باپ کی بیوی کی وراثت میں سوتیلے بیٹے کا شرعی حق کیا ہے؟

ماخوذ: احکام و مسائل، وراثت کے مسائل، جلد 1، صفحہ 401

سوال

دو آدمی ہیں، ایک کا باپ فوت ہو گیا اور دوسرے کی ماں فوت ہو گئی۔ جس شخص کے باپ کا انتقال ہوا، اس کی ماں نے اس شخص کے باپ سے نکاح کر لیا جس کی ماں فوت ہو چکی تھی۔ ان دونوں کے نکاح سے کوئی اولاد پیدا نہیں ہوئی اور پھر وہ شوہر بھی فوت ہو گیا۔

اب سوال یہ ہے کہ جو عورت زندہ ہے، اس کی وراثت سے اس شخص کو کتنا حصہ ملے گا جس کی ماں پہلے فوت ہو چکی تھی؟
برائے کرم قرآن و حدیث کی روشنی میں وضاحت فرمائیں۔

جواب

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

آپ نے سوال کیا ہے کہ:

’’اب جو عورت زندہ ہے، اس کی وراثت سے اس آدمی کو کتنا حصہ ملے گا جس کی پہلے ماں فوت ہوئی تھی؟‘‘

اس سوال کا شرعی جواب یہ ہے:

◈ اس زندہ عورت کی وراثت میں سے اس شخص کو کچھ بھی حصہ نہیں ملے گا۔
◈ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ زندہ عورت اس آدمی کی حقیقی ماں نہیں ہے، بلکہ اس کے باپ کی بیوی ہے۔

البتہ:

اس آدمی کو اس زندہ عورت کے مرحوم شوہر کی جائیداد میں سے حصہ ضرور ملے گا، کیونکہ وہ مرحوم شخص اس آدمی کا باپ ہے، اور بیٹے کا باپ کی میراث میں شرعی حق موجود ہے۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے