سوال
کیافرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ شمیم نے اپنے بیٹے کو اجازت دی کہ وہ اپنی بہن کی شادی کروائے۔ پھر بیٹے حاجی قاسم نے نکاح کروایا تو شمیم نے کہا کہ میں لڑکی نہیں دوں گا۔ اب یہ بتائیں کہ شریعت محمدی کے مطابق کیا باپ کی اجازت پر بیٹا بہن کا نکاح کروا سکتا ہے یا نہیں؟
جواب
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
یہ بات جان لینی چاہیے کہ جب باپ نے اپنے بیٹے کو اجازت دے دی اور بیٹے نے اپنی بہن کی منگنی بھی کردی، تو اس کے بعد اگر باپ نکاح (شادی) کی اجازت نہ دے تو یہ بالکل غلط ہے۔ کیونکہ ایک بار جب باپ نے بیٹے کو اجازت دے دی تو اس اجازت کی بنیاد پر نکاح بالکل درست ہے اور نکاح ہو گیا۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب