹھ گئے یہاں تک کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ باہر نکلے اور ہم سب ان کی طرف کھڑے ہو گئے تو ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے ان سے مخاطب ہو کر کہا۔
اے ابو عبد الرحمن رضی اللہ عنہ میں ابھی ابھی مسجد میں ایک نئی بات دیکھ کر آیا ہوں ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا وہ کیا؟ ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا زندگی رہی تو آپ بھی دیکھ لیں گے وہ بات یہ ہے کہ کچھ لوگ نماز کے انتظار میں مسجد کے اندر حلقے بنائے بیٹھے ہیں سب کے ہاتھوں میں کنکریاں ہیں اور ہر حلقہ میں ایک آدمی متعین ہے جو ان سے کہتا ہے کہ 100 بار الله اكبر کہو تو سب لوگ سو بار الله اكبر کہتے ہیں۔ پھر کہتا ہے کہ 100 بار الحمد لله کہو تو سب سو بار الحمد لله کہتے ہیں پھر کہتا ہے کہ 100 بار سبحان الله کہو تو وہ سو بار سبحان الله کہتے ہیں۔ یہ سن کر حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ تم نے ان لوگوں سے پھر کیا کہا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ میں نے سوچا کہ آپ رضی اللہ عنہ کی رائے معلوم کرلوں اس لیے میں نے وہاں کچھ نہ کہا۔ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم نے ان سے یہ کیوں نہیں کہا کہ اپنے گناہ شمار کرو میں اس بات کی کھلی ضمانت دیتا ہوں کہ تمہاری نیکیاں ضائع نہ ہوں گی۔ یہ کہہ کر ابن مسعود رضی اللہ عنہ مسجد کی طرف روانہ ہوئے اور ان حلقوں میں سے ایک حلقہ کے پاس کھڑے ہوئے فرمایا یہ کیا ہو رہا ہے لوگوں نے جواب دیا اے ابو عبد الرحمن رضی اللہ عنہ یہ کنکریاں ہیں جن پر ہم تکبیر وتہلیل اور تسبیح گن رہے ہیں۔
ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ بجائے اس کے تم اپنے اپنے گناہ شمار کرو اور میں اس بات کا ذمہ لیتا ہوں کہ تمہاری نیکیوں میں سے ایک بھی نیکی ضائع نہ ہوگی تعجب ہے امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کہ ابھی تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کثیر تعداد میں موجود ہیں ابھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چھوڑے ہوئے کپڑے نہیں پھٹے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے برتن نہیں ٹوٹے اور اتنی جلدی تم ہلاک ہو گئے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم یا تو ایسی شریعت پر چل رہے ہو جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی شریعت سے نعوذ باللہ بہتر ہے یا گمراہی کا دروازہ کھول رہے ہو لوگوں نے جواب دیا اے ابو عبد الرحمن رضی اللہ عنہ اس اللہ کی قسم اس طرز عمل سے خیر کے سوا ہمارا کوئی مقصد نہ تھا۔ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کتنے ہی خیر کے طلب گار ایسے ہیں جو خیر تک کبھی نہیں پہنچ پاتے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے ایک قوم ایسی ہوگی جو قرآن پڑھے گی مگر قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا اللہ کی قسم میں نہیں جانتا کہ شاید ان میں سے اکثر تم ہی میں سے ہوں یہ باتیں کہہ کر حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ وہاں سے واپس چلے آئے راوی حدیث عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ان حلقوں کے عام لوگوں کو ہم نے دیکھا کہ نہروان کی جنگ میں وہ ہمارے بالمقابل خوارج کے ساتھ تھے۔سنن دارمی شریف : 210 طبع دار المعرفة

قارئین محترم یہ اثر درجہ ذیل باتوں پر مشتمل ہے:

جس ذات نے عمل شروع کیا ہے وہ طریقہ عمل کے بتانے سے غافل نہیں رہا اللہ تعالیٰ نے جب ذکر واذکار کو شروع فرمایا تو ذکر واذکار کا طریقہ بھی متعین کردیا چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دائیں ہاتھ پر تسبیحات شمار کرتے اور فرماتے تھے کہ قیامت کے دن تسبیحات گواہی دیں گی۔ بدعت اضافی بھی گمراہی ہے بدعت اضافی یہ ہے کہ اصل عمل کا ثبوت تو موجود ہو مگر کیفیت اور طریقہ کی کوئی دلیل نہ ہو اور اسے اضافی اس وجہ سے کہتے ہیں کہ وہ صریحی طور پر نہ تو شریعت کے مخالف ہے اور نہ ہی مسنون طریقہ پرسنت کے موافق۔
چنانچہ جو لوگ مسجد میں بیٹھ کر حلقہ در حلقہ بیٹھ کر کنکریوں پر تسبیح خوانی کر رہے تھے انہوں نے نہ تو کوئی کفریہ بات کہی تھی اور نہ ہی کوئی برا فعل انجام دیا تھا بلکہ اللہ کا ثابت شدہ ذکر کر رہے تھے جو کہ ایک مشروع مستحب عمل ہے لیکن کیوں کہ وہ عمل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقے اور سنت کے خلاف تھا کیوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح سے ذکر کرنے کی تعلیم نہیں فرمائی تھی اس لیے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے ان لوگوں پر سخت نکیر فرمائی اور کہا کہ تم سب اپنے گناہ شمار کرو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کے مطابق صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے عمل کے مطابق عمل ہی اللہ کی بارگاہ میں مقبول ہو گا ورنہ مردود ہے۔
جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ یہ کام تو اچھا ہے اس کے کرنے میں آخر حرج کیا ہے وہ غور فرمائیں۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ طریقہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف عمل پر نکیر کرنا منع کرنا صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کی سنت ہے۔ حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما خاص طور پر ان صحابہ کرام رضی اللہ عنھم میں سے تھے جو بدعات پر نہایت شد و مد کے ساتھ نکیر فرماتے اور اہل بدعت کو اپنے سے دور رکھتے تھے۔

ابن عمر رضی اللہ عنہ کا عمل

چنانچہ ایک بار کسی شخص کو چھینک آئی اور اس نے چھینکنے کے بعد الحمد لله والصلاة والسلام على رسول الله پڑھا حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فورا اسے ٹوکا اور کہا :
ما هكذا علمنا رسول الله صلى الله عليه وسلم بل قال إذا عطس أحدكم فليحمد الله ولم يقل وليصل على رسول الله
(سنن ترمذی كتاب الأدب باب ما يقول العاطس حدیث : 2738)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں تو اس طرح نہیں سکھایا بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا جب کسی کو چھینک آئے تو الحمد لله کہے اور یہ ہرگز نہیں حکم دیا کہ والصلوة والسلام على رسول الله پڑھے۔
معلوم ہوا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم ہر اس شخص کی تردید فرما دیتے تھے جو سنت صحیحہ کی خلاف ورزی کر رہا ہو بلکہ اس تردید و نکیر میں ان کا رویہ کبھی سخت بھی ہو جایا کرتا تھا خواہ کوئی بھی ہو کچھ لوگ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں پھر کیا ہوا بات تو اچھی ہے اس میں برائی کیا ہے ایسا کہنے والوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے :
قُلْ هَلْ نُنَبِّئُكُمْ بِالْأَخْسَرِينَ أَعْمَالًا الَّذِينَ ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَهُمْ يَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ يُحْسِنُونَ صُنْعًا (سورۃ الکہف : 103-104)
کہہ دو کہ تمہیں بتائیں جو عملوں کے لحاظ سے بڑے نقصان میں ہیں وہ لوگ جن کی سعی دنیا کی زندگی میں برباد ہو گئی اور وہ یہ سمجھے ہوئے ہیں کہ اچھے کام کر رہے ہیں۔
دنیا کا ہر انسان جو بدعت کا شکار ہے وہ اسے اپنے خیال میں نیکی سمجھ رہا ہے اور اس کام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا اپنے لیے کار ثواب اور باعث نجات خیال کرتا ہے۔
بدعتی حوض کوثر پر جا سکے گا نہ ہی اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت نصیب ہوگی چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : حوض کوثر پر میں تمہارا منتظر رہوں گا تم میں سے کچھ لوگ آئیں گے جنہیں میں پہچان لوں گا لیکن جیسے ہی انہیں لینے کے لیے بڑھوں گا وہ مجھ سے روک لیے جائیں گے میں کہوں گا اے پروردگار یہ میرے امتی ہیں اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد انہوں نے دین میں کیا کیا نئی باتیں ایجاد کی تھیں۔
(صحیح بخاری کتاب الفتن باب 1 ، 5 – 70-7051)
مانو نہ مانو جان جہاں تمہیں اختیار ہے
ہم نیک وبد جناب کو سمجھائے جاتے ہیں

حفیظ الرحمن قادری کے بدعت کے حق میں دیئے گئے دلائل کی اصل حقیقت :۔

قادری صاحب بدعت کی تعریف تو درست کرتے ہیں۔ لیکن ساتھ ہی اپنا بریلوی فلسفہ جھاڑنا شروع کر دیتے ہیں۔ چنانچہ لکھتے ہیں کہ حدیث مبارکہ میں ہے ہر بدعت گمراہی ہے یعنی دین کے اندر عبادت سمجھ کر نیا کام شروع کر دینا گمراہی ہے اور ہر گمراہی دوزخ کی طرف لے جاتی ہے۔ (شرک کیا ہے صفحہ : 106)
آگے کہتے ہیں کہ اگر بالفرض محال حدیث مبارکہ کا مطلب جو یہ سمجھے ہیں ویسا ہی درست مان لیا جائے تو پھر اس تعریف کی زد میں صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کی ذات اقدس بھی آئے گی حوالہ مذکورہ یعنی انہوں نے بھی نئے کام کیے مثلا قرآن کو جمع کرنا۔

الجواب :

قرآن کا جمع کرنا بدعت نہیں کیوں کہ جنگ میں کثیر تعداد حفاظ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے شہید ہونے کی وجہ سے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے قرآن کی حفاظت کے پیش نظر قرآن مجید کو جمع کیا اور یہ کام اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم سے لیا کیوں کہ قرآن مجید میں ارشاد ہے :
إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ (سورۃ الحجر : 9)
ہم نے ہی قرآن نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔
چنانچہ جمع قرآن کی ابتداء حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے مشورہ کے بعد حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ذریعے سے ہوئی اس سے پہلے قرآن مجید صحیفوں کی شکل میں لکھا ہوا موجود تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
يَتْلُو صُحُفًا مُطَهَّرَةً (سورۃ البینۃ : 2)
یعنی اللہ کے پیغمبر پاک صحیفوں کی تلاوت کرتے ہیں۔
فرق صرف اتنا تھا کہ صحیفے منتشر اور جدا جدا تھے ان کو اکٹھا کیا گیا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے جمع قرآن کا کام اپنی جانب سے نہیں کیا بلکہ در حقیقت حفظ قرآن کے وعدے کی طرح یہ بھی اللہ تعالیٰ کے اس وعدے کا ایفا تھا جو اس نے جمع قرآن کے سلسلہ میں فرمایا تھا :
إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ (سورۃ القیامۃ : 17)
بیشک اس قرآن کا جمع کرنا اور پڑھوانا ہمارے ذمہ ہے۔
قرآن مجید کی حفاظت ایک مقصد ہے تو اس کا جمع کرنا اس مقصد کے حصول کا ذریعہ ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے بیان فرما دیا ہے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے اس پر عمل کرتے ہوئے قرآن مجید کو جمع فرما دیا۔
دوسرا جواب یہ ہے کہ یہ کام خلفائے راشدین رضی اللہ عنھم کے حکم سے انجام دیا گیا جن کی بات کو ماننے اور پیروی کرنے کا حکم خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا چنانچہ حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
فعليكم بسنتي وسنة الخلفاء الراشدين المهديين عضوا عليها بالنواجذ وإياكم ومحدثات الأمور فإن كل بدعة ضلالة(سنن ابی داود کتاب السنة حديث : 2674)
تم میری سنت کو لازم پکڑو اور میرے ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کا طریقہ اپناؤ اس پر مضبوطی سے کار بند رہو اور دین میں ایجاد کی گئی بدعتوں سے بچو کیونکہ ہر بدعت گمراہی ہے۔
اس حدیث مبارکہ سے ثابت ہوا کہ خلفائے راشدین رضی اللہ عنھم کے کیے ہوئے کام کو تسلیم کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کو ماننا ہے کیوں کہ اس حدیث میں صحابہ خلفائے راشدین رضی اللہ عنھم کے عمل کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدعت سے نکال دیا ہے کہ ان صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے کیے ہوئے کام بدعت نہیں بلکہ حکم سنت میں سے ہیں۔ اس لیے قادری صاحب کا صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کو بدعت میں ملوث کرنا ہرگز درست نہیں ان کی پیروی سنت سے ہے ان کے علاوہ بھی تمام صحابہ کرام جمع قرآن کے عمل پر متفق تھے گویا کہ اس بات پر ان کا کلی اجماع تھا جو یقینا حجت ہے کیوں کہ اس مقدس جماعت کے بارے میں نعوذ باللہ یہ تصور بھی نہیں کیا جا سکتا کہ وہ کسی ضلالت و گمراہی پر متفق ہو سکتی تھی۔
جمع قرآن کی بابت صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے جو کارنامہ انجام دیا وہ ایک ایسا عمل ہے جسے عقل تسلیم کرتی ہے۔ بلکہ کسی بھی صاحب عقل کو اس کے قبول کر لینے میں ذرا بھی تامل نہ ہوگا۔ یہ بھی اصول ہے کہ جس چیز پر صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کا اجماع ہو اس پر بدعت کا حکم ہر گز نہیں لگ سکتا صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کا دامن بدعات سے پاک ہے لہذا جمع قرآن پر بدعت کا اعتراض باطل ہے۔
مذکورہ بالا نکات کی وضاحت کے بعد یہ حقیقت آشکار ہو جاتی ہے کہ بدعت عمل صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کی معارض ہوتی ہے کیوں بدعت میں شریعت کے مصالح کا لحاظ نہیں کیا جاتا بلکہ بدعت ایجاد کرنے والوں کے اپنے ذاتی مفادات سے وابستہ ہوتے ہیں۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے جو کچھ کیا وہ عقل میں آنے والے اعمال تھے ایک متبع سنت کے لیے یہ حقیقت واضح ہو گئی ہوگی کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے فعل سے بدعت کی دلیل پکڑنا درست نہیں بلکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کا عمل خود اہل بدعت کے خلاف حجت اور ان کے عقائد کی تردید کرتا ہے۔

قادری صاحب کی دوسری دلیل :۔

لکھتے ہیں کہ نماز تراویح سرکار دو عالم نور مجسم صلی اللہ علیہ وسلم کی ظاہری حیات طیبہ میں تروایح اس طرح نہیں پڑھی جاتی تھی جس طرح آج ہم پڑھ رہے ہیں۔ رمضان المبارک میں پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ رات کا قیام تمہارے لیے نفل ہے آگے لکھتے ہیں کہ اس لحاظ سے تراویح کی نماز بھی بدعت باجماعت ادا کرنا بدعت اور ان میں پورا قرآن پڑھنا بھی بدعت ہے کہ تقریباً سب ھی کر رہے ہیں۔ (شرک کیا ہے کتاب مذکورہ صفحہ : 109)

پہلا جواب :

نماز تراویح صلوۃ اللیل ایک مشروع عمل ہے اور نص حدیث سے صراحت کے ساتھ ثابت ہے جیسا کہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
أن النبى لما أحيا بالناس ليلة فى رمضان صلى ثماني ركعات وأوتر
(صحیح ابن خزیمه حدیث : 1070 ، صحيح ابن حبان : 2409)
یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب رمضان کی ایک رات لوگوں کو لے کر شب بیداری کی تو آٹھ رکعات پڑھائی اور پھر وتر ادا کیا۔
یہی نہیں بلکہ نماز تراویح کا باجماعت ادا کرنا بھی سنت سے ثابت ہے کیوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تین رات تک صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کو جماعت کے ساتھ نماز تراویح پڑھاتے رہے اور تین راتوں کے بعد اس ڈر سے جماعت موقوف کر دی کہ کہیں میری امت پر صلوۃ اللیل با جماعت فرض نہ کر دی جائے جیسا کہ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت میں ہے :
ولكن خشيت أن تفرض عليكم فتعجزوا عنها(صحیح بخاری کتاب الجمعہ، باب من قال فى الخطبة بعد الثناء، حديث: 924)
یعنی میں نے اس ڈر سے نماز با جماعت موقوف کر دی ہے کہ کہیں تم پر فرض نہ کر دی جائے اور تم پھر اسے ادا نہ کر سکو۔
لیکن جب نزول وحی کا سلسلہ ختم ہوا تو وہ فکر بھی دور ہوگئی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز تراویح کے باجماعت فرض ہو جانے کی بابت تھی کیونکہ علت اپنے معلول کے وجود و عدم کے اعتبار سے پیدا ہوتی اور ختم ہوتی ہے لہذا جب علت زائل ہوگئی تو نماز تراویح کے باجماعت ادا کرنے کی سنت اپنی جگہ برقرار رہی یہاں تک کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا دور آیا اور انہوں نے سنت نبوی کے مطابق گیارہ رکعت باجماعت ادا کرنے کا حکم دیا بلکہ نافذ کر دیا اور اس طرح سے انہوں نے اس سنت کا دوبارہ احیا کیا۔ (موطا امام مالک باب قيام رمضان حديث : 249)

دوسرا جواب :

یہ کام خلفائے راشدین رضی اللہ عنھم نے کیا جن کی پیروی کرنے کا حکم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا۔ (سنن ابی داود كتاب السنة حديث : 3676)
معلوم ہوا کہ خلفائے راشدین رضی اللہ عنھم کی اتباع میں جو کام کیا جائے وہ سنت کے حکم میں ہے سنت کی دلیل نہیں قادری صاحب کا یہ کہنا کہ باجماعت نماز تراویح بدعت ہے یہ ان کے قلت تدبر کا نتیجہ ہے۔

قادری صاحب کی تیسری دلیل :۔

لکھتے ہیں کہ نماز جمعہ کی دوسری اذان سرکار دو عالم نور مجسم صلی اللہ علیہ وسلم کی ظاہری حیات طیبہ میں جمعتہ المبارک کی ایک ہی اذان ہوتی تھی حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہما کے دور خلافت میں ایک ہی اذان ہوتی رہی جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا دور خلافت آیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے محسوس کیا کہ لوگ کاروبار میں بہت زیادہ مشغول ہو چکے ہیں خطبے سے پہلے جو اذان ہوتی ہے اس کے اور نماز کے دوران وقت کم ہوتا ہے لوگ کاروبار کو سمیٹ کر جماعت میں شامل ہونا مشکل محسوس کرنے لگے تو آپ رضی اللہ عنہ نے جمعے کی دوسری اذان کو جاری فرمادیا جو کہ بدعت ہے تقریبا تمام مسلمان اس بدعت کو ادا کر رہے ہیں۔(حوالہ کتاب مذکوره صفحه : 109)

الجواب :

عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کیونکہ خلیفہ راشد ہیں جن کی پیروی کرنے کا حکم خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا ان کی باتوں کو ماننا فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل ہے ان کا عمل سنت کے حکم میں ہے نہ کہ بدعت ویسے بھی دوسری اذان دینا جمعہ کے دن ضروری نہیں ہماری سینکڑوں مساجد میں صرف ایک ہی اذان ہوتی ہے اگر کوئی آج رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کو ہی اختیار کرتا ہے اور جمعہ کے لیے ایک اذان پر ہی اکتفا کرتا ہے تو نہ صرف جائز بلکہ بعض کے نزدیک عمل افضل ہے۔

قادری صاحب لکھتے ہیں کہ:

قرآن مجید کی تلاوت کے بعد آخر میں قرأ حضرات صدق الله العظيم پڑھتے ہیں جب کہ یہ سنت نہیں بلکہ یہ بہت بعد میں جاری ہوا۔( کتاب مذکورہ صفحہ : 111)

جواباً عرض ہے کہ:

اگر یہ عمل سنت سے ثابت نہیں صحابہ کرام رضی اللہ عنھم سے ثابت نہیں تو بدعت ہے ایسے کام کو کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے ایک بدعت دوسری کے لیے دلیل کیسے بن گئی جو کام آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا وہ سنت ہے جو نہیں کیا وہ نہ کرنا سنت ہے سنت پر عمل کریں بدعت سے بچنے کی کوشش کریں۔

قادری صاحب لکھتے ہیں کہ:

سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جانور سواری کے لیے استعمال کیے جاتے تھے اب زیادہ تر سواری کے لیے گاڑیاں اور ہوائی جہاز استعمال کئے جاتے ہیں۔ حالانکہ یہ بھی بدعت ہیں اس قسم کی بے شمار بدعتیں ہیں جو کہ ہم روز مرہ زندگی میں استعمال کرتے ہیں کوئی بھی ان سے بچ نہیں سکتا۔ (کتاب مذکور : 1125)

الجواب:

بظاہر یہ بات بڑی وزنی معلوم ہوتی ہے لیکن جس شخص کو بدعت کی صحیح تعریف معلوم ہوگی اور اس کی پہچان ہوگی وہ کبھی بھی اس مغالطے کا شکار نہیں ہوگا یہ مغالطہ وہی لوگ دیتے ہیں جو یا تو بدعت کی تعریف سے واقف نہیں ہوتے یا پھر وہ جان بوجھ کر لوگوں کو دھوکا دینا چاہتے ہیں کیونکہ ہم شروع میں یہ وضاحت کر چکے ہیں کہ بدعت اس چیز کو کہا جاتا ہے جو دین میں نئی بات ثواب اور اجر کی نیت اور خیال سے نکالی جائے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ بالکل واضح ہیں کہ : من احدث فى امرنا هذا یعنی ہمارے دینی معاملات میں جس نے کوئی نئی چیز پیدا کی نہ کہ دنیاوی معاملات میں اب دنیا میں کوئی شخص بھی ایسا نہیں جو ہوائی جہاز یا گاڑی پر سوار ہونا ثواب سمجھتا ہو یا اس عمل کو ذریعہ نجات سمجھتا ہو یہ سب دنیاوی ایجادات ہیں اس کا دین سے کوئی تعلق نہیں سواریوں کا تذکرہ قرآن مجید میں ہے چنانچہ ارشاد فرمایا :
وَالْخَيْلَ وَالْبِغَالَ وَالْحَمِيرَ لِتَرْكَبُوهَا وَزِينَةً وَيَخْلُقُ مَا لَا تَعْلَمُونَ (سورۃ النحل : 8)
اور گھوڑے اور خچر اور گدھے تاکہ تم ان پر سوار ہو اور زینت کے لیے اور وہ پیدا کرے گا جو تم نہیں جانتے۔
اس آیت مبارکہ میں یہ جملہ ارشاد فرمایا : وَيَخْلُقُ مَا لَا تَعْلَمُونَ یعنی وہ ان جانوروں کے علاوہ ایسی سواریاں پیدا کرے گا جو تم نہیں جانتے اس سے قیامت تک آنے والی جدید ترین سواریاں مراد ہیں جو اب تک ایجاد ہو چکی ہیں یا قیامت تک ایجاد ہوں گی ہوائی جہاز ہو کہ گاڑیاں یا کوئی بھی سواری ہو اللہ تعالیٰ نے اپنے قرآن میں ان سب سواریوں کا ذکر فرمادیا یہ بدعت کیسے ہوگئی ہے؟

قادری صاحب لکھتے ہیں کہ:

کتب حدیث تحریر کرنا احادیث مبارکہ مثلا بخاری ومسلم ترمذی احادیث کی شرح قرآن مجید کے تراجم بلاغت علم اسماء الرجال اور دیگر علوم جو کہ قرآن وحدیث سمجھنے کے لئے بہت ضروری ہیں یہ سب کام سرکار دو عالم نور مجسم صلی اللہ علیہ وسلم کی ظاہری حیات طیبہ کے بعد وجود میں آئے جو کہ بدعت کے زمرے میں آتے ہیں۔(کتاب مذکور صفحه : 112)

الجواب :

قادری صاحب کو یہ جاننا چاہئے کہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا لکھنا لکھوانا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور مبارک میں ہی شروع ہو چکا تھا۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے 8ھ میں فتح مکہ کے موقعہ پر انسانی حقوق اور مکہ کی عزت و حرمت کے بارے میں مسائل کو بیان فرمایا تو ایک یمنی آدمی نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے یہ احکام لکھوا دیجئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا : اكتبو الابي شاه میری حدیث ابوشاہ کولکھ دو۔
اس حدیث مبارکہ سے معلوم ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یمنی سائل کی درخواست پر یہ جملہ مسائل اس کے لیے لکھوا دیے اس سے ثابت ہوا کہ تدوین احادیث و کتابت احادیث کی بنیاد خود زمانہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے شروع ہو چکی تھی جیسے حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے زمانہ میں نہایت اہتمام کے ساتھ ترقی دی گئی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ جہنیہ کو ایک حدیث لکھوا کر بھجوائی کہ مردہ سے نفع حاصل نہ کرو۔ (ابو داود صفحه 213 ج 2 وترمذی مع تحفہ ص 45 ج 3 سنن نسائی اور ابن ماجہ میں بھی ہے)
اس طرح حضرت علی رضی اللہ عنہ نے احکام قضاء کی حدیثیں جمع کی تھیں جو کتاب قضایا کے نام سے موسوم تھیں۔ (مقدمہ صحیح مسلم ص : 10)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی عمر کے آخری حصہ میں وہ تمام احادیث قلم بند کروا دی تھیں جن کا تعلق مسائل زکوۃ سے تھا اس کا نام کتاب الصدقہ تھا۔ لیکن اس کو ابھی حکام کے پاس روانہ نہ کر پائے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہو گیا۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے اپنے اپنے دور خلافت میں اسے نافذ کیا اور اس کے مطابق زکوۃ کے وصول کرنے کا انتظام رکھا۔(سنن ابوداود مع عون المعبود ص 8 ج 1 ، بحواله دين الحق ج 2 ص 95)
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آخری دور میں احادیث کا ایک ضخیم مجموعہ اہل یمن کے پاس حضرت عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کی معرفت روانہ کیا تھا۔
(سنن نسائی ص 247 ج 2 حديث : 4857)
ان احادیث مبارکہ سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی اپنے فرمودات و ہدایات کو لکھنے کا حکم وارشاد فرمایا لہذا لکھنا لکھوانا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود شروع کروایا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے کیا یہ کام سنت رسول اور سنت اصحاب رسول ہے بدعت کہنا قطعی جہالت ہے اگر ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات احادیث مبارکہ کو ہی بدعت کہہ دیا تو پیچھے ہمارے پاس دین ہی کیا رہ جائے گا جو لوگ خود بدعتی ہوتے ہیں انہیں ہر چیز میں بدعت نظر آتی ہے ان کی محبت سنت سے کم اور بدعت سے زیادہ ہوتی ہے جو کہ ہم آخر میں بیان کریں گے۔

قادری صاحب کے مطابق بدعت کی اقسام :۔

قادری صاحب لکھتے ہیں علمائے کرام رحمہ اللہ عنھم نے بدعت حسنہ کی تین قسمیں بیان کی ہیں۔
➊ بدعت جائز
➋ بدعت مستحب
➌ بدعت واجب
اور بدعت سئیہ کی دو اقسام بیان فرمائی ہیں :
➊ بدعت مکروہ
➋ بدعت حرام
آگے اس کی تفصیل لکھتے ہیں۔ (کتاب مذکورہ صفحہ : 115)

الجواب :

قادری صاحب نے بدعت کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وعید سے بچنے کے لیے یہ راستہ نکالنے کی ناکام کوشش کی ہے کہ بدعت کی کئی قسمیں ہیں ایک بدعت سئیہ (بری بدعت) اور ایک بدعت حسنہ (اچھی بدعت)
حقیقت میں بدعت کی تقسیم بذات خود بدعت ہے یہ عوام الناس کو بڑا دھوکا دیا جاتا ہے در حقیقت یہ ہے کہ تقسیم کی کوئی بنیاد ہی نہیں پہلی بات تو یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کے بعد کہ :كل بدعة ضلالة ہر بدعت گمراہی ہے۔
اس کے بعد اس تقسیم کی گنجائش ہی نہیں رہتی کہ کچھ بدعات اچھی ہیں اور کچھ بری ہیں دوسری بات یہ ہے کہ بری بدعت کا لفظ ہی بے محل ہے جو چیز اصل میں بری ہے اس کے ناجائز ہونے میں تو کوئی شک وشبہ ہی نہیں پھر تقسیم خود ساختہ کی حیثیت کیا رہ جاتی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما دیا کہ ہر بدعت گمراہی ہے اور گمراہی جہنم میں لے جانے والی ہے اور کیا تقسیم کی صورت میں بدعت گمراہی نہ ہوگی؟ رہے وہ امور جن پر سب کا اتفاق ہے سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کا نماز تراویح ادا کرنا امر مشروع تھا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عملاً جاری فرمایا قرآن مجید کا جمع کرنا امر مشروع تھا جب صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اور فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے سعادت حاصل کی صرف و نحو معانی و بیان امر مشروع تھا حضرت علی رضی اللہ عنہ نے سعادت حاصل کی کتابت حدیث درس و تعلیم یہ سب اعمال صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے وقت میں جاری تھے۔ خلفائے راشدین رضی اللہ عنھم کی بات کو ماننے کا حکم خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا جو کہ سنت کے حکم میں ہے۔
ان باتوں کو زور دے کر بدعت ثابت کرنے کی کوشش کرنا اپنی خود ساختہ بدعات کے لیے چور دروازے ہیں جو کہ انتہائی خطرناک ہیں جن کی وجہ سے سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دشمنی اور بدعت سے محبت ہوگی۔ اللہ تعالیٰ سب مسلمانوں کو سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سچی محبت کی توفیق عطا فرمائے۔ آمين يارب العالمين

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔