مرکزی مواد پر جائیں
17 شعبان، 1447 ہجری

بدعتی اور قبرپرست امام کے پیچھے نماز کا حکم

فونٹ سائز:
ماخوذ : فتاویٰ محمدیہ ج 1، ص 430

سوال

نیز کی بدعتی اور قبرپرست امام کے پیچھے نماز جائز ہے؟

جواب

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

قبر پرست اور بدعتی شخص کو امام بنانا شرعاً درست نہیں ہے، کیونکہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:

((إجعلوا ائمتکم خِيَارُكُمْ، فَإِنَّهُمْ وَفْدُكُمْ فِيمَا بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ رَبِّكُمْ))
(رواه الدار قطنی، نیل الاوطار، باب ما جاء فی امامة الفاسق، ص 184، ج 3)

یعنی:
نیک اور صحیح عقیدہ رکھنے والے کو اپنا امام بناؤ، کیونکہ وہ اللہ کے حضور تمہارا نمائندہ ہے۔ اور مسلمان کا نمائندہ صرف صحیح العقیدہ مسلمان ہی ہو سکتا ہے، نہ کہ بدعتی یا قبرپرست۔
ھذا ما عندي واللہ أعلم بالصواب

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔