مضمون کے اہم نکات
یہ مضمون اس اصول کو واضح کرتا ہے کہ بدعتی کے ساتھ مُجالست (بیٹھک/صحبت) اور بدعتی کے پیچھے نماز کا حکم کیا ہے—اور یہ حکم سلفِ صالحین کے صریح آثار اور بعد کے ائمۂ اہلِ حدیث کے منہج سے کیسے ثابت ہے۔ ہم مرحلہ وار دکھائیں گے کہ:
(1) صحابہ و ائمہ نے اہلِ اَہواء سے مجالست کو دل کی بیماری اور دین کے فساد کا سبب قرار دیا؛
(2) امامت کے باب میں انہوں نے کافرِ بدعتی/مُکفِّر بدعت اور داعیِ بدعت کی امامت سے منع کیا، اور غیر داعی غیر مکفِّر کی صورت میں تفصیل بیان کی؛
(3) بعد کے محققینِ اہلِ حدیث نے اسی توازن کو اختیار کیا؛ اور
(4) آخر میں اُن اقوال/روایات کا جرحی جائزہ آئے گا جو سنداً ضعیف، مرسل یا منقطع ہیں، تاکہ مسئلہ خالصتاً صحیح آثار پر قائم رہے۔
سلفِ صالحین: اہلِ اَہواء (بدعتیوں) کی مجالست سے منع
① اثرِ ابنِ عباسؓ — اہلِ اَہواء کی مجلس، دلوں کے لیے بیماری
عربی متن:
«لا تُجالِسْ أهلَ الأهواءِ، فإنَّ مُجالستَهم مَمرَضةٌ للقلوب.»
حوالہ:
الشریعۃ للآجُرّی: 133 — الإسناد: الفِریابی (ثقة حافظ)، أبو تَقی ہشام بن عبد الملک (متقن)، محمد بن حرب (ثقة)، أبو سلمۃ سلیمان بن سلیم (ثقة)، أبو حصین عثمان بن عاصم (ثقة ثبت)، أبو صالح ذَکوان (ثقة ثبت) → ابن عباسؓ۔
ترجمہ:
“اہلِ اَہواء (بدعتیوں) کے ساتھ نہ بیٹھو؛ کیونکہ ان کی مجلس دلوں کے لیے بیماری ہے۔”
وضاحت:
یہ اثر صحابیِ رسولؓ سے ثابت ہے اور اصولِ دین پر قاطع دلالت رکھتا ہے: مجالست (قربت/صحبت) اثر انداز ہوتی ہے؛ بدعتی کی مجلس قلبی فساد کا سبب بنتی ہے۔ یہی بنیاد آگے امامت کے باب میں احتیاط کی تفصیل سمجھنے میں مدد دیتی ہے: جس کی مجلس دل کو بیمار کرتی ہو، اس کی اقتداء میں مزید سخت احتیاط لازم ہے—خصوصاً جب وہ داعیِ بدعت ہو۔
② امام مالکؒ: بدعتی (قدری) کے پیچھے نماز سے منع
عربی متن:
سُئل مالكٌ عن الصلاة خلف أهل البدع القدرية فقال: «لا، ولا أرى أن يُصلّى خلفهم»، ونهى عنه.
حوالہ:
الإبانۃ لابن بَطّہ (1862) — السند: ابن بَطّہ (ثقة)، جعفر بن محمد القافلانی (ثقة)، محمد بن إسحاق الصاغانی (ثقة ثبت)، أصبغ بن الفرج (ثقة)، ابن وہب (ثقة حافظ)، الإمام مالکؒ۔
ترجمہ:
امام مالکؒ سے قدری بدعتیوں کے پیچھے نماز کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا: “نہیں؛ میں یہ نہیں سمجھتا کہ ان کے پیچھے نماز پڑھی جائے”—اور اس سے منع فرمایا۔
وضاحت:
یہ منع اہلِ اَہواء کی امامت کے باب میں اصل احتیاط بتاتا ہے؛ خاص طور پر جب عقیدہ قدری جیسی مُضلّل بدعت ہو۔
امام مالک کا دوسرا قول: جمعہ بھی نہ پڑھو، ضرورتاً پڑھو تو اعادہ کرو
عربی متن
قَالَ: وَسَأَلْتُ مَالِكًا عَنْ الصَّلَاةِ خَلْفَ الْإِمَامِ الْقَدَرِيِّ؟ قَالَ: إنْ اسْتَيْقَنْتَ أَنَّهُ قَدَرِيٌّ فَلَا تُصَلِّ خَلْفَهُ، قَالَ: قُلْتُ: وَلَا الْجُمُعَةَ؟
ابنُ القاسم کہتے ہیں: میں نے مالکؒ سے قدری امام کے پیچھے نماز کے بارے میں پوچھا؛ فرمایا: اگر یقین ہو کہ وہ قدری ہے تو اس کے پیچھے نہ پڑھو۔ کہا: جمعہ؟ فرمایا: نہیں۔
اگر خوف/تقِیّہ ہو تو ساتھ پڑھ لو اور بعد میں ظہر اعادہ کرو۔ پھر فرمایا: “اہلِ اَہواء، اہلِ قدر کی مثل ہیں… اہلِ بدعت سے نکاح نہ کرو، ان کو سلام نہ کرو، ان کے پیچھے نماز نہ پڑھو، ان کے جنازوں میں شرکت نہ کرو…”
حوالہ:
المدونۃ الکبریٰ (کتاب الصلاۃ، باب الاقتداء) — روایت ابنِ القاسم عن مالکؒ۔
نکات:
-
قدری/اہلِ اَہواء یقین ہونے پر پیچھے نماز نہ پڑھو، حتیٰ کہ جمعہ بھی نہیں۔
-
خوف کی حالت میں ساتھ پڑھ لو؛ بعد میں اعادہ (ظہر) لازم۔
-
سماجی مقاطعہ (نکاح، سلام، جنازہ) بھی اصلِ ردع کے لیے۔
وضاحت:
یہ نصوص بتاتی ہیں کہ امام مالکؒ کے نزدیک بدعت کی نوع اور حالت (یقین، داعی، فسادِ اعتقاد) معتبر ہیں: یقینی بدعت اور داعیت کی صورت میں اقتداء ممنوع، اور اضطرار میں اعادہ کا حکم۔
③ عبدالرحمن ابن مھدی العنبری(متوفی 198ھ) کا موقف
اصل متن:
«يُصَلَّى خَلْفَ أَصْحَابِ الأهواءِ ما لم يكن داعيةً إلى بدعته مُجادِلًا بها، إلا هذين الصنفين: الجهمية والرافضة…»
حوالہ:
حلیۃ الأولیاء لأبي نُعيم (بسندٍ: الأصبهاني → ابنُ محمدٍ الأصبهاني → الأبهري → عبد الرحمن بن عمر الزهري → عبد الرحمن بن مهدي).
ترجمہ:
“اہلِ اَہواء کے پیچھے نماز پڑھی جائے جب تک وہ اپنی بدعت کے داعی اور اس پر جھگڑالو نہ ہوں۔ دو گروہ اس سے مستثنیٰ ہیں: جہمیہ اور رافضہ (ان کے پیچھے نہ پڑھی جائے) …”
وضاحت:
یہ نص قاعدۂ جمہور کی واضح تعبیر ہے: غیر داعی بدعتی کی اقتداء میں وسعت، داعی یا مکفّر بدعت والوں کے پیچھے منع۔
④ امام احمد بن حنبلؒ — داعیِ بدعت کے پیچھے نماز نہیں
«سُئل عن رجلٍ يقول: الإيمانُ قولٌ، أَيُصَلَّى خلفه؟ قال: إن كان داعيةً إليه لا يُصَلَّى خلفه، وإن كان لا علم لديه فأرجو أن لا يكون به بأس.»
حوالہ:
مسائل الإمام أحمد روایت ابن ہانئ، رقم (301، 4309، 4316).
ترجمہ:
ایک شخص جو کہتا ہے “ایمان صرف قول ہے” (مرجئہ) — کیا اس کے پیچھے نماز ہو؟ فرمایا: “اگر وہ داعی ہے تو اس کے پیچھے نماز نہ پڑھو؛ اور اگر جہالت کی وجہ سے ایسا کہتا ہے (داعی نہیں) تو امید ہے کہ حرج نہیں۔”
وضاحت:
امام احمدؒ نے داعی/مخاصم اور غیر داعی/غیر مخاصم میں فرق رکھا؛ اسی پر اہلِ حدیث کا انضباطی منہج قائم ہے۔
⑤ امام انس بن عیاض اللیثی المدنی (متوفی 200ھ) کا موقف
سُئل عن الصلاة خلف الجهمية فقال: «لا تُصَلِّ خلفهم»، وتلا: ﴿وَمَنْ يَبْتَغِ غَيْرَ الإِسْلَامِ دِينًا فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْهُ﴾.
حوالہ:
السنۃ للخَلّال (رقم 1698) بسند: المروزی → إسحاق بن بہلول → أنس بن عیاض.
ترجمہ:
“جہمیہ کے پیچھے نماز نہ پڑھو” اور آیت تلاوت کی: “جو اسلام کے سوا دین چاہے اس سے قبول نہ ہوگا۔”
وضاحت:
جہمیہ (اعتقادی کفر کے لوازم والی بدعت) کے پیچھے اقتداء ممنوع—یہ بدعتِ مکفّرہ کے باب کی نظیر ہے۔
⑥ امام یزید بن ھارون الواسطی(متوفی 206ھ) کا موقف
«سألتُ يزيدَ بنَ هارون عن الصلاة خلف الجهمية فقال: لا تُصَلِّ خلفهم.»
حوالہ
السنۃ للخَلّال (رقم 1699) بسند: الخَلّال → الرمادی → یزید بن ہارون.
ترجمہ:
“میں نے یزید بن ہارون سے جہمیہ کے پیچھے نماز کے بارے میں پوچھا تو فرمایا: ان کے پیچھے نہ پڑھو۔”
وضاحت:
انس بن عیاضؒ کی طرح یہاں بھی حکم قطعی منع ہے — بدعت کی شدّت معتبر ہے۔
⑦ امام محمد بن اسماعیل، ابو عبداللہ البخاری (متوفی 256ھ) موقف
قال أبو عبد الله: «ما أُبالي صليتُ خلف الجهميّ الرافضي أم صليتُ خلف اليهود والنصارى … ولا يُسلّم عليهم، ولا يُعادون…»
حوالہ:
خَلق أفعال العباد للبخاری.
ترجمہ:
“مجھے برابر ہے کہ میں جہمی/رافضی کے پیچھے نماز پڑھوں یا یہود و نصاریٰ کے پیچھے…” (یعنی ان کی امامت کی شناعت) “… ان کو سلام نہ کیا جائے، عیادت نہ کی جائے …”
وضاحت:
یہ تعبیر جہمی/رافضی کی امامت کی شدید نکیر پر دلالت کرتی ہے؛ اعتقادی فساد کے سبب ان کی امامت ناقابلِ اعتداد ہے۔
⑧ امام اسماعیل، ابو القاسم، بقوام السنہ(متوفی 535ھ) کا موقف
«وأصحابُ الحديث لا يرون الصلاة خلف أهل البدع لئلا يراه العامة فيفسدون بذلك.»
حوالہ:
الحجة في بيان المحجة وشرح عقيدة أهل السنة
ترجمہ:
“اصحابِ حدیث اہلِ بدعت کے پیچھے نماز نہیں دیکھتے تاکہ عام لوگ اسے (بطورِ سنت) دیکھ کر بگاڑ میں مبتلا نہ ہوں۔”
وضاحت:
یہ سدّ الذرائع کی حکمت ہے: عوام میں بدعت کا اعتبار بننے سے روکا گیا۔
⑨ ابومحمد البربھاری(متوفی 329ھ) کا موقف
«الصلوات الخمس جائزةٌ خلف من صليت خلفه إلا أن يكون جهميًا… فأعد صلاتَك. وإن كان إمام الجمعة جهميًا وهو سلطان فصلِّ خلفه وأعد صلاتك…»
حوالہ:
شرح السنۃ للبربہاری.
ترجمہ:
“پانچوں نمازیں اس کے پیچھے درست ہیں جس کے پیچھے تم نے پڑھی ہوں سوائے اس کے جو جہمی ہو؛ … تو اپنی نماز دوبارہ ادا کرو۔ اگر جمعہ کا امام جہمی اور سلطان ہو تو اس کے پیچھے پڑھ لو اور اعادہ کرو …”
وضاحت:
یہ بھی بدعتِ مکفّرہ کے امام کے پیچھے اعادہ کے ضابطے کو تقویت دیتا ہے۔
⑩ ابراھیم بن خالد، ابو ثور الکلبی(متوفی 240ھ) کا موقف
«هؤلاء قدرية لا يُصلّى خلفهم، ولا يُعادُ مريضُهم، ولا تُشهدُ جنائزُهم… وسألتُ: الصلاة خلف من يقول: القرآن مخلوق؟ فهذا كافرٌ بقوله لا يُصلّى خلفه.»
حوالہ:
شرح أصول اعتقاد أهل السنة (لالکائی، 1/319) بسند: ابن رزق اللہ → ابن حمدان → إدريس الحداد → أبو ثور.
ترجمہ:
“یہ قدری ہیں — ان کے پیچھے نماز نہ پڑھو… اور جو کہے ‘قرآن مخلوق ہے’ تو وہ اپنے قول سے کافر ہے؛ اس کے پیچھے نماز نہ پڑھو۔”
وضاحت:
قدری داعی اور قائلِ خلقِ قرآن پر صریح منع—یہی منہجِ سلف۔
فقہائے متقدمین و متأخرین کا اجماعی منہج — بدعتی امام کے پیچھے نماز
اس حصے میں ہم دیکھتے ہیں کہ صرف محدثین ہی نہیں بلکہ فقہائے سلف اور متأخرین ائمہ بھی اسی اصول پر متفق تھے کہ:
بدعتی امام کے پیچھے نماز یا تو باطل ہے، یا مکروہِ تحریمی ہے — اس کی بنیاد امام کے عقیدہ اور بدعت کی نوع پر ہے۔
اگر بدعت مکفّرہ ہو تو امامت ناجائز، اور اگر غیر مکفّر ہو تو مکروہ و ناپسندیدہ قرار دی گئی۔
1️⃣ برہان الدین ابنِ فَرْحُون الیعمریؒ (799ھ)
اصل متن:
«مَسْأَلَةٌ: وَلَا يُصَلَّى خَلْفَ أَهْلِ الْبِدَعِ رَدْعًا لَهُمْ، وَقِيلَ: لِفَسَادِ عَقِيدَتِهِمْ.»
📚 تبصرة الحكام في أصول الأقضية ومناهج الأحكام
ترجمہ:
بدعتیوں کے پیچھے نماز نہیں پڑھنی چاہئے — یا تو ان کے ردع و تادیب کے لیے، یا پھر ان کے عقیدہ کے فساد کی وجہ سے۔
وضاحت:
ابنِ فرحونؒ نے بدعتی امام کے پیچھے نماز کے ترک کو عقیدہ کی اصلاح اور ردعِ بدعت دونوں سے مربوط کیا۔
یہی وہ منہج ہے جسے امام قوام السُّنۃؒ نے “عوام کی اصلاح” کے لیے ضروری بتایا تھا۔
2️⃣ امام نوویؒ (676ھ) — بدعتِ مکفّرہ والے امام کے پیچھے نماز باطل
اصل متن:
«ولا تصح الصلاة خلف أحد من الكفار… وكذا المبتدع الذي يكفر ببدعته، فإن صلى خلفه جاهلًا بكفره، فإن كان متظاهرًا بكفره… لزمه إعادة الصلاة بلا خلاف عندنا.»
📚 المجموع شرح المهذب (مع تکملہ السبکی)
ترجمہ:
کسی کافر کے پیچھے نماز درست نہیں، خواہ وہ کسی بھی قسم کا کافر ہو۔ یہی حکم اس بدعتی پر لاگو ہوتا ہے جو اپنی بدعت سے کفر تک پہنچ چکا ہو۔ اگر کسی نے لاعلمی میں اس کے پیچھے نماز پڑھ لی، اور وہ اپنے کفر کا اظہار کرتا تھا، تو اس پر اعادہ لازم ہے، اس پر کوئی اختلاف نہیں۔
وضاحت:
امام نوویؒ نے بدعتِ مکفّرہ (یعنی وہ بدعت جو عقیدے کو کفر تک پہنچا دے، جیسے جہمیہ یا رافضہ) کو کفر کے مترادف قرار دیا اور ایسی امامت کو باطل کہا۔
3️⃣ علاء الدین الکاسانیؒ (587ھ) — فقہِ حنفی میں صریح تفریق
اصل متن:
«إن الصلاة خلف المبتدع لا تجوز، وذكر في المنتقى رواية عن أبي حنيفة أنه كان لا يرى الصلاة خلف المبتدع، والصحيح أنه إن كان هوى يكفره لا تجوز، وإن كان لا يكفره تجوز مع الكراهة.»
📚 بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع
ترجمہ:
بعض مشائخِ حنفیہ نے کہا کہ بدعتی کے پیچھے نماز جائز نہیں۔ امام ابو حنیفہ سے بھی یہی روایت ہے۔
اور صحیح قول یہ ہے کہ اگر اس کی بدعت کفر تک پہنچاتی ہو تو اس کے پیچھے نماز جائز نہیں، اور اگر غیر مکفّرہ بدعت ہو تو نماز جائز مگر مکروہ ہے۔
وضاحت:
کاسانیؒ نے منہجِ فقہِ حنفی میں وہی توازن بیان کیا جو محدثین کے ہاں معروف ہے —
بدعتِ کبریٰ (مکفّرہ) = امامت باطل،
بدعتِ صغریٰ (غیر مکفّرہ) = امامت مکروہ۔
4️⃣ برہان الدین ابو المعالی البخاری الحنفیؒ (616ھ)
اصل متن:
«وقال أبو يوسف: لا تجوز الصلاة خلف المتكلم وإن تكلم بحق، لأنه بدعة، فلا تجوز الصلاة خلف المبتدع.»
📚 المحيط البرهاني في الفقه النعماني
ترجمہ:
قاضی ابو یوسفؒ نے کہا: “کسی متکلم (اہلِ کلام) کے پیچھے نماز جائز نہیں، خواہ وہ حق بات ہی کیوں نہ کہہ رہا ہو؛ کیونکہ علمِ کلام خود بدعت ہے، اور بدعتی کے پیچھے نماز جائز نہیں۔”
وضاحت:
یہ فتویٰ بدعتی کی علمی حیثیت کے باوجود اس کی بدعتی فکر کی وجہ سے اس کے پیچھے نماز کو ناجائز قرار دیتا ہے — خواہ وہ “حق” کا دعویٰ کرے، بدعت کی دعوت ہی اس کا جرم ہے۔
5️⃣ بدر الدین العینی الحنفیؒ (855ھ)
اصل متن:
«في المجتبى والمبسوط: يكره الاقتداء بصاحب البدعة…
وروى محمد عن أبي حنيفة وأبي يوسف أن الصلاة خلف أهل الأهواء لا تجوز.»
📚 البناية شرح الهداية
ترجمہ:
“المجتبیٰ” اور “المبسوط” میں آیا ہے کہ بدعتی کی اقتداء مکروہ ہے۔
محمد بن حسن نے امام ابو حنیفہ اور ابو یوسف سے روایت کیا کہ اہلِ اَہواء (بدعتیوں) کے پیچھے نماز جائز نہیں۔
وضاحت:
عینیؒ نے فقہِ حنفی میں بدعتی کے پیچھے نماز کے کراہت و بطلان دونوں قول نقل کیے،
اور دونوں کی بنیاد امام کی بدعت کی نوع پر رکھی — مکفّرہ بدعت پر نماز باطل،
اور صغریٰ بدعت پر کراہت۔
اہلِ حدیث اکابر و متأخرین کا منہج — بدعتی امام کے پیچھے نماز
سلفِ صالحین کے بعد اہلِ حدیث ائمہ نے اسی منہجِ احتیاط کو اختیار کیا۔ ان کے نزدیک امامِ نماز کا عقیدہ درست، سنت پر قائم اور بدعت سے پاک ہونا ضروری ہے۔ اگر امام بدعتی یا مشرک ہو، تو اس کے پیچھے نماز باطل یا مکروہِ تحریمی ہے، خصوصاً جب وہ داعیِ بدعت ہو یا اس کی بدعت کفریہ ہو۔
1️⃣ علامہ بدیع الدین شاہ الراشدیؒ
اقتباس:
“حنفیوں کے عقائد اہلِ سنت و سلف صالحین کے عقائد کے خلاف ہیں، لہٰذا ایسا عقیدہ رکھنے والے کے پیچھے نماز پڑھنے کو درست نہیں کہا جاسکتا۔”
📚 (کتاب: امام صحیح العقیدہ ہونا چاہیے، ص 45)
وضاحت:
بدیع الدین شاہ الراشدیؒ نے واضح کیا کہ امامِ نماز سنتی عقیدہ والا ہونا چاہیے؛ بدعت یا شرک کا حامل امام نماز کے بطلان کا سبب ہے۔ یہ وہی اصول ہے جو امام مالکؒ، ابن مہدیؒ، اور امام احمدؒ نے پہلے بیان کیا تھا۔
2️⃣ شیخ عبیداللہ مبارکپوریؒ
اقتباس:
“کسی بریلوی حنفی کے پیچھے نماز جائز نہیں کیونکہ ان کے بعض عقائد و اعمال شرکیہ اور کفریہ ہیں۔
اور اگر دیوبندی امام رکوع و سجدے میں سنت کے خلاف بدعات کرتا ہے، تو اس کے پیچھے بھی نماز جائز نہیں۔”
📚 (فتاویٰ شیخ الحدیث مبارکپوری، ج 1 ص 226)
وضاحت:
یہ فتویٰ واضح کرتا ہے کہ عقیدہ و عمل دونوں درست ہونے چاہئیں۔ عقائدِ فاسدہ یا بدعتی طرزِ عبادت رکھنے والے امام کی اقتداء باطل ہے۔
3️⃣ حافظ زبیر علی زئیؒ
اقتباس:
“دیوبندی حضرات اہلِ بدعت ہیں اور جہمیہ کی طرح ان کی بدعت شدید اور خطرناک ہے، لہٰذا ان کے پیچھے نماز نہیں ہوتی۔”
📚 (رسالہ: بدعتی کے پیچھے نماز کا حکم، ص 5)
وضاحت:
حافظ زئیؒ نے جہمیہ کے درجے کی بدعت رکھنے والے مقلدین کے پیچھے نماز کو باطل کہا۔ ان کا استدلال انہی سلفی اصولوں پر ہے کہ جہمی، رافضی، قدری اور بدعتِ کبریٰ والے کی امامت معتبر نہیں۔
4️⃣ حافظ عبدالغفار سلفیؒ
اقتباس:
“ایک ایسے امام کے پیچھے نماز ادا کرنا جائز نہیں جو میلاد، قیام، غزل خوانی اور دیگر بدعات میں مبتلا ہو۔ ایسے امام کے پیچھے نماز چھوڑنا جائز نہیں بلکہ واجب ہے۔”
📚 (فتاویٰ ستاریہ، حافظ عبدالغفار سلفی، ج 2 ص 97)
وضاحت:
یہ وہی قاعدہ ہے جو امام قوام السنہؒ نے بیان کیا تھا — عوام الناس میں بدعت کی ترویج سے بچانے کے لیے بدعتی امام کے پیچھے نماز منع کی گئی۔
5️⃣ علمائے اہلِ حدیث (فتاویٰ علمائے حدیث)
اقتباس:
“صالح، عالم اور صحیح العقیدہ شخص ہی امامت کا اہل ہے۔
مشرک یا بدعتی کی اقتداء درست نہیں، کیونکہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ تم میں سے امامت وہ کرے جو قرآن کا زیادہ عالم اور متقی ہو۔”
📚 (فتاویٰ علمائے حدیث، ج 1 ص 247)
وضاحت:
یہ عمومی فتویٰ اس قاعدے پر قائم ہے کہ صالح العقیدہ امام ہی نماز کو صحیح بناتا ہے؛ اہلِ بدعت اور اہلِ شرک کی اقتداء میں نماز باطل ہے، جیسا کہ امام بخاریؒ اور امام مالکؒ نے فرمایا۔
6️⃣ مولانا عبداللہ بہاولپوریؒ
اقتباس:
“اہلِ حدیث کی نماز کسی غیر اہلِ حدیث کے پیچھے کیسے ہوسکتی ہے؟
اہلِ حدیث حق پر ہیں اور غیر اہلِ حدیث باطل پر؛ باطل، حق کا امام نہیں ہوسکتا۔
اگر اہلِ حدیث باطل کی اقتداء کریں تو حق کی فوقیت ختم ہو جائے گی۔”
📚 (رسائل بہاولپوری، ص 613)
وضاحت:
یہ قول اعتقادی منہج کی حفاظت کے لیے ہے۔ اہلِ حدیث کے نزدیک حق (کتاب و سنت) کے مقابلے میں باطل (بدعت و تقلید) کی اتباع باطل عمل ہے، اس لیے اقتداء بھی باطل ہے۔
7️⃣ حافظ عبدالستار الحمادؒ
اقتباس:
“ہمارے ہاں ایسے مقلد موجود ہیں جو شرک و بدعت کے مرتکب ہیں۔
ان کے پیچھے نماز پڑھنا درست نہیں، کیونکہ وہ بدعت و شرک کو اسلام کے رنگ میں پیش کرتے ہیں۔”
📚 (فتاویٰ اصحاب الحدیث، حافظ عبدالستار الحماد، ج 1 ص 333)
وضاحت:
حافظ عبدالستارؒ نے بھی منہجِ سلف کی پیروی کی — ظاہری سنت اور باطنی عقیدہ دونوں کی صحت امامت کے لیے شرط ہیں۔
8️⃣ مولانا عبدالقادر حصارویؒ
اقتباس:
“اہلِ بدعت سے نفرت رکھنا اور ان سے بائیکاٹ ضروری ہے،
نہ ان سے رشتہ کرو، نہ ان کے پیچھے نماز پڑھو، نہ ان کا جنازہ پڑھو اور نہ ان کی مجالس میں شریک ہو۔”
📚 (فتاویٰ حصاریہ و مقالات علمیہ، ص 122)
وضاحت:
یہ موقف صریحاً سلف کے اقوال کا تسلسل ہے — ابن عباسؓ، امام مالکؒ، ابن مہدیؒ اور امام احمدؒ کے اثرات کا عملی نمونہ۔
بدعتی کے پیچھے نماز کے جواز میں پیش کی جانے والی ضعیف روایات
1) «صَلُّوا خَلْفَ كُلِّ بَرٍّ وَفَاجِرٍ…» — سخت ضعیف / منقطع
اصل متن:
«صَلُّوا خَلْفَ كُلِّ بَرٍّ وَفَاجِرٍ، وَصَلُّوا عَلَى كُلِّ بَرٍّ وَفَاجِرٍ، وَجَاهِدُوا مَعَ كُلِّ بَرٍّ وَفَاجِرٍ.»
حوالہ: سنن الدارقطني، رقم (1768): … عن مكحول، عن أبي هريرة… مكحول لَمْ يسمع من أبي هريرة.
ترجمہ:
“ہر نیک اور بدکار کے پیچھے نماز پڑھو، ہر نیک و بدکار پر جنازہ پڑھو، اور ہر نیک و بدکار کے ساتھ جہاد کرو۔”
سندی علت و حکم:
-
انقطاع/ارسال: مَكحول الشامي (متوفى 112ھ) کا ابو ہریرہؓ (متوفى 57ھ) سے سماع ثابت نہیں؛ خود دارقطنی نے صراحت کی: «مكحول لم يسمع من أبي هريرة».
-
البيهقي: اس باب کی تمام روایات غاية الضعف ہیں؛ اس میں جو نسبتاً “اصح” ہے وہ بھی مرسل ہے۔ (السنن الكبرى، 6832)
نتیجہ: روایت سخت ضعیف/منقطع ہے، قابلِ احتجاج نہیں؛ اس سے بدعتی کے پیچھے نماز کا جوازِ مطلق ثابت نہیں کیا جا سکتا۔
2) “دس صحابہ ائمۂ جور کے پیچھے نماز پڑھتے تھے” — راوی مجہول
اصل متن (اثر):
«أدركتُ عشرة من أصحابِ النبي ﷺ كلّهم يُصلّون خلف أئمّة الجور.»
حوالہ: البخاري، التاريخ الكبير (تحت عبد الكريم البكّاء)؛ الإسناد: عبد الكريم البكّاء۔
ترجمہ:
“میں نے نبی ﷺ کے دس صحابہ کو پایا؛ وہ سب ظالم حکمرانوں کے پیچھے نماز پڑھتے تھے۔”
سندی علت و حکم:
-
عبد الكريم البكّاء: مجهول الحال — نہ بخاری نے اس کی توثیق نقل کی، نہ ابنِ أبي حاتم نے؛
-
ابن القطان الفاسي: بخاری و ابنِ أبي حاتم دونوں کے نزدیک مجهول۔ (بيان الوهم والإيهام)
-
ابن كثير: “مستور الحال”۔
نتیجہ: اثر قابلِ احتجاج نہیں؛ “دس صحابہ” کا عمومی دعویٰ مجہول راوی پر قائم ہے، حجت نہیں بن سکتا۔
3) “حسن بصریؒ نے خوارج کے پیچھے نماز کے جواز کا کہا” — سند سخت ضعیف
اصل متن (أثر):
سُئِل الحسن البصري عن رجلٍ من الخوارج يؤمّنا: أنصلّي خلفه؟ قال: «نعم، قد أمّ الناسَ من هو شرٌّ منه.»
حوالہ: أصول السنة لابن أبي زمنين (211) — من طريق الحكم بن عطية العيشي.
ترجمہ:
حسن بصریؒ سے پوچھا گیا: ایک خارجی ہماری امامت کرتا ہے، کیا ہم اس کے پیچھے نماز پڑھیں؟ فرمایا: “ہاں؛ اس سے بدتر لوگوں نے بھی (کبھی) لوگوں کو نماز پڑھائی ہے۔”
سندی علت و حکم:
-
الحكم بن عطية: شدید مضعّف —
-
أبو الوليد، أبو حاتم: “يضعّفه / لا يُحتجّ به” (الجرح والتعديل).
-
ابن حبان: “لا يدري ما يُحدّث… يأتي بالخبر كأنّه موضوع؛ استحقّ الترك.” (المجروحين)
-
النسائي: ليس بالقوي؛ الذهبي: لين.
نتیجہ: اثر سخت ضعیف/متروک درجے کے راوی پر قائم ہے؛ حجت نہیں۔
-
4) “ابن عمرؓ نے حجاج کے پیچھے نماز پڑھی” — ثبوت صحیح نہیں
اصل دعویٰ:
حافظ ابن حجر نے التلخيص الحبير میں ایک نسبت ذکر کی کہ “بخاری میں ابن عمرؓ کا حجاج کے پیچھے نماز پڑھنا آیا ہے”، مگر البانی نے إرواء الغليل میں کہا: “اسے بخاری میں نہیں پایا”۔
مصنف ابن أبي شيبة کی سند:
«… عن مُغيرة قال: صحبَنا رجلٌ من أهل اليمامة فحدّثنا أنّه رأى ابنَ عمر صلّى خلف ابن الزبير بمنى ركعتين، وقال: ورأيته صلّى خلف الحجاج أربعًا.»
حوالہ: المصنف (13983) — فیہ المغيرة بن مقسم مدلس، وقد عنْعن.
ترجمہ:
“یمامہ کے ایک شخص نے بتایا: میں نے ابن عمرؓ کو دیکھا کہ انہوں نے منیٰ میں ابنِ زبیرؓ کے پیچھے دو رکعتیں پڑھیں، اور حجاج کے پیچھے چار رکعتیں پڑھتے دیکھا۔”
سندی علت و حکم:
-
مغيرة بن مقسم: مدلّس؛ یہاں عن سے روایت — تصریحِ سماع نہیں، اس لیے احتمالِ انقطاع باقی۔
-
“یمامہ کے ایک شخص” کی مجہولیت/عدم تسمیہ بھی اشکال ہے۔
نتیجہ: اس تعبیر سے صحیح ثبوت قائم نہیں ہوتا؛ بخاری میں بھی محلِّ استشہاد ثابت نہیں۔
5) “ہر نیک و بد کے پیچھے نماز” — امام احمدؒ کی توضیح (سیاقِ سلطان)
اصل متن (توضیح):
سُئل أحمد وإسحاق عن قول الناس: “الصلاة خلف كل برٍّ وفاجرٍ”، فقال إسحاق ناقلًا عن أحمد:
«معناه: إن ملك الناسَ بخلافةٍ أو ولايةٍ فلا يتخلّفنَّ عن الجماعة أحدٌ بحالِ جورٍ ما لم يبلغ كفرًا عيانًا، أو يؤخّر الصلاة عن الوقت… فإذا بلغ ما فيه الكفر فكأنّك لم تُصلِّ معه.»
حوالہ: مسائل الإمام أحمد وإسحاق للمروزي (باب الجمعة، رقم 503).
ترجمہ:
اس قول کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی حاکم/والی بن جائے تو ظلم کے ہوتے بھی جماعت چھوڑ کر الگ نہ ہو — جب تک کہ اُس سے کھلا کفر ظاہر نہ ہو، یا نمازوں کو اوقات سے باہر نہ کرنے لگے۔
جب وہ کفریہ حد تک پہنچ جائے تو اس کی اقتداء میں نماز معتبر نہیں۔
وضاحت:
یہ سیاسی اضطرار اور وحدتِ جماعت کے باب کی فقہی توضیح ہے؛ عام آئمہ میں بدعتی کے پیچھے جوازِ مطلق مطلوب نہیں۔
حاصل کلام
اس مفصل تحقیق میں ہم نے قرآن، سنت، آثارِ صحابہ، اقوالِ سلف، ائمۂ محدثین اور فقہائے متقدمین و متأخرین کی روشنی میں یہ واضح کیا کہ بدعتی امام کے پیچھے نماز اور بدعتی کی صحبت کا حکم ایک مضبوط اور متوازن اصولی قاعدے پر قائم ہے۔
یہ قاعدہ سلفِ صالحین کے منہجِ عدل، غیرتِ دین، اور حفاظتِ سنت کا مظہر ہے۔
نتیجہ
| بدعت / امام کی حالت | حکمِ اقتداء | توضیح |
|---|---|---|
| بدعتِ مکفّرہ (جہمی، رافضی، قائلِ خلقِ قرآن، منکرِ قدر وغیرہ) | ❌ باطل / حرام | امامت شرعاً مردود |
| داعیِ بدعتِ غیر مکفّرہ | ❌ ناجائز | دعوت و ترویج کی وجہ سے فسادِ دین |
| غیر داعی، بدعتِ غیر مکفّرہ | ⚠️ جائز مع کراہت | اضطرار میں جواز، سنتاً مکروہ |
| سنی صحیح العقیدہ امام | ✅ درست و افضل | امامت کے لیے واجبُ التقدیم |
🔹 خلاصۂ مضمون
-
سلفِ صالحین نے بدعتی کی صحبت کو قلبی بیماری،
اور بدعتی کی امامت کو دینی فساد قرار دیا۔ -
محدثین و فقہاء نے بدعت کی نوع کے لحاظ سے تفصیل بیان کی:
مکفّرہ بدعت = بطلان، غیر مکفّرہ = کراہت۔ -
جمہور کا اجماع:
“بدعتی کے پیچھے نماز جائز نہیں جب وہ داعی ہو،
اور اگر غیر داعی ہو تو کراہت کے ساتھ درست۔” -
اہلِ حدیث کے محققین نے یہی منہج اپنایا —
بدعت سے بیزاری، سنت پر استقامت، اور دین کی پاکیزگی کا تحفظ۔
یہی ہے اہلِ سنت والجماعت کا منہج —
الولاء فی السنۃ، والبراء من البدعۃ۔ ✅
اہم حوالوں کے سکین




























