مضمون کے اہم نکات
فاتحہ، سویم، دہم، چہلم وغیرہ کی رسومات میں شرکت کا شرعی حکم
سوال
زید ایک صحیح العقیدہ مسلمان ہے، لیکن وہ اس سوچ کے تحت کہ لوگ اس کی بات توجہ سے سنیں گے اور اس کی تبلیغ سے متاثر ہو کر عمل کریں گے، بعض مروجہ رسومات مثلاً: فاتحہ، سویم، دہم، چہلم وغیرہ میں شریک ہو جاتا ہے۔ زید کا کہنا ہے کہ اگر ان بدعات میں شرکت کرنے پر کوئی گناہ ہوگا تو وہ میرے ذمہ ہوگا۔ میری ان رسومات میں شمولیت سے لوگ مجھ سے بدکیں گے نہیں بلکہ اس کے نتیجے میں شرکیہ اعمال سے باز آ جائیں گے۔ سوال یہ ہے کہ کیا زید کا یہ طرز عمل شریعت کی رو سے جائز ہے؟
جواب
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
رسوماتِ مروجہ کا شرعی حکم:
◈ فاتحہ، سویم، دہم، بستم، چہلم، بڑے پیر کی گیارہویں وغیرہ:
- یہ تمام رسومات فقہ حنفی کی معتبر کتب کی روشنی میں بدعت شمار ہوتی ہیں۔
- ان رسومات کی شرکت، اگرچہ نیت اچھی ہو، تب بھی شرعی اعتبار سے ناجائز ہے۔
زید کا عمل اور اس پر شریعت کی نظر:
- زید ان رسومات میں لوگوں کی توجہ حاصل کرنے اور تبلیغی فائدے کی نیت سے شریک ہوتا ہے۔
- اس کا یہ کہنا کہ "گناہ اگر ہوا تو میرے ذمہ ہوگا”، شرعی اصول کے خلاف ہے کیونکہ گناہ کا ارتکاب کسی نیتِ خیر سے بھی درست نہیں ہو سکتا۔
- زید کے اس طرز عمل سے مداہنت فی الدین (دینی مصلحت کے نام پر دین میں نرمی) کا شبہ پیدا ہوتا ہے۔
- دنیا طلبی یا لوگوں کی خوشنودی کے لیے دین میں نرمی اختیار کرنا بھی اس طرز عمل سے جھلکتا ہے۔
زید کو کیا طرز عمل اختیار کرنا چاہیے؟
- زید کو چاہیے کہ وہ:
- بدعات اور منکرات سے واضح طور پر الگ تھلگ رہے۔
- علم و حکمت کے ساتھ پند و نصیحت کا ایسا انداز اپنائے جو مؤثر بھی ہو اور دین کو نقصان بھی نہ پہنچے۔
- اپنی تبلیغ کو ایسا بنائے کہ بدعات سے اجتناب اور توحید کی دعوت کا پہلو غالب رہے۔
ایک استثناء کی گنجائش:
- اگر:
- زید کو اس بات کا قوی اور غالب گمان ہو کہ ان بدعتی افراد کی عقائدِ کفریہ کی اصلاح ہو جائے گی،
- اور وہ زید کی تبلیغ سے امورِ شرکیہ سے سچی توبہ کر لیں گے،
- تو اس صورت میں:
- زید ان غیر شرکیہ رسومات میں محض کراہت کے ساتھ شریک ہو سکتا ہے،
- لیکن شرط یہ ہے کہ:
- وہ مناسب مواقع اور موزوں اوقات میں ان رسومات کے بدعت اور منکر ہونے کو واضح کرتا رہے،
- یہاں تک کہ وہ لوگ خود ان بدعتی رسومات کو چھوڑ دیں۔
> حوالہ: (محدث دہلی)
نتیجہ:
- زید کو چاہیے کہ:
- وہ بدعات میں شرکت نہ کرے،
- تبلیغ کا اثر انگیز اور علمی طریقہ اپنائے،
- اور اگر بالفرض شرکت کی کوئی گنجائش نکلتی ہو تو وہ بھی بہت سی شرطوں کے ساتھ محدود اور محتاط انداز میں ہو۔
ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب