مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

بدعت قرآن، حدیث، آثار صحابہ کی روشنی میں مع 10 مشہور شبہات

فونٹ سائز:

🌿 بدعت کی لغوی تعریف 🌿

مضمون کے اہم نکات

علامہ مجد الدین یعقوب بن محمد فیروز آبادیؒ رقمطراز ہیں:

﴿بدعة بالكسر: الحدث فى الدين بعد الإكمال أو ما استحدث بعد النبى من الأهواء والاعمال .﴾

📗 القاموس المحيط: 3/3

بدعت : باء کے کسرہ کے ساتھ : ایسی چیز جو تکمیلِ دین کے بعد نکالی جائے یا وہ چیز جو رسول اللہ ﷺ کے بعد خواہشات و اعمال کی صورت میں پیدا کی جائے۔

📚 علامہ محمد بن ابی بکر الرازیؒ فرماتے ہیں:

﴿البدعة: الحديث فى الدين بعد الإكمال .﴾

📘 مختار الصحاح ، ص : 44

’’بدعت تکمیلِ دین کے بعد کسی چیز کو دین میں نیا ایجاد کرنا ہے۔‘‘

🌸 ابو اسحٰق الشاطبیؒ فرماتے ہیں:

’’اصل مادہ اس کا بدع ہے‘‘، جس کا مفہوم ہے بغیر کسی نمونے کے چیز کا ایجاد کرنا۔

اور اسی سے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿بَدِیْعُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ﴾

یعنی: آسمانوں اور زمین کو کسی سابقہ نمونے کے بغیر بنانے والا۔

مزید فرمایا:

﴿قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ﴾

📖 (الاحقاف : 9)

’’آپ کہہ دیں! میں اللہ کی طرف سے رسالت لے کر آنے والا پہلا نیا آدمی نہیں ہوں بلکہ مجھ سے پہلے بھی بہت رسول آچکے ہیں۔‘‘

اسی طرح جب کہا جاتا ہے:

’’ابْتَدَعَ فُلَانٌ بِدْعَةٌ‘‘

یعنی اس نے ایسا طریقہ شروع کیا جس کی طرف پہلے کسی نے سبقت نہیں کی۔

📘 الاعتصام ، الباب الاول : 36/1

ان ائمہ لغات کی توضیحات سے معلوم ہوا کہ بدعت کا مفہوم یہ ہے کہ ایسی چیز ایجاد کی جائے جس کی مثال یا نمونہ پہلے موجود نہ ہو۔

🌷 بدعت کی اصطلاحی تعریف 🌷

حافظ ابن کثیرؒ رقمطراز ہیں کہ:

﴿بَدِیْعُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ﴾ کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کو کسی سابقہ مثال کے بغیر پیدا کرنے والا ہے۔

یہی لغوی تقاضا ہے، اس لیے کہ لغت میں ہر نئی چیز کو بدعت کہا جاتا ہے۔

اور بدعت کی دو اقسام ہیں👇

⚖ (1) بدعتِ شرعی:

جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے:

’’ہر نئی چیز بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔‘‘

💡 (2) بدعتِ لغوی:

جیسے امیرالمؤمنین عمرؓ نے لوگوں کے جمع ہو کر تراویح پڑھنے کے متعلق فرمایا:

"یہ کیا ہی اچھی بدعت ہے”

📗 تفسير ابن كثير 348/1، بتحقيق عبد الرزاق المهدى، تفسير سورة البقرة آيت :117

📖 امام عبد الرحمٰن بن رجبؒ فرماتے ہیں:

﴿والمراد بالبدعة: مما لا أصل له فى الشريعة يدل عليه فأما ما كان له أصل من الشرع يدل عليه فليس ببدعة شرعا وإن كان بدعة لغة﴾

📘 جامع العلوم والحكم : 127/2

’’بدعت سے مراد وہ نو ایجاد چیز ہے جس کی شریعت میں کوئی اصل نہ ہو جو اس پر دلالت کرے۔

بہر کیف جس کی شریعت میں کوئی اصل ہو جو اس پر دلالت کرے تو وہ شرعی بدعت نہیں اگرچہ لغت کے اعتبار سے بدعت ہو۔‘‘

📙 مولوی عبد الغنی خان حنفی اپنی کتاب

"الـجـنة لأهل السنة” (ص: 161)

میں ’’البحر الرائق‘‘ اور ’’در مختار‘‘ کے حوالے سے لکھتے ہیں:

’’بدعت وہ چیز ہے جو ایسے حق کے خلاف ایجاد کی گئی ہو جو رسول اللہ ﷺ سے اخذ کیا گیا ہو — علم، عمل یا حال میں — اور کسی شبہ کی بنیاد پر اسے اچھا سمجھ کر دینِ قویم اور صراطِ مستقیم بنا لیا گیا ہو۔‘‘

🌺 نتیجہ:

ان ائمہ اور حنفی اکابر کی توضیحات سے معلوم ہوا کہ:

ہر وہ نیا کام جسے ثواب و عبادت سمجھ کر دین میں داخل کر لیا گیا ہو وہ بدعت ہے۔

لفظ ’’کل‘‘ عموم پر دلالت کرتا ہے۔

جس طرح:

﴿كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ﴾

کا مطلب ہے ’’ہر نفس کو موت آئے گی‘‘،

اسی طرح:

كل بدعة ضلالة

کا مطلب ہے ’’دین میں ہر بدعت گمراہی ہے‘‘۔

لہٰذا یہ کہنا کہ بدعتِ حسنہ بھی ہوتی ہے، غلط ہے۔

کیونکہ اگر کوئی کہے کہ شرکِ حسنہ یا کفرِ حسنہ بھی ہوتا ہے —

تو پھر اس کا کیا جواب ہوگا؟

🌿 قُرآنِ کریم کی روشنی میں بدعت کی مذمت 🌿

اللہ تعالیٰ نے علمائے یہود کے لیے سخت وعید فرمائی —

جو تورات کی آیات اور احکام کو دنیا کی حقیر متاع کے لیے بدل دیتے تھے،

اور تحریف شدہ کلام کو اللہ کا کلام قرار دیتے تھے۔

ایسے لوگ دوہرا ظلم کرتے تھے:

1️⃣ دین میں تبدیلی،

2️⃣ اور ناجائز طریقے سے لوگوں کا مال کھانا۔

📖 اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿فَوَيْلٌ لِّلَّذِينَ يَكْتُبُونَ الْكِتَابَ بِأَيْدِيهِمْ ثُمَّ يَقُولُونَ هَٰذَا مِنْ عِندِ اللَّهِ لِيَشْتَرُوا بِهِ ثَمَنًا قَلِيلًا فَوَيْلٌ لَّهُم مِّمَّا كَتَبَتْ أَيْدِيهِمْ وَوَيْلٌ لَّهُم مِّمَّا يَكْسِبُونَ﴾

📘 (البقره : 79)

ترجمہ:

’’پس خرابی ہے ان لوگوں کے لیے جو اپنے ہاتھ سے کتاب لکھ لیتے ہیں، پھر کہتے ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے، تاکہ اس کے بدلے کچھ مال حاصل کریں، پس ان کے لیے خرابی ہے، اپنے ہاتھوں سے لکھی ہوئی (کتاب) کے سبب، ان کے لیے خرابی ہے ان کی اپنی کمائی کے سبب۔‘‘

📚 شیخ الاسلام امام ابن تیمیہؒ فرماتے ہیں:

اگرچہ یہ آیت یہود علماء کے بارے میں ہے،

لیکن اس میں ان لوگوں کو بھی شامل کیا گیا ہے

جو بدعتوں کو صحیح ثابت کرنے کے لیے

قرآن و سنت میں تحریف کرتے ہیں۔

یہ ان لوگوں کی بھی مذمت ہے جو:

قرآن کو سمجھے بغیر صرف حروف کی تلاوت کرتے ہیں،

یا دنیاوی مقاصد کے لیے جھوٹی بات کو

اللہ کی شریعت قرار دیتے ہیں،

اور وہ جو قرآن و سنت کو چھپاتے ہیں تاکہ حق واضح نہ ہو۔

🌸 اللہ تعالیٰ کا فرمان:

﴿وَأَنَّ هَٰذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَن سَبِيلِهِ ذَٰلِكُمْ وَصَّاكُم بِهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ﴾

📖 (الانعام : 153)

ترجمہ:

’’اور بے شک یہی میری سیدھی راہ ہے، پس تم لوگ اسی کی پیروی کرو،

اور دوسرے طریقوں پر نہ چلو جو تمھیں اس کی سیدھی راہ سے الگ کر دیں،

اللہ نے یہی حکم دیا ہے تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو۔‘‘

📗 حافظ ابن کثیرؒ فرماتے ہیں:

اسلام کے لیے سبیل (راہ) واحد ہے،

جبکہ دیگر مذاہب و فرقوں کے لیے سبل (راہیں) جمع کی صورت میں ہیں۔

کیونکہ حق ایک ہے اور باطل کے کئی رخ ہیں۔

📚 تفسير ابن كثير، تحت الآية

📖 ابن عطیہؒ فرماتے ہیں:

"سبل” سے مراد یہودیت، نصرانیت، مجوسیت

اور تمام بدعتی و گمراہ فرقے ہیں

جنہیں اہلِ ہوا و ہوس نے ایجاد کیا۔

📖 قتادہؒ فرماتے ہیں:

جان لو کہ ہدایت کا راستہ ایک ہے —

اسی پر چلنے والوں کا انجام جنت ہے،

اور ابلیس نے بہت سے راستے بنائے

جو گمراہی کی طرف لے جاتے ہیں اور ان کا انجام جہنم ہے۔

🌿 نتیجہ:

امتِ اسلام کا اتحاد اسی وقت ممکن ہے

جب وہ تمام فرقوں کو چھوڑ کر

صرف قرآن و سنت کی پیروی کرے۔

جیسا کہ امام مالکؒ نے فرمایا:

"یہ امت اسی راہ پر چل کر اصلاح پائے گی

جس پر چل کر صحابہ کرامؓ نے اصلاح پائی تھی۔”

🌸 اللہ تعالیٰ کا فرمان:

﴿قُلْ إِنَّ الَّذِينَ يَفْتَرُونَ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ لَا يُفْلِحُونَ﴾

📘 (یونس : 69)

ترجمہ:

’’آپ کہہ دیجیے کہ بے شک جو لوگ اللہ پر جھوٹ بہتان باندھتے ہیں وہ کامیاب نہیں ہوں گے۔‘‘

📍 بدعت افترا علی اللہ اور افترا علی الرسول ﷺ کے مترادف ہے۔

بدعتی کبھی کامیاب نہیں ہوتا — اس کا ٹھکانہ جہنم ہے۔

📖 اللہ تعالیٰ کا مزید فرمان:

﴿وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمْرًا أَن يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ وَمَن يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا مُّبِينًا﴾

📘 (الاحزاب : 36)

ترجمہ:

’’اور جب اللہ اور اس کا رسول کسی معاملے میں فیصلہ کر دے،

تو کسی مسلمان مرد اور عورت کے لیے اس بارے میں کوئی اختیار باقی نہیں رہتا۔

اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا

وہ کھلی گمراہی میں مبتلا ہو جائے گا۔‘‘

📍 مطلب یہ کہ دین کے کسی معاملے میں

رائے، قیاس یا بدعت کی کوئی گنجائش نہیں —

جب اللہ و رسول ﷺ کا حکم آ جائے، تو بس اطاعت لازم ہے۔

📖 اللہ تعالیٰ کا فرمان:

﴿فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّىٰ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا﴾

📘 (النساء : 65)

ترجمہ:

’’آپ کے رب کی قسم! وہ لوگ مومن نہیں ہو سکتے

جب تک آپ کو اپنے اختلافی امور میں حَکم نہ مان لیں،

پھر آپ کے فیصلہ پر اپنے دلوں میں کوئی تنگی نہ پائیں،

اور پورے طور پر تسلیم کر لیں۔‘‘

📚 حافظ ابن کثیرؒ فرماتے ہیں:

یہ حکم تمام امور کو شامل ہے۔

جب اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا حکم آجائے،

تو کسی اور کی رائے یا قول کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہتی۔

📘 تفسير ابن كثير، تحت الآية

🌿 ایک اور فرمانِ الٰہی:

﴿أَمْ لَهُمْ شُرَكَاءُ شَرَعُوا لَهُم مِّنَ الدِّينِ مَا لَمْ يَأْذَن بِهِ اللَّهُ وَلَوْلَا كَلِمَةُ الْفَصْلِ لَقُضِيَ بَيْنَهُمْ وَإِنَّ الظَّالِمِينَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾

📖 (الشورى : 21)

ترجمہ:

’’کیا ان کے ایسے شریک ہیں جنہوں نے ان کے لیے ایسا دین مقرر کیا

جس کی اللہ نے اجازت نہیں دی؟

اور اگر اللہ کی طرف سے فیصلہ مؤخر نہ ہوتا

تو ان کے درمیان دنیا ہی میں فیصلہ کر دیا جاتا،

اور بے شک ظالموں کے لیے دردناک عذاب ہے۔‘‘

📚 مفسرین فرماتے ہیں:

یہ آیت شرک باللہ اور بدعت کے ہر تصور کو رد کرتی ہے۔

اگر اللہ نے فیصلہ مؤخر نہ کیا ہوتا،

تو ان بدعتیوں کو دنیا ہی میں ہلاک کر دیا جاتا۔

📘 تيسر الرحمن ، ص : 1359

🌸 اللہ تعالیٰ کا فرمان:

﴿وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَىٰ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ وَهُوَ يُدْعَىٰ إِلَى الْإِسْلَامِ وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ﴾

📘 (الصف : 7)

ترجمہ:

’’اور اس سے بڑا ظالم کون ہوگا جو اللہ کے خلاف جھوٹ باندھے

حالانکہ اسے اسلام کی دعوت دی جارہی ہو،

اور اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔‘‘

اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو

اسلام جیسا برحق دین دے کر مبعوث فرمایا —

جو حق و باطل کے درمیان واضح فرق کر دیتا ہے۔

اب جو شخص اس دین سے منہ موڑ کر

اللہ پر افترا کرے —

وہی سب سے بڑا ظالم ہے۔

📍 یہی حال مشرکینِ قریش کا تھا:

وہ اللہ کے لیے بیٹے، شریک اور معبود ٹھہراتے،

حرام کو حلال، اور حلال کو حرام کرتے،

اور کہتے کہ “اگر اللہ نہ چاہتا تو ہم ایسا نہ کرتے” —

حالانکہ یہی افترا علی اللہ ہے۔

🌿 سنتِ رسول ﷺ کی روشنی میں بدعت کی مذمت🌿

بدعت دین میں اضافہ کا نام ہے، جس سے قرآن و سنت میں سختی سے منع کیا گیا ہے۔

🟢 ① روایتِ سمرہ بن جندبؓ — اضافہ سے ممانعت

﴿إذا حدثتكم حديثا فلا تزيدن عليه﴾

📘 مسند احمد 11، حدیث نمبر: 81691

"جب میں تمھیں کوئی بات بیان کروں تو تم اس پر اضافہ ہرگز نہ کرنا۔”

وضاحت:

رسول اللہ ﷺ نے دین میں اپنی طرف سے کسی اضافہ یا کمی سے سختی سے روکا۔

یعنی دین وہی ہے جو نبی ﷺ نے سکھایا، اس میں اپنی رائے شامل کرنا ممنوع ہے۔

🟢 ② روایتِ براء بن عازبؓ — دعا کے الفاظ عین سنت کے مطابق

﴿عن البراء بن عازبؓ قال: قال النبى ﷺ: إذا أتيت مضجعك ، فتوضأ وضونك للصلاة ، ثم اضطجع على شقك الأيمن، ثم قل اللهم أسلمت وجهى إليك ، وفوضت أمرى إليك ، وألجأت ظهرى إليك ، رغبة ورهبة إليك ، لا ملجأ ولا ، أ منك إلا إليك ، اللهم آمنت بكتاب الذى أنزلت ، ونبيك الذى أرسلت. فإن مت من ليلتك، فأنت على الفطرة، واجعلهن آخر ما تكلم به . قال: فرددتها على النبى ﷺ، فلما بلغت: اللهم آمنت بكتابك الذى أنزلت ، قلت: ورسولك، قال: لا، ونبيك الذى أرسلت﴾

📗 صحيح البخاري ، رقم : 247

مکمل ترجمہ:

سیدنا براء بن عازبؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"جب تم اپنی خوابگاہ میں جاؤ تو نماز کا سا وضو کرو، پھر اپنے دائیں پہلو پر لیٹ کر یہ دعا پڑھو:

اے اللہ! تیرے ثواب کے شوق اور تیرے عذاب کے خوف سے میں نے اپنے آپ کو تیرے سپرد کیا، تجھ پر توکل کیا، تجھے اپنا پشت پناہ بنایا، تجھ سے بھاگ کر کہیں پناہ نہیں مگر تیرے ہی پاس۔ اے اللہ! میں اس کتاب پر ایمان لایا جو تو نے اتاری اور تیرے نبی پر جو تو نے بھیجا۔

اگر تو اس رات فوت ہو جائے تو فطرتِ اسلام پر مرو گے،

اور یہ کلمات آخری بات کے طور پر کہنا۔”

براءؓ فرماتے ہیں:

"میں نے یہ الفاظ نبی ﷺ کے سامنے دہرائے، جب میں نے کہا: ’آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ وَرَسُولِكَ‘ تو آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں، یوں کہو ’وَنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ‘۔”

وضاحت:

یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ نبی ﷺ نے حتیٰ کہ دعاؤں کے الفاظ میں بھی اپنی مرضی سے تبدیلی کی اجازت نہیں دی۔

یعنی سنت کے الفاظ، طریقے اور عمل میں معمولی تبدیلی بھی قابلِ قبول نہیں۔

🟢 ③ وصیتِ رسول ﷺ — بدعات سے اجتناب اور سنتِ خلفائے راشدین کی پابندی

﴿عن العرباض بن سارية ، قال: وعظنا رسول الله ﷺ يوما بعد صلاة الغداة موعظة بليغة ذرفت منها العيون ووجلت منها القلوب، فقال رجل: إن هذه موعظة مودع فماذا تعهد إلينا يارسول الله؟ قال: أوصيكم بتقوى الله والسمع والطاعة وإن تأمر عليكم عبد حبشي فإنه من يعش منكم فسيرى اختلافا كثيرا وإياكم ومحدثات الأمور فإنها ضلالة فمن أدرك منكم ذالك فعليه بسنتي وسنة الخلفاء الراشدين المهديين ، عضوا عليها بالنواجذ﴾

📕 سنن ترمذی، رقم: 2676؛ ابو داؤد: 4607؛ ابن ماجہ: 42 — صحیح کہا البانیؒ نے

سیدنا عرباض بن ساریہؓ فرماتے ہیں:

ایک دن صبح کی نماز کے بعد رسول اللہ ﷺ نے ایسا پُراثر وعظ فرمایا کہ آنکھیں بہہ پڑیں اور دل کانپ گئے۔

ایک شخص نے کہا: "یہ الوداعی نصیحت معلوم ہوتی ہے، آپ ہمیں کیا وصیت فرماتے ہیں؟”

آپ ﷺ نے فرمایا:

"میں تمہیں وصیت کرتا ہوں کہ اللہ کا تقویٰ اختیار کرو، سنو اور اطاعت کرو، خواہ تم پر حبشی غلام امیر بنایا جائے۔

جو زندہ رہے گا وہ اختلافات دیکھے گا، لہٰذا نئی بدعات سے بچنا، کیونکہ وہ گمراہی ہیں۔

تم میری اور میرے خلفائے راشدین کی سنت کو مضبوطی سے پکڑ لینا، دانتوں سے تھام لینا۔”

وضاحت:

یہ حدیث دین میں کسی بھی نئی بات (بدعت) کے حرام ہونے پر واضح نص ہے۔

آپ ﷺ نے حکم دیا کہ اختلاف و گمراہی کے زمانے میں "میری سنت” اور "خلفائے راشدین” کی سنت کو مضبوطی سے پکڑو، کیونکہ اسی میں نجات ہے۔

🟢 ④ حدیثِ ام المؤمنین سیدہ عائشہؓ — نئی چیز مردود ہے

﴿من عمل عملا ليس عليه أمرنا فهو رد﴾

📘 صحیح بخاری، کتاب الصلح، حدیث: 2697؛ صحیح مسلم، کتاب الاقضیہ، رقم: 1718

"جس نے کوئی ایسا عمل کیا جس پر ہمارا حکم نہیں، وہ مردود ہے۔”

اور امام بغویؒ نے فرمایا:

﴿من أحدث فى ديننا ما ليس منه فهو رد﴾

📗 شرح السنة ، باب رد البدع والأهواء: 211/1 ، 103

وضاحت:

اس حدیث میں صاف بتا دیا گیا کہ دین میں ہر وہ نیا عمل جو نبی ﷺ کے طریقے پر نہیں، وہ مردود ہے۔

دنیاوی ایجادات جیسے گھڑی، مائک، گاڑیاں وغیرہ بدعتِ شرعی نہیں۔

بدعتِ شرعی صرف وہ ہے جو دین میں نئی گھڑی جائے اور عبادت سمجھ کر اختیار کی جائے۔

🟢 ⑤ بدعتی پر اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی لعنت

❀ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

﴿لَعَنَ اللَّهُ مَنْ أَحْدَثَ فِي الْإِسْلَامِ حَدَثًا أَوْ آوَى مُحْدِثًا﴾

📘 مسند الربيع ، رقم : 372

ترجمہ:

"اللہ تعالیٰ اس شخص پر لعنت فرمائے جس نے اسلام میں کوئی نئی بات ایجاد کی یا کسی بدعتی کو پناہ دی۔”

وضاحت:

یہ لعنت اس بات پر ہے کہ دینِ اسلام میں نئی بات داخل کرنا یا بدعتی کی حمایت کرنا —

دونوں اعمال دین کی بنیادوں کو بگاڑ دیتے ہیں۔

🟢 ⑥ بدعت ایجاد کرنے والے پر اللہ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"مَنْ أَحْدَثَ حَدَثًا أَوْ آوَى مُحْدِثًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ، وَالْمَلَائِكَةِ، وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ.”

📗 مسند أحمد: 22/1؛ صحیح البخاري، رقم : 1870؛ صحیح مسلم، رقم : 1370

ترجمہ:

"جس نے بدعت ایجاد کی یا بدعتی کو اپنے ہاں ٹھکانہ دیا،

اس پر اللہ کی، اس کے فرشتوں کی اور تمام انسانوں کی لعنت ہے۔

اس سے نہ کوئی نفل قبول کیا جائے گا نہ فرض۔”

وضاحت:

یہ بدعت کے خطرے کی انتہائی واضح وعید ہے —

جو شخص بدعت ایجاد کرے یا اس کی پشت پناہی کرے،

اس پر اللہ کی لعنت اور اس کے اعمال کی قبولیت ختم ہو جاتی ہے۔

🟢 ⑦ ہر بدعت گمراہی ہے

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

﴿أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّ خَيْرَ الْحَدِيثِ كِتَابُ اللَّهِ، وَخَيْرَ الْهَدْيِ هَدْيُ مُحَمَّدٍ ﷺ، وَشَرَّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا، وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ﴾

📘 صحیح مسلم، رقم : 867/43؛ سنن نسائی، رقم : 1578

ترجمہ:

"اما بعد! بہترین بات اللہ کی کتاب ہے، بہترین ہدایت محمد ﷺ کی ہدایت ہے،

اور بدترین کام نئے امور ہیں،

اور ہر بدعت گمراہی ہے۔”

وضاحت:

یہ جامع الفاظ ہر اس چیز کو شامل کرتے ہیں

جو نبی ﷺ اور صحابہؓ کے زمانے میں دین کا حصہ نہ تھی —

خواہ وہ کتنی ہی خوبصورت یا فائدہ مند کیوں نہ لگے،

دین میں شامل کرنے سے وہ "ضلالت” بن جاتی ہے۔

🟢 ⑧ سنت سے ہٹنے والے کی ہلاکت

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

﴿لِكُلِّ عَمَلٍ شِرَّةٌ، وَلِكُلِّ شِرَّةٍ فَتْرَةٌ، فَمَنْ كَانَتْ فَتْرَتُهُ إِلَى سُنَّتِي فَقَدْ اهْتَدَى، وَمَنْ كَانَتْ فَتْرَتُهُ إِلَى غَيْرِ ذَلِكَ فَقَدْ هَلَكَ﴾

📗 مسند أحمد : 2/188؛ صحیح الترغيب والترهيب، رقم : 56؛ الطبرانی الکبیر: 10339

ترجمہ:

"ہر عمل میں جوش اور شدت آتی ہے،

اور ہر جوش کے بعد سستی آتی ہے۔

جس کی سستی میری سنت کی طرف ہو، وہ ہدایت یافتہ ہے،

اور جس کی سستی غیر سنت کی طرف ہو، وہ ہلاک ہو گیا۔”

وضاحت:

یعنی عمل میں کمی یا تھکن اگر سنت کے دائرے میں رہے تو خیر ہے،

لیکن اگر انسان بدعت یا خواہش کے پیچھے چلنے لگے

تو وہ تباہی کی راہ پر ہے۔

🟢 ⑨ مدینہ میں بدعت کی سخت ممانعت

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

"الْمَدِينَةُ حَرَامٌ مَا بَيْنَ عَيْرٍ إِلَى ثَوْرٍ، فَمَنْ أَحْدَثَ فِيهَا حَدَثًا أَوْ آوَى مُحْدِثًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ.”

📘 صحیح البخارى، كتاب فضائل المدينة: 1867؛ كتاب الاعتصام: 7306؛ صحیح مسلم: 441/1

ترجمہ:

"مدینہ (منورہ) حرام ہے، اس کے درخت نہ کاٹے جائیں،

اور نہ اس میں کوئی بدعت نکالی جائے۔

جس نے اس میں بدعت نکالی یا بدعتی کو پناہ دی،

اس پر اللہ، فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت ہو،

اس سے نہ فرض قبول ہوگا نہ نفل۔”

وضاحت:

مدینہ طیبہ میں بدعت ایجاد کرنا ایسا جرم ہے

کہ اس پر زمین و آسمان کے فرشتے لعنت کرتے ہیں۔

یہ واضح اعلان ہے کہ بدعتی کا مقام و مرتبہ اسلام میں نہیں۔

🟢 ⑩ بدعتی کی توبہ قبول نہیں ہوتی

سیدنا انس بن مالکؓ سے روایت ہے:

﴿إِنَّ اللَّهَ حَجَبَ التَّوْبَةَ عَنْ كُلِّ صَاحِبِ بِدْعَةٍ حَتَّى يَدَعَ بِدْعَتَهُ﴾

📗 الطبراني الأوسط : 5/113؛ مجمع الزوائد : 10/192؛ البيهقي في السنن الكبرى : 10/208

ترجمہ:

"بے شک اللہ تعالیٰ نے ہر بدعت والے سے توبہ کو روک دیا ہے

جب تک کہ وہ اپنی بدعت کو ترک نہ کر دے۔”

وضاحت:

بدعت انسان کے دل کو حق سے اندھا کر دیتی ہے،

یہاں تک کہ وہ اپنی بدعت کو نیکی سمجھنے لگتا ہے۔

اسی لیے توبہ اس وقت تک قبول نہیں ہوتی

جب تک وہ بدعت چھوڑ کر سنت کی طرف واپس نہ آجائے۔

📍 اختتام:

یہ تمام احادیث اس حقیقت پر متفق ہیں کہ:

بدعت صرف ایک "نیا عمل” نہیں، بلکہ دین میں بگاڑ ہے۔

بدعتی پر لعنت، اس کے اعمال کی نامنظوری، اور توبہ کی رکاوٹ —

یہ سب اس کے انجام کی سنگینی کو ظاہر کرتے ہیں۔

نجات صرف اور صرف سنتِ رسول ﷺ کی پیروی میں ہے۔

اللہ ہمیں بدعات سے محفوظ رکھے اور سنت پر قائم رکھے۔ 🤲

🌿 صحابہ کرامؓ کے آثار میں بدعت کی مذمت🌿

ہر درد مند کو کو رونا یہ میرا رلا دے

بیہوش جو پڑے ہیں شاید انہیں جگا دے 💧

صحابہ کرامؓ سنت سے محبت کرنے والے اور بدعت سے شدید نفرت کرنے والے تھے۔

رسول اللہ ﷺ نے انھیں اسی چیز کا درس دیا تھا۔

چنانچہ ان کے اقوال و آثار بدعت کے بطلان پر واضح دلیل ہیں۔

🟢 سیدنا ابوبکر صدیقؓ

علامہ ابن سعدؒ نے اپنی سند سے ذکر کیا ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے فرمایا:

"يَا أَيُّهَا النَّاسُ! إِنَّمَا أَنَا مُتَّبِعٌ، وَلَسْتُ بِمُبْتَدِعٍ، فَإِنْ أَحْسَنْتُ فَأَعِينُونِي، وَإِنْ زُغْتُ فَقَوِّمُونِي.”

📘 الطبقات الكبرى لابن سعد : 3/136

ترجمہ:

"لوگو! میں سنت کا پیروکار ہوں، بدعتی نہیں۔

اگر میں درست کام کروں تو میری مدد کرو، اور اگر انحراف کروں تو میری اصلاح کرو۔”

وضاحت:

ابوبکرؓ کا یہ قول بتاتا ہے کہ قیادت اور عبادت دونوں میں صرف سنت ہی معیار ہے،

نہ اپنی رائے، نہ نیا طریقہ — بلکہ صرف اتباعِ رسول ﷺ۔

🟢 سیدنا عمر فاروقؓ — بدعتیوں سے خبردار

سیدنا عمرؓ فرماتے ہیں:

"إِيَّاكُمْ وَأَهْلَ الْبِدَعِ، فَإِنَّهُمْ أَعْدَاءُ السُّنَنِ، قَدْ أَعْيُوا عَلَى حِفْظِهَا، فَتَعَلَّمُوا الْبِدَعَ فَاتَّخَذُوهَا سُنَنًا.”

📗 سنن الدارمي : 1/47

ترجمہ:

"بدعتی لوگوں سے بچو، وہ سنت کے دشمن ہیں۔

جب ان سے احادیث یاد نہ رہیں تو اپنی مرضی سے باتیں گھڑنے لگے،

خود بھی گمراہ ہوئے اور دوسروں کو بھی گمراہ کیا۔”

وضاحت:

عمرؓ نے بدعت کو "سنت کی دشمن” کہا —

یعنی بدعت جتنی پھیلے گی، سنت اتنی مٹتی جائے گی۔

🟢 سیدنا عمر بن خطابؓ — بدعتی کی توبہ قبول نہیں

﴿إِنَّ لِكُلِّ صَاحِبِ ذَنْبٍ تَوْبَةً غَيْرَ أَصْحَابِ الْأَهْوَاءِ وَالْبِدَعِ، لَيْسَ لَهُمْ تَوْبَةٌ، أَنَا بَرِيءٌ مِنْهُمْ، وَهُمْ مِنِّي بُرَآءُ.﴾

📘 السنة لابن أبي عاصم بتحقيق الألباني، رقم: 22، 38

ترجمہ:

"ہر گناہ گار کے لیے توبہ ہے مگر اہلِ بدعت کے لیے نہیں۔

میں ان سے بری ہوں اور وہ مجھ سے بری ہیں۔”

وضاحت:

یہ عمرؓ کے سخت ترین اقوال میں سے ہے۔

بدعتی کے لیے توبہ اس وقت تک نہیں جب تک وہ بدعت چھوڑ کر سنت کی طرف نہ لوٹے۔

🟢 سیدنا علی المرتضیؓ — بدعتی پر لعنت

امیرالمؤمنین علی بن ابی طالبؓ سے مرفوعاً روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"لَعَنَ اللَّهُ مَنْ ذَبَحَ لِغَيْرِ اللَّهِ، وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ لَعَنَ وَالِدَهُ، وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ آوَى مُحْدِثًا، وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ غَيَّرَ مَنَارَ الْأَرْضِ.”

📗 صحيح مسلم، كتاب الأضاحي، باب تحريم الذبح لغير الله، رقم : 1978؛ مسند أحمد : 1/118

ترجمہ:

"اللہ کی لعنت ہو اُس شخص پر جس نے غیراللہ کے لیے ذبح کیا،

اور اُس پر بھی جس نے اپنے والد پر لعنت کی،

اور اُس پر جس نے کسی بدعتی کو پناہ دی،

اور اُس پر جس نے زمین کی حدیں بدلی۔”

وضاحت:

بدعتی کی حمایت کرنا یہاں اُن اعمال میں شامل کیا گیا ہے جن پر اللہ کی لعنت نازل ہوتی ہے۔

🟢 سیدنا علی المرتضیؓ — مدینہ میں بدعت ایجاد کرنے والے کے بارے میں فرمایا:

﴿مَنْ أَحْدَثَ فِيهَا حَدَثًا، أَوْ آوَى فِيهَا مُحْدِثًا، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ، وَالْمَلَائِكَةِ، وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ.﴾

📘 صحیح بخاری، رقم : 3172؛ صحیح مسلم، رقم : 3327

ترجمہ:

"جو کوئی مدینہ میں نئی بات نکالے یا بدعتی کو پناہ دے،

اس پر اللہ، فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت ہے،

اس سے نہ فرض قبول ہوگا نہ نفل۔”

وضاحت:

مدینہ منورہ میں بدعت ایجاد کرنا دین کے قلب پر حملہ ہے۔

علیؓ نے اسے لعنت کے قابل جرم قرار دیا۔

🟢 سیدہ عائشہ صدیقہؓ — بدعت مردود ہے

﴿مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هَذَا مَا لَيْسَ مِنْهُ فَهُوَ رَدٌّ.﴾

📘 صحیح بخاری: 9/132؛ صحیح مسلم : 3/1344

"جس نے ہمارے اس دین میں کوئی ایسی چیز ایجاد کی جو اس میں سے نہیں ہے، وہ مردود ہے۔”

اور دوسری روایت کے الفاظ:

﴿مَنْ عَمِلَ عَمَلًا لَيْسَ عَلَيْهِ أَمْرُنَا فَهُوَ رَدٌّ.﴾

📗 صحیح مسلم: 3/1344

ترجمہ:

"جس نے کوئی ایسا کام کیا جس پر ہمارا حکم نہیں، وہ مردود ہے۔”

وضاحت:

یہ نبی ﷺ کا معیار ہے — دین صرف وہی ہے جو آپ ﷺ سے ثابت ہے،

اس کے سوا سب مردود۔

🟢 امام نوویؒ کی تشریح

"ھٰذِهِ الْحَدِيثُ قَاعِدَةٌ عَظِيمَةٌ مِنْ قَوَاعِدِ الْإِسْلَامِ، وَهُوَ مِنْ جَوَامِعِ كَلِمِهِ ﷺ، وَهُوَ صَرِيحٌ فِي رَدِّ كُلِّ بِدْعَةٍ وَاخْتِرَاعٍ…”

📘 شرح صحيح مسلم للنووي : 12/16

ترجمہ:

"یہ حدیث اسلام کے عظیم اصولوں میں سے ہے،

اور نبی ﷺ کے جامع کلمات میں سے ایک ہے۔

یہ ہر بدعت اور خود ساختہ عمل کے رد میں صریح دلیل ہے۔”

وضاحت:

نوویؒ نے واضح کر دیا کہ اس حدیث کے تحت ہر قسم کی بدعت داخل ہے،

خواہ کوئی خود ایجاد کرے یا کسی کی ایجاد کی ہوئی چیز پر عمل کرے —

دونوں مردود ہیں۔

🟢 سیدنا عبد الله بن مسعودؓ — سنت ہی کافی ہے

❀ فرمایا:

﴿اتبعوا ولا تبتدعوا فقد كفيتم .﴾

📘 سنن دارمی، رقم : 211

"اتباع کرو اور بدعت کا ارتکاب نہ کرو،

یقینا تمہیں سنت کافی ہے، لوگوں کی آراء کی ضرورت نہیں۔”

وضاحت:

ابن مسعودؓ نے بتایا کہ دین مکمل ہے،

اس میں کسی نئی چیز کی گنجائش نہیں —

جو کچھ رسول ﷺ چھوڑ گئے، وہی کافی ہے۔

🟢 عبدالله بن مسعودؓ کا دوسرا قول:

﴿اتبعوا ولا تبتدعوا فقد كفيتم وكل بدعة ضلالة﴾

📘 مجمع الزوائد للهيثمى: 1/181؛ السنة للمروزی، رقم: 78

"سنت کی پیروی کرو اور بدعات نہ نکالو،

تحقیق تمہیں سنت ہی کافی ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔”

وضاحت:

یہاں بدعت کو براہِ راست "ضلالت” یعنی گمراہی قرار دیا گیا —

چاہے نیت اچھی ہو یا ناپاک۔

🟢 علم حاصل کرو، بدعات سے بچو

﴿تعلموا العلم قبل أن يقبض ، وقبضه أن يذهب أهله، الا وإياكم التنطع والتعمق والبدع وعليكم بالعتيق .﴾

📗 سنن الدارمی 1/54؛ شرح اصول اعتقاد أهل السنة للالكائي 1/87

"کتاب وسنت کا علم سیکھو اس کے قبض کر لیے جانے سے پہلے،

اور اس کا قبض کیا جانا اہلِ علم کا چلے جانا ہے۔

خبردار! غلو، بحث و جدال اور بدعات سے بچو،

اور قدیم (یعنی سنت) راستے کو اختیار کرو۔”

وضاحت:

ابن مسعودؓ نے واضح کر دیا کہ دین کی سلامتی صرف "عِتیق” یعنی پرانے راستے — سنت — میں ہے۔

🟢 عبدالله بن مسعودؓ — نیا طریقہ گمراہی کا دروازہ

فرمایا:

"تم آج فطرت (اسلام) پر ہو، مگر تم خود بدعتیں ایجاد کرو گے،

اور لوگ تمہاری خاطر نئی بدعتیں گھڑیں گے۔

پس جب نیا عمل دیکھو تو پہلے راستے کو لازم پکڑو۔”

📘 السنة للمروزي، رقم: 8، ص: 57

وضاحت:

ابن مسعودؓ نے آئندہ آنے والی گمراہیوں کی پیشین گوئی فرمائی،

کہ دین میں نئی رسومات اور طریقے پھیلیں گے —

لہٰذا صرف پہلا راستہ (سنت) اختیار کرو۔

🟢 بدعتی حلقے اور ابن مسعودؓ کا ردّ عمل

📜 واقعہ روایت کرتے ہیں عمرو بن یحییٰ اپنے والد سے:

"ہم فجر سے پہلے ابن مسعودؓ کے دروازے پر بیٹھے تھے۔

ابو موسیٰ اشعریؓ آئے اور کہا:

میں نے مسجد میں ایک عجیب منظر دیکھا —

لوگ حلقے بنا کر بیٹھے تھے،

ایک شخص کہتا: سو بار ‘اللہ اکبر’ کہو،

اور سب اکٹھے گنتے۔ پھر ‘لا الہ الا اللہ’، پھر ‘سبحان اللہ’۔

ابن مسعودؓ نے فرمایا:

’کاش تم اپنے گناہوں کو شمار کرتے، میں ضمانت دیتا ہوں کہ تمہاری نیکیاں ضائع نہ ہوں گی۔

اے امتِ محمد! تمہاری ہلاکت کتنی جلد آگئی!

یہ صحابہ موجود ہیں، نبی ﷺ کے کپڑے ابھی بوسیدہ نہیں ہوئے،

اور تم نے دین میں نئی باتیں گھڑ لیں۔‘

پھر فرمایا:

’اللہ کی قسم! کیا تم وہ طریقہ اپنائے ہوئے ہو جو محمد ﷺ سے بہتر ہے؟

یا تم گمراہی کا دروازہ کھول رہے ہو؟‘

ان لوگوں نے کہا: ’ہم تو صرف خیر چاہتے ہیں۔‘

ابن مسعودؓ نے جواب دیا: ’کتنے خیر کے چاہنے والے ہیں جو خیر تک نہیں پہنچتے!‘

پھر فرمایا: ’رسول ﷺ نے فرمایا: ایک قوم قرآن پڑھے گی مگر وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔

اللہ کی قسم! شاید وہ تم ہی ہو۔‘

بعد میں عمرو بن سلمہ کہتے ہیں:

ہم نے انھیں نہروان کے دن خوارج کے ساتھ دیکھا،

وہ انہی بدعتی حلقوں کے لوگ تھے۔”

📘 سنن دارمی، حدیث رقم : 210؛ سلسلة الأحاديث الصحيحة، رقم : 2005

وضاحت:

یہ واقعہ بدعت کے عملی نقصان کی واضح مثال ہے —

عبادت کی نیت سے ایجاد کی گئی بدعت نے

انہیں خوارج جیسے باغی گروہ میں بدل دیا۔

🟢 ابن مسعودؓ و اُبیؓ بن کعبؓ کا قول:

﴿الاقتصاد فى السنة خير من الاجتهاد فى البدعة .﴾

📘 السنة للمروزي، حديث رقم : 76، 77

"سنت کے مطابق تھوڑا عمل کرنا بدعت پر زیادہ عمل کرنے سے بہتر ہے۔”

وضاحت:

دین میں معیار "زیادہ عمل” نہیں، بلکہ "سنت کے مطابق عمل” ہے۔

🟢 سیدنا عبد اللہ بن عمرؓ — چھینک پر سنت کے مطابق کلمات

روایت ہے:

﴿أن رجلا عطس إلى جنب ابن عمر فقال: الحمد لله والسلام على رسول الله . قال ابن عمر وأنا أقول: الحمد لله والسلام على رسول الله، وليس هكذا ، علمنا رسول الله ﷺ علمنا أن نقول الحمد لله على كل حال .﴾

📗 سنن ترمذی، كتاب الأدب، رقم : 2738 — محدث البانی نے حسن کہا

ایک شخص نے چھینک کے بعد کہا:

"اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَالسَّلَامُ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ”۔

سیدنا ابن عمرؓ نے فرمایا:

"میں بھی کہتا ہوں: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَالسَّلَامُ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ،

لیکن رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایسا نہیں سکھایا۔

آپ ﷺ نے ہمیں یہ سکھایا ہے کہ چھینک کے بعد صرف ’اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ‘ کہا جائے۔”

وضاحت:

یہ بتاتا ہے کہ عبادت میں اپنی طرف سے اضافہ بھی بدعت ہے،

چاہے وہ بظاہر ذکرِ خیر ہی کیوں نہ ہو۔

🟢 عبداللہ بن عمرؓ — ہر بدعت گمراہی ہے

﴿كل بدعة ضلالة وإن رآها الناس حسنة .﴾

📘 السنة للمروزی، رقم : 28؛ شرح أصول اعتقاد أهل السنة: 1/92؛ الإبانة: 1/92

"ہر بدعت گمراہی ہے، چاہے لوگ اسے اچھا سمجھیں۔”

وضاحت:

ابن عمرؓ نے بتایا کہ بدعت کے بارے میں لوگوں کی رائے بے معنی ہے،

جو دین میں نئی ہو، وہ گمراہی ہی ہے۔

🟢 عبداللہ بن عمرؓ — بدعتی سے بیزاری

﴿بلغني أنه قد أحدث فإن كان أحدث فلا تقرته مني السلام .﴾

📘 سنن الترمذي، كتاب القدر، رقم: 2152؛ سنن ابن ماجه، كتاب الفتن، رقم: 4071

"مجھے اطلاع ملی ہے کہ فلاں شخص نے بدعت ایجاد کی ہے،

اگر یہ بات درست ہے تو میری طرف سے اسے سلام نہ کہنا۔”

وضاحت:

ابن عمرؓ نے بدعتی سے میل جول اور تعلقات منقطع کرنے کا حکم دیا،

تاکہ دین میں بدعت کو معاشرتی قبولیت نہ ملے۔

🟢 سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ

① فرمایا:

"لوگوں پر کوئی سال ایسا نہ گزرے گا جس میں وہ کوئی بدعت ایجاد نہ کریں گے اور کسی سنت کو مردہ کر چکے ہوں گے۔ یہاں تک کہ بدعتیں زندہ و پائندہ ہوتی رہیں گی اور سنتیں مردہ ہوتی چلی جائیں گی۔”

📘 المعجم الکبیر للطبرانی: 10/319

وضاحت: بدعتوں کے بڑھنے کا لازمی نتیجہ سنتوں کا مٹنا ہے؛ اس لیے ہر نئی دینی رسومات سے بچنا ضروری ہے۔

② عثمان بن حاضرؒ کہتے ہیں: میں نے نصیحت چاہی تو ابن عباسؓ نے فرمایا:

"اللہ سے تقویٰ لازم پکڑو، استقامت اختیار کرو، اتباع کرو، بدعت سے دور رہو۔”

📘 سنن دارمی: 141

وضاحت: دین کی سیدھی راہ تین ستونوں پر ہے: تقویٰ، استقامت، اتباعِ سنت — اور بدعت سے دوری۔

③ آیت کی تفسیر میں فرمایا:

﴿يَوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوهٌ وَتَسْوَدُّ وُجُوهٌ﴾ (آل عمران: 106)

"اہلِ سنت والجماعت کے چہرے سفید ہوں گے اور اہلِ بدعت و افتراق کے چہرے سیاہ ہوں گے۔”

📘 اجتماع الجيوش الإسلامية لابن القيم: 2/39

وضاحت: حق والوں کی پہچان آخرت میں روشن چہروں سے ہوگی؛ بدعت و تفرقہ والوں کے چہرے سیاہ ہوں گے۔

④ فرمایا:

﴿إن أبغض الأمور إلى الله البدع .﴾

📘 السنن الكبرى للبيهقي: 3/316

وضاحت: بدعت اللہ کے ہاں انتہائی ناپسندیدہ ہے؛ نیک نیتی بھی اسے مقبول نہیں بناتی۔

🟢 سیدنا حذیفہ بن یمانؓ

دو پتھروں کی مثال دے کر فرمایا:

"قَسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! قریب ہے کہ بدعت کا ایسا غلبہ ہو کہ حق کی روشنی اتنی ہی رہ جائے جتنی ان دونوں پتھروں کے بیچ نظر آتی ہے۔ یہاں تک کہ اگر کوئی بدعت چھوڑ دی جائے تو لوگ کہیں گے کہ سنت چھوڑ دی گئی!”

📘 الاعتصام للشاطبي: 1/60، 80

وضاحت: جب بدعت رواج پاتی ہے تو لوگ اسی کو دین سمجھ لیتے ہیں اور سنت کو اجنبی کر دیتے ہیں۔

🟢 سیدنا معاذ بن جبلؓ

یزید بن عمیرہؒ بیان کرتے ہیں: معاذؓ مجلس میں فرماتے: "اللہ حکمت و عدل والا ہے اور شک کرنے والے ہلاک ہوئے”… پھر فرمایا:

"تمہارے بعد بہت فتنے آئیں گے… قرآن سب کے سامنے ہوگا… کچھ لوگ کہیں گے: ‘لوگ میری اتباع کیوں نہیں کرتے؟ میں نے قرآن پڑھا ہے’ — مگر وہ تب تک نہ مانیں گے جب تک کوئی دوسرا شخص ان کے لیے بدعت نہ گھڑے، تو وہ اسی کی پیروی کریں گے۔ تم اس بدعت سے بچتے رہو، یقیناً وہ گمراہی ہے۔

میں تمہیں ‘حکیم کے گمراہ’ سے ڈراتا ہوں؛ کبھی شیطان دانا آدمی کی زبان سے بھی گمراہی کہلوا دیتا ہے اور کبھی منافق حق بات کہہ دیتا ہے… دانا کے اس کلام سے بچو جس کے بارے میں کہا جائے: ‘یہ کیا ہے؟’… ممکن ہے وہ رجوع کرلے؛ حق روشن اور نورانی ہوتا ہے۔”

📘 سنن ابی داؤد، کتاب السنة، رقم: 4611؛ منهج سلف صالحين، ص 120–121

وضاحت: علم و شہرت والے بھی لغزش کھا سکتے ہیں؛ معیار شخصیت نہیں، سنت اور واضح حق ہے۔

🟢 سیدنا انسؓ

حدیثِ ثلاثہ:

تین آدمیوں نے کثرتِ عبادت (ہمیشہ تہجد، ہمیشہ روزہ، نکاح نہ کرنا) کا ارادہ کیا۔ نبی ﷺ نے فرمایا:

"میں تم میں اللہ سے سب سے زیادہ ڈرنے والا ہوں؛ میں روزہ بھی رکھتا ہوں اور چھوڑتا بھی ہوں، رات کو نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں، اور عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں؛ پس جس نے میری سنت سے اعراض کیا وہ مجھ سے نہیں۔”

📘 صحیح بخاری، کتاب النکاح، رقم: 5063

وضاحت: عبادت میں غلو اور سنت سے ہٹنا بدعت ہے؛ توازن اور اتباعِ سنت ہی دین ہے۔

🟢 سیدنا عبد اللہ بن مغفلؓ

"میں نے صحابہ میں کسی کو نہیں دیکھا کہ اس کے نزدیک بدعت سے بڑھ کر کوئی چیز ناپسندیدہ ہو۔”

📘 السنن والمبتدعات، ص: 4

وضاحت: صحابہؓ کی نفرتِ بدعت اس کی قباحت پر فیصلہ کن حجت ہے۔

🟢 سیدنا عثمان بن ابی العاصؓ

ختنے کی دعوت پر نہ گئے اور فرمایا:

﴿إنا كنا لا نأتي الختان على عهد رسول الله ﷺ ولا ندعى له .﴾

📘 مسند أحمد: 1/217 — تصحیح: احمد شاکر

"ہم عہدِ رسول ﷺ میں ختنہ کے موقع پر دی گئی دعوت میں نہ جاتے تھے اور نہ دعوت دی جاتی تھی۔”

وضاحت: عبادت یا شعائر میں نئی سماجی رسومات گھڑنا درست نہیں؛ سیرتِ نبوی معیار ہے۔

🟢 سیدنا اُبیّ بن کعبؓ اور ابنِ مسعودؓ کا مشترک قول

﴿الاقتصاد فى السنة خير من الاجتهاد فى البدعة .﴾

📘 السنة للمروزی، رقم: 76، 77

"سنت کے مطابق تھوڑا عمل کرنا بدعت پر چلتے ہوئے زیادہ عمل کرنے سے بہتر ہے۔”

وضاحت: عمل کی قدر مطابقتِ سنت سے ہے، مقدار سے نہیں۔

🌿 تابعین رحمہم اللہ کے اقوال میں بدعت کی مذمت 🌿

🟢 جناب عمر بن عبدالعزیزؒ — سنت کو زندہ کرنا، بدعت کو مٹانا

① فرمایا:

"اللہ کی قسم! اگر میں سنت کو بلند نہ کروں اور بدعت کو ختم نہ کروں تو مجھے ایک لمحہ بھی دنیا پر زندہ رہنا اچھا نہیں لگتا۔”

📘 السنة للإمام المروزی، ص: 62، رقم: 92

وضاحت:

امیر المومنین عمر بن عبدالعزیزؒ کے نزدیک زندگی کی سب سے قیمتی خدمت یہی تھی کہ سنت کو زندہ اور بدعت کو ختم کیا جائے۔

② ایک خط میں نصیحت فرمائی:

"میں تجھے نصیحت کرتا ہوں کہ اللہ کے دین پر قائم رہ، نبی ﷺ کی سنت کی پیروی کر،

اور ان چیزوں سے بچ جنہیں بعد والوں نے گھڑا۔

یاد رکھ! جب بھی کوئی بدعت آتی ہے، تو اس سے پہلے موجود سنت ختم ہو جاتی ہے۔

سنت وہی ہے جس پر وہ لوگ (صحابہؓ) چلے جو جانتے تھے کہ اس کے مقابل جو چیز ہے وہ گمراہی اور جہالت ہے۔

اپنے نفس کو اس چیز پر راضی کر جس پر صحابہ نے اپنے نفسوں کو راضی کیا۔

اگر ہدایت وہ ہے جس پر تم ہو تو کیا تم ان سے بھی زیادہ ہدایت یافتہ ہو گئے؟

اور اگر تم کہتے ہو یہ چیزیں ان کے بعد پیش آئیں تو تم نے وہی گھڑ لیا جو ان کے طریقے سے ہٹ کر ہے۔

تحقیق، جنہوں نے ان سے کمی کی وہ ہدایت پر نہ رہے،

اور جنہوں نے ان سے تجاوز کیا وہ غلو میں پڑ گئے۔

ہدایت وہی ہے جس پر وہ تھے، کیونکہ اللہ ہی جسے چاہے ہدایت دیتا ہے۔”

📘 سنن ابوداؤد، كتاب السنة، رقم: 4612؛ منهج سلف صالحين، ص: 511–611

وضاحت:

عمر بن عبدالعزیزؒ نے واضح فرمایا کہ ہر نئی بدعت ایک سنت کو مٹا دیتی ہے،

اور نجات اسی میں ہے کہ انسان وہی راہ اختیار کرے جو صحابہ نے اپنائی۔

🟢 محمد بن سیرینؒ

"جس نے بدعت اختیار کی، وہ پھر سنت کی طرف نہیں لوٹ سکا۔”

📘 سنن الدارمي: 1/41

وضاحت:

بدعت انسان کے دل کو بدل دیتی ہے — پھر وہ حق سنت کی لذت محسوس نہیں کر پاتا۔

🟢 سعید بن جبیرؒ

"میرا بیٹا کسی فاسق چالاک شخص کی صحبت میں رہے جو صاحبِ سنت ہو،

یہ مجھے زیادہ پسند ہے بہ نسبت اس کے کہ وہ کسی عبادت گزار بدعتی کی صحبت میں رہے۔”

📘 الابانة الصغرى لابن بطه: 133

وضاحت:

بدعتی کی عبادت بھی نقصان دہ ہے کیونکہ وہ سنت سے محروم ہے۔

فاسق اگر سنت پر ہو تو امید ہے کہ توبہ کر لے گا، مگر بدعتی کا رجوع مشکل ہوتا ہے۔

🟢 حسان بن عطیہؒ

﴿ما ابتدع قوم بدعة فى دينهم إلا نزع من سنتهم مثلها .﴾

📘 سنن الدارمي، رقم: 99

"جب بھی کوئی قوم دین میں بدعت ایجاد کرتی ہے، تو ان میں سے اس کے برابر ایک سنت اٹھالی جاتی ہے۔”

وضاحت:

بدعت کا ظہور دراصل سنت کے زوال کی نشانی ہے۔

جتنی بدعتیں بڑھیں گی، اتنی سنتیں ختم ہوں گی۔

🟢 ابو ادریس الخولانیؒ

"اگر میں دیکھوں کہ مسجد میں آگ لگی ہے جسے میں بجھا نہیں سکتا،

تو یہ میرے نزدیک اس سے بہتر ہے کہ میں مسجد میں کوئی بدعت دیکھوں جسے مٹا نہ سکوں۔”

📘 السنة للمروزي، رقم: 88

وضاحت:

بدعت آگ سے زیادہ خطرناک ہے،

کیونکہ آگ صرف دیواریں جلاتی ہے مگر بدعت ایمان کو جلا دیتی ہے۔

🟢 ابو قلابہؒ

"اہلِ بدعت کی صحبت اختیار نہ کرو،

اور نہ ان سے بحث کرو،

کیونکہ خطرہ ہے کہ وہ تمہیں اپنی گمراہی میں مبتلا کر دیں یا تمہیں شک و شبہ میں ڈال دیں۔”

📘 سنن دارمی، المقدّمہ، باب اجتناب أهل الأهواء

اور فرمایا:

"بے شک بدعتی لوگ گمراہ ہیں،

اور میرا خیال ہے کہ وہ دوزخ میں جائیں گے۔”

📘 سنن الدارمي، رقم: 101

وضاحت:

بدعتیوں کے ساتھ میل جول انسان کے ایمان پر اثر انداز ہوتا ہے،

اسی لیے سلفِ صالحین نے ان سے دور رہنے کی تاکید کی۔

🌿 ائمہ کرام کے اقوال میں بدعت کی مذمت 🌿

ائمہ کرام اور اہلِ علم نے بدعت کی شدید مذمت فرمائی ہے۔

ذیل کے اقوال و فتاویٰ اس بات پر واضح دلیل ہیں کہ

دینِ اسلام میں بدعت کا کوئی مقام نہیں۔

🟢 امام مالک بن انسؒ — دین مکمل ہو چکا، بدعت کی کوئی گنجائش نہیں

❀ امام شاطبیؒ نقل کرتے ہیں کہ امام مالکؒ نے فرمایا:

"جو شخص اسلام میں کوئی بدعت متعارف کراتا ہے

اور یہ سمجھتا ہے کہ یہ بدعت حسنہ ہے،

تو گویا اس کا عقیدہ یہ ہے کہ

محمد ﷺ نے اللہ کا پیغام پہنچانے میں خیانت کی (نعوذباللہ)۔”

اور پھر فرمایا کہ اگر دلیل چاہو تو اللہ تعالیٰ کا فرمان پڑھو:

﴿الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا﴾

📖 (المائدة : 3)

"آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا،

اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی،

اور تمہارے لیے اسلام کو بطورِ دین پسند کیا۔”

📘 الاعتصام للشاطبي: 2/35

وضاحت:

امام مالکؒ نے واضح کیا کہ دین مکمل ہو چکا ہے؛

اس میں نئی بات لانا گویا رسول ﷺ کے کام پر اعتراض ہے۔

❀ مزید فرمایا:

"امت کے آخری لوگوں کی اصلاح

اسی طریقے سے ہو سکتی ہے

جس طریقے سے پہلے لوگوں کی اصلاح ہوئی تھی۔

جو چیز اُس وقت دین نہ تھی،

وہ آج بھی دین نہیں بن سکتی۔”

📘 الشفا للقاضي عياض : 2/676

وضاحت:

امام مالکؒ نے "سنتِ سلف” کو ہی اصلاح کا واحد راستہ قرار دیا —

بدعت کے ذریعے دین سنوارنے کی ہر کوشش گمراہی ہے۔

🟢 امام شافعیؒ — اہلِ بدعت کے خلاف سخت تنبیہ

❀ امام شافعیؒ نے فرمایا:

"اہلِ کلام کے بارے میں میرا فیصلہ یہ ہے

کہ کھجور کی شاخوں سے ان کی پٹائی کی جائے،

پھر انہیں اونٹ پر بٹھا کر بستیوں میں گھمایا جائے

اور اعلان کیا جائے:

دیکھو! یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے کتاب اللہ

اور سنتِ رسول ﷺ کو چھوڑ کر علمِ کلام اختیار کیا۔”

📘 حلية الأولياء: 9/116

وضاحت:

امام شافعیؒ نے اہلِ کلام کو گمراہی کا سبب قرار دیا،

کیونکہ وہ عقل سے دین گھڑنے کی راہ کھولتے تھے۔

❀ ایک اور موقع پر فرمایا:

"امام لیث نے نرمی سے کام لیا،

میں اگر اہلِ بدعت کو ہوا میں اڑتے دیکھوں

تب بھی انہیں سچا نہ مانوں گا۔”

📘 تلبیس ابلیس لابن الجوزی، ص: 14؛

شرح اصول اعتقاد أهل السنة للالكائي: 1/145

وضاحت:

بدعتی چاہے کرامت دکھائے یا بلند مقام پر نظر آئے،

اس کی بات کبھی قابلِ اعتبار نہیں —

کیونکہ حق کرامت سے نہیں، سنت سے پہچانا جاتا ہے۔

🟢 امام احمد بن حنبلؒ — اہلِ سنت کا منشور

امام اہلِ سنت ابو عبداللہ احمد بن حنبلؒ فرماتے ہیں:

ہمارے نزدیک سنت کے اصول یہ ہیں:

① جس چیز پر رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرامؓ تھے،

اسے مضبوطی سے تھامنا۔

② ان کی اقتداء کرنا۔

③ بدعات کو ترک کر دینا۔

④ یقین رکھنا کہ "ہر بدعت گمراہی ہے”۔

⑤ اہلِ بدعت سے بحث و مباحثہ چھوڑ دینا۔

⑥ بدعتیوں کی مجلسوں سے اجتناب کرنا۔

⑦ دین میں جھگڑوں اور بےجا مناظروں کو ترک کرنا۔

⑧ سنت دراصل رسول ﷺ کے آثار و افعال ہیں۔

⑨ سنت قرآن کی تفسیر ہے

اور قرآن کی شرح اسی سے ہوتی ہے۔

⑩ سنت میں قیاس نہیں ہوتا،

اور نہ اسے عقل یا خواہشات سے پرکھا جا سکتا ہے۔

⑪ جو ان لازمی سنتوں میں سے کسی کو رد کرے

یا اس پر ایمان نہ رکھے

وہ اہلِ سنت میں سے نہیں۔

📘 أصول السنة للإمام أحمد بن حنبل

وضاحت:

امام احمدؒ نے بدعت کے مقابل سنت کا مکمل منشور بیان کیا:

سنت ہی ایمان کی بنیاد ہے، اور بدعت اس کی ضد۔

🟢 امام سفیان ثوریؒ — بدعت شیطان کو زیادہ محبوب

﴿البدعة أحب إلى إبليس من المعصية، لان المعصية يتاب منها ، والبدعة لا يتاب منها﴾

📘 منهج سلف صالحين، ص: 111

"شیطان کو بدعت نافرمانی و گناہ سے زیادہ محبوب ہے،

کیونکہ گناہ سے توبہ ہو جاتی ہے،

مگر بدعت سے اکثر توبہ نہیں کی جاتی۔”

وضاحت:

بدعتی اپنے عمل کو نیکی سمجھتا ہے، اس لیے اسے گناہ کا احساس ہی نہیں ہوتا،

اور یہی بدعت کا سب سے بڑا خطرہ ہے۔

❀ سفیان ثوریؒ مزید فرماتے ہیں:

"غلط چیز کو چھوڑ دو؛ اگر تم نے ایسا کیا تو حق پر نہیں رہو گے۔

سنت پر عمل کرو، بدعتوں سے دور رہو۔

میں درست بات یہ سمجھتا ہوں کہ اسلاف کے نقشِ قدم پر چلا جائے۔”

📘 شرح السنة للبغوي: 1/217

وضاحت:

سفیان ثوریؒ نے حق کا معیار "اسلاف کی سنت” قرار دیا،

نہ کہ عقلی تاویلات یا عوامی رجحانات۔

❀ امام ذہبیؒ فرماتے ہیں:

"اکثر اسلاف بدعت سے اس قدر ڈراتے تھے کیونکہ وہ جانتے تھے

کہ دل کمزور ہوتے ہیں اور شبہات ان میں جلدی سرایت کر جاتے ہیں۔”

📘 سير أعلام النبلاء: 7/261

وضاحت:

دل میں جب بدعت کا شک داخل ہو جائے تو عقیدہ متزلزل ہو جاتا ہے،

اس لیے سلف بدعت سے پرہیز کو ایمان کا حصّہ سمجھتے تھے۔

🟢 امام احمد بن سنان الواسطیؒ

"دنیا میں جو بھی بدعتی ہے وہ اہلِ حدیث سے بغض رکھتا ہے،

اور جب کوئی شخص بدعتی بن جاتا ہے تو حدیث کی مٹھاس اس کے دل سے نکل جاتی ہے۔”

📘 معرفة علوم الحديث للحاكم، ص: 4

وضاحت:

اہلِ حدیث سنت کے محافظ ہیں،

اس لیے بدعتی ہمیشہ ان سے نفرت کرتا ہے —

یہ بغض دراصل سنت سے نفرت ہے۔

🟢 قاضی ابو یعلیؒ

"صحابہ اور تابعین کا اہلِ بدعت کے ساتھ مقاطعہ

اور ان سے قطع تعلق رکھنے پر اجماع ہے۔”

📘 هجر المبتدع، ص: 32

وضاحت:

بدعتی کے ساتھ تعلق رکھنا فتنہ پھیلانے کا ذریعہ بنتا ہے؛

اسی لیے سلف نے ہمیشہ بدعتیوں سے کنارہ کیا۔

🟢 امام بغویؒ

"رسول اللہ ﷺ نے امت کے افتراق کی خبر دی تھی،

اس لیے اہلِ بدعت اور اہلِ ہوا سے مقاطعہ

اس وقت تک رہے گا جب تک وہ توبہ نہ کر لیں۔”

📘 شرح السنة للبغوي: 1/224–227

وضاحت:

بدعتی سے محبت و تعلق اس کی بدعت کو مضبوط کرتا ہے؛

بیزاری اظہارِ دین ہے۔

🟢 شیخ ابوالفضل الهمدانیؒ — بدعتی، اسلام کا اندرونی دشمن

"اہلِ بدعت اسلام کے لیے ملحدین سے بھی زیادہ نقصان دہ ہیں،

کیونکہ ملحد دین کو باہر سے بگاڑنا چاہتے ہیں،

اور اہلِ بدعت دین کو اندر سے تباہ کرتے ہیں۔

یہ آستین کے سانپ ہیں۔”

📘 الموضعات: 1/51

وضاحت:

ملحد دشمن ظاہر ہوتا ہے،

مگر بدعتی دین کا لبادہ اوڑھ کر گمراہی پھیلاتا ہے —

اس کا نقصان کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔

🟢 امام عبد اللہ بن مبارکؒ

"حدیث میں آیا ہے کہ قیامت کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے

کہ علم اصاغر سے لیا جائے گا۔

میں کہتا ہوں: اصاغر سے مراد اہلِ بدعت ہیں۔”

📘 الزهد لابن المبارك: ص 281؛ السلسلة الصحيحة: رقم 695

وضاحت:

جب علم بدعتیوں سے لیا جانے لگے،

تو حق و باطل خلط ہو جاتا ہے اور دین بگڑنے لگتا ہے۔

🟢 یحییٰ بن ابی کثیرؒ

"جب تمہاری کسی جگہ بدعتی سے ملاقات ہو جائے

تو دوسرا راستہ اختیار کر لو۔”

📘 الشريعة للآجرى: 640

وضاحت:

بدعتی کی صحبت ایمان کے لیے زہر ہے؛

اس سے دوری ہی سلامتی ہے۔

🟢 امام اوزاعیؒ

"بدعتی سے بحث و مباحثہ کی کوشش نہ کرو،

ورنہ تمہارے دلوں میں فتنے پیدا ہو جائیں گے۔”

📘 البدع والنهي عنها، للقرطبي: ص 52

وضاحت:

بدعتی سے مناظرہ اکثر فائدے کے بجائے

فتنے اور شک و شبہ کا دروازہ کھول دیتا ہے۔

🟢 امام یحییٰ بن سعید القطانؒ

﴿ليس فى الدنيا مبتدع إلا يبغض أهل الحديث .﴾

📘 مقدمة جامع الأصول للجزري

"دنیا میں کوئی بدعتی نہیں

جو اہلِ حدیث سے بغض نہ رکھتا ہو۔”

وضاحت:

اہلِ حدیث چونکہ سنت کے امین ہیں،

اس لیے بدعتی ان سے دشمنی رکھتا ہے —

یہ بغض دراصل سنت سے نفرت کی علامت ہے۔

🟢 امام ابو محمد حسن بن علی البربہاریؒ

❀ فرمایا:

﴿وهم أهل السنة والجماعة ، فمن لم يأخذ عنهم فقد ضل وابتدع ، وكل بدعة ضلالة ، والضلالة وأهلها فى النار .﴾

📘 منهج سلف صالحين، ص: 66

"اہلِ سنت والجماعت ہی حق پر ہیں،

جو ان سے دین نہیں لیتا وہ گمراہ ہوا اور بدعت گھڑ لی۔

ہر بدعت گمراہی ہے اور گمراہی اور گمراہ دونوں جہنم میں ہیں۔”

وضاحت:

امام بربہاریؒ نے صاف اعلان کیا کہ نجات صرف اہلِ سنت والجماعت کے راستے میں ہے،

اس سے ہٹنے والا خواہ نیک نظر آئے، حقیقت میں گمراہ ہے۔

❀ مزید فرمایا:

﴿واحذر صغار المحدثات من الأمور، فإن صغير البدع يعود حتى يصير كبيرا .﴾

📘 منهج سلف صالحين، ص: 112

"چھوٹی چھوٹی بدعتوں سے بھی بچو،

کیونکہ یہی چھوٹی بدعتیں بڑھتے بڑھتے بڑی ہو جاتی ہیں۔”

وضاحت:

بدعت کبھی اچانک نہیں پھیلتی؛ وہ چھوٹی رسم یا عادت سے شروع ہوتی ہے،

پھر وقت کے ساتھ دین کا حصہ بن جاتی ہے — اس لیے ابتدا ہی سے احتیاط ضروری ہے۔

🟢 حافظ ابن کثیرؒ

"اہلِ سنت والجماعت کے نزدیک ہر وہ قول اور عمل بدعت ہے جس کا ثبوت صحابہ سے نہیں۔

اگر اس میں کوئی بھلائی ہوتی تو صحابہ سب سے پہلے اس پر عمل کرتے،

کیونکہ وہ خیر کے تمام پہلوؤں میں سبقت لینے والے تھے۔”

📘 تفسير ابن كثير: 4/56

وضاحت:

اگر کوئی نیک کام واقعی خیر ہوتا تو صحابہ اسے ضرور کرتے —

لہٰذا جو چیز انہوں نے نہ اپنائی، وہ "نیکی” نہیں بلکہ "بدعت” ہے۔

🟢 شیخ عبدالقادر جیلانیؒ

﴿فعلامة لأهل البدعة الوقيعة فى أهل الأثر .﴾

📘 غنية الطالبين، ص: 175

"بدعتیوں کی نشانی یہ ہے کہ وہ اہلِ حدیث (اہلِ اثر) کو گالیاں دیتے ہیں۔”

وضاحت:

بدعتی ہمیشہ ان لوگوں سے نفرت کرتے ہیں

جو سنت اور حدیث کو مضبوطی سے تھامے ہوتے ہیں،

کیونکہ یہی لوگ ان کے باطل نظریات کے دشمن ہوتے ہیں۔

🟢 شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ

"اہلِ بدعت کتاب و سنت اور آثارِ صحابہ پر بھروسہ نہیں کرتے،

بلکہ ان کا اعتماد عقل، لغت اور کلامی فلسفے پر ہوتا ہے۔

وہ تفسیر بالماثور سے منہ موڑتے ہیں،

اور فلسفہ و کلام کی کتابوں کو ترجیح دیتے ہیں۔

یہی طریقہ دراصل ملحدوں کا ہے جو قرآن و سنت سے روگردانی کرتے ہیں،

بلکہ ان کے نزدیک نصوص انبیاءؑ علم کا فائدہ نہیں دیتیں۔”

📘 منهج سلف صالحين، ص: 138

وضاحت:

ابن تیمیہؒ نے واضح فرمایا کہ بدعتی ہمیشہ عقل و فلسفہ کے پیچھے بھاگتے ہیں

اور وحی سے اعراض کرتے ہیں — یہی الحاد کی جڑ ہے۔

🟢 علامہ ابن قیمؒ

"شیطان کا ایک مکر یہ ہے کہ اس نے لوگوں کو

مذہبی لباس، مخصوص انداز، ایک شیخ یا مخصوص سلسلے کی پابندی میں ایسا باندھ دیا

کہ وہ اسے دینی فریضہ سمجھنے لگے۔

جو اس دائرے سے نکلتا ہے اسے خارج از دین قرار دیتے ہیں۔

صوفیہ اور بعض مقلدین نے بھی یہی حال بنا رکھا ہے،

کہ اپنے طریقے کو آسمانی حکم اور دوسروں کو گمراہ سمجھتے ہیں۔

انہوں نے شریعت و طریقت کے نام پر بہت سی موہوم رسومات کو دین بنا لیا ہے

جن کا کتاب و سنت سے کوئی تعلق نہیں۔

جو شخص رسول ﷺ کے طریقے کو ڈھونڈے،

تو اسے واضح فرق ملے گا کہ سنتِ رسول ﷺ اور اہلِ بدعت کی رسومات میں

زمین و آسمان، رات و دن کا فرق ہے۔”

📘 اغاثة اللهفان، ص: 561

وضاحت:

ابن قیمؒ نے بدعت کے خفیہ روپ کو بے نقاب کیا —

دینی نام پر پیدا ہونے والی نئی رسمیں حقیقت میں دین نہیں،

بلکہ شیطانی جال ہیں جو امت کو فرقوں میں بانٹ دیتے ہیں۔

🟢 امام شاطبیؒ

"یہ بات روزِ روشن کی طرح ثابت ہے

کہ نبی کریم ﷺ نے وفات سے قبل دین و دنیا کے تمام امور واضح فرما دیے۔

اہلِ سنت کا اس پر اجماع ہے۔

پس جو یہ گمان کرے کہ شریعت میں ابھی کچھ باقی ہے

جسے بعد والے پورا کر سکتے ہیں،

تو گویا وہ سمجھتا ہے کہ شریعت ناقص تھی۔

اگر یہ لوگ واقعی مانتے کہ شریعت مکمل ہے،

تو بدعتیں ایجاد نہ کرتے۔

جو ایسا عقیدہ رکھتا ہے وہ صراطِ مستقیم سے بھٹک چکا ہے۔”

📘 منهج سلف صالحين، ص: 87

وضاحت:

بدعت کا عقیدہ دراصل شریعت کی تکمیل کا انکار ہے،

اور ایسا عقیدہ رکھنے والا اللہ کی تکمیلِ دین کی آیت کو جھٹلاتا ہے۔

🌿 بدعت کی تقسیم — ایک خطرناک شبہہ 🌿

آج کے دور میں بہت سے باطل کے داعی عوام الناس کو گمراہ کرنے کے لیے

اپنے باطل نظریات کو حق کے لبادے میں پیش کرتے ہیں۔

یہ لوگ چند چکنی چپڑی باتوں اور گھڑے ہوئے شبہات کے ذریعے

لوگوں کے دلوں میں بدعت کی محبت اور سنت سے بیزاری پیدا کرتے ہیں۔

انہی خطرناک شبہات میں سے ایک "بدعت کی تقسیم” کا شبہ ہے۔

یہ لوگ کہتے ہیں 👇

"بدعت دو قسم کی ہے:

🔹 بدعة حسنة (اچھی بدعت)

🔹 بدعة سيئة (بری بدعت)”

پھر یہ حضرات بعض نصوص و دلائل پیش کرتے ہیں

جو بظاہر ان کے مؤقف کی تائید کرتے نظر آتے ہیں،

لیکن حقیقت میں وہ دلائل ان کے مدعا کے لیے درست نہیں ہوتے۔

📚 اب ان شاء اللہ ہم

اہلِ بدعت کے ان تمام شبہات کا ایک ایک کر کے تحقیقی جائزہ لیں گے

جنہیں وہ بدعت کے جواز کے ثبوت کے طور پر پیش کرتے ہیں —

تاکہ واضح ہو جائے کہ حق صرف سنت میں ہے،

اور بدعت چاہے جس نام سے پکاری جائے، وہ گمراہی ہی ہے۔

🌿 حضرت عمرؓ کا فرمان: "نعمت البدعة هذه” 🌿

اہلِ بدعت کا ایک مشہور استدلال سیدنا عمر بن خطابؓ کے اس قول سے لیا جاتا ہے:

"نِعْمَتِ الْبِدْعَةُ هَذِهِ”

"یہ کتنی اچھی بدعت ہے۔”

ان کے نزدیک یہ جملہ "بدعتِ حسنہ” کے جواز کی صریح دلیل ہے۔

لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ استدلال علمی لحاظ سے نہایت کمزور ہے

اور قرآن، سنت اور فہمِ سلف کی روشنی میں اس کی کوئی بنیاد نہیں۔

🕋 تراویح بدعت نہیں، بلکہ سنت ہے

سیدنا عمرؓ نے یہ الفاظ اس وقت کہے

جب انہوں نے رمضان المبارک میں لوگوں کو ایک امام کے پیچھے تراویح میں جمع کیا۔

حالانکہ تراویح کوئی نئی ایجاد نہیں تھی —

بلکہ یہ سنتِ نبویؐ ہے۔

نبی کریم ﷺ نے رمضان کی ابتدائی راتوں میں

خود باجماعت تراویح پڑھائی تھی۔

📖 رسول اللہ ﷺ کا فرمان:

«من قام مع الإمام حتى ينصرف كُتب له قيام ليلة»

📚 سنن الترمذي، كتاب الصوم، حديث: 806 — وصححه الألباني

📌 ترجمہ:

"جو شخص امام کے ساتھ تراویح پڑھے یہاں تک کہ امام سلام پھیر دے،

تو اس کے لیے پوری رات کے قیام کا ثواب لکھ دیا جاتا ہے۔”

اسی بنیاد پر امام احمد بن حنبلؒ (📘 مسائل الإمام أحمد رواية عبد الله: 1/422)

اور دیگر ائمہ نے جماعت کے ساتھ تراویح پڑھنے کو افضل قرار دیا۔

🌙 سیدنا عمرؓ کا اقدام

روایت میں سیدنا عبدالرحمن بن عبدالقاریؓ فرماتے ہیں:

"میں ایک رات عمر بن خطابؓ کے ساتھ نکلا تو لوگ مختلف جماعتوں میں بٹے ہوئے تھے۔

عمرؓ نے فرمایا: اگر میں ان سب کو ایک قاری پر جمع کر دوں تو بہتر ہوگا۔

پھر انہیں ابی بن کعبؓ پر جمع کر دیا۔”

📚 صحيح البخاري، كتاب صلاة التراويح، حديث: 2010؛ الموطأ لمالك: 1/114

اسی موقع پر سیدنا عمرؓ نے فرمایا:

"نِعْمَتِ الْبِدْعَةُ هَذِهِ”

"یہ کتنی اچھی بدعت ہے۔”

✅ درحقیقت یہ "بدعتِ شرعی” نہیں بلکہ "بدعتِ لغوی” تھی

چونکہ باجماعت تراویح کا عمل خود نبی ﷺ سے صریح طور پر ثابت ہے،

لہٰذا سیدنا عمرؓ کا لفظ "بدعت” لغوی معنی میں تھا، شرعی معنی میں نہیں۔

یعنی:

انہوں نے کوئی نیا دین ایجاد نہیں کیا،

بلکہ سنتِ نبوی ﷺ کو دوبارہ زندہ کیا۔

ان کا مطلب یہ تھا کہ یہ عمل اگرچہ کچھ عرصہ ترک رہا،

اب اس کا احیاء (دوبارہ جاری کرنا) ایک اچھی "نئی بات” ہے —

یعنی لغوی معنی میں بدعت۔

📚 لغوی اور اصطلاحی فرق — سمجھنے کی بنیاد

قرآن و سنت میں بعض الفاظ لغوی (اصل زبان کے معنی) میں

اور بعض اصطلاحی (شرعی مفہوم) میں استعمال ہوتے ہیں۔

کسی آیت یا حدیث کے صحیح مفہوم تک پہنچنے کے لیے

یہ فرق سمجھنا انتہائی ضروری ہے۔

➊ حدیث کا لغوی و اصطلاحی مفہوم

🔹 لغوی معنی:

بات یا گفتگو۔

🔹 شرعی معنی:

نبی ﷺ کا قول، عمل یا تقریر۔

📌 نتیجہ:

لغوی اعتبار سے ہر بات "حدیث” کہی جا سکتی ہے،

لیکن شرعی اعتبار سے صرف وہ بات "حدیث” ہے

جو نبی ﷺ سے منسوب ہو۔

➋ بدعت کا لغوی و اصطلاحی مفہوم

🔹 لغوی معنی:

نئی چیز، یا کسی مثال کے بغیر پیدا کی گئی چیز۔

جیسا کہ قرآن میں فرمایا گیا:

﴿بَدِيعُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ﴾

"وہ (اللہ) آسمانوں اور زمین کا موجد ہے۔”

لہٰذا لغوی اعتبار سے ہر نئی چیز —

جیسے ہوائی جہاز، موبائل، اسپیکر وغیرہ —

"بدعت” کہلا سکتی ہے کیونکہ وہ پہلے موجود نہیں تھیں۔

🔹 شرعی یا اصطلاحی معنی:

شریعت میں "بدعت” سے مراد وہ نیا دینی عمل ہے

"جو دین میں ایجاد کیا گیا ہو،

جس کی کوئی بنیاد کتاب و سنت میں نہ ہو،

اور جو نبی ﷺ، صحابہؓ اور تابعینؒ کے زمانے میں موجود نہ تھا۔”

یعنی ایسا کام جو عبادت یا ثواب کے ارادے سے دین میں شامل کیا جائے

حالانکہ اس کی کوئی اصل شریعت میں نہ ہو۔

🕊 نبی ﷺ کا فرمان:

((خَیْرُ النَّاسِ قَرْنِی، ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُونَہُمْ، ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُونَہُمْ))

📚 بخاری و مسلم

"سب سے بہترین زمانہ میرا ہے،

پھر اس کے بعد والا،

پھر اس کے بعد والا۔”

📍 ان تین خیرالقرون ادوار میں نہ اجتماعی قرآن خوانی تھی،

نہ مزار و قبروں پر چراغاں،

نہ ایصالِ ثواب کی محفلیں —

یہ سب بعد میں پیدا شدہ کام ہیں۔

لہٰذا ان اعمال کو لغوی نہیں بلکہ شرعی بدعتیں کہا جائے گا،

کیونکہ یہ دین میں نئی ایجادات ہیں جن کی کوئی اصل شریعت میں نہیں۔

⚖ نتیجہ اور خلاصہ

اہلِ بدعت کا یہ استدلال کہ

سیدنا عمرؓ کے قول سے "بدعتِ حسنہ” ثابت ہوتی ہے —

درحقیقت ایک مغالطہ ہے۔

1️⃣ نبی ﷺ کا فرمان "كُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ”

ہر بدعت پر حاکم اور فیصلہ کن ہے۔

2️⃣ تراویح بدعت نہیں، بلکہ سنت ہے؛

حضرت عمرؓ نے صرف اس کے اجتماعی احیاء کو "بدعت” کہا۔

3️⃣ حضرت عمرؓ کا لفظ "بدعت” یہاں لغوی معنوں میں ہے،

شرعی معنوں میں نہیں۔

📖 دین مکمل ہو چکا ہے:

﴿ٱلۡیَوۡمَ أَكۡمَلۡتُ لَكُمۡ دِینَكُمۡ وَأَتۡمَمۡتُ عَلَیۡكُمۡ نِعۡمَتِی وَرَضِیتُ لَكُمُ ٱلۡإِسۡلَـٰمَ دِینࣰا﴾

📚 (سورة المائدة: 3)

📌 ترجمہ:

"آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا،

تم پر اپنی نعمت پوری کر دی،

اور تمہارے لیے اسلام کو دین پسند کیا۔”

💡 خلاصۂ کلام:

"نِعْمَتِ الْبِدْعَةُ هَذِهِ” کا تعلق لغوی بدعت سے ہے، نہ کہ دینی بدعت سے۔

تراویح سنتِ رسول ﷺ کی تجدید ہے، نئی بدعت نہیں۔

بدعت کو "حسنہ” اور "سیئہ” میں تقسیم کرنا

شریعت کے نصوص کے خلاف اور فہمِ سلف سے متصادم ہے۔

🌿 بدعات کے جواز میں دوسری دلیل: حدیث "جس نے اسلام میں اچھی سنت جاری کی” 🌿

📖 حدیث:

"جس نے اسلام میں کوئی اچھی سنت جاری کی تو اس کے لیے اس کا اجر ہے اور ان لوگوں کا بھی اجر ہے جو قیامت تک اس پر عمل کریں گے۔

اور جس نے اسلام میں کوئی بُری سنت جاری کی تو اس پر اس کا گناہ ہے اور ان سب کا گناہ ہے جو قیامت تک اس پر عمل کریں گے۔”

📚 صحیح مسلم، کتاب العلم، باب من سن سنة حسنة أو سيئة، حدیث: 1017

🧩 اہلِ بدعت کا استدلال:

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ دین میں نئی چیز (بدعتِ حسنہ) ایجاد کرنا درست ہے کیونکہ نبی ﷺ نے "سنتِ حسنہ” کی تعریف فرمائی ہے۔

🕊 اس شبہہ کا ازالہ

بدعتی حضرات کبھی بھی اس حدیث کا مکمل متن پیش نہیں کرتے، کیوں کہ اگر پوری حدیث اور اس کا پس منظر سامنے آ جائے تو مفہوم بالکل واضح ہو جاتا ہے کہ نبی ﷺ نے "اچھی سنت” دراصل کس چیز کو کہا ہے۔

📜 حدیث کا مکمل متن اور پس منظر

حضرت جریر بن عبد اللہ البجلیؓ روایت کرتے ہیں:

جَاءَ نَاسٌ مِنَ الْأَعْرَابِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ عَلَيْهِمُ الصُّوفُ، فَرَأَى سُوءَ حَالِهِمْ قَدْ أَصَابَتْهُمْ حَاجَةٌ، فَحَثَّ النَّاسَ عَلَى الصَّدَقَةِ، فَأَبْطَئُوا عَنْهُ، حَتَّى رُئِيَ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ، قَالَ: ثُمَّ إِنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ جَاءَ بِصُرَّةٍ مِنْ وَرِقٍ، ثُمَّ جَاءَ آخَرُ، ثُمَّ تَتَابَعُوا، حَتَّى عُرِفَ السُّرُورُ فِي وَجْهِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: مَنْ سَنَّ فِي الْإِسْلَامِ سُنَّةً حَسَنَةً، فَعُمِلَ بِهَا بَعْدَهُ، كُتِبَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِ مَنْ عَمِلَ بِهَا، وَلَا يَنْقُصُ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْءٌ، وَمَنْ سَنَّ فِي الْإِسْلَامِ سُنَّةً سَيِّئَةً، فَعُمِلَ بِهَا بَعْدَهُ، كُتِبَ عَلَيْهِ مِثْلُ وِزْرِ مَنْ عَمِلَ بِهَا، وَلَا يَنْقُصُ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْءٌ.

📚 صحیح مسلم، حدیث: 1017

📘 ترجمہ:

"کچھ دیہاتی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے،

انہوں نے اون کے کپڑے پہن رکھے تھے اور فقر و محتاجی کی بدترین حالت میں تھے۔

آپ ﷺ نے لوگوں کو صدقہ دینے کی ترغیب دی مگر وہ کچھ سست ہوگئے

یہاں تک کہ آپ کے چہرہ مبارک پر ناگواری ظاہر ہونے لگی۔

پھر ایک انصاری ایک تھیلی چاندی (درہم) کی لے آیا،

اس کے بعد دوسرا آیا، پھر ایک کے بعد ایک آنے لگے،

یہاں تک کہ آپ ﷺ کے چہرے پر خوشی ظاہر ہونے لگی۔

تب آپ ﷺ نے فرمایا:

‘جس نے اسلام میں کوئی اچھی سنت جاری کی اور لوگ اس پر عمل کرنے لگے،

تو اس کے لیے ان سب کا اجر ہوگا، اور ان کے اجر میں کوئی کمی نہ ہوگی۔

اور جس نے اسلام میں کوئی بری سنت جاری کی اور لوگ اس پر عمل کرنے لگے،

تو اس پر ان سب کا گناہ ہوگا، اور ان کے گناہوں میں کوئی کمی نہ ہوگی۔’”

➊ موقع و محل کی وضاحت

یہ دعویٰ کہ اس حدیث سے بدعتِ حسنہ کا جواز ثابت ہوتا ہے،

درحقیقت فہم میں خطا ہے کیونکہ بدعتی حضرات نے حدیث کو اس کے اصل موقع و محل سے کاٹ کر پیش کیا ہے۔

اصل واقعہ یہ تھا کہ رسول اللہ ﷺ نے فقیر صحابہ کی حالت دیکھی تو لوگوں کو صدقہ کرنے کی ترغیب دی۔

ایک انصاری صحابی نے سب سے پہلے صدقہ پیش کیا،

پھر دوسرے صحابہ نے ان کی پیروی کی۔

یہاں کسی نے "نئی بدعت” ایجاد نہیں کی،

بلکہ ایک مشروع عمل (صدقہ) کو زندہ کیا جو پہلے سے قرآن و سنت میں موجود تھا۔

اسی لیے نبی ﷺ نے فرمایا:

"مَنْ سَنَّ سُنَّةً حَسَنَةً”

نہ کہ

"مَنْ ابْتَدَعَ بِدْعَةً حَسَنَةً”

🔹 "سنت” وہ ہے جو کتاب و سنت اور دلیل کے موافق ہو۔

🔹 "بدعت” وہ ہے جو کتاب و سنت سے ٹکرائے اور شریعت میں نئی چیز ہو۔

➋ بدعت کو حسنہ کہنا نصوص کے خلاف ہے

نبی ﷺ نے فرمایا:

((كُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ))

📚 صحیح مسلم

"ہر بدعت گمراہی ہے۔”

اگر بدعتِ حسنہ درست ہو تو لازم آئے گا کہ "ہر سنت گمراہی ہے” —

یہ صریح تناقض اور نصوص کے خلاف بات ہے۔

➌ سنت کے خلاف جانے کا انجام

نبی ﷺ نے فرمایا:

((فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي))

📚 بخاری و مسلم

"جس نے میری سنت سے اعراض کیا وہ مجھ سے نہیں۔”

یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ

دین میں کسی نئی سنت یا بدعت کی کوئی گنجائش نہیں،

بلکہ مقصد یہ ہے کہ نبی ﷺ کی سنت کو زندہ کیا جائے،

نہ کہ دین میں نئی راہیں نکالی جائیں۔

⚖ خلاصہ و نتیجہ

حدیث "مَنْ سَنَّ فِي الإِسْلَامِ سُنَّةً حَسَنَةً”

کا تعلق نیکی کے عمل کے احیاء سے ہے،

بدعت کے ایجاد سے نہیں۔

"سنت” وہ ہے جو نصوصِ شریعت کے موافق ہو۔

"بدعت” وہ ہے جو دین میں نئی اور خلافِ دلیل چیز ہو۔

نبی ﷺ کا فرمان "كل بدعة ضلالة”

بدعتِ حسنہ کے تصور کو جڑ سے کاٹ دیتا ہے۔

"سنتِ حسنہ” سے مراد بھولی ہوئی نیکی کو زندہ کرنا ہے،

نہ کہ نئی بدعت گھڑنا۔

🌿 بدعتِ حسنہ کی تیسری دلیل

📖 “جو بات مسلمانوں کے نزدیک اچھی ہو وہ اللہ کے نزدیک بھی اچھی ہے…”

📜 اہلِ بدعت کا استدلال

اہلِ بدعت کا ایک اور مشہور استدلال

حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کے منقول قول پر ہے:

"ما رآه المسلمون حسنًا فهو عند الله حسن، وما رآه المسلمون قبيحًا فهو عند الله قبيح.”

"جو بات مسلمانوں کے نزدیک اچھی ہو وہ اللہ کے نزدیک بھی اچھی ہے،

اور جو مسلمانوں کے نزدیک بری ہو وہ اللہ کے نزدیک بھی بری ہے۔”

📚 روایت احمد وغیرہ

بدعتی حضرات کہتے ہیں:

اگر مسلمان کسی چیز کو اچھا سمجھ لیں تو وہ دین میں قابلِ قبول ہے،

چاہے اس کی کوئی اصل کتاب و سنت میں موجود نہ ہو۔

⚖ ➊ یہ اثر مرفوع نہیں بلکہ موقوف ہے

یہ قول نبی کریم ﷺ سے صحیح ثابت نہیں،

بلکہ حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کا موقوف اثر ہے۔

لہٰذا اسے حدیثِ نبوی ﷺ کہہ کر بدعت کے جواز کی دلیل بنانا درست نہیں۔

📚 شیخ البانیؒ فرماتے ہیں:

"إن من عجائب الدنيا أن يحتج بعض الناس بهذا الحديث على أن في الدين بدعةً حسنةً،

وأن الدليل على حسنها اعتياد المسلمين لها!!

… وخفي عليهم أن هذا الحديث موقوف – أي على الصحابي –

فلا يجوز أن يحتج به في معارضة النصوص المرفوعة القاطعة

في أن كل بدعةٍ ضلالة.”

📘 السلسلة الضعيفة، رقم: 533

📗 ترجمہ:

"یہ دنیا کے عجائبات میں سے ہے کہ بعض لوگ اس اثر کو دین میں بدعتِ حسنہ کی دلیل بناتے ہیں،

حالانکہ یہ موقوف ہے (یعنی نبی ﷺ کا نہیں بلکہ صحابی کا قول ہے)۔

لہٰذا اسے نبی ﷺ کی اُن واضح احادیث کے مقابلے میں پیش نہیں کیا جا سکتا

جن میں یہ صراحت ہے کہ ہر بدعت گمراہی ہے۔”

📚 ➋ معنی کے اعتبار سے بھی استدلال باطل ہے

اگر کوئی اس اثر کو حجت مان بھی لے تو بھی اس سے بدعتِ حسنہ پر دلیل لینا غلط ہے۔

(الف)

یہ اثر اس حدیث کے خلاف ہوگا جس میں نبی ﷺ نے فرمایا:

"ستفترق أمتي على ثلاث وسبعين فرقة، كلها في النار إلا واحدة.”

📚 ترمذی، حدیث: 2641

"میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی، سب جہنم میں ہوں گے سوائے ایک کے۔”

اگر واقعی ہر وہ چیز جو مسلمانوں کو اچھی لگے اللہ کے نزدیک بھی اچھی ہو،

تو پھر امت کے فرقوں میں بٹنے کا مفہوم ہی باطل ہو جائے گا۔

(ب)

اس سے یہ لازم آتا ہے کہ جو چیز کچھ لوگوں کے نزدیک اچھی ہو وہ عبادت کے طور پر قبول ہو جائے،

اور جو کسی کے نزدیک بری ہو وہ مردود ہو —

حالانکہ یہ سوچ نصوصِ شریعت کے سراسر خلاف ہے۔

📘 صحیح بات یہ ہے کہ یہ اثر اُن معاملات میں معتبر ہے

جہاں قرآن و سنت کی کوئی نص موجود نہ ہو اور صحابہ کا اجماع قائم ہو۔

🕋 ➌ اثر کا اصل مفہوم: اجماعِ صحابہ

اس قول کا پس منظر بتاتا ہے کہ

حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ نے یہ بات خلافتِ صدیق اکبرؓ کے موقع پر کہی تھی۔

ان کا مکمل قول یوں ہے:

"إن الله نظر في قلوب العباد، فوجد قلب محمد صلى الله عليه وسلم خير قلوب العباد فابتعثه برسالته،

ثم نظر في قلوب العباد بعد قلب محمد، فوجد قلوب أصحابه خير قلوب العباد،

فجعلهم وزراء نبيه يقاتلون على دينه،

فما رآه المسلمون حسنًا فهو عند الله حسن،

وما رآه المسلمون سيئًا فهو عند الله سيئ.”

📚 المستدرک للحاکم، 3/78

اور ایک روایت میں ہے:

"وقد رأى الصحابة جميعاً أن يستخلفوا أبا بكر.”

📘 ترجمہ:

"اللہ نے اپنے بندوں کے دلوں کو دیکھا،

سب سے بہتر دل محمد ﷺ کا پایا، انہیں اپنی رسالت کے لیے منتخب فرمایا۔

پھر ان کے بعد سب سے بہتر دل صحابہ کے پائے،

اور انہیں آپ کے مددگار بنایا۔

چنانچہ جو بات مسلمانوں (یعنی صحابہ) کے نزدیک اچھی ہو وہ اللہ کے نزدیک بھی اچھی ہے،

اور جو ان کے نزدیک بری ہو وہ اللہ کے نزدیک بھی بری ہے۔

اور صحابہ نے سب نے اتفاق کیا کہ ابوبکر کو خلیفہ بنایا جائے۔”

📍 یہاں "المسلمون” سے مراد تمام مسلمان نہیں،

بلکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہیں۔

🧭 ➍ اہلِ علم یا معتبر عرف کی مراد

اگر بالفرض اس اثر کو عام مسلمانوں پر بھی محمول کر لیا جائے

تو اس کا مطلب یہ ہے کہ

جن معاملات میں شریعت نے کوئی واضح حکم نہیں دیا،

ان میں عرفِ عام (معاشرتی روایت) کو معیار بنایا جائے۔

جیسے فقہاء کا اصول ہے:

"العرف محكم”

"عرف کو شرعی اعتبار حاصل ہے۔”

لیکن یہ قاعدہ صرف دنیاوی معاملات میں ہے،

عبادات اور دین میں نہیں۔

🕯 ➎ ابن مسعودؓ خود بدعت کے سخت مخالف تھے

حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ نے خود فرمایا:

"اتبعوا ولا تبتدعوا فقد كفيتم، عليكم بالأمر العتيق.”

📚 الإبانة الكبرى لابن بطة (174)؛ الإسناد صحيح

"اتباع کرو، بدعت مت ایجاد کرو،

تمہارے لیے وہی کافی ہے،

تم پر لازم ہے کہ قدیم راستہ (سنت) کو لازم پکڑو۔”

پس جس صحابی نے خود بدعت سے سختی سے روکا،

اس کے قول کو بدعتِ حسنہ کے جواز پر دلیل بنانا صریح تحریف ہے۔

⚖ خلاصہ و نتیجہ

"ما رآه المسلمون حسنًا…”

نبی ﷺ کا فرمان نہیں، بلکہ حضرت ابن مسعودؓ کا موقوف اثر ہے۔

اس کا تعلق اجماعِ صحابہ سے ہے،

نہ کہ ہر زمانے کے مسلمانوں کی رائے سے۔

اس سے دین یا عبادات میں نئی بدعت کے جواز پر استدلال درست نہیں۔

ابن مسعودؓ خود بدعت سے سختی سے منع کرتے تھے،

لہٰذا ان کا یہ قول بدعت کے جواز کی دلیل نہیں بن سکتا۔

🌿 چوتھی دلیل: "جس نے ہمارے دین میں نئی چیز ایجاد کی”  🌿

اہلِ بدعت عوام کو دھوکہ دینے کے لیے یہ استدلال کرتے ہیں کہ:

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"جس نے ہمارے دین میں کوئی ایسی چیز ایجاد کی جو اس میں سے نہیں، وہ مردود ہے۔”

(صحیح بخاری، حدیث 2697)

یہ حضرات دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ حدیث "ہر بدعت گمراہی ہے” کی تخصیص ہے۔

یعنی اگر نبی ﷺ فرماتے:

"جو کوئی دین میں کوئی نئی چیز ایجاد کرے، وہ مردود ہے”

تو یہ عموم ہوتا،

مگر چونکہ آپ ﷺ نے فرمایا "جو ایسی چیز ایجاد کرے جو دین میں سے نہیں”

لہٰذا ان کے نزدیک دین میں نئی چیزیں دو قسم کی ہیں:

1️⃣ جو دین کے خلاف ہو → وہ مردود اور "بدعتِ ضلالہ”۔

2️⃣ جو دین کے مطابق ہو → وہ "بدعتِ حسنہ” یعنی اچھی بدعت۔

⚖ اہلِ سنت کا جواب و وضاحت

اہلِ سنت والجماعت کے اصول کے مطابق

احادیث کی ایک روایت دوسری کی شرح و وضاحت ہوتی ہے،

نہ کہ اس کی تخصیص یا مخالفت۔

یہی قاعدہ اس شبہے کو باطل قرار دیتا ہے۔

🔹 ➊ حدیث کی دوسری روایت (صحیح مسلم 1718)

النص:

«من عمل عملاً ليس عليه أمرنا؛ فهو رد»

📘 صحیح مسلم، حدیث: 1718

ترجمہ:

"جو شخص ایسا عمل کرے جس پر ہمارا طریقہ (امر) نہ ہو، وہ مردود ہے۔”

📍 نکات:

یہ روایت وضاحت کرتی ہے کہ ہر وہ عمل جو نبی ﷺ کے دین، طریقے یا منہج پر نہ ہو، مردود ہے۔

اس میں صرف "اصلِ عمل” ہی نہیں، بلکہ طریقہ، کیفیت، ہیئت، اور انداز سب شامل ہیں۔

🔹 ➋ فہمِ سلف (سمجھِ صحابہ و تابعین)

سلف صالحین کے نزدیک "بدعت” وہی ہے

جو بظاہر دینی رنگ رکھتی ہو، مگر نبی ﷺ سے ثابت نہ ہو۔

وہ ان اعمال کو بھی بدعت کہتے تھے

جن کی اصل عبادت میں موجود ہو لیکن

طریقہ یا صورت نئی وضع کی گئی ہو۔

📌 مثالیں:

کسی خاص وقت یا جگہ کو ذکر یا دعا کے لیے لازم کر دینا۔

جماعتی انداز میں ایسی عبادت کرنا جو نبی ﷺ سے منقول نہ ہو۔

🕋 صحابہؓ و تابعین ایسے اعمال کو بدعت کہتے اور رد کرتے تھے،

حالانکہ ان کی اصل عبادت مشروع تھی۔

🔹 ➌ لغوی و نحوی پہلو

حدیث کے الفاظ:

﴿لَيْسَ عَلَيْهِ أَمْرُنَا﴾

یعنی "جو عمل ہمارے طریقے پر نہیں۔”

یہ جملہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ:

کوئی بھی نیا انداز، نئی کیفیت یا نئی شکل اگر نبی ﷺ کے طریقے سے ثابت نہیں،

تو وہ بدعتِ مردود ہے —

خواہ بظاہر اچھی لگے یا دینی رنگ رکھتی ہو۔

🌿 خلاصہ و نتیجہ

اہلِ بدعت کی یہ تاویل کہ

بدعت دو قسم کی ہے — بدعتِ حسنہ اور بدعتِ سیئہ —

یہ تاویل قرآن، سنت اور فہمِ سلف تینوں کے خلاف ہے۔

رسول اللہ ﷺ کا فرمان بالکل عام اور فیصلہ کن ہے 👇

النص:

«كل بدعة ضلالة»

📘 سنن النسائي، حدیث: 1578

ترجمہ:

"ہر بدعت گمراہی ہے۔”

🩶 ان الفاظ میں کوئی استثناء یا تخصیص نہیں۔

یہ عموم پر دلالت کرتے ہیں کہ دین میں ہر نیا کام گمراہی ہے،

چاہے وہ بظاہر "اچھی” کیوں نہ لگے۔

📖 قرآنِ مجید کی تصدیق:

﴿ٱلۡیَوۡمَ أَكۡمَلۡتُ لَكُمۡ دِینَكُمۡ﴾

📘 (المائدہ: 3)

ترجمہ:

"آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا۔”

🌿پانچویں دلیل — صحابہؓ کے اجتہادی اعمال کا شبہ 🌿

❓ بدعتیوں کا شبہہ

بدعت کے قائل بعض لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ:

"نبی ﷺ نے صحابہ کرامؓ کے کئی اجتہادی اعمال کو اقرار (یعنی خاموش منظوری) فرمایا،

حالانکہ وہ پہلے سے شریعت میں مقرر نہ تھے۔

لہٰذا یہ اس بات کی دلیل ہے کہ دین میں “بدعتِ حسنہ” کی گنجائش ہے۔”

💬 ان کا استدلال

یہ لوگ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے بعض صحابہ کے ایسے اجتہادات کو تسلیم کیا جو پہلے دین میں مقرر نہیں تھے، مثلاً 👇

1️⃣ عمرو بن عاصؓ نے جنابت کے باوجود سردی کے موسم میں تیمم سے نماز پڑھائی — نبی ﷺ نے اقرار فرمایا۔

2️⃣ ایک صحابی ہر رکعت میں سورہ اخلاص پڑھتے تھے — نبی ﷺ نے ان کے عمل کو درست کہا۔

3️⃣ ایک صحابی نے سورہ فاتحہ سے دم کیا — آپ ﷺ نے اسے جائز قرار دیا۔

4️⃣ بلالؓ ہر وضو کے بعد نفل نماز پڑھتے تھے — نبی ﷺ نے ان کی تعریف فرمائی۔

5️⃣ ایک صحابی نے چھینک کے بعد نیا ذکر کہا — نبی ﷺ نے اقرار کیا۔

6️⃣ خبیبؓ نے قتل سے پہلے دو رکعتیں پڑھیں — آپ ﷺ نے ان کے عمل کو درست کہا۔

پھر وہ کہتے ہیں:

"پس معلوم ہوا کہ نئی عبادات یا اذکار اگر اچھی نیت سے ہوں تو ‘بدعتِ حسنہ’ کہلائیں گی۔”

⚖ اہلِ سنت والجماعت کا جواب

🔹 ➊ وحی کے زمانے کا اقرار اور بعد کا فرق

نبی ﷺ کے زمانے میں اگر صحابہ کوئی اجتہادی عمل کرتے تو وحی نازل ہوتی

اور اسی لمحے ان کا عمل قبول یا رد کر دیا جاتا۔

📘 اگر عمل درست ہوتا → نبی ﷺ خاموش رہتے یا تعریف فرماتے۔

📕 اگر غلط ہوتا → نبی ﷺ فوراً اصلاح فرما دیتے۔

لیکن 👇

📌 نبی ﷺ کی وفات کے بعد وحی کا سلسلہ ختم ہو گیا۔

لہٰذا بعد کے کسی اجتہادی عمل کو "اقرارِ نبوی ﷺ” کہنا سراسر غلط اور گمراہ کن ہے۔

🔹 ➋ نبی ﷺ نے کئی اجتہادات کی اصلاح بھی فرمائی

اگر ہر اجتہاد “بدعتِ حسنہ” ہوتا،

تو نبی ﷺ ان کو رد نہ فرماتے۔

کچھ مثالیں دیکھئے 👇

✿ دعا میں الفاظ کی تبدیلی — براءؓ بن عازب:

براءؓ نے دعا میں کہا:

«وَبِرَسُولِكَ»

تو نبی ﷺ نے فرمایا:

«وَبِنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ»

📗 صحیح بخاری، حدیث: 247

👉 صرف ایک لفظ بدلنے پر اصلاح کی، تاکہ سنت کی عین پیروی ہو۔

✿ عثمان بن مظعونؓ کا نکاح چھوڑنا:

انہوں نے رہبانیت اختیار کرنے کا ارادہ کیا۔

نبی ﷺ نے منع فرمایا۔

📗 صحیح بخاری، حدیث: 5063

✿ تین صحابہ کا زیادہ عبادت کا عزم:

کسی نے کہا: میں ہمیشہ قیام کروں گا،

کسی نے کہا: ہمیشہ روزہ رکھوں گا،

کسی نے کہا: کبھی شادی نہیں کروں گا۔

نبی ﷺ نے فرمایا:

«فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي»

📘 صحیح بخاری (5063)، صحیح مسلم (1401)

📍 نتیجہ:

نبی ﷺ صرف وحی کے مطابق اعمال کو تسلیم کرتے تھے،

جو وحی کے مخالف ہوتے، ان کی فوراً اصلاح فرماتے تھے۔

🔹 ➌ صحابہ کے اجتہادات سنت کیوں بنے؟

جو اجتہادات نبی ﷺ نے تسلیم فرمائے،

وہ وحی کے اقرار سے سنت بن گئے، بدعت نہیں رہے۔

📖 امام قسطلانیؒ فرماتے ہیں:

«وإنما صار فعل خبيب سنةً، لأنه فعل ذلك في حياة الشارع واستحسنه.»

📘 إرشاد الساري (5/165)

ترجمہ:

"خبیبؓ کا عمل سنت اس لیے بن گیا کہ یہ نبی ﷺ کی زندگی میں ہوا

اور آپ ﷺ نے اسے پسند فرمایا۔”

📌 اس لئے وہ عمل "سنت” بن گیا — "بدعت” نہیں۔

🔹 ➍ اقرارِ نبوی کا دروازہ وفات کے بعد بند

📚 امام ابن رجبؒ فرماتے ہیں:

«فكل من أحدث شيئاً ونسبه إلى الدين، ولم يكن له أصل من الدين يرجع إليه، فهو ضلالة والدين بريء منه.»

📘 جامع العلوم والحكم، ص 252

ترجمہ:

"جو کوئی دین میں نئی چیز داخل کرے

اور اس کی کوئی اصل شریعت میں نہ ہو،

وہ بدعت و گمراہی ہے، اور دین اس سے بری ہے۔”

📍 نبی ﷺ کی وفات کے بعد وحی ختم ہو چکی ہے،

لہٰذا اب کسی کے نئے عمل کو "اقرارِ نبوی” حاصل نہیں ہو سکتا۔

🌸 خلاصہ

نبی ﷺ کے زمانے میں صحابہ کے اجتہادات وحی کے ذریعے پرکھے جاتے تھے۔

جو عمل درست تھا وہ دین کا حصہ بن گیا (سنت)،

جو غلط تھا اسے رد کر دیا گیا۔

📌 نبی ﷺ کی وفات کے بعد

وحی کا دروازہ بند ہے،

لہٰذا اب جو نئی عبادت یا عمل ایجاد کیا جائے

وہ صرف اور صرف بدعت کہلائے گا۔

💬 نتیجہ

یہ کہنا کہ "چونکہ نبی ﷺ نے بعض نئے اعمال کو قبول کیا،

اس لیے آج بھی نئی عبادات ایجاد کی جا سکتی ہیں” —

یہ قیاس باطل ہے۔

📖 نبی ﷺ کا واضح فرمان فیصلہ کن ہے 👇

النص:

«مَنْ عَمِلَ عَمَلًا لَيْسَ عَلَيْهِ أَمْرُنَا فَهُوَ رَدٌّ»

📘 صحیح مسلم، حدیث: 1718

ترجمہ:

"جس نے ایسا عمل کیا جو ہمارے طریقے پر نہیں،

وہ مردود ہے۔”

🌿 بدعتِ حسنہ کے جواز پر چھٹی دلیل

❓ کیا نبی ﷺ کا کسی عمل کو چھوڑ دینا (ترک کرنا) دلیلِ حرمت ہے؟

⚖ بدعتیوں کا شبہہ

بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں 👇

“نبی ﷺ کا کسی چیز کو نہ کرنا (ترک) اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ عمل حرام ہے،

جب تک اس کی حرمت پر کوئی صریح دلیل نہ ہو۔

لہٰذا ہم نئی بدعات کو صرف اس بنیاد پر رد نہیں کر سکتے

کہ نبی ﷺ نے وہ عمل نہیں کیا۔”

📌 ان کا دعویٰ یہ ہے:

"جو عمل نبی ﷺ نے نہیں کیا، وہ ممکن ہے جائز ہو —

اس لیے نئی عبادات یا اذکار ایجاد کرنا ‘بدعتِ حسنہ’ ہے۔”

💬 اہلِ سنت والجماعت کا جواب

🔹 ➊ دین کی تکمیل کا اعلان

اللہ تعالیٰ نے صاف فرما دیا:

﴿ٱلۡیَوۡمَ أَكۡمَلۡتُ لَكُمۡ دِینَكُمۡ وَأَتۡمَمۡتُ عَلَیۡكُمۡ نِعۡمَتِی﴾

📘 (المائدہ: 3)

ترجمہ:

"آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا،

اور اپنی نعمت تم پر پوری کر دی۔”

📍 جب اللہ نے دین مکمل فرما دیا،

تو اس کے بعد کوئی نئی عبادت یا عمل ایجاد کرنے کی گنجائش باقی نہیں رہی۔

🔹 ➋ نبی ﷺ کا ترک (چھوڑ دینا) بھی سنت ہے

عبادت دو اقسام کی سنتوں پر مبنی ہے 👇

1️⃣ سنتِ فعلیہ: جو نبی ﷺ نے خود کی۔

2️⃣ سنتِ ترکیہ: جسے نبی ﷺ نے جان بوجھ کر چھوڑا۔

📌 جیسے:

نبی ﷺ نے عید کی نماز کے لیے اذان نہیں دی، حالانکہ اذان ذکر ہے۔

جنازے کی نماز کے لیے بھی اذان نہیں دی۔

➡ اس کا مطلب ہے کہ ان مواقع پر اذان دینا بدعت ہے۔

📚 امام ابن رجبؒ فرماتے ہیں:

«فأما ما اتفق السلف على تركه فلا يجوز العمل به؛ لأنهم ما تركوه إلا على علم أنه لا يعمل به.»

📘 جامع العلوم والحكم (ص 233)

ترجمہ:

"جس چیز کو سلف نے بالاتفاق چھوڑ دیا،

اس پر عمل کرنا جائز نہیں،

کیونکہ انہوں نے علم و بصیرت کے ساتھ اسے چھوڑا تھا۔”

🔹 ➌ نبی ﷺ کا واضح فرمان

النص:

«مَنْ عَمِلَ عَمَلاً لَيْسَ عَلَيْهِ أَمْرُنَا فَهُوَ رَدٌّ»

📘 صحیح مسلم، حدیث: 1718

ترجمہ:

"جس نے ایسا عمل کیا جو ہمارے طریقے پر نہیں، وہ مردود ہے۔”

📍 یعنی دین صرف وہ ہے جو نبی ﷺ کے طریقے پر ہو —

جو چیز نبی ﷺ کے دین میں شامل نہیں، وہ مردود اور ناقابلِ قبول ہے۔

🔹 ➍ عملی مثالیں

📍 نماز کے بعد اجتماعی دعا:

نبی ﷺ نے کبھی نہیں کی، حالانکہ دعا افضل عبادت ہے۔

👉 اس کا اجتماعی انداز دین میں شامل کرنا بدعت ہے۔

📍 عید یا جنازے کے لیے اذان دینا:

نبی ﷺ نے کبھی نہیں دی —

لہٰذا ایسی اذان کو عبادت کا حصہ بنانا بدعت ہے۔

🔹 ➎ علما کی تصریحات

📚 امام ابن القیمؒ فرماتے ہیں:

«ومن هاهنا يعلم أن القول باستحباب ذلك خلاف السنة؛ فإن تركه سنة كما أن فعله سنة.»

📘 إعلام الموقعين (2/281)

ترجمہ:

"یہاں سے معلوم ہوا کہ کسی چیز کو مستحب کہنا سنت کے خلاف ہے،

کیونکہ نبی ﷺ کا کسی چیز کو چھوڑ دینا بھی سنت ہے،

جیسے کسی چیز کو کرنا سنت ہے۔”

📌 یعنی نبی ﷺ کا عمل بھی دلیل ہے، اور نبی ﷺ کا ترک بھی دلیل ہے۔

🌸 خلاصۂ کلام

نبی ﷺ کا چھوڑ دینا (ترک کرنا) بھی سنت ہے۔

جو عبادت آپ ﷺ نے قصداً نہیں کی، اسے دین میں شامل کرنا بدعت ہے۔

دین مکمل ہو چکا، اب نئی عبادات ایجاد کرنا شریعت سازی ہے۔

صحابہؓ اور سلف نے اسی اصول پر بدعات سے سختی سے روکا۔

🌿 بدعتِ حسنہ کے جواز پر ساتویں دلیل

❓ نیکی کے عام دلائل سے بدعتِ حسنہ کا استدلال

⚖ بدعتیوں کا شبہہ

بدعتی حضرات یہ شبہ پیش کرتے ہیں 👇

"چونکہ قرآن و حدیث میں نیکی کرنے، خیر کے کام بڑھانے

اور نیت پر اجر ملنے کا ذکر ہے،

اس لئے ہم دین میں نئی نئی عبادات ایجاد کر سکتے ہیں،

اور یہ ‘بدعتِ حسنہ’ کے زُمرے میں آئیں گی۔”

🔹 ان کے پیش کردہ دلائل

یہ لوگ عام نصوص پیش کرتے ہیں، جیسے 👇

📖

﴿وَافْعَلُوا الْخَيْرَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ﴾

(الحج: 77)

"نیک کام کرتے رہو تاکہ تم فلاح پاؤ۔”

📖

﴿وَسَارِعُوا إِلَى مَغْفِرَةٍ مِنْ رَبِّكُمْ﴾

(آل عمران: 133)

"اپنے رب کی مغفرت کی طرف دوڑو۔”

📜

«إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ»

(صحیح بخاری، حدیث: 1)

"اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے۔”

اور کہتے ہیں 👇

"چونکہ یہ آیات و احادیث ہر نیک عمل پر ابھارتی ہیں،

لہٰذا نئی بدعات بھی نیکی شمار ہوں گی۔”

💬 اہلِ سنت والجماعت کا جواب

🔹 ➊ نصوصِ عامہ کو سلف کے فہم سے سمجھنا ضروری ہے

📚 امام شاطبیؒ فرماتے ہیں:

عربی:

«لو كان دليلاً عليه؛ لم يعزب عن فهم الصحابة والتابعين ثم يفهمه هؤلاء… فما عمل به المتأخرون من هذا القسم مخالف لإجماع الأولين، وكل من خالف الإجماع فهو مخطئ.»

📘 الاعتصام (2/655)

ترجمہ:

"اگر یہ عام دلائل بدعت کے جواز پر دلالت کرتے،

تو صحابہ و تابعین کے فہم سے یہ بات چھپی نہ رہتی۔

بعد والوں کا ایسا عمل دراصل پہلے والوں کے اجماع کے خلاف ہے،

اور اجماع کے خلاف کرنے والا خطاکار ہے۔”

📌 مطلب:

اگر قرآن و سنت کی عام نصوص سے بدعت کا جواز نکلتا

تو سب سے پہلے صحابہ کرامؓ اسے سمجھتے اور عمل کرتے،

مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا۔

🔹 ➋ صحابہ کرامؓ کا طرزِ عمل

سیدنا عبد اللہ بن عمرؓ کے سامنے

ایک شخص نے چھینک کے بعد کہا:

"الْحَمْدُ لِلّٰهِ وَالصَّلَاةُ عَلٰى رَسُولِ اللّٰهِ”

تو ابن عمرؓ نے فوراً فرمایا:

"میں بھی الحمد لله والصلاة على رسول الله کہتا ہوں،

لیکن نبی ﷺ نے ہمیں ایسا نہیں سکھایا۔”

📘 الترمذي، حدیث: 2738

📍 نوٹ:

یہاں ابن عمرؓ نے قرآن کی عام آیت

﴿إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ﴾ (الأحزاب: 56)

کے باوجود یہ نیا طریقہ رد کر دیا،

کیونکہ یہ نبی ﷺ کے مقرر کردہ طریقے کے مطابق نہیں تھا۔

🔹 ➌ نبی ﷺ کا واضح اصول

النص:

«مَنْ عَمِلَ عَمَلاً لَيْسَ عَلَيْهِ أَمْرُنَا فَهُوَ رَدٌّ»

📘 صحیح مسلم، حدیث: 1718

ترجمہ:

"جس نے ایسا عمل کیا جس پر ہمارا طریقہ نہ ہو، وہ مردود ہے۔”

📌 یعنی:

نیکی کی نیت سے بھی اگر ایسا عمل کیا جائے

جو نبی ﷺ کے طریقے پر نہ ہو —

تو وہ قابلِ قبول نہیں بلکہ رد ہے۔

🔹 ➍ بدعت کو نیکی سمجھنے کا نقصان

اگر عام نصوص کی بنیاد پر

ہر نئی چیز کو نیکی مان لیا جائے،

تو ہر شخص اپنی پسند کی عبادت ایجاد کرے گا۔

📌 مگر دین کا اصول یہ ہے:

عبادات "توقیفی” ہیں،

یعنی جو نبی ﷺ نے سکھائی، بس وہی عبادت ہے۔

اس سے ہٹنا بدعت ہے۔

🔹 ➎ سلفِ صالحین کی ہدایت

📚 امام اوزاعیؒ فرماتے ہیں:

«اصبر نفسك على السنة، وقف حيث وقف القوم، وقل بما قالوا، وكف عما كفوا عنه، واسلك سبيل سلفك الصالح، فإنه يسعك ما وسعهم.»

📘 الإبانة الكبرى لابن بطہ: 1/305

ترجمہ:

"سنت پر اپنے آپ کو مضبوط رکھو،

جہاں صحابہ رکے وہاں رک جاؤ،

جو انہوں نے کہا وہی کہو،

جس سے رکے وہ چھوڑ دو،

اپنے سلف صالحین کے راستے پر چلو،

تمہارے لیے وہی کافی ہے جو ان کے لیے کافی تھا۔”

📌 مطلب یہ کہ نیکی صرف وہی ہے

جو نبی ﷺ اور صحابہؓ نے نیکی قرار دی۔

🌸 خلاصۂ کلام

قرآن و حدیث کی عام نصوص (جیسے "نیکی کرو”، "خیر میں سبقت لو”) سے نئی عبادات کا جواز نہیں نکلتا۔

اگر ایسا ہوتا تو صحابہ کرامؓ سب سے پہلے نئی بدعات ایجاد کرتے،

لیکن انہوں نے ہمیشہ بدعت سے منع کیا۔

نبی ﷺ نے اصول بیان فرما دیا:

جو عمل دین کے طریقے پر نہ ہو، وہ مردود ہے۔

📖

﴿كُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ﴾

(سنن النسائي، حدیث: 1578)

"ہر بدعت گمراہی ہے۔”

🌿 بدعتِ حسنہ کے جواز پر آٹھویں دلیل

📣 سیدنا عثمانؓ کی جمعہ کی دوسری اذان — کیا یہ بدعتِ حسنہ تھی؟

⚖ بدعتیوں کا شبہہ

بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں 👇

"سیدنا عثمان بن عفانؓ نے جمعہ کے دن دوسری اذان شروع کروائی،

اور چونکہ یہ نبی ﷺ کے زمانے میں نہیں تھی،

اس لیے یہ ایک بدعتِ حسنہ ہے۔

اس سے ثابت ہوتا ہے کہ بدعت دو قسم کی ہے: اچھی اور بری۔”

💬 اہلِ سنت والجماعت کا مدلل جواب

🔹 ➊ نبی ﷺ کا فرمان ہر ایک کے قول پر مقدم ہے

سب سے پہلے یہ اصول سمجھ لینا چاہیے:

کوئی بھی بات، چاہے کسی بڑے صحابیؓ یا امام کی ہو،

وہ نبی ﷺ کے فرمان کے مقابلے میں حجت نہیں ہو سکتی۔

📖 رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«كُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ»

📘 صحیح مسلم (867)، سنن النسائي (1578)

ترجمہ:

"ہر بدعت گمراہی ہے۔”

اور ایک اور فرمان میں فرمایا:

«عَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ المَهْدِيِّينَ مِن بَعْدِي، عَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ»

📘 سنن ابی داود (4607)، ترمذی (2676)

ترجمہ:

"تم میری سنت اور میرے بعد ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت کو لازم پکڑو،

اور اسے دانتوں سے مضبوطی سے تھام لو۔”

📍 پس خلفائے راشدین جو بھی کریں،

وہ نبی ﷺ کی سنت کے عین مطابق اور امت کی مصلحت میں ہوتا ہے،

نہ کہ اس کے خلاف۔

🔹 ➋ حضرت عثمانؓ نے “اذان ایجاد” نہیں کی، صرف “جگہ بدلی”

📚 سیدنا سائب بن یزیدؓ روایت کرتے ہیں:

«كانَ النِّداءُ يومَ الجُمُعةِ أوَّلُه إذا جلسَ الإمامُ على المنبرِ على عهدِ النَّبيِّ ﷺ وأبي بكرٍ وعمرَ رضيَ اللَّهُ عنهما، فلما كانَ عثمانُ رضيَ اللَّهُ عنهُ وكثُرَ النَّاسُ زادَ النداءَ الثالثَ على الزَّوراءِ.»

📘 صحیح بخاری، کتاب الجمعہ (حدیث: 912)

ترجمہ:

"نبی ﷺ، ابوبکرؓ اور عمرؓ کے زمانے میں جمعہ کا اعلان

اسی وقت ہوتا جب امام منبر پر بیٹھتا۔

پھر جب عثمانؓ کا زمانہ آیا اور لوگ زیادہ ہو گئے،

تو آپؓ نے بازار (الزوراء) میں ایک اعلان مزید کروایا۔”

📍 مطلب یہ کہ عثمانؓ نے نئی عبادت نہیں بنائی،

بلکہ صرف اعلان کی جگہ بدل دی تاکہ دور والے لوگ بھی نماز کے لیے تیار ہو جائیں۔

🔹 ➌ یہ کام “مصلحتِ عامہ” کے تحت تھا، نہ کہ عبادت میں اضافہ

مدینہ منورہ بڑھ چکا تھا،

لوگ بازاروں اور اطراف میں پھیل گئے تھے۔

لہٰذا حضرت عثمانؓ نے محض انتظامی ضرورت کے تحت

ایک اضافی اعلان کروایا تاکہ سب کو وقت پر اطلاع ملے۔

📚 امام قرطبی نے الماوردي کا قول نقل کیا:

«فأما الأذان الأول فمُحْدَث، فعله عثمان ليتأهّب الناس لحضور الخطبة عند اتساع المدينة وكثرة أهلها.»

📘 تفسیر القرطبی (تحت آیات الجمعہ)

ترجمہ:

"پہلا اعلان نیا تھا جو عثمانؓ نے اس لیے شروع کیا

کہ شہر بڑا ہو گیا تھا اور آبادی زیادہ ہو چکی تھی،

تاکہ لوگ خطبے کے لیے تیار ہو جائیں۔”

📌 یہ “مصلحتِ مرسلہ” تھی —

یعنی شریعت کے مقاصد کے مطابق ایک انتظامی ضرورت،

نہ کہ عبادت میں اضافہ۔

🔹 ➍ علما کی تصریحات: یہ بدعت “لغوی” تھی، “شرعی” نہیں

📘 امام ابن کثیرؒ فرماتے ہیں:

«البدعة على قسمين: شرعية… ولغوية؛ كقول عمر: نعمت البدعة هذه.»

تفسير ابن كثير (1/271)

ترجمہ:

"بدعت دو قسم کی ہے:

1️⃣ شرعی (یعنی دین میں نیا اضافہ)

2️⃣ لغوی (یعنی عام معنی میں نئی چیز)،

جیسے عمرؓ نے فرمایا: ‘یہ اچھی بدعت ہے’۔”

📘 امام ابن رجبؒ فرماتے ہیں:

«وأما ما وقع في كلام السلف من استحسان بعض البدع فإنما ذلك في البدع اللغوية لا الشرعية.»

جامع العلوم والحكم، ص 252

ترجمہ:

"سلف کے کلام میں جہاں کچھ بدعات کو اچھا کہا گیا،

وہ شرعی نہیں بلکہ لغوی بدعت مراد ہوتی ہے۔”

📘 شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ فرماتے ہیں:

«وأما قول عمر: نعمت البدعة هذه… فلا تصلح معارضة الحديث بقول الصاحب.»

مجموع الفتاویٰ (22/234)

ترجمہ:

"عمرؓ کا قول ‘یہ اچھی بدعت ہے’

نبی ﷺ کی حدیث کے مقابلے میں دلیل نہیں بن سکتا۔”

📍 اسی طرح حضرت عثمانؓ کا یہ عمل “بدعتِ لغوی” تھا —

یعنی انتظامی نیا طریقہ،

نہ کہ دینی بدعت۔

🔹 ➎ یہی اصول دیگر مشابہ اعتراضات پر بھی لاگو ہوتا ہے

جیسے 👇

قرآنِ کریم پر اعراب (زیر، زبر، پیش) لگانا

قرآن کو ایک جلد میں جمع کرنا

احادیث کی کتابت کا آغاز

📍 یہ سب دین میں “اضافے” نہیں،

بلکہ دین کی حفاظت اور انتظامی سہولت کے لیے تھے۔

ان کی اصل خیرالقرون میں موجود ہے،

اس لیے یہ شرعی بدعت نہیں کہلاتے۔

🌿 بدعتِ حسنہ کے جواز پر نویں دلیل

 📘 امام شافعیؒ کے نزدیک بدعت کی تقسیم: محموده اور مذمومه

❓ سوال

"امام شافعیؒ نے جب بدعت کو محمودہ (اچھی) اور مذمومہ (بری) میں تقسیم کیا تو ان کا کیا مطلب تھا؟

اور ان کے نزدیک ‘بدعت’ کا مفہوم کیا ہے؟”

💬 تفصیلی جواب و مدلل وضاحت

🟢 اوّل: امام شافعیؒ کا اصل قول

امام شافعیؒ فرماتے ہیں:

«الْبِدْعَةُ بِدْعَتَانِ:

بِدْعَةٌ مَحْمُودَةٌ، وَبِدْعَةٌ مَذْمُومَةٌ،

فَمَا وَافَقَ السُّنَّةَ فَهُوَ مَحْمُودٌ،

وَمَا خَالَفَ السُّنَّةَ فَهُوَ مَذْمُومٌ،

وَاحْتَجَّ بِقَوْلِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فِي قِيَامِ رَمَضَانَ: نِعْمَتِ الْبِدْعَةُ هَذِهِ.»

📘 الحلية لأبي نعيم (9/113)

ترجمہ:

"بدعت دو قسم کی ہے: ایک محمود (قابلِ تعریف) اور دوسری مذموم (قابلِ مذمت)۔

جو سنت کے موافق ہو وہ محمود ہے،

اور جو سنت کے مخالف ہو وہ مذموم ہے۔

اور امام شافعیؒ نے حضرت عمرؓ کے قول ‘نِعْمَتِ الْبِدْعَةُ هَذِهِ’ سے استدلال کیا۔”

🟢 دوم: امام شافعیؒ کی وضاحت — بدعت لغوی اور شرعی کی بنیاد

امام شافعیؒ فرماتے ہیں:

«المحدثات من الأمور ضربان:

أَحَدُهُمَا: مَا أُحْدِثَ يُخَالِفُ كِتَابًا أَوْ سُنَّةً أَوْ أَثَرًا أَوْ إِجْمَاعًا، فَهِيَ الْبِدْعَةُ الضَّلَالَةُ.

وَالثَّانِيَةُ: مَا أُحْدِثَ مِنَ الْخَيْرِ لَا خِلَافَ فِيهِ لِوَاحِدٍ مِنْ هَذَا، فَهِيَ مُحْدَثَةٌ غَيْرُ مَذْمُومَةٍ.

وَقَدْ قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي قِيَامِ رَمَضَانَ: نِعْمَتِ الْبِدْعَةُ هَذِهِ.»

📘 مناقب الشافعي للبيهقي (1/469)

ترجمہ:

"نئی چیزیں دو طرح کی ہیں:

1️⃣ جو قرآن، سنت، اثر یا اجماع کے خلاف ہو — وہ بدعتِ ضلالت ہے۔

2️⃣ جو خیر پر مبنی ہو اور ان کے مخالف نہ ہو — وہ نئی ہے مگر مذموم نہیں۔

حضرت عمرؓ کا قول ‘نِعْمَتِ الْبِدْعَةُ هَذِهِ’ اسی دوسری قسم میں داخل ہے۔”

📌 یعنی: امام شافعیؒ بدعت کی تقسیم “لغوی” معنی میں کر رہے ہیں،

نہ کہ شرعی معنی میں۔

⚖ ائمہ و شارحین کی مدلل تشریحات

🟣 1. امام ابو شامة المقدسيؒ (ت 665ھ)

«ثمَّ الْحَوَادِثُ منقسمةٌ إلى بدعٍ مستحسنةٍ، والى بدعٍ مستقبحةٍ،

قال الإمام الشافعي رضي الله عنه: المحدثاتُ من الأمور ضربان،

أحدهما ما أحدث يخالف كتابًا أو سنةً أو أثرًا أو إجماعًا، فهذه البدعة الضلالة،

والثانية ما أحدث من الخير لا خلاف فيه لواحدٍ من هذا، وهذه محدثةٌ غيرُ مذمومةٍ،

واحتجَّ بقول عمر رضي الله عنه في قيام رمضان: نِعْمَتِ الْبِدْعَةُ هَذِهِ.»

📘 الباعث على إنكار البدع والحوادث (ص: 22)

ترجمہ:

"نئی پیدا ہونے والی چیزیں دو طرح کی ہیں: پسندیدہ اور ناپسندیدہ۔

امام شافعیؒ نے فرمایا کہ جو چیز قرآن، سنت، اثر یا اجماع کے خلاف ہو وہ بدعتِ ضلالہ ہے،

اور جو خیر میں ہو اور ان کے خلاف نہ ہو وہ محدثہ غیر مذمومہ ہے۔

عمرؓ کے قول ‘نِعْمَتِ الْبِدْعَةُ’ سے بھی یہی مراد ہے۔”

🟣 2. امام ابن رجب الحنبليؒ (ت 795ھ)

«وأما ما وقع في كلام السلف من استحسان بعض البدع فإنما ذلك في البدع اللغوية،

لا الشرعية، وذلك كقول عمر رضي الله عنه في قيام رمضان: نعمت البدعة هذه.»

📘 جامع العلوم والحكم (2/252)

ترجمہ:

"سلف کے کلام میں جو بعض بدعتوں کے استحسان کے الفاظ ملتے ہیں،

وہ بدعتِ لغوی کے بارے میں ہیں،

نہ کہ بدعتِ شرعی کے —

جیسا کہ عمرؓ کا قول ‘یہ کتنی اچھی بدعت ہے’۔”

📌 وضاحت:

امام ابن رجبؒ نے امام شافعیؒ کی بات کی مکمل تائید کی —

کہ “بدعتِ محمودہ” صرف لغوی معنی میں ہے،

شرعی بدعت ہر حال میں مردود ہے۔

🟣 3. حافظ ابن حجر العسقلانيؒ (ت 852ھ)

«فالبدعة في عرف الشرع مذمومة، بخلاف اللغة؛ فإن كل شيء أحدث على غير مثالٍ يسمى بدعة،

سواء كان محمودًا أو مذمومًا،

فإن كانت مما يندرج تحت مستحسنٍ في الشرع فهي محمودة،

وإن كانت مما يندرج تحت مستقبحٍ في الشرع فهي مذمومة.»

📘 فتح الباري (13/253)

ترجمہ:

"شرعی اصطلاح میں بدعت ہمیشہ مذموم ہے،

مگر لغوی معنی میں ہر نئی چیز بدعت کہلاتی ہے،

خواہ اچھی ہو یا بری۔

اگر وہ شریعت میں کسی مستحسن اصل کے تحت آتی ہو تو محمود ہے،

اور اگر کسی قبیح اصل کے تحت ہو تو مذموم ہے۔”

📌 یعنی: امام شافعیؒ کا قول شرعی بدعت کے بارے میں نہیں،

بلکہ لغوی بدعت کے اعتبار سے ہے۔

🟣 4. امام النوويؒ (ت 676ھ)

«البدعة خمسة أقسام: واجبة، ومندوبة، ومحرمة، ومكروهة، ومباحة،

والطريق في ذلك أن تعرض البدعة على قواعد الشريعة،

فإن دخلت في قواعد الإيجاب فهي واجبة،

وإن دخلت في قواعد التحريم فهي محرمة،

وهكذا في الباقي.»

📘 شرح صحيح مسلم للنووي (6/154)

ترجمہ:

"بدعت کی پانچ قسمیں ہیں: واجب، مندوب، حرام، مکروہ، اور مباح۔

اس کی بنیاد یہ ہے کہ بدعت کو شریعت کے اصول پر پرکھا جائے؛

اگر وہ واجب کے اصول میں داخل ہو تو واجب ہے،

اور اگر حرام کے اصول میں داخل ہو تو حرام ہے، وغیرہ۔”

📍 نوٹ: امام نوویؒ کی یہ تقسیم لغوی بدعت کے لحاظ سے ہے،

کیونکہ ان کے نزدیک شرعی بدعت تو ہر حال میں مردود ہے۔

🟣 5. شیخ الاسلام ابن تيميةؒ (ت 728ھ)

«قول عمر رضي الله عنه: نِعْمَتِ الْبِدْعَةُ هَذِهِ،

لا يصلح معارضة الحديث بقول الصحابي،

بل البدعة هنا في اللغة، لا في الشرع؛

فإن قيام رمضان جماعة سنةٌ سنها رسول الله ﷺ.»

📘 مجموع الفتاوى (22/234)

ترجمہ:

"عمرؓ کا قول ‘یہ اچھی بدعت ہے’

نبی ﷺ کی حدیث ‘کل بدعة ضلالة’ کے مقابلے میں دلیل نہیں۔

یہاں بدعت کا مطلب لغوی ہے، شرعی نہیں؛

کیونکہ رمضان میں جماعت کے ساتھ قیام نبی ﷺ کی سنت ہے۔”

🟣 6. امام ابو موسى المدينيؒ

«قيام رمضان جماعةً في حق التسمية: سنة غير بدعة.»

📘 المجموع المغيث (1/137)

ترجمہ:

"رمضان میں قیام (تراویح) کو جماعت سے ادا کرنا حقیقت میں سنت ہے، بدعت نہیں۔”

🟣 7. امام ابن القيمؒ

«البدعة ما كان في الدين مما لم يشرعه الله ورسوله،

وأما ما كان في الدنيا فليس ببدعةٍ شرعاً وإن سُمي بدعةً لغة.»

📘 إغاثة اللهفان (1/125)

ترجمہ:

"بدعت وہ ہے جو دین میں ایجاد کی جائے اور جسے اللہ و رسول ﷺ نے مشروع نہ کیا ہو،

اور جو دنیاوی یا انتظامی امور میں ہو، وہ شرعاً بدعت نہیں،

اگرچہ لغتاً بدعت کہلائے۔”

🌸 خلاصۂ کلام

1️⃣ امام شافعیؒ کی تقسیم بدعت لغوی کے لحاظ سے ہے، شرعی نہیں۔

2️⃣ بدعت لغوی: ہر نئی چیز جو کسی اصلِ شرعی کے تحت آ جائے (مثلاً تراویح کی جماعت)۔

3️⃣ بدعت شرعی: دین میں نئی عبادت یا عقیدہ، جس کی کوئی اصل نہ ہو — اور یہ ہمیشہ گمراہی ہے۔

🌿 بدعتِ حسنہ کے جواز پر دسویں دلیل

📚 امام عز بن عبدالسلام کا موقف اور اہلِ علم کا ردّ

⚖ امام عز بن عبدالسلامؒ کا موقف

امام عز بن عبدالسلام (المتوفى 660ھ) — جنہیں سلطان العلماء کہا جاتا ہے — نے اپنی مشہور کتاب

📗 قواعد الأحكام في مصالح الأنام میں بدعت کو شرعی احکام کی پانچ اقسام میں تقسیم کیا۔

«البدعة تنقسم إلى واجبة، ومحرمة، ومندوبة، ومكروهة، ومباحة.»

📘 قواعد الأحكام (2/172)

ترجمہ:

"بدعت پانچ اقسام پر مشتمل ہے:

واجب، حرام، مندوب، مکروہ اور مباح۔”

🔹 ان کی مثالیں

بدعة واجبة:

قرآنِ مجید کو ایک مصحف میں جمع کرنا تاکہ امت اس سے محروم نہ ہو۔

بدعة مندوبة:

مدارس کی تعمیر، کتابوں کی تصنیف، دینی تعلیم کے انتظامات۔

بدعة مباحة:

نئے گھروں یا کشتیوں کی تیاری، تنظیمی کام۔

بدعة مكروهة:

مساجد کو ضرورت سے زیادہ سجانا۔

بدعة محرمة:

اہلِ بدعت کی عبادات یا مشرکانہ رسومات۔

📍 امام عز بن عبدالسلام کے نزدیک “بدعت” کا مفہوم صرف نئی چیز ہے جس کی نظیر پہلے نہ ہو،

اور اس کو وہ شریعت کے پانچ احکام میں تقسیم کرتے ہیں۔

💬 اہلِ علم کا مدلل ردّ

🟥 1. امام شاطبیؒ کا ردّ (790ھ)

امام شاطبیؒ نے اپنی شہرۂ آفاق کتاب الاعتصام میں اس تقسیم کو ردّ کرتے ہوئے فرمایا:

«إنّ هذا التقسيم أمرٌ مخترعٌ لا يدلّ عليه دليلٌ شرعي،

بل هو في نفسه متدافعٌ؛ لأنّ حقيقة البدعة أن لا يدلّ عليها دليلٌ شرعي،

لا من نصوص الشرع، ولا من قواعده،

إذ لو كان هنالك ما يدلّ من الشرع على وجوبٍ أو ندبٍ أو إباحةٍ لما كان ثمّ بدعة،

ولكان العمل داخلاً في عموم الأعمال المأمور بها أو المخيّر فيها.»

📘 الاعتصام (1/188–220)

ترجمہ:

"یہ تقسیم خود ایک نئی بدعت ہے جس پر کوئی شرعی دلیل نہیں۔

بلکہ یہ اپنے اندر ہی تضاد رکھتی ہے،

کیونکہ بدعت کی حقیقت یہ ہے کہ اس پر کوئی شرعی دلیل نہ ہو —

نہ نص میں، نہ قواعدِ شرع میں۔

اگر کسی عمل پر شریعت میں وجوب، ندب یا اباحت کی کوئی دلیل ہو

تو وہ بدعت نہیں بلکہ شریعت کے عام احکام میں داخل ہے۔”

📌 امام شاطبیؒ کا خلاصہ:

اگر کسی عمل کے لیے دلیل شرعی موجود ہے → وہ سنت یا مصلحت ہے۔

اگر کوئی دلیل نہیں → وہ بدعتِ ضلالہ ہے۔

🟥 2. شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ (728ھ)

«المحافظة على عموم قول النبي ﷺ: (كل بدعة ضلالة) متعين،

وأنه يجب العمل بعمومه،

وأن من أخذ يصنف البدع إلى حسنٍ وقبيحٍ،

فقد أخطأ،

فما سُمّي بدعةً وثبت حسنه بأدلة الشرع،

فإما أن يقال: ليس ببدعةٍ في الدين،

وإن كان يسمى بدعةً في اللغة،

كما قال عمر: نعمت البدعة هذه.»

📘 مجموع الفتاوى (20/163)

ترجمہ:

"نبی ﷺ کے اس عموم پر قائم رہنا واجب ہے کہ ‘ہر بدعت گمراہی ہے’۔

جو لوگ بدعت کو حسنہ و قبیحہ میں تقسیم کرتے ہیں، وہ خطا پر ہیں۔

جو عمل شریعت کی دلیل سے ثابت ہو،

وہ دین میں بدعت نہیں، اگرچہ لغت میں بدعت کہلائے،

جیسا کہ عمرؓ نے فرمایا: ‘یہ اچھی بدعت ہے’۔”

📌 نتیجہ:

بدعتِ شرعی ہمیشہ مذموم ہے؛

اگر کسی عمل کی شرعی اصل موجود ہے،

تو وہ لغوی بدعت ہے، شرعی نہیں۔

🟥 3. امام ابن رجب الحنبليؒ (795ھ)

«كلّ من أحدث شيئًا ونسبه إلى الدين،

ولم يكن له أصلٌ من الدين يرجع إليه،

فهو ضلالة، والدين منه بريء.»

📘 جامع العلوم والحكم (2/128)

ترجمہ:

"جو شخص دین میں کوئی نئی چیز ایجاد کرے

اور اس کی کوئی اصل شریعت میں نہ ہو،

وہ گمراہی ہے، اور دین اس سے بری ہے۔”

📌 یعنی اگر کوئی عمل شرعی اصول سے ماخوذ نہ ہو تو وہ بدعت ہے،

اور اس کو “نیک نیت” یا “مصلحت” کے نام سے جائز نہیں کہا جا سکتا۔

🟥 4. امام ابن كثير الشافعيؒ (774ھ)

«البدعة على قسمين:

تارةً تكون بدعةً شرعيةً… وتارةً تكون بدعةً لغويةً،

كقول عمر رضي الله عنه: نعمت البدعة هذه.»

📘 تفسير ابن كثير (1/162)

ترجمہ:

"بدعت دو قسم کی ہے:

ایک شرعی بدعت — جو مذموم ہے،

اور دوسری لغوی بدعت — جیسے عمرؓ کا قول: ‘یہ کتنی اچھی بدعت ہے’۔”

📍 وضاحت:

ابن کثیرؒ کے نزدیک “بدعتِ لغوی” وہ ہے جو دین کی اصل کے موافق ہو،

لیکن “بدعتِ شرعی” ہمیشہ گمراہی ہے۔

🟥 5. حافظ ابن حجر العسقلانيؒ (852ھ)

«ما كان له أصلٌ يدلّ عليه الشرع فليس ببدعةٍ،

فالبدعة في عرف الشرع مذمومة،

بخلاف اللغة؛ فإن كلّ شيءٍ أحدث على غير مثالٍ يسمّى بدعةً،

سواء كان محمودًا أو مذمومًا.»

📘 فتح الباري (13/253)

ترجمہ:

"جس چیز کی اصل شریعت میں موجود ہو وہ بدعت نہیں۔

شرعی عرف میں بدعت ہمیشہ مذموم ہے،

البتہ لغت میں ہر نئی چیز بدعت کہلاتی ہے،

خواہ وہ اچھی ہو یا بری۔”

📌 یعنی:

امام عز بن عبدالسلام کی تقسیم لغوی معنی میں تو ممکن ہے،

لیکن شرعی لحاظ سے بدعت کبھی “واجب یا مندوب” نہیں ہو سکتی۔

🕋 اہم نکاتِ جمعی و خلاصۂ تحقیق

1️⃣ امام عز بن عبدالسلامؒ نے بدعت کی تقسیم لغوی معنی میں کی تھی،

جس پر بعد کے ائمہ نے شرعی لحاظ سے نقد کیا۔

2️⃣ امام شاطبیؒ نے وضاحت کی کہ یہ تقسیم خود ایک بدعت فکریہ ہے —

کیونکہ بدعت وہ عمل ہے جس کی شریعت میں کوئی اصل نہ ہو۔

3️⃣ شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ نے فرمایا:

بدعتِ حسنہ اور بدعتِ سیئہ کی تقسیم

نبی ﷺ کے عمومی فرمان “كُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ” کے خلاف ہے۔

4️⃣ ائمہ ابن رجب، ابن کثیر، ابن حجرؒ وغیرہ نے واضح کیا کہ:

جو عمل سنت کی اصل پر مبنی ہو → بدعت نہیں (بلکہ لغوی جدّت ہے)

جو عمل سنت کے خلاف ہو → شرعی بدعت اور گمراہی ہے۔

🌸 نتیجۂ کلام

📘 امام عز بن عبدالسلامؒ کی تقسیم لغوی یا فنی معنی میں درست ہو سکتی ہے،

لیکن شرعی معنی میں نہیں۔

📍 کیونکہ:

اگر کسی عمل کی شریعت میں اصل موجود ہے → وہ بدعت نہیں۔

اگر کسی عمل کی شریعت میں کوئی اصل نہیں → وہ بدعت و ضلالت ہے۔

📖 نبی ﷺ کا حتمی اصول:

«كُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ»

📘 صحیح مسلم (867)

ترجمہ:

"ہر بدعت گمراہی ہے۔”

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔