بدعتی راوی کی روایت سے متعلق جمہور محدثین کا منہج

مرتب کردہ: ابو حمزہ سلفی
مضمون کے اہم نکات

یہ مضمون اس اصول کی توضیح ہے کہ بدعتی راوی کی روایت کب مقبول اور کب مردود ہے۔ جمہور محدثین کے نزدیک قاعدہ یہ ہے: (1) اگر بدعت مُکَفِّرہ ہو (یا راوی جھوٹ کو حلال سمجھے) تو روایت مردود ہے؛ (2) اگر بدعت غیر مُکَفِّرہ ہو اور راوی سچا، دیانت دار ہو اور اپنی بدعت کی دعوت نہ دیتا ہو (غیر داعی) تو روایت قابلِ احتجاج ہے؛ (3) اگر وہ داعیِ بدعت ہو یا اس کی روایت اسی بدعت کو تقویت دیتی ہو تو اسے رد کیا جائے گا۔ یہی منہج ائمہ: ذہبی، ابنِ کثیر، ابنِ حجر وغیرہم نے صراحت سے بیان کیا ہے۔

حافظ ذہبیؒ کا ضابطہ (بدعتِ صغری بمقابلہ بدعتِ کبریٰ)

عربی متن:
«… البِدعة على ضربين: فبدعةٌ صغرى كغلوِّ التشيع… فهذا كثير في التابعين… مع الدين والورع والصدق، فلو رُدَّ حديث هؤلاء لذهب جملةٌ من الآثار… ثم بدعةٌ كبرى كالرفض الكامل… والحطِّ على أبي بكر وعمر… والدعاء إلى ذلك، فهذا النوع لا يُحتَجُّ بهم… بل الكذب شعارهم… فكيف يُقبَل نقلُ من هذا حاله!»
(ميزان الاعتدال 1/5)

ترجمہ و وضاحت:
بدعت دو قسم ہے: صغری (جیسے غلوِ تشیع یا بغیر غلو تشیع) — یہ تابعین میں بھی پائی گئی اور ایسے لوگ دیندار، متورع اور سچے تھے؛ اگر ان سب کی روایات رد کر دی جائیں تو بہت سا ذخیرۂ حدیث ضائع ہو جائے۔ دوسری کبریٰ (مثلاً رفضِ کامل، شیخینؓ پر طعن، اور اس کی دعوت) — ایسے لوگوں کی روایت پر احتجاج نہیں؛ ان میں تقیہ/نفاق اور کذب کی آمیزش ہوتی ہے۔
نتیجہ: غیر مُکفِّر بدعت اور غیر داعی ہونے کی صورت میں راوی کی صدق و امانت کے ساتھ روایت مقبول؛ ورنہ مردود۔

حافظ ابنِ کثیرؒ کی تقریر (تفصیلی تفریق)

عربی متن:
«المبتدع إن كَفَر ببدعته فلا إشكال في ردِّ روايته. وإذا لم يَكْفُر، فإنِ استحلَّ الكذب رُدَّت أيضاً، وإن لم يستحلَّ الكذب: فهل يقبل أو لا؟ أو يُفرَّق بين كونه داعيةً أو غيرَ داعية؟ في ذلك نزاعٌ…»
(اختصار علوم الحديث ص/110)

ترجمہ و وضاحت:
جو بدعت کفر کی حد تک پہنچا دے، اس کی روایت میں کوئی اشکال نہیں — رد ہے۔ غیر مُکفِّر بدعت میں اگر راوی جھوٹ کو حلال سمجھتا ہو تو بھی مردود۔ اور اگر جھوٹ کو حلال نہیں سمجھتا تو پھر قبول/عدمِ قبول میں اختلاف ہوا: جمہور نے داعی اور غیر داعی میں تفریق کو اختیار کیا۔

حافظ ابنِ حجرؒ کا خلاصۂ اصول

عربی متن:
«البدعة إمّا بمُكَفِّرٍ أو بمُفَسِّقٍ؛ فالأوّل لا يقبل صاحبُها عند الجمهور، والثاني: يُقبل من لم يكن داعيةً إلى بدعته في الأصح، إلا إن روى ما يقوّي بدعته فيُرَدُّ على المختار.»
(نُخبة الفكر، مع سبل السلام)

ترجمہ و وضاحت:
بدعت مکفّرہ ہو تو جمہور کے نزدیک اس کا حامل قابلِ قبول نہیں۔ بدعت مُفَسِّقہ میں غیر داعی کی روایت اصح کے مطابق قبول ہے، سوائے اس حالت کے کہ وہ اپنی بدعت کے تقویّت بخش مضمون کی روایت لائے — تو رد ہوگی۔

الجوزجانیؒ (259ھ) — بدعتی مگر صادق و أمین راوی کی روایت مقبول

عربی متن:
«وكان قومٌ يتكلّمون في القَدَر… احتمل الناسُ حديثَهم لِما عُرف من اجتهادِهم في الدّين وصدقِ ألسنتهم وأمانتِهم في الحديث… لم يُتَوهَّم عليهم الكذب وإن بُلوا بسوء رأيهم.»
(أحوال الرجال للجوزجاني)
ترجمہ و وضاحت:
“قدری رائے” رکھنے والے کچھ راوی تھے؛ محدثین نے ان کی دیانت، صدق اور امانت پہچان کر اُن کی حدیث قبول کی، کیونکہ اُن پر جھوٹ کا گمان نہ تھا—اگرچہ رائے میں خطا تھی۔
➡️ اصول: غیر داعی، صادق و دیانت دار بدعتی کی روایت قابلِ احتجاج۔

ابن عدیؒ (365ھ) — محض نسبتِ بدعت سے ترک لازم نہیں

عربی متن:
«ولا يبقى من الرواة الذين لم أذكرهم إلا من هو ثقةٌ أو صدوق وإن كان يُنسب إلى هوى، وهو فيه متأوّل
(الكامل في الضعفاء)
ترجمہ:
جن رواة کا میں نے ذکر نہیں کیا، وہ عموماً ثقہ/صدوق ہیں؛ اگرچہ بعض پر بدعت کی نسبت ہے، مگر وہ اس میں متأوِّل (غلط فہمی/تاویل کی بنا) ہیں۔
➡️ اصول: محض نسبتِ بدعت، جبکہ صدق و عدالت قائم ہو، ترکِ حدیث کا سبب نہیں۔

امام احمد بن حنبلؒ (241ھ) — غیر داعی بدعتی سے روایت

عربی متن (المروذي):
«أبو عبد الله (أحمد) يُحدّث عن المرجئ إذا لم يكن داعيةً أو مخاصِماً
(من كلام أحمد في علل الحديث)
عربی متن (الخطيب):
سُئل: «أَيُكتَب عن المرجئ والقدري؟ قال: نعم يُكتب عنه إذا لم يكن داعيةً
(الكفاية في علم الرواية)
ترجمہ و وضاحت:
امام احمدؒ مرجئی/قدری راوی سے بھی روایت لکھتے تھے بشرطِ غیر داعی (اور غیرِ جھگڑالو)۔
➡️ اصول: غیر داعی بدعتی کی روایت مقبول۔

عبد الرحمن بن مہدیؒ (198ھ) — دعوت بدعت = ترک

عربی متن:
«مَن رأى رأيًا ولم يدعُ إليه احتُمِل، ومن رأى رأيًا ودعا إليه فقد استحقّ التَّرك
(الكفاية للخطيب)
ترجمہ:
جس کے پاس (بدعتی) رائے ہو اور وہ دعوت نہ دے تو اس کی حدیث برداشت/قبول، اور جو دعوت دے، وہ ترک کے لائق۔
➡️ اصول: داعیِ بدعت کی روایت مردود۔

یحییٰ بن معینؒ (233ھ) — داعی سے احتراز، غیر داعی سے روایت

عربی متن:
سُئل عن كلِّ داعيةٍ: «لا يُكتب حديثُه إن كان قدريًّا أو رافضيًّا…؟» قال:
«لا يُكتب عنهم إلا أن يكونوا ممّن يُظنّ به ذلك ولا يدعو إليه كهشام الدستوائي… ممّن يرى القدر ولا يدعو إليه.»
(الكفاية للخطيب)
ترجمہ:
ہر داعی (قدری/رافضی…) سے حدیث نہ لکھو؛ ہاں جس کے بارے گمان ہو مگر دعوت نہ دیتا ہو—جیسے ہشام الدستوائی—اس سے روایت ہو سکتی ہے۔
➡️ اصول: دعوت شرطِ ترک؛ عدمِ دعوت کے ساتھ صدق/ضبط ہو تو قبول۔

ابن المبارکؒ (181ھ) — داعی کی صریح تضعیف

عربی متن:
قيل له: لِمَ تُرِكَ عمرو بن عبيد؟ قال: «إنّه كان يدعو (إلى القدر).»
(الجرح والتعديل لابن أبي حاتم)
ترجمہ:
عمرو بن عبید قدری دعوت دیتا تھا، اسی وجہ سے متروک ہوا۔
➡️ اصول: داعی ہونے کی وجہ سے ترک۔

امام مالکؒ — غیر داعی قدری/خارجی سے روایت، مع شرطِ صدق

نقل:
«سُئل مالك: كيف رويتَ عن داود بن الحصين وثور بن زيد وكانا يُرميان بالقدر؟ قال: كانا لأن يخرّا من السماء إلى الأرض أهون عليهما من أن يكذبا
(تهذيب التهذيب)
اور: «لم يضع في الموطأ إلا وهو ثقة.» (المعرفة والتاريخ للفسوي)
مزید: «لا تجوز شهادة الخارجي ولا رافضي يسبّ السلف، ولا قدريّ داعية
(الكافي لابن عبد البر)
ترجمہ و وضاحت:
امام مالکؒ نے سچے مگر غیر داعی قدری سے روایت لی؛ داعی کی شہادت/روایت کے عدمِ جواز پر تصریح۔
➡️ اصول: صدق + غیر دعوتقبول؛ دعوت/سبّرد۔

محدثینِ متاخرین کا منہج اور جمہور کا متفقہ قاعدہ

نقاد ائمۂ حدیث کے بعد ائمہ متاخرین (نوویؒ، ابن رجبؒ، سیوطیؒ، ابن الملقنؒ، ابن الصلاحؒ وغیرہ) نے اسی اصول کو قاعدے کی صورت میں مضبوطی سے بیان کیا کہ بدعتی راوی کی روایت قبول ہے اگر وہ بدعت کی دعوت نہ دیتا ہو، اور اگر وہ داعی ہو تو روایت مردود ہے۔ یہ جمہور کا متفقہ مسلک ہے۔

امام نوویؒ (676ھ)

عربی متن:
«تُقبل إذا لم يكن داعية إلى بدعته، ولا تُقبل إذا كان داعية، وهذا مذهبُ كثيرين أو الأكثر من العلماء، وهو الأعدل الصحيح.»
(شرح صحيح مسلم 1/54)

ترجمہ و وضاحت:
بدعتی راوی کی روایت اس وقت قبول ہے جب وہ اپنی بدعت کا داعی نہ ہو، اور اگر داعی ہو تو قبول نہیں۔ یہ اکثر علماء کا مذہب ہے اور یہی سب سے درست اور منصفانہ قول ہے۔

امام ابن رجبؒ الحنبلی (795ھ)

عربی متن:
«البدع الغليظة كالتجهم يُردُّ بها الرواية مطلقًا، والمتوسطة كالقدر يُردّ رواية الداعي إليها، والخفية كالإرجاء يُنظر: هل تُقبل مطلقًا أو تُردّ عن الداعية؟ على روايتين.»
(شرح علل الترمذي ص 588)

ترجمہ:
سنگین بدعات (مثلاً جہمیہ) والے کی روایت مطلقاً مردود ہے، درمیانی بدعات (مثلاً قدریہ) میں صرف داعی کی روایت مردود، اور خفی بدعت (جیسے مرجیہ) میں اختلاف ہے؛ بعض نے مطلقاً قبول، بعض نے داعی کی روایت کو رد کیا۔

نتیجہ: بدعت کی شدت اور دعوت کے لحاظ سے قبول یا رد کا حکم دیا جاتا ہے — جمہور کا یہی منہج ہے۔

امام ابن الصلاحؒ (643ھ)

عربی متن:
«تُقبل روايته إذا لم يكن داعية، ولا تُقبل إذا كان داعية، وهذا مذهبُ الكثير أو الأكثر من العلماء.»
(مقدمة ابن الصلاح ص 104)

ترجمہ:
اگر بدعتی راوی داعی نہ ہو تو اس کی روایت قبول ہے، اور اگر دعوت دینے والا ہو تو نہیں؛ یہی اکثر علماء کا مذہب ہے۔

امام ابن الملقنؒ (804ھ)

عربی متن:
«يُحتجّ به إن لم يكن داعية إلى بدعته، ولا يُحتجّ به إن كان داعية، وهذا مذهب الكثير أو الأكثر من العلماء.»
(المقنع في علوم الحديث ص 312)

ترجمہ:
اگر بدعتی اپنی بدعت کی دعوت نہیں دیتا تو اس سے احتجاج کیا جا سکتا ہے، اور اگر داعی ہو تو نہیں؛ یہ اکثر علماء کا موقف ہے۔

امام جلال الدین سیوطیؒ (911ھ)

عربی متن:
«يُحتجّ به إن لم يكن داعية إلى بدعته، ولا يُحتجّ به إن كان داعية، وهذا هو الأظهر الأعدل، وقولُ الكثير الأكثر من العلماء.»
(تدريب الراوي 1/346)

ترجمہ و وضاحت:
اگر بدعتی داعی نہیں تو اس سے احتجاج کیا جائے گا، اور اگر داعی ہو تو نہیں۔ یہی قول زیادہ ظاہر، زیادہ عادلانہ اور جمہور کے نزدیک صحیح ترین ہے۔

سیوطیؒ نے مزید فرمایا کہ بخاریؒ اور مسلمؒ نے بھی غیر داعی بدعتی راویوں سے احتجاج کیا ہے، جیسے عبدالوارث بن سعید، ہشام الدستوائی، قتادہ وغیرہ۔

حاصل کلام

  1. جمہورِ محدثین اور ائمہ متاخرین سب متفق ہیں کہ

    • بدعتی اگر داعی ہو یا اس کی روایت بدعت کو تقویت دیتی ہو تو وہ مردود ہے۔

    • اگر غیر داعی، صادق اور ضابط ہو تو اس سے روایت لی جائے گی۔

  2. دعوتِ بدعت اور استحلالِ کذب، روایت کے ترک کی بنیادی علتیں ہیں۔

  3. یہ منہج قرآن کے اصول «إن جاءكم فاسق بنبإ فتبينوا» کے مطابق ہے — یعنی تحقیق لازم ہے، اندھی نفی نہیں۔

  4. بخاریؒ، مسلمؒ، احمدؒ، مالکؒ، ابن مہدیؒ، ابن معینؒ، نوویؒ، ابن حجرؒ، سیوطیؒ سب کا یہی اصولی موقف ہے۔

ائمۂ ناقدین کی عملی مثالیں — محدثین کا تعامل بدعتی رواۃ کے ساتھ

ائمۂ حدیث و جرح و تعدیل نے نہ صرف اصولی طور پر بلکہ عملی طور پر بھی اس منہج کو اختیار کیا کہ بدعتی راوی کی روایت قبول ہے بشرطِ صدق، ضبط اور غیر دعوت۔ اس حصے میں چند نمایاں عملی نمونے درج ہیں جو جمہور محدثین کے اتفاقی طرزِ عمل کو ظاہر کرتے ہیں۔

➊ امام مالک بن انسؒ (179ھ)

سوال: آپ نے داود بن الحصین اور ثور بن زید جیسے راویوں سے کیسے روایت کی، جب کہ ان پر “قدری” ہونے کا الزام تھا؟
جواب:

«كانا لأن يَخِرّا من السماء إلى الأرض أهون عليهما من أن يكذبا كذبة.»
(تهذيب التهذيب 3/189)
ترجمہ:
ان دونوں کے لیے آسمان سے زمین پر گر جانا جھوٹ بولنے سے آسان تھا۔

امام مالکؒ نے فرمایا: میں نے صرف ان سے روایت لی جو سچے اور دیانت دار ہیں، خواہ ان پر کسی فکری میل کا الزام ہو۔

اسی پر ابو یوسف الفسویؒ نے تصریح کی:

“مالك بن أنس لم يضع في الموطأ إسنادًا إلا وهو ثقة.”
(المعرفة والتاريخ 1/45)
ترجمہ:
امام مالکؒ نے مؤطا میں کسی ایسے راوی سے روایت نہیں لی جو غیر ثقہ ہو۔

➋ امام مالکؒ کا بدعتی داعی سے احتراز

امام مالکؒ نے فرمایا:

«لا تجوز شهادة الخوارج، ولا رافضي يسب السلف، ولا قدريٍّ يدعو إلى القدر.»
(الكافي في فقه أهل المدينة 1/371)
ترجمہ:
خوارج، سبّ و شتم کرنے والے روافض، اور دعوتِ بدعت دینے والے قدری کی گواہی (روایت) جائز نہیں۔
➡️ اصول: غیر داعی قدری سے روایت لی، داعی سے نہیں۔

➌ امام ابن عبدالبرؒ (463ھ)

امام مالک کے شاگرد ثور بن زید الدیلی کے بارے میں لکھتے ہیں:

«ثَوْرُ بن زيدٍ… صَدوقٌ… لم يُتَّهَم بالكذب، وكان يُنسب إلى رأي الخوارج والقول بالقدر، ولم يكن يدعو إلى شيء من ذلك.»
(التمهيد 1/197)
ترجمہ:
ثور بن زید مدنی صدوق راوی تھے، ان پر جھوٹ کا الزام نہیں تھا، اگرچہ خوارج یا قدریہ کی طرف نسبت دی جاتی تھی، لیکن وہ اپنی بدعت کی دعوت نہیں دیتے تھے۔

➡️ اس سے واضح ہوا کہ ابن عبدالبرؒ نے امام مالکؒ کے منہج کی شرح خود بیان کر دی — غیر داعی بدعتی کی روایت مقبول۔

➍ امام ابن حبانؒ (354ھ)

انہوں نے امام محمد بن حسن الشیبانی (حنفی) کے متعلق فرمایا:

«كان مرجئًا داعيًا إليه… وكان يروي عن الثقات ويَهم فيها، فلما فحش ذلك استحقّ الترك… لأنه كان داعيةً إلى مذهبهم.»
(المجروحين 2/126)
ترجمہ:
محمد بن حسن الشیبانی مرجئی اور دعوتِ بدعت دینے والے تھے، ثقہ رواۃ سے روایت کرتے مگر خطا کثرت سے کرتے تھے۔ چونکہ وہ داعیِ بدعت تھے اس لیے ترک کے مستحق ٹھہرے۔
➡️ اصول: صرف دعوتِ بدعت کی وجہ سے رد، ورنہ ثقہ راویوں سے روایت کرنے کے باوجود ترک نہیں کیا گیا۔

➎ امام ابن عبدالبرؒ کا اجماع ذکر کرنا

انہوں نے فرمایا:

«قد أجمع العلماء على قبول رواية الصادق الضابط، وإن كان مبتدعًا، إذا لم يكن داعيًا إلى بدعته.»
(جامع بيان العلم 2/91)
ترجمہ:
علماء کا اجماع ہے کہ سچا اور ضابط راوی اگر بدعتی بھی ہو مگر دعوت دینے والا نہ ہو تو اس کی روایت قبول کی جائے گی۔

جمہور محدثین کا اصولی منہج اور خلاصۂ تحقیق

یہ تمام نصوص، اقوال، اور عملی شواہد ایک ہی علمی حقیقت پر جمع ہیں کہ جمہور ائمۂ حدیث کے نزدیک بدعتی راوی کی روایت مطلقاً مردود نہیں، بلکہ عدالت و صدق، ضبط، اور غیر دعوت کی بنیاد پر قابلِ قبول ہے۔ ان کا منہج توازن، تحقیق اور عدل پر مبنی ہے، جو اس اُمّت کے علمی معیار کا نمایاں نمونہ ہے۔

➊ جمہور کا متفقہ اصول

ائمۂ نقد و تحقیق — ذہبی، ابن کثیر، ابن حجر، نووی، ابن عبدالبر، ابن رجب، سیوطی، ابن الصلاح وغیرہم — سب نے واضح کیا کہ:

🔹 اگر راوی بدعتِ مکفّرہ کا قائل ہو یا جھوٹ کو حلال سمجھے، تو اس کی روایت باطل ہے۔
🔹 اگر راوی بدعتِ غیر مکفّرہ کا حامل ہو مگر داعی نہ ہو اور سچا، دیانت دار، مضبوط حافظ ہو، تو اس کی روایت قابلِ قبول ہے۔
🔹 اگر وہ داعیِ بدعت ہو یا اس کی روایت بدعت کو تقویت دیتی ہو، تو اسے رد کیا جائے گا۔

➋ یہ اصول نصوصِ شرعیہ کے عین مطابق ہے

قرآنِ کریم نے فرمایا:

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا﴾
(الحجرات: 6)
یعنی اگر کوئی فاسق کوئی خبر لائے تو تحقیق کرو۔
📍 محدثین نے یہی قرآنی منہج اپنایا: تحقیق اور تبیُّن — نہ اندھی تقلید، نہ اندھی نفی۔

➌ عملی شواہد سے واضح اصول

  • بخاریؒ نے غیر داعی بدعتیوں سے روایت لی، جیسے عبدالوارث بن سعید، قتادہ، ہشام الدستوائی۔

  • مسلمؒ نے بھی صدوق، غیر داعی رواۃ سے احتجاج کیا۔

  • امام مالکؒ، احمدؒ، ابن معینؒ، ابن مہدیؒ وغیرہ سب نے بدعتی راویوں سے احتجاج کیا، جب وہ داعی نہیں تھے۔

➍ ائمہ کا اجماع و اعتراف

  • ابن عبدالبرؒ: “أجمع العلماء على قبول رواية الصادق الضابط إذا لم يكن داعياً إلى بدعته.”
    (جامع بيان العلم 2/91)
    📖 “علماء کا اجماع ہے کہ سچا، ضابط، غیر داعی بدعتی کی روایت مقبول ہے۔”

  • نوویؒ، ابن حجرؒ، سیوطیؒ: “یہی مذہب جمہور اور اکثر علماء کا ہے، اور یہی منصفانہ و صحیح قول ہے۔”

➎ محدثین کا منہجِ عدل و انصاف

  1. عدالتِ راوی کا معیار: دین داری، صدق، ضبط، اور عدمِ کذب۔

  2. بدعت کا اثر صرف تب شمار ہوا جب وہ روایت میں جھوٹ یا تحریف کا ذریعہ بنی۔

  3. بدعتی غیر داعی کے خلاف عمومی تحریم نہیں، کیونکہ اس کی روایت علمِ دین کے بڑے حصے میں شامل ہے۔

➏ خلاصۂ اصول (جامع ضابطہ)

درجۂ راوی دعوتِ بدعت صدق و ضبط حکمِ روایت
بدعتِ مکفّرہ والا مردود
جھوٹ کو حلال سمجھنے والا مردود
بدعتِ غیر مکفّرہ، داعی دعوت دیتا ہے صدوق یا غیرہ مردود
بدعتِ غیر مکفّرہ، غیر داعی دعوت نہیں دیتا صدوق، ضابط مقبول

نتیجۂ کلام

  • بدعتی راوی کی روایت کا معیار جذبات نہیں بلکہ تحقیق، عدالت، اور صدق ہے۔

  • جمہور محدثین کا اجماع ہے کہ غیر داعی بدعتی اگر سچا اور مضبوط ہو تو اس کی روایت سے حجت لی جائے گی۔

  • داعیِ بدعت، جھوٹا، یا بدعتِ مکفّرہ والا راوی ترک کر دیا جائے گا۔

  • یہی اصول بخاری و مسلم کی روایات میں عملی طور پر نظر آتا ہے، جو منہجِ اہلِ سنت والجماعت کی اعتدال و انصاف کی بہترین دلیل ہے۔

📘 خلاصۂ تحقیق:

بدعتی کی روایت کا رد و قبول “بدعت” کے نوع اور راوی کے “دعوت و صدق” پر موقوف ہے؛ یہی عدل پر مبنی جمہور منہج ہے، جس نے امت کو علمِ حدیث میں افراط و تفریط سے بچایا۔

اہم حوالوں کے سکین

بدعتی راوی کی روایت سے متعلق جمہور محدثین کا منہج – 01 بدعتی راوی کی روایت سے متعلق جمہور محدثین کا منہج – 02 بدعتی راوی کی روایت سے متعلق جمہور محدثین کا منہج – 03 بدعتی راوی کی روایت سے متعلق جمہور محدثین کا منہج – 04 بدعتی راوی کی روایت سے متعلق جمہور محدثین کا منہج – 05 بدعتی راوی کی روایت سے متعلق جمہور محدثین کا منہج – 06 بدعتی راوی کی روایت سے متعلق جمہور محدثین کا منہج – 07 بدعتی راوی کی روایت سے متعلق جمہور محدثین کا منہج – 08 بدعتی راوی کی روایت سے متعلق جمہور محدثین کا منہج – 09 بدعتی راوی کی روایت سے متعلق جمہور محدثین کا منہج – 10 بدعتی راوی کی روایت سے متعلق جمہور محدثین کا منہج – 11 بدعتی راوی کی روایت سے متعلق جمہور محدثین کا منہج – 12 بدعتی راوی کی روایت سے متعلق جمہور محدثین کا منہج – 13 بدعتی راوی کی روایت سے متعلق جمہور محدثین کا منہج – 14 بدعتی راوی کی روایت سے متعلق جمہور محدثین کا منہج – 15 بدعتی راوی کی روایت سے متعلق جمہور محدثین کا منہج – 16 بدعتی راوی کی روایت سے متعلق جمہور محدثین کا منہج – 17 بدعتی راوی کی روایت سے متعلق جمہور محدثین کا منہج – 18

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے