مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

بدعتی کو سلام اور جواب دینے کا شرعی حکم

فونٹ سائز:
ماخوذ : قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام ومسائل، جلد 01، ص 532

سوال

اگر کوئی بدعتی شخص سلام کرے تو کیا اس کے سلام کا جواب دینا چاہیے؟ یا بدعتی شخص کو سلام کہنا چاہیے؟

جواب

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

  • اگر وہ بدعتی کافر یا مشرک ہے، تو جواب میں صرف علیک یا علیکم کہا جائے۔
  • اگر وہ بدعتی کافر یا مشرک نہ ہو، تو جواب میں وعلیک السلام یا وعلیکم السلام کہا جا سکتا ہے۔
  • اسی طرح، اگر بدعتی کافر یا مشرک ہو تو سلام میں ابتداء نہ کی جائے۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔