مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

باپ کے وصیت کیے بغیر فوت ہونے کی صورت میں ترکہ کا حکم

فونٹ سائز:
مؤلف : ڈاکٹر محمد ضیاء الرحمٰن اعظمی رحمہ اللہ

باپ وصیت کیے بغیر فوت ہو گیا

اگر حقیقت حال ایسے ہی ہے تب تیسرا حصہ نکالنا ضروری نہیں۔ اگر ورثا میں معاملہ فہم اور سمجھدار افراد ترکے سے کوئی چیز رضا کارانہ طور پر نکال دیں جو میت کے لیے صدقہ ہو تو یہ بہتر ہے۔
[اللجنة الدائمة: 6541]

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔