بالائی منزل اور تہ خانہ میں نماز – فقہی و حدیثی دلائل کے ساتھ تفصیلی رہنمائی

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری کی کتاب صف بندی کے احکام و مسائل سے لیا گیا ہے۔
مضمون کے اہم نکات

بالائی منزل اور تہ خانہ میں نماز :

◈عورتوں کی صف اگر بالائی منزل پر یا تہ خانہ میں ہو اور مردوں کی صف زمین کی سطح پر ہو، عورتوں کی صف مردوں کی صف سے مقدم ہو، تو نماز درست ہے۔
◈عورتوں کی صف اور امام کے درمیان دیوار یا پردہ حائل ہو، تو نماز درست ہے۔

◈ مجبوری اور عذر کی صورت میں عورتوں کی صف امام سے مقدم ہو، درمیان میں دیوار یا پردہ حائل ہو، تو نماز درست ہوگی۔ آڑ کی صورت میں وہ امام کے پیچھے ہی متصور ہوں گی ۔

◈ اگر امام ایک کمرے میں ہو اور اس کے ساتھ چند مقتدی ہوں اور جگہ کی تنگی کی بنا پر باقی دوسرے کمرے میں امام کی اقتدا کریں، تو درست ہے۔
◈اگر مسجد سے متصل مکان میں امام کی تکبیرات سنائی دیتی ہوں، تو اس مکان کی چھت یا صحن میں امام کی اقتدا درست ہے۔

دلائل ملاحظہ ہوں :

🌸سیدہ عائشہ رضی الله عنه بیان کرتی ہیں :
كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي من الليل في حجرته، وجدار الحجرة قصير ، فرأى الناس شخص النبي صلى الله عليه وسلم، فقام أناس يصلون بصلاته .

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو حجرہ میں نماز ادا فرماتے ۔ حجرے کی دیوار چھوٹی تھی، صحابہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا سراپا دیکھا اور کھڑے ہو کر آپ کی اقتدا کرنے لگے۔‘‘

🌿(صحيح البخاري : 729)

امام بخاری رحمتہ اللہ نے اس حدیث پر باب قائم کیا ہے :

باب إذا كان بين الإمام وبين القوم حائد أو سترة .

’’امام اور مقتدیوں کے مابین دیوار یا پردہ حائل ہو تو ۔‘‘
🌸صالح مولی رحمتہ اللہ کہتے ہیں :
صليت مع أبي هريرة فوق المسجد بصلاة الإمام، وهو أسفل .

’’سیدنا ابو ہریرہ رضی الله عنه کے ساتھ مسجد کی چھت پر نماز پڑھی، امام نیچے تھا۔‘‘

🌿(مصنف ابن أبي شيبة : 222/2 ، وسنده حسن)

🌸سعید بن مسلم رحمتہ اللہ کہتے ہیں :
رأيت سالم بن عبد الله صلى فوق ظهر المسجد صلاة المغرب، ومعه رجل آخر، يعني ويأتم بالإمام .

’’سالم بن عبد اللہ رحمتہ اللہ نے ایک شخص کے ساتھ مسجد کی چھت پر امام کی اقتدا میں مغرب کی نماز پڑھی۔‘‘
🌿(مصنف ابن أبي شيبة : 222/2 ، وسنده صحيح)

🌸منصور بن معتمر رحمتہ اللہ بیان کرتے ہیں :
كان إلى جنب مسجدنا سطح، عن يمين المسجد، أسفل من الإمام، فكان قوم هاربين في إمارة الحجاج، وبينهم وبين المسجد حائظ طويل يصلون على ذلك السطح، ويأتمون بالإمام، فذكرته لإبراهيم، فرآه حسنا.

’’ہماری مسجد کی دائیں جانب ایک جگہ تھی، جو امام کی جگہ کی نسبت نیچی تھی ۔ کچھ لوگ حجاج کے دور میں بھاگے ہوئے تھے، ان کے اور مسجد کے درمیان ایک لمبی دیوار حائل تھی۔ وہ اس امام کی اقتدا میں پس دیوار نماز پڑھتے تھے۔ میں نے امام ابراہیم نخعی رحمتہ اللہ سے اس بارے میں پوچھا، تو انہوں نے درست قرار دیا۔‘‘
🌿(مصنف ابن أبي شيبة : 222/2 ، وسنده صحيح)

🌸عبد اللہ بن عون رحمتہ اللہ بیان کرتے ہیں :
سئل محمد عن الرجل يكون على ظهر بيت، يصلي بصلاة الإمام في رمضان؟ فقال : لا أعلم به بأسا، إلا أن يكون بين يدي الإمام .

’’امام محمد بن سیرین رحمتہ اللہ سے پوچھا گیا کہ رمضان میں ایک شخص کسی گھر کی چھت پر امام کی اقتدا میں نماز پڑھتا ہے، فرمایا: میں اس میں کوئی حرج خیال نہیں کرتا ، الا یہ کہ وہ امام سے آگے ہو۔‘‘
🌿(مصنف ابن أبي شيبة : 222/2، وسنده صحيح)

🌸ہشام بن عروہ رحمتہ اللہ بیان کرتے ہیں :
إن عروة كان يصلي بصلاة الإمام، وهو في دار حميد بن عبد الرحمن بن الحارث، وبينهما وبين المسجد طريق .

’’عروہ بن زبیر رحمتہ اللہ امام کی اقتدا میں حمید بن عبد الرحمن بن حارث کے گھر میں نماز ادا کرتے ، حالانکہ ان کے اور مسجد کے درمیان ایک راستہ تھا۔‘‘
🌿(مصنف ابن أبي شيبة : 222/2 ، وسنده صحيح)

فائده① :

ایک روایت بیان کی جاتی ہے :
من كان بينه وبين الإمام طريق أو نهر أو صف من نساء؛ فليس هو مع الإمام .

’’جس کے اور امام کے درمیان راستہ، نہر یا عورتوں کی صف اگر حائل ہے، تو نماز امام کی اقتدا میں نہیں شمار کی جائے گی۔‘‘
🌿(المبسوط للسرخسي : 184/1 ، 193، بدائع الصنائع للكاساني : 240/1 ، البناية شرح الهداية للعيني : 353/2 ، المُحيط البرهاني في الفقه النعماني : 421/1)

یہ روایت موضوع من گھڑت ہے، ایسی روایات بیان کرنے سے بچنا چاہئے۔

فائده② :

🌸سیدنا عقبہ بن عمرو، ابو مسعود انصاری، بدری رضی الله عنه سے منسوب ہے :

نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يقوم الإمام فوق شيء، والناس خلفه.

’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ کوئی امام کسی بلند چیز پر کھڑا ہو اور لوگ اس کی اقتدا کر رہے ہوں ۔‘‘

🌿(سنن الدار قطني : 1882)

سند سلیمان بن مہران اعمش اور ابراہیم بن یزید نخعی کے عنعنہ کی وجہ سے ضعیف ہے۔

فائده③ :

🌸شعبی رحمتہ اللہ کے بارے میں ہے :
سألته عن المرأة تأتم بالإمام وبينهما طريق، فقال : ليس ذلك لها .

’’میں نے ان سے ایسی عورت کے بارے میں پوچھا، جو امام کی اقتدا میں نماز ادا کرے، جبکہ اس کے اور امام کے درمیان راستہ حائل ہو، فرمایا: جائز نہیں۔‘‘
🌿(مصنف ابن أبي شيبة : 222/2 ، وسنده صحيح)

شعبی رحمتہ اللہ کا یہ قول صحیح حدیث اور دیگر سلف کے خلاف ہے، لہذا درست نہیں۔

فائده④ :

🌸سیدنا عمر بن خطاب رضی الله عنه سے منسوب ہے :
إذا كان بينه وبين الإمام طريق، أو نهر، أو حائد، فليس معه .

’’جب نمازی اور امام کے درمیان راستہ نہر یا دیوار حائل ہو، تو وہ امام کی اقتدا میں نہیں ہے۔‘‘

🌿(مصنف ابن أبي شيبة : 222/2)

سند ’’ضعیف‘‘ ہے:
◈نعیم بن ابو ہند کا سیدنا عمر رضی الله عنه سے سماع ولقا نہیں ہے۔
◈حفص بن غیاث ’’مدلس‘‘ ہے۔
◈لیث بن ابوسلیم جمہور محدثین کے نزدیک ’’ضعیف سی ء الحفظ‘‘ ہے۔
مصنف عبد الرزاق (4880 ) والی سند میں نعیم بن ابو ہند اور سیدنا عمر رضی الله عنه کے درمیان ’’انقطاع‘‘ کے ساتھ ساتھ سلیمان بن طرخان تیمی اور امام عبد الرزاق کا عنعنہ ہے۔

فائده⑤ :

🌸امام ابراہیم نخعی رحمتہ اللہ کے بارے میں ہے :
إنه كان يكره أن يصلي بصلاة الإمام، إذا كان بينهما طريق، أو نساء .

’’وہ امام کی اقتدا میں نماز پڑھنے کو اس وقت مکروہ سمجھتے تھے، جب نمازی اور امام کے درمیان راستہ یا عورتیں ہوتیں۔‘‘

🌿(مصنف ابن أبي شيبة : 222/2)

سند سفیان ثوری اور اعمش کی ’’تدلیس‘‘ کی وجہ سے ’’ضعیف‘‘ ہے۔

مصنف عبد الرزاق (4882) والی سند میں ابن مجالد اور اس کا باپ مجالد کون ہے؟ ان کی تعیین و توثیق درکار ہے۔ نیز امام عبد الرزاق ’’مدلس‘‘ ہیں ، سماع کی تصریح نہیں کی۔

قاضی ابو یوسف کی ’’الآثار‘‘ (322) کی سند جھوٹی ہے۔ یوسف بن ابو یوسف کی توثیق نہیں مل سکی۔ ابو یوسف جمہور محدثین کے نزدیک ’’ضعیف‘‘ ہیں اور نعمان بن ثابت باتفاق محدثین ’’ضعیف ومتروک‘‘ ہیں۔ حماد بن ابوسلیمان ’’مختلط‘‘ ہیں۔ نعمان بن ثابت نے ان سے اختلاط کے بعد روایت لی ہے۔

محمد بن حسن شیبانی کی ’’الآثار‘‘ (115) والی سند کا یہی حال ہے۔ محمد بن حسن شیبانی ’’متروک وکذاب‘‘ ہے۔ حماد بن ابی سلیمان کا ’’اختلاط‘‘ بھی ہے۔

تنبيه:

خنثیٰ (ہیجڑے) میں اگر مردوں والی علامات پائی جائیں، تو وہ مردوں کی صف میں کھڑا ہوگا اور اگر عورتوں والی علامات ہوں، تو عورتوں کی صف میں کھڑا ہو گا۔ البتہ خنثیٰ مشکل (جس میں کسی ایک جنس کی علامات واضح نہ ہوں) مردوں کے ساتھ کھڑا ہو۔ واللہ اعلم !