مضمون کے اہم نکات
اس مضمون میں ہم امام مالک بن انس رحمہ اللہ کے اُس مشہور اثر کو پیش کرتے ہیں جس میں انہوں نے بدعت (خصوصاً “بدعتِ حسنہ” کے دعوے کے ساتھ نئی عبادت گھڑنے) کی سختی سے تردید فرمائی، اور قرآن کی آیت {اليوم أكملت لكم دينكم} سے استدلال کرتے ہوئے واضح کیا کہ دین رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں مکمل ہوچکا؛ لہٰذا جو چیز اُس وقت “دین” نہ تھی وہ آج بھی “دین” نہیں بن سکتی۔ پھر اسی اثر کی سند پر بعض حلقوں کی طرف سے کیے گئے اعتراضات کو علمی اور مہذب انداز میں ذکر کرتے ہوئے، سند کے راویوں کی پہچان (تعین) اور ان کی توثیق (تعدیل) ایک ایک کر کے پیش کی جاتی ہے تاکہ یہ بات واضح ہو کہ یہ اثر اصولی طور پر قابلِ احتجاج ہے، اور اہلِ علم نے اسے معروف سند کے ساتھ نقل کیا ہے۔
امام مالکؒ کا بدعت کے رد میں اصولی بیان
اصل اثر (متن) اور مفہوم
امام مالک بن انس رحمہ اللہ سے بدعت کے رد میں یہ اثر منقول ہے:
حدثنا أحمد بن عمر بن أنس نا الحسين بن يعقوب نا سعيد بن فحلون نا يونس(یوسف) بن يحيى المفامي نا عبد الملك بن حبيب أخبرني بن الماجشون أنه قال قال مالك بن أنس من أحدث في هذه الأمة اليوم شيئا لم يكن عليه سلفها فقد زعم أن رسول الله صلى الله عليه وسلم خان الرسالة لأن الله يقول {اليوم أكملت لكم دينكم} فما لم يكن يومئذ ديناً فلا يكون اليوم ديناً
اردو ترجمہ:
احمد بن عمر بن انس بیان کرتے ہیں… (اس سند کے ساتھ) کہ ابنِ ماجشون نے کہا: مالک بن انس نے فرمایا: “جس نے آج اس امت میں کوئی ایسی چیز (دین کے نام پر) نئی ایجاد کی جو اس امت کے سلف کے طریقے پر نہ تھی، تو گویا اس نے یہ دعویٰ کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے رسالت میں خیانت کی؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: {اليوم أكملت لكم دينكم} (آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا)۔ پس جو چیز اُس دن (یعنی عہدِ نبوی میں) دین نہ تھی، وہ آج بھی دین نہیں ہو سکتی۔”
[الإحكام في أصول الأحكام، ج۶، ص۵۸]
مختصر وضاحت:
اس قول میں امام مالکؒ ایک بنیادی اصول بیان فرما رہے ہیں: دین کی بنیاد “وحی” اور “سلف کا متعین طریقہ” ہے۔ اگر کوئی عبادت/قربت کو “دین” سمجھ کر ایجاد کرے اور اسے “اچھا” قرار دے، تو وہ درحقیقت دین کی تکمیل کے اعلان (آیتِ اکمال) کے خلاف ایک نئی دینی حیثیت گھڑ رہا ہے۔ اسی لیے امام مالکؒ نے اس طرزِ فکر پر انتہائی سخت تنبیہ فرمائی۔
سند کی تحقیق: راویوں کی تعین و توثیق (ایک ایک کر کے)
① راوی نمبر 1: احمد بن عمر بن انس بن دِلھاث (ابو العباس الاندلسی)
امام مالکؒ کے اس اثر کی سند کا پہلا راوی:
احمد بن عمر بن انس بن دلھاث، ابو العباس الاندلسی
1. حافظ ذہبی کا کلام:
296 – ابْنُ دِلْهَاثٍ أَحْمَدُ بنُ عُمَرَ بنِ أَنَسٍ العُذْرِيُّ *——الإِمَامُ، الحَافِظُ، المُحَدِّثُ، الثِّقَةُ،—-وَسَمِعَ بِالأَنْدَلُسِ مِنْ: أَبِي عَلِيٍّ الحُسَيْن بن يَعْقُوْبَ البَجَّانِيّ؛ صَاحِب ابْن فَحلُوْنَ،
اردو ترجمہ:
حافظ ذہبی نے ابن دلھاث احمد بن عمر بن انس العذری کو “امام، حافظ، محدث، ثقہ” کہا اور بتایا کہ انہوں نے اندلس میں ابو علی حسین بن یعقوب البجانی (جو ابن فحلون کے صاحب/شاگرد کے حلقے سے ہیں) سے سماع کیا۔
(سير أعلام النبلاء)
2. عبد الحی بن العماد الحنبلی:
أحمد بن عمر بن أنس بن دلهاث الأندلسي الدّلائي- ودلايه من عمل المريّة- كان حافظا، محدّثا، متقنا،
اردو ترجمہ:
احمد بن عمر بن انس بن دلھاث اندلسی (الدّلائی) حافظ، محدث اور متقن تھے۔
(شذرات الذهب في أخبار من ذهب)
3. ابن بشکوال:
وكان معتنيا بالحديث ونقله وروايته وضبطه مع ثقته وجلالة قدره وعلو إسناده
اردو ترجمہ:
وہ حدیث کی روایت، نقل اور ضبط میں خاص اہتمام رکھتے تھے، اپنی ثقاہت، جلالتِ قدر اور بلند سند کے ساتھ۔
(الصلة في تاريخ أئمة الأندلس)
نتیجہ:
اس راوی کی حیثیت ائمہ کے کلام کے مطابق مضبوط (ثقہ/حافظ/متقن) ہے، لہٰذا سند کی ابتدا معتبر بنیاد پر قائم ہے۔
② راوی نمبر 2: حسین بن عبد اللہ/حسین بن یعقوب البجانی (تعین اور درجۂ روایت)
اس سند میں دوسرا راوی “الحسين بن يعقوب البجاني” کے نام سے آیا ہے۔ اہلِ علم نے واضح کیا کہ اس کی نسبت دادا کی طرف بھی کی جاتی ہے۔
1. حافظ ذہبی:
239 – البَجَّانِيُّ أَبُو عَلِيٍّ الحُسَيْنُ بنُ عَبْدِ اللهِ بنِ الحُسَيْنِ **—-الشَّيْخُ، الفَقِيْهُ، المُعَمَّرُ، أَبُو عَلِيٍّ الحُسَيْنُ بنُ عَبْدِ اللهِ بنِ الحُسَيْنِ بنِ يَعْقُوْبَ الأَنْدَلُسِيُّ، البَجَّانِيُّ، ——سَمِعَ: أَبُو عَلِيٍّ مِنْ أَبِي عُثْمَانَ سَعِيْدِ بن فَحْلُوْنَ
اردو ترجمہ:
حافظ ذہبی نے ابو علی حسین بن عبد اللہ بن الحسین بن یعقوب الاندلسی البجانی کو “الشیخ، الفقیہ، المعمّر” کہا، اور یہ بھی ذکر کیا کہ انہوں نے ابو عثمان سعید بن فحلون سے سماع کیا۔
(سير أعلام النبلاء)
2. حافظ ذہبی کے الفاظِ جرح و تعدیل کی وضاحت (درجاتِ روایت)
وَإِن قِيْلَ: صَدُوْقٌ، أَوْ: مَحَلُّهُ الصِّدْقُ، أَوْ: لاَ بَأْسَ بِهِ، فَهُوَ مِمَّنْ يُكْتَبُ حَدِيْثُهُ، وَيُنْظَرُ فِيْهِ وَهِيَ المَنْزِلَةُ الثَّانِيَةُ.وَإِذَا قِيْلَ: شَيْخٌ، فَيُكْتَبُ حَدِيْثُهُ، وَهُوَ دُوْنَ مَا قَبْلَهُ.وَإِذَا قِيْلَ: صَالِحُ الحَدِيْثِ، فَيُكْتَبُ حَدِيْثَهُ وَهُوَ دُوْنَ ذَلِكَ، يُكْتَبُ للاعتِبَارِ.
اردو ترجمہ (خلاصہ):
اگر راوی کے بارے میں “صدوق/محلہ الصدق/لا بأس بہ” کہا جائے تو اس کی حدیث لکھی جاتی ہے اور اس پر نظر کی جاتی ہے (یہ دوسری منزلہ ہے)۔ اور اگر “شیخ” کہا جائے تو اس کی حدیث لکھی جاتی ہے مگر یہ اس سے کم درجہ ہے۔ اور اگر “صالح الحدیث” کہا جائے تو اس کی حدیث لکھی جاتی ہے مگر یہ مزید نیچے درجہ ہے اور عموماً اعتبار کے لیے لکھی جاتی ہے۔
(سير أعلام النبلاء 13/267)
3. ابن حزم کا اپنے طریقِ احتجاج کے ساتھ اس سند سے استدلال
فَمِمَّا رُوِيَ فِي الْقَوْلِ الْأَوَّلِ: مَا ناه أَحْمَدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَنَسٍ نا الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ نا سَعْدُ بْنُ فَلْحُونٍ نا يُوسُفُ بْنُ يَحْيَى نا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ حَبِيبٍ قَالَ:
اردو ترجمہ:
قولِ اوّل میں جو روایت آئی ہے، اس میں سے یہ ہے: احمد بن عمر بن انس نے ہم سے روایت کی… (اسی سند کے ساتھ) عبدالملک بن حبیب تک۔
(المحلى بالآثار)
اور “المحلى” کے شروع میں ابن حزم کا اصول:
وَلْيَعْلَمْ مَنْ قَرَأَ كِتَابَنَا هَذَا أَنَّنَا لَمْ نَحْتَجَّ إلَّا بِخَبَرٍ صَحِيحٍ مِنْ رِوَايَةِ الثِّقَاتِ مُسْنَدٍ وَلَا خَالَفْنَا إلَّا خَبَرًا ضَعِيفًا فَبَيَّنَّا ضَعْفَهُ، أَوْ مَنْسُوخًا فَأَوْضَحْنَا نَسْخَهُ. وَمَا تَوْفِيقُنَا إلَّا بِاَللَّهِ تَعَالَى.
اردو ترجمہ:
جو شخص ہماری یہ کتاب پڑھے وہ جان لے کہ ہم نے صرف اسی صحیح خبر سے حجت پکڑی ہے جو ثقہ راویوں سے مسند (متصل سند کے ساتھ) مروی ہو۔ اور ہم نے مخالفت صرف ضعیف خبر کی کی ہے اور اس کا ضعف واضح کیا ہے، یا منسوخ کی اور اس کا نسخ واضح کیا ہے۔ اور ہماری توفیق اللہ تعالیٰ ہی سے ہے۔
(المحلى بالآثار)
4. قاسم قطوبغا الحنفی کا ذکر:
انہوں نے اپنی کتاب (الثقات ممن لم يقع في الكتب الستة) میں اس راوی کو شامل کیا۔
نتیجہ:
اس راوی کی تعین (البجانی) اہلِ تراجم کے کلام سے واضح ہوتی ہے اور کم از کم “قابلِ کتابتِ حدیث/اعتبار” درجہ ضرور ثابت ہوتا ہے، خصوصاً جب یہ سند دیگر قرائن سے مضبوط ہو۔
◈ ایک اعتراض اور اس کا علمی جواب: “حسین بن یعقوب” کی تعین
اعتراض:
ایک بریلوی ناقد نے یہ اشکال کیا کہ اس سند میں “حسین بن یعقوب” کی تعین مطلوب ہے، یہ واضح نہیں کہ کون ہیں۔
جواب (تعین کے قرائن):
راوی کی پہچان اس کے شیوخ اور تلامذہ کے ذریعے ہوتی ہے، اور یہاں دونوں طرف قرینہ موجود ہے:
1. حافظ ذہبی کی توثیق:
الثِّقَةُ، أَبُو العَبَّاسِ أَحْمَدُ بنُ عُمَرَ بنِ أَنَسِ بنِ دِلْهَاثِ بنِ أَنَسِ—–وَسَمِعَ بِالأَنْدَلُسِ مِنْ: أَبِي عَلِيٍّ الحُسَيْن بن يَعْقُوْبَ البَجَّانِيّ؛ صَاحِب ابْن فَحلُوْنَ،
اردو ترجمہ:
احمد بن عمر بن انس (ثقہ) نے اندلس میں ابو علی حسین بن یعقوب البجانی سے سماع کیا جو ابن فحلون کے حلقے سے وابستہ ہیں۔
(سير أعلام النبلاء)
2. امام حمیدی کی صراحت (نسبت دادا کی طرف)
الحسين بن يعقوب البجاني أبو علي، روى عن سعيد بن فحلون كتاب عبد الملك بن حبيب السلمى—– ونسباه إلى جده، وهو الحسين بن عبد الله ابن يعقوب
اردو ترجمہ:
حسین بن یعقوب البجانی ابو علی نے سعید بن فحلون سے عبدالملک بن حبیب السلمی کی کتاب روایت کی… اور اس کی نسبت دادا کی طرف کی جاتی ہے، اور وہ “حسین بن عبد اللہ ابن یعقوب” ہیں۔
(جذوة المقتبس في ذكر ولاة الأندلس)
نتیجہ:
اس طرح “حسین بن یعقوب” کی تعین خود اہلِ تراجم کے کلام سے واضح ہو جاتی ہے۔
③ راوی نمبر 3: سعید بن فحلون الالبیری الاندلسی (ابو عثمان)
1. حافظ ذہبی:
37 – ابْنُ فَحْلُوْنَ أَبُو عُثْمَانَ سَعِيْدُ بنُ فَحْلُوْنَ الأَنْدَلُسِيُّ *
الشَّيْخُ، الثِّقَةُ، الإِمَامُ، أَبُو عُثْمَانَ سَعِيْدُ بنُ فحلُوْنَ الأَنْدَلُسِيُّ، الإِلْبِيْرِيُّ، رَاوي كِتَابِ (الوَاضحَةِ) لِعَبْدِ المَلِكِ بنِ حَبِيْبٍ، عَنْ يُوْسُفَ المُغَامِيِّ (1) عَنْهُ.
اردو ترجمہ:
ابن فحلون ابو عثمان سعید بن فحلون اندلسی (الالبیری) “شیخ، ثقہ، امام” ہیں۔ اور وہ عبدالملک بن حبیب کی کتاب “الواضحة” کے راوی ہیں، یوسف المغامی کے واسطے سے۔
(سير أعلام النبلاء)
2. ابن الفرضی:
وکان سعید بن فحلون صدوقاً
اردو ترجمہ:
سعید بن فحلون صدوق تھے۔
نتیجہ:
اس راوی کی توثیق “ثقہ/امام” اور کم از کم “صدوق” کے طور پر موجود ہے، جو سند کی تقویت ہے۔
④ راوی نمبر 4: یوسف بن یحییٰ المغامی (ابو عمر القرطبی)
1. ابن فرحون:
يُوسُف أَبُو عمر المغامي بن يحيى بن يُوسُف بن مُحَمَّد دوسي—– وَكَانَ حَافِظًا للفقه نبيلاً فِيهِ فصيحاً بَصيرًا بِالْعَرَبِيَّةِ
اردو ترجمہ:
یوسف ابو عمر المغامی بن یحیی… فقہ کے حافظ، اس میں ممتاز، فصیح اور عربی میں بصیرت رکھنے والے تھے۔
(الديباج المذهب في معرفة أعيان علماء المذهب)
2. ابو العرب التمیمی (ابن فرحون کی نقل کے مطابق):
وَقَالَ أَبُو الْعَرَب فِي طبقاته كَانَ المغامي إِمَامًا جَامعا لفنون من الْعلم ثِقَة عَالما بالذب عَن مَذْهَب الْحِجَازِيِّينَ
اردو ترجمہ:
ابو العرب نے اپنی “طبقات” میں کہا: المغامی امام تھے، متعدد فنون کے جامع، ثقہ، اور حجاز والوں کے مذہب کے دفاع میں عالم تھے۔
(الديباج المذهب في معرفة أعيان علماء المذهب)
3. علامہ شیرازی:
قَالَ الشِّيرَازِيّ كَانَ فَقِيها عابداً تفقه بِابْن حبيب
اردو ترجمہ:
شیرازی نے کہا: وہ فقیہ اور عابد تھے، اور ابن حبیب سے فقہ حاصل کی۔
(الديباج المذهب في معرفة أعيان علماء المذهب)
نتیجہ:
یوسف المغامی کی توثیق “ثقہ/امام/حافظِ فقہ” کے الفاظ سے ملتی ہے، جو سند کی مضبوطی میں واضح اضافہ ہے۔
◈ ایک اعتراض اور اس کا علمی جواب: “یونس(یوسف) بن یحییٰ المفامی” مجہول؟
اعتراض:
ایک بریلوی ناقد نے یہ کہا کہ سند میں “یونس بن یحییٰ المفامی” مجہول ہے۔
جواب:
متنِ سند میں خود “یونس(یوسف)” کی طرف اشارہ موجود ہے، اور اہلِ تراجم کے ہاں صحیح نام “یوسف بن یحییٰ المغامی” آتا ہے، نیز دوسرے مصادر میں یہی تصحیح ملتی ہے:
1. ابن فرحون کی صراحت:
يُوسُف أَبُو عمر المغامي بن يحيى بن يُوسُف بن مُحَمَّد—-رُوِيَ عَن عبد الملك بن حبيب مصنفاته ——–ـ
اردو ترجمہ:
یوسف ابو عمر المغامی… عبدالملک بن حبیب سے ان کی تصانیف روایت کرتے ہیں۔
(الديباج المذهب في معرفة أعيان علماء المذهب)
اور پھر:
كتب ابْن حبيب سمع مِنْهُ—–وَسَعِيد بن فحلون
اردو ترجمہ:
ابن حبیب کی کتابیں ان سے سنی گئی ہیں… اور (ان سے سننے والوں میں) سعید بن فحلون بھی ہیں۔
(الديباج المذهب في معرفة أعيان علماء المذهب)
2. ابن حزم کی “المحلى” میں اسی سند کی صورت:
فَمِمَّا رُوِيَ فِي الْقَوْلِ الْأَوَّلِ: مَا ناه أَحْمَدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَنَسٍ نا الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ نا سَعْدُ بْنُ فَلْحُونٍ نا "يُوسُفُ بْنُ يَحْيَى” نا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ حَبِيبٍ قَالَ:
اردو ترجمہ:
اس سند میں “یوسف بن یحیی” کے نام کی تصریح موجود ہے۔
(المحلى بالآثار)
نتیجہ:
یہ اعتراض دراصل نام کی کتابتی/نقلی صورت (یونس/یوسف) یا نسبت کی غلطی سے پیدا ہوا، جبکہ معتبر نقلوں میں “یوسف بن یحییٰ المغامی” کی صورت واضح ہے۔
⑤ راوی نمبر 5: عبدالمالک بن حبیب السلمی الاندلسی (ابو مروان، متوفی 238ھ)
1. حافظ ذہبی:
554- 6/ 9- عبد الملك بن حبيب الفقيه الكبير عالم الأندلس أبو مروان السلمي ثم المرداسى الأندلسي القرطبي:—–روى عنه بقى بن مخلد ومحمد بن وضاح
اردو ترجمہ:
عبدالملک بن حبیب بڑے فقیہ، عالمِ اندلس، ابو مروان السلمی… ان سے بقی بن مخلد اور محمد بن وضاح نے روایت کی۔
(تذكرة الحفاظ)
2. حافظ ابن حجر (تہذیب التہذیب) میں ایک اہم قرینہ:
739 – "تمييز عبد الملك” بن حبيب بن سليمان بن مروان بن جاهمة بن—-عبد الملك عالم الأندلس روى عنه ابن وضاح وبقي بن مخلد ولا يرويان إلا عن ثقة عندهما
اردو ترجمہ:
عبدالملک بن حبیب عالمِ اندلس ہیں، ان سے ابن وضاح اور بقی بن مخلد نے روایت کی، اور یہ دونوں اپنے نزدیک صرف ثقہ سے روایت کرتے ہیں۔
(تهذيب التهذيب)
3. ابن الفرضی:
816 – عبد المَلِك بن حَبيب بن سُلَيْمان بن هارون بن جاهمة بن عَبّاس—– وكان: حافِظاً لِلْفِقْه على مَذْهب المدنيّين، نبيلا فيه
اردو ترجمہ:
عبدالملک بن حبیب… مدنیین کے مذہب پر فقہ کے حافظ تھے اور اس میں ممتاز تھے۔
(تاريخ علماء الأندلس لابن الفرضي)
4. حافظ ذہبی کا “حافظ” کی تعریف (اصطلاحی فائدہ):
الثقة: تُشتَرَطُ العدالةُ في الراوي، كالشاهد. ويمتازُ الثقةُ بالضبطِ والإتقان. فإن انضافَ إلى ذلك المعرفةُ والإكثارُ، فهو حافظٌ.
اردو ترجمہ:
ثقہ راوی میں عدالت شرط ہے، اور ثقہ ضبط و اتقان سے ممتاز ہوتا ہے۔ اگر اس کے ساتھ معرفت اور کثرتِ روایت بھی جمع ہو جائے تو وہ “حافظ” ہوتا ہے۔
(الموقظة في علم مصطلح الحديث)
5. حافظ ذہبی (تاریخ الاسلام) میں ایک نقدی نوٹ بھی نقل کرتے ہیں:
ثُمَّ قَالَ الصَّدفيّ فِي تاريخه: كَانَ كثير الرواية، كثير الجمع، يعتمدُ عَلَى الأخذ بالحديث. ولَم يكن يميّزه، ولا يعرف الرجال. وكان فقيهًا فِي المسائل.
اردو ترجمہ:
پھر الصدفی نے اپنی تاریخ میں کہا: وہ بہت زیادہ روایت کرنے والے، بہت جمع کرنے والے تھے، حدیث لینے میں ان پر اعتماد کیا جاتا تھا، لیکن وہ (ہر روایت میں) امتیاز نہیں کر پاتے تھے اور رجال کو (کامل درجے میں) نہیں جانتے تھے؛ البتہ مسائل میں فقیہ تھے۔
(تاريخ الإسلام ووفيات المشاهير والأعلام)
6. حافظ ذہبی (سیر اعلام) میں:
32 – ابْنُ حَبِيْبٍ عَبْدُ المَلِكِ بنُ حَبِيْبِ بنِ سُلَيْمَانَ السُّلَمِيُّ *—-الإِمَامُ، العَلاَّمَةُ، فَقِيْهُ الأَنْدَلُسِ، أَبُو مَرْوَانَ عَبْدُ المَلِكِ بنُ حَبِيْبِ بنِ سُلَيْمَانَ بنِ هَارُوْنَ
اردو ترجمہ:
ابن حبیب عبدالملک بن حبیب السلمی… “امام، علامہ، فقیہِ اندلس” ابو مروان ہیں۔
(سير أعلام النبلاء)
نتیجہ:
عبدالملک بن حبیب کے بارے میں اہلِ علم کے ہاں توصیف اور بعض پہلوؤں سے تنبیہ دونوں ملتی ہیں: ان کی فقاہت و علم کا اعتراف بھی ہے، اور حفظ/غلطی کے پہلو پر کلام بھی۔ ایسے راوی سے “اثر” کی روایت—بالخصوص جب دیگر قرائن و سند کی مجموعی کیفیت ساتھ ہو—اہلِ تحقیق کے نزدیک قابلِ بحث/قابلِ احتجاج رہتی ہے، جیسا کہ متعدد ائمہ نے ان سے اخذ و روایت کیا۔
◈ ایک اعتراض اور اس پر علمی گفتگو: “عبدالملک بن حبیب” کی تضعیف
اعتراض:
ایک بریلوی ناقد نے کہا کہ عبدالملک بن حبیب “ضعیف الحفظ” ہیں، اور بعض اہلِ علم نے ان پر سخت کلام کیا ہے۔ نیز “تقریب” میں یہ الفاظ ذکر کیے جاتے ہیں:
عبد الملك بن حبيب الأندلسي، أبو مروان، الفقيه المشهور: صدوق ضعيف الحفظ، كثير الغلط،
اردو ترجمہ:
عبدالملک بن حبیب اندلسی ابو مروان، مشہور فقیہ: سچے ہیں مگر حافظہ کمزور، اور بہت غلطی کرنے والے ہیں۔
جواب:
اسی کے ساتھ یہ بھی ایک مضبوط قرینہ ہے کہ ابن وضاح اور بقی بن مخلد جیسے ائمہ ان سے روایت کرتے ہیں، اور تہذیب التہذیب میں یہ اصولی بات منقول ہے کہ یہ دونوں اپنے نزدیک “ثقہ” سے ہی روایت کرتے تھے:
ولا يرويان إلا عن ثقة عندهما
اردو ترجمہ:
وہ دونوں اپنے نزدیک ثقہ کے سوا کسی سے روایت نہیں کرتے۔
(تهذيب التهذيب)
مزید یہ کہ بڑے شارحین کے ہاں ان کی تصانیف/نقول کا ذکر آنا بھی ایک علمی قرینہ سمجھا جاتا ہے، تاہم “قرینہ” کو “قطعی توثیق” سمجھنے کے بجائے مجموعی وزن میں رکھا جاتا ہے۔ اس طرح معاملہ علمی رہتا ہے، الزام تراشی نہیں بنتا۔
⑥ راوی نمبر 6: عبدالملک بن عبدالعزیز الماجشون (ابو مروان المدنی)
1. حافظ ذہبی:
3463- عبد الملك بن عبد العزيز بن الماجشون الفقيه أبو مروان المديني عن أبيه ومالك وعنه عبد الملك بن حبيب والفسوي رأس في الفقه قليل الحديث صدوق
اردو ترجمہ:
عبدالملک بن عبدالعزیز بن الماجشون فقیہ ابو مروان المدنی… (انہوں نے) اپنے والد اور مالک سے روایت کی، اور ان سے عبدالملک بن حبیب اور الفسوی نے روایت کی۔ فقہ میں “راس” (نمایاں) ہیں، حدیث کم بیان کرتے ہیں، اور “صدوق” ہیں۔
(الكاشف في معرفة)
2. امام دارقطنی:
عبدُالملكِ بنُ عبدِالعزيزِ الماجشونُ ، كان فقيهًا، من أصحابِ مالكٍ
اردو ترجمہ:
عبدالملک بن عبدالعزیز الماجشون فقیہ تھے، اور امام مالک کے اصحاب میں سے تھے۔
(سؤالات السلمي للدارقطني)
3. ابن عبدالبر:
عبد الملك بن عبد العزيز بن عبد الله بْنِ أَبِي سَلَمَةَ الْمَاجِشُونُ—– كَانَ فَقِيهًا فَصِيحًا دَارَتْ عَلَيْهِ الْفُتْيَا فِي زَمَانِهِ إِلَى مَوته
اردو ترجمہ:
عبدالملک بن عبدالعزیز… فقیہ اور فصیح تھے، ان کے زمانے میں وفات تک فتویٰ انہی کے گرد گردش کرتا رہا۔
(الانتقاء في فضائل الثلاثة))
نتیجہ:
یہ راوی کم از کم “صدوق” اور فقاہت و اصحابِ مالک میں نمایاں حیثیت کے ساتھ ثابت ہے، لہٰذا سند کا اختتام بھی معقول بنیاد پر ہوتا ہے۔
◈ ایک اعتراض: “الماجشون” کے بارے میں بعض جروح/حالات
اعتراض:
ایک بریلوی ناقد نے کہا کہ الماجشون اگرچہ فقیہ تھے لیکن روایت میں کمزور سمجھے گئے، اور آخری عمر میں نابینا بھی ہوئے۔ بعض کتب میں یہ منقول عبارات بھی ذکر کی جاتی ہیں:
صاحب مالك.
ضعفه الساجي والازدى.
وسئل أحمد بن حنبل عنه، فقال: هو كذا وكذا، ومن يأخذ عنه!
اردو ترجمہ (اجمالی):
وہ امام مالک کے ساتھی/شاگرد تھے۔ الساجی اور الازدی نے انہیں ضعیف کہا۔ اور امام احمد بن حنبل سے پوچھا گیا تو انہوں نے سخت انداز میں بات کہی… (الخ)
اور ابن عبدالبر کے حوالے سے یہ بھی ذکر کیا جاتا ہے:
قال ابن عبد البر: كان فقيها فصيحا دارت عليه الفتيا في زمانه وعلى أبيه قبله، وأضر في آخر عمره، وكان مولعا بسماع الغناء.
اردو ترجمہ:
ابن عبدالبر نے کہا: وہ فقیہ اور فصیح تھے، ان کے زمانے میں فتویٰ انہی کی طرف رجوع ہوتا تھا، اور ان سے پہلے ان کے والد کی طرف، اور آخر عمر میں نابینا ہو گئے، اور (منقول ہے کہ) انہیں غناء سننے کا شوق تھا۔
جواب:
(1) ایک طرف توثیق کی صریح نصوص (صدوق/فقیہ/راس فی الفقہ/اصحاب مالک) موجود ہیں، اور (2) دوسری طرف بعض ناقدانہ نقول بھی ملتی ہیں۔ ایسے مقام پر اہلِ تحقیق عام طور پر “جمع و تطبیق” کرتے ہیں: یعنی فقہ و منصبِ افتاء کی شہادت اپنی جگہ، اور “کثیر الحدیث نہ ہونا/کم روایت” یا “بعض ناقدین کا تضعیف” اپنی جگہ—پھر مجموعی نتیجہ سند کے درجے کے مطابق نکالا جاتا ہے، خصوصاً جب بحث “اثر” کی ہو نہ کہ “احکامِ حلال و حرام میں مستقل حدیث” کی۔
اور جہاں تک “غناء” جیسی نسبت کا تعلق ہے، اہلِ علم عموماً ایسی تاریخی حکایات کو سند، ثبوت اور سیاق کے ساتھ پرکھتے ہیں، اور بلا تحقیق کسی پر حکم نہیں لگاتے۔
✔ حاصلِ تحقیق: سند کے راویوں کا مجموعی درجہ
مندرجہ بالا تفصیل سے، سند کے راویوں کی مجموعی کیفیت کو یوں مرتب کیا جا سکتا ہے:
✦ ① احمد بن عمر بن انس بن دلھاث — “الإمام/الحافظ/المحدث/الثقة”
✦ ② حسین بن عبد اللہ/حسین بن یعقوب البجانی — اہلِ تراجم میں معروف، تعین واضح، کم از کم قابلِ کتابت
✦ ③ سعید بن فحلون — “الثقة/الإمام” اور “صدوق”
✦ ④ یوسف بن یحییٰ المغامی — “إمام/ثقة/حافظ للفقه”
✦ ⑤ عبدالملک بن حبیب — بڑے فقیہ و عالمِ اندلس؛ ساتھ بعض ناقدانہ کلمات، مگر اکابر کی روایت اور قرائن موجود
✦ ⑥ عبدالملک بن عبدالعزیز الماجشون — “صدوق”، فقہ میں نمایاں، اصحابِ مالک
اس مجموعی تصویر سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ امام مالکؒ کے اس اصولی قول کا اصل مفہوم اہلِ علم کے ہاں معروف ہے، اور اسے معتبر مصادر نے سند کے ساتھ نقل کیا ہے؛ لہٰذا اسے محض طعن و تشنیع کی بنیاد پر ردّ کر دینا علمی طرز نہیں۔
✔ نتیجہ اور خلاصہ
امام مالک بن انس رحمہ اللہ کا یہ قول بدعت کے باب میں ایک عظیم اصولی قاعدہ ہے: “دین” وہی ہے جو عہدِ نبوی میں بطورِ دین ثابت ہو۔ آیتِ اکمال {اليوم أكملت لكم دينكم} اس اصول کی مضبوط بنیاد ہے۔ اسی وجہ سے ائمۂ مالکیہ اور دیگر اہلِ علم نے امام مالکؒ کے اس موقف کو نقل کیا اور اس سے استدلال کیا۔ نیز سند کے متعلق جو اعتراضات اٹھائے جاتے ہیں، ان کا درست طریقہ یہ ہے کہ راویوں کی تعین، اہلِ تراجم کی نصوص، اور مجموعی قرائن کو سامنے رکھ کر علمی انداز میں گفتگو کی جائے—نہ کہ تحقیر، الزام تراشی یا غیر مناسب الفاظ کے ذریعے۔ چنانچہ یہ اثر بدعت کی تردید میں ایک مضبوط علمی دلیل کے طور پر قابلِ ذکر رہتا ہے، اور اس سے یہ رہنمائی ملتی ہے کہ عبادات میں اضافہ/ایجاد کو “حسن” کہہ کر دین کا حصہ بنانا سلف کے منہج کے خلاف ہے۔




















