باپ بیٹے سے کہے کہ طلاق دے دو، تو کیا کرنا چاہیے؟

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال:

باپ بیٹے سے کہے کہ طلاق دے دو، تو کیا کرنا چاہیے؟

جواب:

اگر بیوی پابند شرع اور شوہر کی فرمان بردار ہے، تو بیٹے کو چاہیے کہ باپ کی بات نہ مانے اور بیوی کو طلاق نہ دے، کہ یہ عورت دنیا کی سب سے عظیم دولت ہے، ایسی عورت کو چھوڑ دینا اللہ کی نافرمانی ہے اور مخلوق کی اطاعت میں خالق کی نافرمانی جائز نہیں۔
❀سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
الدنيا متاع وخير متاع الدنيا المرأة الصالحة
”دنیا فائدہ کا سامان ہے اور دنیاوی سامان میں سب سے بھلائی والی چیز نیک عورت ہے۔“
(صحیح مسلم : 1467)
البتہ اگر عورت نافرمان اور نا شکر گزار ہے، تو بیٹے کو چاہیے کہ والدین کے کہنے پر اپنی بیوی کو طلاق دے دے، کیونکہ بیٹے کی دنیاوی و اخروی نجات کے لیے یہی بہتر ہے، جیسا کہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے سیدنا اسماعیل علیہ السلام کو پیغام دیا تھا۔
❀سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:
”اسماعیل علیہ السلام کی ایک عورت سے شادی ہو گئی ، اب سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے سوچا کہ میں ذرا اپنے بچے کی خبر لے آؤں ، سیدنا ابراہیم علیہ السلام آئے اور اسماعیل علیہ السلام کے بارے میں پوچھا، بیوی نے کہا: وہ شکار کرنے جاتے ہیں اور تو کچھ انہیں جیسے یاد ہی نہیں۔ ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا: وہ آئیں، تو انہیں میرا پیغام دیجئے کہ گھر کی چوکھٹ تبدیل کر لیں ، بیوی نے واپسی پر یہ پیغام دیا، تو اسماعیل علیہ السلام کہنے لگے: وہ چوکھٹ آپ ہی ہیں ، جایئے اپنے گھر ، آپ کو طلاق ہے۔“
(صحيح البخاري : 3365)