بخار جہنم کی بھاپ سے ہے؟ حدیث پر کیے جانے والے اعتراضات کا مدلل جواب

فونٹ سائز:

وضاحتِ شبہ

مضمون کے اہم نکات

حدیث میں ہے کہ بخار جہنم کی بھاپ سے ہے ، لہٰذا اسے پانی سے ٹھنڈا کرو [صحيح البخاري: 3263 ، صحيح مسلم: 2210]۔ اس حدیث کے بارے میں دو اعتراض کیے جاتے ہیں:

◄ حدیث میں بخار کا سبب جہنم کی گرمی یا تپش کو قرار دیا گیا ہے جبکہ بخار کے مختلف اسباب ہوتے ہیں جن میں بیکٹیریا، وائرس اور کوئی اور جسمانی تکلیف شامل ہیں۔
◄ حدیث میں بخار کا علاج پانی کو قرار دیا گیا ہے جبکہ میڈیکل سائنس کی رُو سے بخار میں نہانا مہلک بھی ثابت ہو سکتا ہے۔

جوابِ شبہ

پہلی بات

اسباب دو قسم کے ہوتے ہیں: ظاہری اور غیبی، ظاہری اسباب وہ ہیں جن کا تعلق مسبب سے واضح یا عقلی طور پر سمجھ میں آتا ہو۔

غیبی اسباب وہ ہیں جو صرف اللہ کی وحی سے معلوم ہوتے ہیں۔

اس حدیث میں بخار کا جو سبب بیان ہوا کہ یہ جہنم کی گرمی یا بھاپ سے ہوتا ہے، یہ ایک غیبی سبب ہے۔

کیونکہ جہنم کی آگ کا دنیا میں اثر ہونا ایک غیبی بات ہے، چنانچہ اس کا علم صرف شریعت سے ہی ہو سکتا ہے۔

دوسری بات

یہ کہنا کہ بخار کے اسباب تو معلوم ہوتے ہیں اور اس کا جہنم کی آگ سے کوئی تعلق نہیں، غلط ہے۔ جس کی بنیاد یہ غلط فہمی ہے کہ کسی ایک چیز میں ظاہری اور غیبی اسباب جمع نہیں ہو سکتے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ایک چیز کے وجود میں ظاہری اور غیبی دونوں اسباب جمع ہو سکتے ہیں۔ اس کی مثال سابقہ اقوام پر نازل ہونے والے عذاب جن کا ذکر قرآن مجید میں ہوا، اب ان عذاب کے ظاہری اسباب بھی تھے چاہے وہ زلزلہ ہو یا طوفان ہو یا آندھی ہو، اس کے ساتھ ساتھ ان کا ایک غیبی سبب بھی تھا اور وہ اس قوم کی نافرمانی تھی۔ اب نافرمانی زلزلے کا ظاہری سبب نہیں البتہ اس کا باطنی یا غیبی سبب ضرور ہے۔

بالکل یہی بات ہم بخار کے بارے میں بھی کہہ سکتے ہیں کہ بخار کے کچھ ظاہری اسباب ہیں جیسے وائرس، بیکٹیریا وغیرہ اور کچھ غیر ظاہری یا غیبی سبب ہیں جن میں جہنم کی آگ کی تپش اور اس کی حرارت ہے۔

تیسری بات

بخار کا پانی کے ساتھ علاج کرنا جہاں نبیﷺ کے قول سے ثابت ہے وہاں آپﷺ کے فعل سے بھی ثابت ہے۔ آپﷺ جب اپنی زندگی کے آخری ایام میں شدید بیمار ہوئے اور سخت بخار میں مبتلا تھے تو بخار کی حدت کم کرنے کے لیے پانی کا ایک مشک اوپر لٹکا لیا جس سے پانی ٹپک کر آپﷺ پر گر رہا تھا [مسند أحمد : 27079]۔ اسی طرح آخری ایام کی بیماری میں ایک مرتبہ نماز پڑھانے کا ارادہ کیا تو اپنے اہلِ خانہ کو ایک ٹب میں پانی رکھنے کا کہا اور پھر اس میں غسل فرمایا [صحيح البخاري : 687 ، صحيح مسلم : 418]۔

ابو سلیمان الخطابی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: زرد بخار (Yellow Fever) میں ٹھنڈک پہنچانے کا طریقہ یہ ہے کہ مریض کو ٹھنڈا پانی پلایا جائے۔ سب سے مؤثر اور تیز علاج یہ ہے کہ بخار کی گرمی کم کرنے کے لیے مریض کے جسم کے اعضاء کو پانی میں بھگویا جائے۔ اسی طرح نبی کریم ﷺ نے اس کا حکم دیا، نہ کہ پورے جسم کو پانی میں ڈبونے یا غوطہ دینے کا (اعلام الحديث 3/2124)۔

چوتھی بات

جہاں تک بخار کو پانی سے ٹھنڈا کرنے کی بات ہے تو حدیث میں صرف اتنا مذکور ہے کہ اسے پانی سے ٹھنڈا کرو البتہ اسکی صفت اور کیفیت کا ذکر نہیں، لہٰذا پانی کے استعمال کا طریقہ مریض کی بیماری کے اعتبار سے مختلف ہو سکتا ہے۔ آج کی جدید میڈیکل سائنس کے مطابق بھی ایسا کوئی بخار نہیں جس میں پانی کا کسی بھی طرح کا استعمال مضر ہو۔ آج بھی ڈاکٹر بخار پر قابو پانے کے لیے ٹھنڈے پانی کی پٹیاں تجویز کرتے ہیں۔ میڈیکل سائنس کی مشہور کتاب Davidson’s Principles and Practice of Medicine کے صفحہ 218 پر لکھا ہے:

"Fever and its associated systemic symptoms can be treated with Paracetamol, and by tepid sponging to cool the skin”

ترجمہ: بخار اور اس سے جڑے نظامی علامات کا علاج پیراسیٹامول سے کیا جا سکتا ہے اور جِلد کو ٹھنڈا کرنے کے لیے نیم گرم پانی سے مسح کیا جا سکتا ہے۔