بدعت کی حقیقت اور شریعت میں جائز و ناجائز امور کی وضاحت

ماخوذ: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام ومسائل جلد 01، صفحہ 569
مضمون کے اہم نکات

سوال :

1

اگر دین میں ہر نئی چیز بدعت ہے، تو پھر یہ وضاحت کریں کہ درج ذیل چیزیں کیسے جائز ہیں:

◈ نمازِ تراویح باجماعت

◈ نمازِ جمعہ کے لیے دو اذانیں

◈ نبی کریم ﷺ کی قبر پر گنبد

◈ قرآنِ مجید کو یکجا کرنا

◈ قرآن پر اعراب اور ترجمہ

◈ مسجدوں پر مینار

یہ سوالات اکثر بدعتی حضرات اس لیے کرتے ہیں تاکہ اپنی بدعتی رسومات جیسے "عید میلاد” کو جائز ثابت کریں۔ اسی طرح "قل”، "دسواں”، "چالیسواں” وغیرہ کو "بدعتِ حسنہ” کا نام دے کر ثواب کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔

2

قرآن و حدیث سے مردوں کے لیے دعا کرنا اور ان کے حق میں صدقہ و خیرات کرنا ثابت ہے۔ تو پھر اہتمام سے دعا کے لیے ہاتھ اٹھانا یا صدقہ و خیرات کرنا کس طرح بدعت کہلایا جا سکتا ہے؟ اس کی کچھ وضاحت کریں۔

جواب

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

(۱) شریعت میں ثابت شدہ اعمال اور بدعت کا فرق

◈ نمازِ تراویح باجماعت:
رسول اللہ ﷺ نے تین راتیں تراویح باجماعت ادا فرمائی۔ پوری رمضان المبارک میں اس نماز کو آپ ﷺ کے قول سے بھی ثابت کیا گیا ہے۔

◈ قرآنِ مجید کو بااعراب اور ترتیب سے پڑھنا:
رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں قرآن مجید باقاعدہ لکھوایا جاتا تھا، اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ قرآن کو یکجا کرنا اور اعراب لگانا شریعت کے دائرے میں داخل ہے۔

◈ قرآن کا ترجمہ:
چونکہ قرآن اور حدیث تمام انسانوں کے لیے ہیں، اس لیے ان کا ترجمہ بھی ضروری ہوا۔ کیونکہ غیر عرب لوگ بغیر ترجمہ قرآن کو نہیں سمجھ سکتے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
{وَأُوْحِیَ اِلَیَّ ہٰذَا الْقُرْاٰنُ لِأُنْذِرَکُمْ بِہٖ وَمَنْ بَلَغَ} \[الانعام ۱۹، پ ۷]
"اور یہ قرآن میری طرف اس لیے وحی ہوا ہے کہ میں تم کو اور جسے یہ پہنچے اس کے ذریعے عذاب سے ڈراؤں”
{قُلْ یٰٓأَیُّہَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اﷲِ اِلَیْکُمْ جَمِیْعًا} \[الاعراف ۱۵۸، پ ۹]
"کہہ دو اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں”
{بُعِثْتُ اِلَی النَّاسِ عَامَّةَ} \[متفق علیہ بحوالہ مشکوٰۃ، کتاب الفضائل والشمائل، باب فضائل سید المرسلین، الفصل الاول]
"مجھے تمام لوگوں کی طرف بھیجا گیا ہے”

◈ نبی کریم ﷺ کی قبر پر گنبد:
گنبد ایک کمرہ کی صورت ہے۔ نبی کریم ﷺ کی قبر پہلے کمرے کے اندر بنائی گئی تھی، نہ کہ قبر کے اوپر بعد میں کمرہ بنایا گیا ہو۔ مزید یہ کہ آپ ﷺ کی قبر ابھی بھی کچی ہے۔

◈ مسجدوں پر مینار:
مینار بنانے والے اسے دین کا حصہ نہیں سمجھتے، بلکہ اسے صرف تعمیری سہولت کے طور پر لیتے ہیں۔

◈ نماز جمعہ کے لیے دو اذانیں:
یہ عمل عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے ثابت ہے۔ جیسے کہ سفر کے دوران پوری نماز پڑھنا یا ایک ہی سفر میں حج اور عمرہ اکٹھے کرنے سے روکنے کا حکم ان سے منقول ہے۔
سوال یہ ہے کہ بریلوی حضرات ان دو چیزوں کو تسلیم کیوں نہیں کرتے، جبکہ یہ بھی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے عمل سے ثابت ہیں؟

(۲) میت کے لیے دعا اور صدقہ

◈ قرآن و سنت سے مردے کے لیے دعا کرنا اور صدقہ خیرات کرنا بالکل ثابت ہے۔
◈ مردہ اپنی اولاد اور دیگر رشتہ داروں کی طرف سے دعا اور صدقہ کا مستحق ہوتا ہے۔
◈ لیکن یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ:
◄ دعا اور صدقہ کے لیے تاریخ، جگہ، اجتماع اور مخصوص ہیئت کی تعیین کتاب و سنت سے ثابت نہیں ہے۔
◄ بدعتی افراد ان اعمال کو مخصوص شکل میں انجام دیتے ہیں جیسے کہ قل، دسواں، چالیسواں وغیرہ، جس کی کوئی شرعی بنیاد نہیں ہے۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سوشل میڈیا پر یہ مضمون فیچرڈ امیج کے ساتھ شئیر کرنے کے لیے یہ تصویر محفوظ کریں ⬇️ 💾