بدعت کی تقسیم پر بریلوی شبہات کا جائزہ

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ غلام مصطفیٰ ظہیر امن پوری کی کتاب عید میلا النبیﷺ کی شرعی حیثیت سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

بعض حضرات نے اس سلسلے میں کچھ نئی جہات کی طرف توجہ مبذول کرائی ہے یہ لوگ بدعات کو سئیہ اور حسنہ میں تقسیم کرتے ہیں اور اس پر انہوں نے دلائل بھی دیے ہیں ذیل کی سطور میں انہی دلائل پر بحث کی گئی ہے ملاحظہ ہو :

شبہ نمبر 1 :

❀ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے :
نعم البدعة هذه
”(ہمارے زمانے میں) اس کی تجدید نو کیا خوب ہے!“
(صحیح البخاری 2010)
اسے بدعت کی تقسیم پر دلیل نہیں بنایا جا سکتا کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود تراویح کی جماعت کرائی تھی پھر فتنے کے خدشے کے پیش نظر ترک کر دی جب سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اپنے دور میں دوبارہ نماز تراویح باجماعت ادا ہوتے دیکھی تو اس کی تحسین فرمائی کیونکہ اس کی اصل عہد نبوی میں موجود تھی لہٰذا اس سے مراد شرعی بدعت نہیں بلکہ لغوی بدعت ہے .
امام بیہقی رحمہ اللہ (م 458ھ) فرماتے ہیں :
لم يكن فيما صنع خلاف ما مضى من كتاب أو سنة أو إجماع فلم يكن بدعة ضلالة بل كان إحداث خير له أصل فى السنة
”سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا یہ اقدام کتاب سنت اور اجماع کے خلاف نہیں تھا لہٰذا یہ گمراہی والی بدعت نہیں بلکہ ایسی بھلائی کا احیا تھا جس کی اصل سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں موجود تھی .“
(السنن الصغیر817 )
❀ علامہ ابن رجب رحمہ اللہ (م795 ھ)فرماتے ہیں :
كل بدعة ضلالة من جوامع الكلم لا يخرج عنه شيء وهو أصل عظيم من أصول الدين وهو شبيه بقوله من أحدث فى أمرنا ما ليس منه فهو رد فكل من أحدث شيئا ونسبه إلى الدين ولم يكن له أصل من الدين يرجع إليه فهو ضلالة والدين بريء منه وسواء فى ذلك مسائل الاعتقادات أو الأعمال أو الأقوال الظاهرة والباطنة وأما ما وقع فى كلام السلف من استحسان بعض البدع فإنما ذلك فى البدع اللغوية لا الشرعية فمن ذلك قول عمر رضى الله عنه لما جمع الناس فى قيام رمضان على إمام واحد فى المسجد وخرج ورآهم يصلون كذلك فقال نعمت البدعة هذه
”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ہر بدعت گمراہی ہے“ یہ فرمان جامع کلمات میں سے ہے کوئی عمل اس کے حکم سے خارج نہیں یہ حدیث دین کا ایک عظیم قاعدہ ہے اور اس فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے مشابہ ہے ”جو شخص ہمارے دین میں ایسا کام جاری کرے جس کی اصل (کتاب سنت اور اجماع) میں نہ ہو وہ باطل ہے“ چنانچہ جو کوئی کسی کام کو دین کی طرف منسوب کرے اور اس کی بنیاد دین کے کسی اصول پر نہ ہو وہ کام گمراہی کہلائے گا دین اس سے بری ہے خواہ اس کا تعلق اعتقادی مسائل سے ہو یا ظاہری و باطنی اقوال و اعمال سے بعض سلف کے کلام میں بعض بدعات کی تحسین وارد ہوئی ہے یہ تحسین لغوی بدعات کی ہے شرعی بدعات کی نہیں لغوی طور پرکسی کام کو بدعت کہنے کی ایک مثال سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا یہ قول ہے انہوں نے رمضان المبارک میں مسجد کے اندر لوگوں کو جمع کر کے ان کے لیے ایک امام منتخب کیا پھر ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے دیکھا کہ صحابہ ایک ہی امام کے پیچھے نماز پڑھ رہے ہیں تو فرمایا یہ تجدید نوکیا خوب ہے!“
(جامع العلوم والحکم 128/2)

شبہ نمبر 2 :

❀ ابو مالک سعد بن طارق بن اشیم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے کہا ابا جان! آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابوبکر عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کا زمانہ پایا نیز کوفہ میں علی رضی اللہ عنہ کو پانچ سال تک دیکھا کیا وہ نماز فجر میں قنوت پڑھتے تھے فرمایا :
أى بني محدث ”بیٹا! یہ (دوام) نیا ہے .“
(مسند الإمام أحمد 472/3، سنن النسائی1081 سنن الترمذی402-403 سنن ابن ماجہ : 1241 وسندہ صحیح)
امام ترمذی رحمہ اللہ نے اسے ”حسن صحیح“ کہا ہے .
یہ وہی بات ہے جو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے تراویح کے حوالے سے کہی تھی یہاں بھی لغوی بدعت مراد ہے نہ کہ شرعی مطلب یہ ہے کہ اس کی اصل تو ثابت ہے مگر دوام کے ساتھ اب ہونے لگی ہے جیسا کہ سماوی و ارضی آفت و پریشانی پر نماز فجر میں قنوت پڑھنا ثابت ہے دیکھیں صحیح بخاری (1002) صحیح مسلم (677) اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد نماز فجر میں قنوت پڑھنا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ (شرح معانی الآثار 250/1 وسندہ صحیح) سیدنا علی رضی اللہ عنہ ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ (شرح معانی الآثار 251/1 وسندہ صحیح) اور سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما (شرح معانی الآثار 252/1 وسندہ صحیح) سے قنوت پڑنا ثابت ہے یہ بھی یاد رہے کہ نہ تو سیدنا طارق بن اشیم رضی اللہ عنہ فجر میں قنوت نازلہ کی نفی کر رہے ہیں اور نہ ہی ابو مالک کا سوال مطلق نفی کے لیے ہے بلکہ ان کے مدنظر وہی دوام و استمرار تھا جس کا انہوں نے مشاہدہ کیا اور اس بارے میں سوال اٹھایا کہ کیا عہد نبوی میں اس دوام کے ساتھ کبھی پڑھی گئی .

شبہ نمبر3 :

❀ سیدنا جریر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
من سن فى الإسلام سنة حسنة فله أجرها وأجر من عمل بها بعده من غير أن ينقص من أجورهم شيء ومن سن فى الإسلام سنة سيئة كان عليه وزرها ووزر من عمل بها من بعده من غير أن ينقص من أوزارهم شيء
”جس نے اسلام میں اچھا طریقہ جاری کیا اور لوگوں نے اسے دیکھ کر عمل شروع کر دیا تو اسے بھی اتنا ہی اجر ملے گا جتنا عمل کرنے والوں کو ملے گا بغیر اس کے کہ ان کے اجر میں کوئی کمی ہو اور جس نے اسلام میں کوئی برا کام جاری کیا اور لوگوں نے اسے اپنایا تو اسے اس گناہ کی پیروی کرنے والوں کے برابر گناہ ملے گا بغیر اس کے کہ ان کے گناہ میں کوئی کمی ہو“
(صحیح مسلم 1017)
اس حدیث کو بدعت کی تقسیم پر اسے دلیل بنانا درست نہیں کیونکہ حدیث کا سیاق و سباق اس کی نفی کرتا ہے ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کچھ دیہاتی حاضر ہوئے جو اونی کپڑوں میں ملبوس تھے آپ نے ان کی بدحالی اور ضرورت دیکھ کر لوگوں کو ان پر صدقہ کرنے کا حکم دیا لوگوں نے کچھ تاخیر کی جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر ناگواری کے آثار ظاہر ہوئے اسی دوران ایک انصاری درہموں کی تھیلی لے کر آیا پھر دوسرا بھی آیا اور اس طرح صدقہ دینے کا سلسلہ شروع ہو گیا اس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر خوشی کے آثار نمایاں ہوئے تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا ۔
اس حدیث سے بدعت کا کوئی جواز نہیں ملتا کیونکہ صدقہ کرنا قرآن و حدیث سے مشروع اور جائز ہے لوگ اس سے پیچھے تھے جب ایک صحابی نے صدقہ کرنے میں پہل کی تو وہ دوسروں کے لیے اس خیر کے کام میں نمونہ بنے اس سے دیگر صحابہ میں رغبت بڑھی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا معلوم ہوا کہ یہاں سنت حسنہ سے مراد شرعی احکام ہیں جو لوگوں سے متروک یا ناواقف ہیں اور انہیں جاری کرنا قابل تحسین ہے ۔
❀ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ان الفاظ سے مروی ہے :
من دعا إلى هدى كان له من الأجر مثل أجور من تبعه لا ينقص ذلك من أجورهم شيئا ومن دعا إلى ضلالة كان عليه من الإثم مثل آثام من تبعه لا ينقص ذلك من آثامهم شيئا
”جو ہدایت کی دعوت دے اس کے لیے اس کی پیروی کرنے والوں کی مانند اجر و ثواب ہوگا ان کے اجر و ثواب میں بھی کمی نہیں ہوگی اور جو گمراہی وضلالت کی طرف بلائے اس کے لیے اس کی پیروی میں گناہ کرنے والوں کی مانند گناہ ہوگا ان کے گناہوں میں کچھ کمی نہیں ہوگی .“
(صحیح مسلم2674 )
یہاں ہدایت سے مرادوہ کارِ خیر ہے جو قرآن وحدیث سے ثابت ہے کیونکہ قرآن وحدیث میں ہدایت سے مراد قرآن و سنت لیا گیا ہے نیز اس حدیث سے بدعت کی مذمت تو ثابت ہوتی ہے جواز نہیں .
❀ علامہ ابن ابی العز حنفی رحمہ اللہ (م 792ھ) فرماتے ہیں :
ما يستدل به من قوله صلى الله عليه وسلم من سن سنة حسنة على أن البدع منها حسن ومنها قبيح غير مسلم بل عموم قوله صلى الله عليه وسلم كل بدعة ضلالة لا يخص منها شيئا لأن المراد البدعة الشرعية لا اللغوية أى كل بدعة لم تشرع فى الدين فهي ضلالة وصلاة التراويح ليست بدعة شرعية وإن كانت بدعة لغوية لكونها حدثت بعد الرسول صلى الله عليه وسلم فإن النبى صلى الله عليه وسلم بين العذر فى ترك المواظبة عليها وهو خشية أن تكتب علينا وهذا بعده مأمون مع أنه لو لم يبين العذر فى ترك المواظبة لكان مما سنه الخلفاء الراشدون وقد أمرنا باتباعهم فيما سنوه لنا
”نبی کریم صلی للہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا ”جس نے اچھی سنت جاری کی“ اس سے استدلال کیا جاتا ہے کہ بعض بدعات حسنہ ہوتی ہیں بعض قبیحہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے فرمان نعم البدعة هذه یہ تجدید نو کیا خوب ہے!“ سے بھی یہی دلیل لی جاتی ہے حالاں کہ یہ استدلال درست نہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا كل بدعة ضلالة ”ہر بدعت گمراہی ہے“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان عام ہے اس سے کچھ مستثنیٰ نہیں مطلب یہ ہے کہ دین میں ہر بدعت گمراہی ہے اس فرمان نبوی میں بدعت شرعیہ کی مذمت ہے نہ کہ لغویہ کی نماز تراویح بدعت شرعیہ نہیں ہے بدعت لغو یہ ہے کیوں کہ اس کی مواظبت کے ساتھ باجماعت ادا ئیگی عہد نبوی کے بعد جاری ہوئی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مواظبت کے ساتھ باجماعت نماز تراویح ترک کرنے کی وجہ بتا دی تھی وہ یہ کہ اگر اسی طرح چلتا رہتا تو ممکن تھا کہ تراویح فرض ہو جاتی بعد میں یہ خدشہ ختم ہو گیا اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم وجہ نہ بتاتے تب بھی یہ خلفائے راشدین کی سنت قرار پاتی اور ہمیں ان کے اتباع کا حکم ہے .“
(التنبيه على مشكلات الهداية 1/ 549- 551)

شبہ نمبر4 :

❀ مفتی احمد یار خان نعیمی صاحب نے لکھا ہے :
”بخاری (4986) میں ہے کہ حضرت صدیق نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہما کو قرآن پاک جمع کرنے کا حکم دیا تو انہوں نے عرض کیا کہ كيف تفعلون شيئا لم يصنعه رسول الله صلى الله عليه وسلم قال هو خير” آپ وہ کام کیوں کرتے ہیں جو حضور علیہ السلام نے نہ کیا صدیق نے فرمایا کہ یہ کام اچھا ہے“ حضرت زید بن ثابت نے بارگاہِ صدیقی رضی اللہ عنہما میں عرض کیا کہ قرآن کا جمع کرنا بدعت ہے آپ بدعت کیوں ایجاد کر رہے ہیں حضرت صدیق نے فرمایا کہ بدعت تو ہے مگر حسنہ ہے یعنی اچھی ہے اس سے پتہ لگا کہ فعل صحابہ کرام بدعت حسنہ ہے .“
(جاء الحق 1/ 227)
اس حدیث میں بدعت کے حسنہ اور سیئہ ہونے کے الفاظ تو کجا اشارہ بھی نہیں ہے دوسری بات یہ کہ جمع قرآن تو خلفائے راشدین کی سنت ہے بدعت تو ہے ہی نہیں
❀ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے .
عليكم بسنتي وسنة الخلفاء الراشدين المهديين
”میری اور خلفائے راشدین کی سنت لازم پکڑو .“
(مسند الإمام أحمد 4/ 126 – 127 سنن أبي داود : 4607 سنن الترمذي2676 وسنده صحيح)
اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے ”حسن صحیح“ امام ابن حبان رحمہ اللہ (5) حافظ ضیاء مقدسی رحمہ اللہ (اتباع السنة واجتناب البدع ) نے ”صحیح“ حافظ بزار رحمہ اللہ (جامع بیان العلم وفضله لابن عبد البر2306) نے ”ثابت صحیح“ اور حافظ ابن عبد البر رحمہ اللہ (جامع بیان العلم وفضله 2306 ) نے ”ثابت“ کہا ہے
❀ امام حاکم رحمہ اللہ ( 95/1) فرماتے ہیں .
صحيح ليس له علة
”یہ حدیث صحیح ہے اس میں کوئی علت نہیں“
حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے ۔
❀حافظ ابونعیم اصبہانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
هذا حديث جيد من صحيح حديث الشاميين
”یہ شامیوں کی صحیح مرویات میں سے جید حدیث ہے . “
(المُسند المُستَخرَج على صحيح الإمام مسلم 1/ 36)
❀ حافظ بغوی رحمہ اللہ نے ”حسن“ کہا ہے ۔
(شرح السنة 102)
❀ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
صححه أيضا الحافظ أبو نعيم الأصفهاني والدغولي وقال شيخ الإسلام الأنصاري هو أجود حديث فى أهل الشام وأحسنه
”حافظ ابونعیم اصفہانی اور حافظ دغولی رحمہ اللہ نے بھی صحیح قرار دیا ہے شیخ الاسلام انصاری رحمہ اللہ کہتے ہیں شامیوں کی مرویات میں سے یہ حدیث جید اور عمدہ ترین ہے“
(تحفة الطالب 36)
قرآن کو جمع کرنا اس لیے بھی بدعت نہیں کہ اس کی اصل عہد نبوی میں موجود تھی اور اس پر صحابہ کا اجماع بھی ہے جو کہ شرعی دلیل ہے .
صحابہ کرام کا اجماعی عمل جو شرعی دلیل سے بھی ثابت ہو اسے بدعات کے دفاع میں پیش کرنا بہت بڑی جسارت ہے .
کیا آج جن کاموں کو بدعت حسنہ کہا جاتا ہے ان کے بارے میں یہ ثابت کیا جا سکتا ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خلفائے راشدین اور صحابہ کرام کے زمانے میں موجود تھے قطعا نہیں بلکہ برسرعام یہ اقرار کیا جاتا ہے کہ فلاں کام کا آغاز چوتھی صدی ہجری میں ہوا لیکن پھر بھی اسے بدعت حسنہ قرار دینے پر پورا زور صرف کیا جاتا ہے .

شبہ نمبر 5 :

❀ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے :
ما رأى المسلمون حسنا فهو عند الله حسن وما رأى المسلمون سيئا فهو عند الله سيئ
”جسے مسلمان اچھا خیال کریں وہ اللہ کے ہاں بھی اچھا ہے اور جسے مسلمان برا خیال کریں وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں بھی برا ہے .“
(مسند الإمام أحمد 1/ 379 المستدرك للحاكم3 / 78، ح : 4465 وسنده حسن)
اسے امام حاکم رحمہ اللہ نے ”صحیح الاسناد“ اور حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ”صحیح“ کہا ہے .
حافظ سخاوی رحمہ اللہ (المقاصد الحسنة 959) اور علامہ محمد طاہر گجراتی رحمہ اللہ (تذكرة الموضوعات ص 91 ) نے اسے ”حسن“ کہا ہے .
حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ (تحفة الطالب334 ) نے اس کی سند کو ”جید“ اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (الدراية 2/ 187) نے اس کی سند کو ”حسن“ کہا ہے .
❀ حافظ ہیثمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
رجاله موثقون
”اس کے تمام راویوں کی توثیق کی گئی ہے“
(مجمع الزوائد 1/ 178)
یہاں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی مراد مسلمانوں کا اجماع ہے اور اجماع فی نفسہ حجت ہے لہذا اس سے بدعت کا جواز نہیں نکلتا .
❀ علامہ ابن ابی العز حنفی رحمہ اللہ (م 752ھ) فرماتے ہیں :
الصحيح أنه من كلام عبد الله بن مسعود ولا يدل على أنه ما رآه بعض المسلمين حسنا فهو عند الله حسن وإنما يدل على أن ما رآه المسلمون كلهم حسنا؛ لأن الألف واللام للعموم بمنزلة كل وهذا يكون إجماعا ولا كلام فيه
”اصل میں یہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا کلام ہے یہ اس بات پر دلیل نہیں کہ جس عمل کو بعض مسلمان اچھا کہیں وہ اللہ کے ہاں بھی اچھا ہی ہو اس سے مراد یہ ہے کہ جس عمل کو تمام کے تمام مسلمان اچھا کہیں وہ اللہ کے ہاں بھی اچھا ہے اس قول میں الف لام عموم کے لیے ہے جس میں تمام مسلمان شامل ہیں اور یہ اجماع ہے اس بارے میں کلام کی گنجائش ہی نہیں .“
(التنبيه على مشكلات الهداية 1/ 499)
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے اس فرمان کا صحیح مطلب و معنی سمجھنے کے لیے آپ کا ایک واقعہ ملاحظہ کیجیے .
❀ عمرو بن سلمہ ہمدانی تابعی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں :
كنا نجلس على باب عبد الله بن مسعود رضى الله عنه قبل صلاة الغداة فإذا خرج مشينا معه إلى المسجد فجاءنا أبو موسى الأشعري رضى الله عنه فقال أخرج إليكم أبو عبد الرحمن قلنا لا بعد فجلس معنا حتى خرج فلما خرج؛ قمنا إليه جميعا فقال له أبو موسى يا أبا عبد الرحمن إني رأيت فى المسجد آنفا أمرا أنكرته ولم أر والحمد لله إلا خيرا قال فما هو فقال إن عشت فستراه قال رأيت فى المسجد قوما حلقا جلوسا ينتظرون الصلاة فى كل حلقة رجل وفي أيديهم حصا فيقول كبروا مائة فيكبرون مائة فيقول هللوا مائة فيهللون مائة ويقول سبحوا مائة فيسبحون مائة قال فماذا قلت لهم قال ما قلت لهم شيئا انتظار رأيك أو انتظار أمرك قال أفلا أمرتهم أن يعدوا سيئاتهم وضمنت لهم أن لا يضيع من حسناتهم ثم مضى ومضينا معه حتى أتى حلقة من تلك الحلق فوقف عليهم فقال ما هذا الذى أراكم تصنعون قالوا يا أبا عبد الرحمن حصا نعد به التكبير والتهليل والتسبيح قال فعدوا سيئاتكم فأنا ضامن أن لا يضيع من حسناتكم شيء ويحكم يا أمة محمد ما أسرع هلكتكم هؤلاء صحابة نبيكم صلى الله عليه وسلم متوافرون وهذه ثيابه لم تبل وآنيته لم تكسر والذي نفسي بيده إنكم لعلى ملة هي أهدى من ملة محمد صلى الله عليه وسلم أو مفتتحو باب ضلالة قالوا والله يا أبا عبد الرحمن ما أردنا إلا الخير قال وكم من مريد للخير لن يصيبه إن رسول الله صلى الله عليه وسلم حدثنا أن قوما يقرءون القرآن لا يجاوز تراقيهم وأيم الله ما أدري لعل أكثرهم منكم ثم تولى عنهم فقال عمرو بن سلمة رأينا عامة أولئك الحلق يطاعنونا يوم النهروان مع الخوارج
”ہم صبح کی نماز سے پہلے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے دروازے پر بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ گھر سے نکلیں اور ہم آپ کے ساتھ مسجد جائیں سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ ہمارے پاس آئے اور پوچھا کیا ابو عبدالرحمن عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ گھر سے نکل آئے ہیں ہم نے عرض کیا ابھی تو نہیں وہ بھی ہمارے ساتھ بیٹھ کر سید نا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا انتظار کرنے لگے جب آپ رضی اللہ عنہ گھر سے نکلے تو ہم ان کی طرف لپکے سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے عرض کیا ابو عبدالرحمن! میں نے ابھی مسجد میں ایک عجیب کام دیکھا ہے الحمد للہ! وہ خیر کا کام ہی لگتا ہے پوچھا وہ کون سا کام ہے عرض کیا زندگی رہی تو آپ بھی دیکھ لیں گے میں نے مسجد میں لوگوں کے کئی حلقے دیکھے وہ لوگ نماز کے انتظار میں بیٹھے ہیں ہر حلقے میں ایک آدمی ہے جو کہتا ہے کہ سو دفعہ اللہ اکبر کہو لوگوں کے ہاتھوں میں کنکریاں ہیں وہ سو دفعہ اللہ اکبر کہتے ہیں پھر وہ کہتا ہے کہ سو دفعہ لا إله إلا اللہ کہو لوگ سو دفعہ لا إله إلا اللہ کہتے ہیں پھر وہ کہتا ہے کہ سو دفعہ سبحان اللہ کہو وہ ایسا ہی کرتے ہیں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرمانے لگے آپ نے ان سے کیا کہا عرض کیا میں نے تو کچھ نہیں کہا آپ کی رائے اور فیصلے کا انتظار تھا سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا آپ ان سے کہہ دیتے کہ وہ (تسبیحات نہیں بلکہ) اپنی برائیاں شمار کریں اور میں ضامن ہوں کہ ان کی نیکیاں ضائع نہیں ہوں گی پھر آپ ہمارے ساتھ نکلے اور ایک حلقے کے پاس پہنچ گئے وہاں رُک کر فرمایا یہ کیا دیکھ رہا ہوں میں کہنے لگے ابو عبدالرحمن! ہم کنکریوں کے ساتھ اللہ اکبر لا إله إلا اللہ اور سبحان اللہ شمار کر رہے ہیں فرمایا اپنے گناہ شمار کریں! میں ضامن ہوں کہ آپ کی کوئی نیکی ضائع نہیں ہوگی مزید فرمایا آہ اے امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم! کتنی جلدی آپ پر ہلاکت آگئی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ ابھی کثیر تعداد میں موجود ہیں آپ کے کپڑے ابھی بوسیدہ نہیں ہوئے آپ کے برتن ابھی ٹوٹے نہیں اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! یا تو آپ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے سے بہتر طریقے پر ہو یا پھر گمراہی کے دروازے کھول رہے ہو وہ کہنے لگے ابو عبدالرحمن! واللہ ہم تو نیکی کے ارادے سے ایسا کر رہے تھے فرمایا کتنے ہی نیکی کے طلب گار ہیں جو نیکی کو نہیں پا سکتے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتایا تھا کہ کچھ لوگ قرآن پڑھیں گے لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا اللہ کی قسم! لگتا ہے کہ ان میں اکثریت تمہاری ہوگی اتنا کہہ کر آپ واپس آگئے عمرو بن سلمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں ہم نے دیکھا کہ ان میں سے اکثر لوگ جنگ نہروان کے دن خوارج کے ساتھ مل کر ہم پر تیر برسا رہے تھے .“
(سنن الدارمي 1/ 60 – 61 إتحاف المهرة لابن حجر 10/ 399 – 400 وسنده حسن)
اس کے تمام راوی ثقہ ہیں .
① حکم بن مبارک کو امام احمد بن حنبل (الأنساب للسمعاني 5/ 17) امام ابن منده (تهذيب التهذيب لابن حجر 2/ 438) امام ابن حبان (الثقات 8/ 195) اور حافظ ذہبی رحمہ اللہ (الكاشف 1/ 183) نے” ثقہ“ قرار دیا ہے .
جمہور کی توثیق کے مقابلے میں امام ابن عدی رحمہ اللہ کی جرح خطا پر مبنی ہے .
(الكامل في ضعفاء الرجال 1/ 185 ترجمة أحمد بن عبدالرحمن الوهبي)
② عمرو بن یحییٰ” ثقہ“ ہیں .
(تقريب التهذيب لابن حجر : 5137 )
③ یحییٰ بن عمرو بن سلمہ کو امام عجلی رحمہ اللہ (1819) نے ثقہ کہا ہے امام یعقوب بن سفیان فسوی رحمہ اللہ (المعرفة والتاريخ 3/ 104) نے لا بأس به کہا ہے امام شعبہ رحمہ اللہ جو کہ غالباً ثقہ سے روایت لیتے ہیں نے ان سے روایت لی ہے .
(الجرح والتعديل لابن أبي حاتم 9/ 179)
④ عمرو بن سلمہ ہمدانی ”ثقہ“ ہیں (تقريب التهذيب لابن حجر : 5041)
❀ ابو عبدالرحمن سلمی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں :
كان عمرو بن عتبة بن فرقد السلمي ومعضد فى أناس من أصحابهما اتخذوا مسجدا يسبحون فيه بين المغرب والعشاء كذا ويهللون كذا ويحمدون كذا فأخبر بذلك عبد الله بن مسعود فقال للذي أخبره إذا جلسوا فآذني فلما جلسوا آذنه فجاء عبد الله عليه برنس حتى دخل عليهم فكشف البرنس عن رأسه ثم قال أنا ابن أم عبد والله لقد جئتم ببدعة ظلماء أو قد فضلتم أصحاب محمد صلى الله عليه وسلم علما فقال معضد وكان رجلا مفوها والله ما جئنا ببدعة ظلماء ولا فضلنا أصحاب محمد صلى الله عليه وسلم فقال عبد الله لئن اتبعتم القوم لقد سبقوكم سبقا مبينا ولئن جرتم يمينا وشمالا لقد ضللتم ضلالا بعيدا
”عمرو بن عتبہ بن فرقد سلمی اور معضد نے مسجد بنائی وہ نماز مغرب اور عشاء کے درمیان لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر اللہ اکبر لا إله إلا اللہ اور الحمد للہ کا ورد کرتے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو اس کی خبر ہوئی تو خبر دینے والے سے فرمایا کہ یہ لوگ جب دوبارہ بیٹھیں مجھے اطلاع دیجیے گا جب مخبر نے اطلاع کی تو آپ وہاں گئے اس وقت آپ نے سر پر ٹوپی اوڑھ رکھی تھی وہ ٹوپی اتاری اور فرمانے لگے میں ام عبد کا بیٹا ہوں اللہ کی قسم! تم لوگوں نے ایک سیاہ بدعت جاری کی ہے یا علم و فضل میں اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ گئے ہو تو معضد نامی منہ پھٹ بولا اللہ کی قسم! نہ تو ہم بدعت کے مرتکب ہیں اور نہ ہی اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ علم والے ہیں تو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرمانے لگے اگر پہلوں کی اتباع کرتے رہو گے تو وہ واضح ہدایت پر تھے اور اگر دائیں بائیں جانے لگے تو کھلی گمراہی تمہارا مقدر ہے“
(المعجم الكبير للطبراني (9/ 126) ح 8633 وسنده حسن)
❀ میثم بن نجابہ رحمہ اللہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہنے لگے :
إني تركت قوما بالمسجد يقولون من سبح كذا وكذا فله كذا وكذا قال قم يا علقمة فلما رآهم قال يا علقمة اشغل عني أبصار القوم فلما سمعهم وما يقولون قال إنكم لمتمسكون بذنب ضلالة أو إنكم لأهدى من أصحاب محمد صلى الله عليه وسلم
”میں نے مسجد میں چند لوگوں کا حلقہ دیکھا وہ کہہ رہے تھے کہ جس نے اتنی مرتبہ سبحان اللہ کہا اس کے لیے اتنا اجر ہے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرمانے لگے علقمہ اٹھو میرے ساتھ چلو جب آپ نے ان کا حلقہ دیکھا تو علقمہ سے کہا ان کا دھیان دوسری طرف کرو جب آپ نے ان کا ذکر سن لیا تو فرمایا یا تو تم گمراہی اور گناہ کے مرتکب ہو یا اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ ہدایت والے ہو .“
(المعجم الكبير للطبراني 9/ 125، ح ، 8627 حسن)
❀ اس سے ملتے جلتے ایک اور واقعہ کے بعد ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا :
إنكم لأهدى من محمد صلى الله عليه وسلم وأصحابه إنكم لمتمسكون بطرف ضلالة
”یا تو تم لوگ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ ہدایت یافتہ ہو یا گمراہی کا راستہ چن چکے ہو.“
(المعجم الكبير للطبراني 9/ 128 ح 8639 وسنده صحيح)
❀ علامہ ابن دقیق العید (م 702ھ) فرماتے ہیں
هذا ابن مسعود أنكر هذا الفعل مع إمكان إدراجه تحت عموم فضيلة الذكر
”سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے خاص ہیئت اور کیفیت کے ساتھ اس فعل پر نکیر کی ہے حالانکہ ذکر کے عمومی دلائل کے تحت اس کا ادراج ممکن تھا . “
(إحكام الأحكام شرح عمدة الأحكام1/ 202 )
جب ذکر جیسے مشروع کام کی ہیئت طریقہ رنگ ڈھنگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہ ہونے کی وجہ سے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے نہ صرف بدعت قرار دیا بلکہ امت کی تباہی و بربادی کا سبب قرار دیا تو ان کے مذکورہ قول سے صدیوں بعد جنم لینے والی بدعات کو سہارا کیسے دیا جا سکتا ہے .
منصف مزاج لوگ خود فیصلہ فرمائیں کہ کیا سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے اس فتویٰ سے آج کی بدعات کا سختی سے رد نہیں ہو جاتا .

شبہ نمبر 6 :

❀ مفتی احمد یار خان نعیمی صاحب لکھتے ہیں :
جو حضرات ہر بدعت یعنی نئے کام کو حرام جانتے ہیں وہ اس قاعدہ کلیہ کے کیا معنی کریں گے کہ الأصل فى الأشياء الإباحة ”تمام چیزوں کی اصل یہ ہے کہ وہ مباح ہیں“ یعنی ہر چیز مباح اور حلال ہے ہاں اگر کسی چیز کو شریعت منع کر دے تو وہ حرام یا منع ہے یعنی ممانعت سے حرمت ثابت ہوگی نہ کہ نئے ہونے سے.“
(جاء الحق 1/ 229)
دین میں ہر نیا کام بدعت ہے جن دلائل میں بدعت کی مذمت وارد ہوئی ہے وہ عام ہیں لہذا ہر بدعت ممنوع اور حرام ہے جہاں تک اس قاعدہ کلیہ کا تعلق ہے تو یہ دنیاوی معاملات زندگی کی حلت و حرمت کے متعلق ہے نہ کہ شرعی احکام و اعمال اور عبادات کے متعلق .
❀ علامہ ابن قیم رحمہ اللہ (م751 ھ) فرماتے ہیں :
إن الله سبحانه لا يعبد إلا بما شرعه على ألسنة رسله فإن العبادة حقه على عباده وحقه الذى أحقه هو ورضي به وشرعه وأما العقود والشروط والمعاملات فهي عفو حتى يحرمها
”اللہ تعالیٰ کی عبادت اسی طریقے سے معتبر ہوگی جو اس نے اپنے انبیاء علیہ السلام کی زبانی بیان کر دیا ہے کیونکہ عبادت بندوں کے ذمہ اللہ کا حق ہے اور اس کا حق (ادا کرنے کا طریقہ) وہی ہے جو اس نے خود پسند اور مقرر کیا ہے البتہ شروط و معاملات کو جب تک اللہ حرام قرار نہ دے جائز ہوتے ہیں.“
(إعلام الموقعين 1/ 344)
اگر دین کے ہر معاملے میں اصل اباحت کا قاعدہ کلیہ تسلیم کر لیا جائے تو ارباب بدعت بھی بہت سے امور کو بدعت کہیں گے جیسے کہ
① اگر کوئی پانچ فرض نمازوں کی بجائے چھ یا سات فرض نمازیں بنالے اور اسے بدعت حسنہ قرار دے تو کیا نیک عمل ہونے کی وجہ سے اس کی اجازت ہوگی ؟
② نماز جنازہ اور عیدین سے پہلے اذان شروع کر دے اور اسے بدعت حسنہ کا درجہ دے تو کیا اس کا یہ عمل کار ثواب ہوگا ؟
③ بدعت حسنہ کہہ کر عید الفطر کے دن بھی قربانی شروع کر دے تو کیا اس کا یہ عمل بھی بدعت حسنہ کہہ کر دین میں شامل کر لیا جائے گا ؟