مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

باپ کی اجازت سے بیٹے کا بہن کا نکاح کرانا – شرعی حکم

فونٹ سائز:
ماخوذ : فتاویٰ راشدیہ صفحہ نمبر 427

سوال

کیافرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ شمیم نے اپنے بیٹے کو اجازت دی کہ وہ اپنی بہن کی شادی کروائے۔ پھر بیٹے حاجی قاسم نے نکاح کروایا تو شمیم نے کہا کہ میں لڑکی نہیں دوں گا۔ اب یہ بتائیں کہ شریعت محمدی کے مطابق کیا باپ کی اجازت پر بیٹا بہن کا نکاح کروا سکتا ہے یا نہیں؟

جواب

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

یہ بات جان لینی چاہیے کہ جب باپ نے اپنے بیٹے کو اجازت دے دی اور بیٹے نے اپنی بہن کی منگنی بھی کردی، تو اس کے بعد اگر باپ نکاح (شادی) کی اجازت نہ دے تو یہ بالکل غلط ہے۔ کیونکہ ایک بار جب باپ نے بیٹے کو اجازت دے دی تو اس اجازت کی بنیاد پر نکاح بالکل درست ہے اور نکاح ہو گیا۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔