باغیوں سے قتال اور ارتداد کے احکام ومسائل قرآن و حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
ماخوذ: قرآن وحدیث کی روشنی میں فقہی احکام و مسائل، حدود و تعزیرات کے مسائل:جلد 02: صفحہ430
مضمون کے اہم نکات

باغیوں سے قتال کرنے کا بیان

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿وَإِن طائِفَتانِ مِنَ المُؤمِنينَ اقتَتَلوا فَأَصلِحوا بَينَهُما فَإِن بَغَت إِحدىٰهُما عَلَى الأُخرىٰ فَقـٰتِلُوا الَّتى تَبغى حَتّىٰ تَفىءَ إِلىٰ أَمرِ اللَّهِ فَإِن فاءَت فَأَصلِحوا بَينَهُما بِالعَدلِ وَأَقسِطوا إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ المُقسِطينَ ﴿٩﴾ إِنَّمَا المُؤمِنونَ إِخوَةٌ فَأَصلِحوا بَينَ أَخَوَيكُم وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُم تُرحَمونَ ﴿١٠﴾… سورة الحجرات

"اور اگر مسلمانوں کی دو جماعتیں آپس میں لڑ پڑیں تو ان میں میل ملاپ کرا دیا کرو۔ پھر اگر ان دونوں میں سے ایک جماعت دوسری جماعت پر زیادتی کرے تو تم (سب) اس گروه سے جو زیادتی کرتا ہے لڑو۔ یہاں تک کہ وه اللہ کے حکم کی طرف لوٹ آئے، اگر لوٹ آئے تو پھر انصاف کے ساتھ صلح کرا دو اور عدل کرو بیشک اللہ تعالیٰ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ (یاد رکھو) سارے مسلمان بھائی بھائی ہیں پس اپنے دو بھائیوں میں ملاپ کرا دیا کرو، اور اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے” [الحجرات 49/9۔10۔]

اس آیتِ کریمہ سے معلوم ہوتا ہے کہ جب ایک جماعت زیادتی اور سرکشی پر اتر آئے اور صلح واصلاح قبول نہ کرے تو اس کے خلاف قتال واجب ہوجاتا ہے، یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف واپس آجائے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"مَنْ أَتَاكُمْ وَأَمْرُكُمْ جَمِيعٌ عَلَى رَجُلٍ وَاحِدٍ يُرِيدُ أَنْ يَشُقَّ عَصَاكُمْ أَوْ يُفَرِّقَ جَمَاعَتَكُمْ فَاقْتُلُوهُ "

"جب تم ایک شخص کی امارت پر متفق ہوکر امن وسکون سے زندگی گزاررہے ہوتو پھر کوئی دوسراشخص تمہارے پاس آئے جو تمہاری جماعت میں افتراق وانتشار پیدا کرنا چاہے تو اسے قتل کردو۔” [صحیح مسلم الامارۃ باب حکم من فرق امر المسلمین وھو مجتمع حدیث (60)۔1852۔]

ایک اور جگہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"مَنْ خَرَجَ عَلَى أُمَّتِي وَهُمْ جَمِيعٌ فَاقْتُلُوهُ كَائِنًا مَا كَانَ”

"جو شخص میری اُمت کے خلاف اس وقت خروج کرے جب وہ متفق ہوچکی ہو تو اس کی گردن تلوار سے اڑا دو چاہے جو بھی ہو۔” [صحیح مسلم الامارۃ باب وجوب الوفاء بیعۃ الخلیفۃ الاول فالاول حدیث 1844 وکتاب السنۃ لابن ابی عاصم ص 519 حدیث 1107 واللفظ لہ۔]

باغیوں سے قتال کے مسئلے میں صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کا موقف ایک ہی تھا، اس بارے میں ان کے درمیان کوئی اختلاف نہ تھا۔

① بغاوت کی حقیقت اور اجتماعیت کی ضرورت

"بغاوت” سے مراد ظلم، زیادتی اور راہِ حق سے انحراف ہے۔ اس اعتبار سے باغی وہ لوگ ہیں جو ظلم پر قائم ہوں، حق کو چھوڑ بیٹھیں اور مسلمان امراء کے احکام اور نظام کی مخالفت کریں۔ اسی وجہ سے مسلمانوں کے لیے ایک جماعت اور ایک امام کا ہونا ناگزیر ہے۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿وَاعتَصِموا بِحَبلِ اللَّهِ جَميعًا…﴿١٠٣﴾… سورةآل عمران

"اللہ(تعالیٰ) کی رسی کو سب مل کر مضبوط تھام لو اور پھوٹ نہ ڈالو۔” [آل عمران 3/103۔]

اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿يـٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا أَطيعُوا اللَّهَ وَأَطيعُوا الرَّسولَ وَأُولِى الأَمرِ مِنكُم …﴿٥٩﴾… سورة النساء

"اے ایمان والو! فرمانبرداری کرو اللہ کی اور فرمانبرداری کرو رسول کی اور تم میں سے اختیار والوں کی۔” [النساء4/59۔]

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"أُوصِيكُمْ بِتَقْوَى اللَّهِ، وَالسَّمْعِ وَالطَّاعَةِ وَإِنْ تَأَمَّرَ عَلَيْكُمْ عَبْدٌ”

"میں تمھیں اللہ سے ڈرنے اور سمع وطاعت کے بجالانے کا حکم کرتا ہوں اگرچہ تم پر کوئی حبشی غلام امیر بن جائے۔” [سنن ابی داود السنۃ باب فی لزوم السنۃ حدیث 4607 وجامع الترمذی العلم باب ماجاء فی الاخذ بالسنۃ واجتناب البدعۃ حدیث 2676 علامہ البانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: میں نے اس روایت کے تمام طرق دیکھے ہیں لیکن مجھے (وَإِنْ تَأَمَّرَ) کے بجائے(عبدًا حبشيًّا) کے الفاظ ہی ملے ہیں جیسا کہ سنن ابوداود اور جامع ترمذی میں ہے۔]

یہ آیات واحادیث اس حقیقت کو واضح کرتی ہیں کہ انسانی معاشرے کی شیرازہ بندی، ملک کی حفاظت، دفاع، حدود کے نفاذ، حقوق کی ادائیگی، نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کے لیے اجتماعیت اور قیادت ضروری ہے۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

” جاننا چاہیے کہ لوگوں کے امور کی سربراہی واجبات دینیہ میں سے ایک اہم دینی فریضہ ہے بلکہ دین ودنیا کا قیام اسی کے ساتھ ہوتا ہے۔بنی آدم کے مصالح ،منافع اور فوائد یقیناً آپس میں مل کر رہنے ہی سے پورے ہوتے ہیں اور اجتماعیت میں امیر وسربراہ کا ہوناضروری ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر جیسے چھوٹے اور عارضی اجتماع میں بھی ایک شخص کو امیر بنانا واجب قراردیا ہے جس سے مختلف قسم کے اجتماعات پررئیس یا امیر بنانے کی تنبیہ ہوتی ہے۔” [مجموع الفتاویٰ 28/390۔]

یہ بھی واضح رہے کہ لوگ امیر اور حاکم کے بغیر درست نہیں رہ سکتے۔ اگر ان پر کوئی ظالم حکمران بھی مسلط ہوجائے تو یہ حالت بغیر حاکم کے رہنے سے بہتر ہے۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ ظالم امیر کے تحت ایک سال گزار لینا، امیر کے بغیر ایک رات گزارنے سے بہتر ہے۔

② باغی جماعت کے ساتھ صلح اور پھر قتال کا طریقہ

اگر کوئی جماعت کسی مشتبہ معاملے کی غلط تعبیر کرکے مسلمانوں کے امیر کے خلاف خروج کرے، اس کی اطاعت چھوڑ دے، اس کے خلاف مزاحمت اختیار کرے یا مسلمانوں کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کی کوشش کرے تو وہ ظالم اور باغی جماعت شمار ہوگی۔

مسلمانوں کے امیر پر لازم ہے کہ وہ پہلے ان سے مراسلت اور گفتگو کرے، ان سے پوچھے کہ ان کی شکایت کیا ہے اور وہ کس سبب سے بغاوت پر آمادہ ہوئے ہیں۔ اگر وہ کسی ظلم یا زیادتی کی شکایت کریں تو اس کا ازالہ کیا جائے، اور اگر بات کسی غلط فہمی کی ہو تو اسے دور کیا جائے۔ امیر کو تحمل، سنجیدگی اور وسعتِ ظرف کے ساتھ صلح کی پوری کوشش کرنی چاہیے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

"فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا”

"ان(دونوں) میں میل ملاپ کرادیا کرو۔” [الحجرات 9/49۔]

اصلاح اور صلح کی صورت یہ ہے کہ اگر باغی امیر پر ایسے کام کا الزام لگائیں جو شرعاً ناجائز ہو تو امیر اس کا ازالہ کرے، اور اگر وہ کام جائز ہو تو مخالف فریق کو دلائل کے ذریعے مطمئن کرے اور حقیقت واضح کرے۔

اگر باغی گروہ حق کی طرف پلٹ آئے، رجوع کرلے اور امیر کی اطاعت قبول کرلے تو اس سے تعرض نہ کیا جائے۔ لیکن اگر وہ شرعی دلائل سن لینے کے باوجود رجوع نہ کریں تو پھر ان کے خلاف جنگ کرنا ضروری ہے۔ اس موقع پر رعایا پر بھی لازم ہے کہ وہ امیر کا بھرپور ساتھ دے، یہاں تک کہ ان کی سرکشی ختم ہوجائے اور فتنہ ٹھنڈا پڑ جائے۔

③ باغیوں سے قتال کے وقت ملحوظ رہنے والے احکام

باغیوں سے جنگ کرتے وقت درج ذیل امور کا خیال رکھا جائے:

◈ ان پر ایسی چیزوں سے حملہ نہ کیا جائے جو اجتماعی تباہی کا سبب بنیں، مثلاً تباہ کن میزائل یا بم استعمال نہ کیے جائیں۔

◈ ان کے بچوں کو قتل نہ کیا جائے۔

◈ جو لوگ پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں، انہیں قتل نہ کیا جائے۔

◈ زخمیوں کو قتل کرنا حرام ہے۔

◈ جو لڑنا نہ چاہتے ہوں، انہیں قتل نہ کیا جائے۔

◈ اگر ان میں سے کوئی گرفتار ہوجائے تو اسے قید میں رکھا جائے، یہاں تک کہ فتنہ ختم ہوجائے۔

◈ ان کے اموال کو غنیمت قرار نہیں دیا جائے گا، بلکہ ان کے اموال بھی دوسرے مسلمانوں کے مال کی طرح محترم رہیں گے، کیونکہ ان کی ملکیت ختم نہیں ہوئی۔

◈ جنگ کے ختم ہونے اور فتنہ بجھ جانے کے بعد اگر ان کا مال کسی کے قبضے میں موجود ہو تو واپس اصل مالک کو دیا جائے۔

◈ اگر مال ضائع ہوچکا ہو تو اس کا ضمان لازم نہیں ہوگا۔

◈ فریقین کی اس لڑائی میں جو شخص مارا گیا ہو، اس کی دیت بھی لازم نہیں ہوگی۔

امام زہری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

” اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں فتنوں نے سراٹھایا تو ان کی سرکوبی کی گئی۔وہ سب اس بات پر متفق تھے کہ کسی فتنہ باز کےقتل ہونے کی صورت میں اس کی دیت نہیں دی جائے گی اور نہ قرآنی آیات کی(غلط) تاویل کرکے ان کا مال غنیمت سمجھا جائے مگرجو مال باغیوں نے چھینا تھا اگر وہ بعینہ واپس مل گیا تو اسے لے کر مالک کو دے دیا جائے۔” [السنن الکبریٰ للبیہقی 8/174۔175۔]

④ جب دو مسلم گروہ امام کی اطاعت سے باہر لڑ رہے ہوں

اگر مسلمانوں کے دو گروہوں کے درمیان جنگ ہو اور ان میں سے کوئی بھی امام المسلمین کی اطاعت میں نہ ہو، بلکہ جنگ کی بنیاد محض باہمی عصبیت یا اقتدار کی کشمکش ہو، تو دونوں گروہ ظالم شمار ہوں گے، کیونکہ ہر ایک دوسرے پر زیادتی کررہا ہے اور کسی ایک کے حق پر ہونے کی کوئی نمایاں علامت باقی نہیں رہتی۔

ایسی صورت میں ہر فریق دوسرے کے نقصان کا ضامن ہوگا۔ البتہ اگر ایک جماعت امیر کے حکم کے تحت لڑ رہی ہو تو وہ حق پر مانی جائے گی، اور دوسری جماعت باغی قرار پائے گی، جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے۔

⑤ خوارج کا حکم

اگر کوئی جماعت خوارج کے عقائد رکھتی ہو، مثلاً:

◈ کبیرہ گناہوں کے مرتکب کو کافر کہنا

◈ مسلمانوں کے خون کو حلال سمجھنا

◈ صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کو برا بھلا کہنا

تو ایسی جماعت باغی، فاسق اور خارجی شمار ہوگی۔ اگر وہ امیر کی اطاعت سے نکل جائیں تو ان سے قتال واجب ہوگا۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

"خوارج کے بارے میں اہل سنت متفق ہیں کہ وہ بدعتی گروہ ہے۔نصوص شرعیہ ان سے قتال کرناواجب قراردیتی ہیں۔صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کا ان سے قتال کرنے پر اتفاق تھا۔علمائے اہل سنت کا بھی یہی مسلک ہے کہ عادل حکمرانوں کے ساتھ مل کران(خوارج) سے لڑائی جائے گی۔اس کے بارے میں اختلاف ہے کہ ظالم حکمرانوں کے ساتھ مل کر بھی ان سے لڑنا جائز ہے یانہیں؟بعض اہل علم سے منقول ہے کہ ان(ظالم حکمرانوں) کے ساتھ مل کر لڑنا بھی جائز ہے۔اسی طرح معاہدین میں سے کوئی اپنا عہد توڑے تو ان سے لڑنا بھی ضروری ہے اور جمہور کا یہی موقف ہے ۔امیر نیک ہو یافاجر وفاسق،اگر وہ باغی کفار یا مرتدین یا معاہدے کو توڑنے والوں یا خوارج سے جنگ کرے تو اس کے ساتھ بھرپورتعاون کرتے ہوئے لڑائی لڑی جائے۔اگر اس کی لڑائی جائز نہ ہوتو اس کے ساتھ جنگ میں شامل نہ ہوا جائے۔” [منھاج السنۃ النبویہ 6/116۔117۔]

⑥ اگر خارجی فکر رکھنے والے لوگ بغاوت نہ کریں

اگر کوئی گروہ خوارج جیسے عقائد رکھتا ہو، مگر امام کی اطاعت میں رہتا ہو اور قتال کے لیے آمادہ نہ ہو، تو اس پر اسلام کے مقررہ احکام کے مطابق تعزیر نافذ کی جائے گی۔ ساتھ ہی ان کے باطل عقائد کی تردید بھی کی جائے گی اور انہیں اپنی گمراہ آراء کی اشاعت کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یہ موقف ان علماء کا ہے جو خوارج کو کافر نہیں کہتے، اور جمہور علماء کا یہی قول ہے۔ البتہ جن اہل علم کے نزدیک خوارج کافر ہیں، ان کے نزدیک ان سے قتال بہرحال ضروری ہوگا۔

ارتداد کے احکام

"مرتد” لفظ "ارتد” سے اسم فاعل ہے، جس کے لغوی معنی ہیں: "لوٹ جانے والا”۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿وَلا تَرتَدّوا عَلىٰ أَدبارِكُم…﴿٢١﴾… سورة المائدة

"اورتم اپنی پشت کے بل روگردانی نہ کرو۔” [المائدۃ 5/21۔]

شرعی اصطلاح میں مرتد وہ شخص ہے جو اسلام قبول کرلینے کے بعد اپنی مرضی سے، زبان، دل یا عمل کے ذریعے دینِ اسلام کے احکام کا انکار کردے۔

شریعت میں مرتد کے لیے دنیاوی اور اخروی دونوں طرح کے احکام ہیں۔

دنیاوی حکم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں بیان فرمایا:

"من بدل دينه فاقتلوه”

"جو(مسلمان) اپنا دین بدل دے اسے قتل کردو۔” [صحیح البخاری الجھاد باب لا یعذب بعذاب اللہ،حدیث:3017۔]

اس بڑے حکم کے ساتھ چند اور احکام بھی متعلق ہیں، مثلاً اسے قتل سے پہلے اس کی بیوی سے جدا کردیا جائے گا اور اسے مالی تصرفات سے بھی روک دیا جائے گا۔ اس مسئلے پر علماء کا اجماع نقل کیا گیا ہے۔

رہا آخرت کا حکم، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿ وَمَن يَرتَدِد مِنكُم عَن دينِهِ فَيَمُت وَهُوَ كافِرٌ فَأُولـٰئِكَ حَبِطَت أَعمـٰلُهُم فِى الدُّنيا وَالءاخِرَةِ وَأُولـٰئِكَ أَصحـٰبُ النّارِ هُم فيها خـٰلِدونَ ﴿٢١٧﴾… سورة البقرة

"اورتم میں سے جو لوگ اپنے دین سے پلٹ جائیں اور اسی کفر کی حالت میں مریں،ان کے اعمال دنیوی اور اخروی سب غارت ہوجائیں گے۔یہ لوگ جہنمی ہوں گے اور ہمیشہ جہنم ہی میں رہیں گے۔” [البقرۃ:2/217۔]

① کن امور سے ارتداد ثابت ہوتا ہے

ارتداد اس وقت ثابت ہوتا ہے جب کوئی شخص ایسا قول کہے یا ایسا عمل کرے جس سے وہ اسلام کے دائرے سے نکل جائے، خواہ وہ بات سنجیدگی میں کہی گئی ہو یا مذاق میں۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿وَلَئِن سَأَلتَهُم لَيَقولُنَّ إِنَّما كُنّا نَخوضُ وَنَلعَبُ قُل أَبِاللَّهِ وَءايـٰتِهِ وَرَسولِهِ كُنتُم تَستَهزِءونَ ﴿٦٥﴾ لا تَعتَذِروا قَد كَفَرتُم بَعدَ إيمـٰنِكُم إِن نَعفُ عَن طائِفَةٍ مِنكُم نُعَذِّب طائِفَةً بِأَنَّهُم كانوا مُجرِمينَ ﴿٦٦﴾… سورة التوبة

"اگر آپ ان سے پوچھیں تو صاف کہہ دیں گے کہ ہم تو یونہی آپس میں ہنس بول رہے تھے۔ کہہ دیجئے کہ اللہ، اس کی آیتیں اور اس کا رسول ہی تمہارے ہنسی مذاق کے لئے ره گئے ہیں؟ (65) تم بہانے نہ بناؤ یقیناً تم اپنے ایمان کے بعد بے ایمان ہوگئے، اگر ہم تم میں سے کچھ لوگوں سے درگزر بھی کر لیں تو کچھ لوگوں کو ان کے جرم کی سنگین سزا بھی دیں گے” [النور 9/65۔66۔]

البتہ اگر کسی نے جبر و اکراہ کی وجہ سے زبان سے کفر کا کلمہ کہہ دیا یا کوئی ایسا کام کرلیا جو اسلام کے منافی ہو، جبکہ دل ایمان پر مطمئن ہو، تو وہ مرتد نہ ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿مَن كَفَرَ بِاللَّهِ مِن بَعدِ إيمـٰنِهِ إِلّا مَن أُكرِهَ وَقَلبُهُ مُطمَئِنٌّ بِالإيمـٰنِ…﴿١٠٦﴾… سورة النحل

"جوشخص اپنے ایمان کے بعد اللہ سے کفر کرے سوائے اس(شخص) کے جس پر جبر کیا جائے اور اس کا دل ایمان پر برقرار ہو۔” [النحل 16/106۔]

② نواقضِ اسلام کی چند بڑی صورتیں

نواقضِ اسلام بہت زیادہ ہیں، اور انہی سے ارتداد ثابت ہوتا ہے۔ ان میں سب سے بڑا ناقض شرک ہے۔ چنانچہ جس شخص نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا، مثلاً:

◈ غیر اللہ مردوں، اولیاء یا صالحین کو فریاد رسی کے لیے پکارا

◈ ان کی قبروں پر جانور ذبح کیا

◈ ان کی رضا کے لیے نذر مانی

◈ مُردوں سے اپنے امور میں مدد طلب کی

جیسا کہ آج کل قبر پرست لوگوں میں دیکھا جاتا ہے، تو ایسا شخص اسلام سے مرتد ہوجاتا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿إِنَّ اللَّهَ لا يَغفِرُ أَن يُشرَكَ بِهِ وَيَغفِرُ ما دونَ ذ‌ٰلِكَ لِمَن يَشاءُ …﴿٤٨﴾… سورة النساء

"یقیناً اللہ اپنے ساتھ شریک کیے جانے کو نہیں بخشتا اوراس کے سوا جسے چاہے بخش دیتا ہے۔” [النساء:4/48۔]

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

” جس شخص نے اپنے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان واسطے بنا لیے جنھیں وہ پکارتاہے،ان کے آگے سوال کا ہاتھ بڑھاتا ہے ،ان پر توکل کرتا ہے تو وہ بالاجماع کافر ہے۔اسی طرح جس نے بعض نبیوں اور رسولوں کا انکار کردیا یابعض کتب الٰہیہ کاانکار کیا تو وہ مرتد ہوگیا کیونکہ ایسا شخص اللہ تعالیٰ کے حکم کی تکذیب کررہاہے،اللہ کےرسولوں میں سے کسی رسول اور کتب میں سے کسی کتاب کا انکار کررہاہے۔مزیدبرآں کسی نےفرشتوں کے وجود کا یا یوم آخرت کاانکار کیا یا اللہ تعالیٰ یا اس کےکسی رسول ونبی کوگالی دی یانبوت کا دعویٰ کر دیا یا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کی نبوت کو تسلیم کیا تو وہ کافر ہے کیونکہ وہ اللہ کے فرمان:

﴿وَلـٰكِن رَسولَ اللَّهِ وَخاتَمَ النَّبِيّـۧنَ … ﴿٤٠﴾… سورة الاحزاب

"لیکن آپ اللہ کے رسول اور تمام نبیوں کے ختم کرنے والے ہیں۔” [ الاحزاب 33/40۔]

کو جھٹلانے والا ہے اور جس نے زنا کے حرام ہونے کو تسلیم نہیں کیا یا کسی ایسی شے کو حرام نہ سمجھا جس کے حرام ہونے پر پوری امت کا اجماع ہے،مثلاً:خنزیر کا گوشت،شراب وغیرہ یا کسی ایسی شے کو حلال نہ سمجھا جس کی حلت پر پوری امت کااجماع ہے،مثلاً:ذبح کردہ حلال چوپائے تو وہ شخص بھی کافر ہے۔اسی طرح جس نےارکان اسلام(کلمہ شہادت ،نماز ،روزہ۔۔۔) کا انکار کیا یا دین اسلام کا تمسخر اڑایایا قرآن مجید کی بے حرمتی کی یا اس کا عقیدہ ہو کہ قرآن مجید مکمل طور پر محفوظ نہیں رہا بلکہ ناقص ہے تو ان تمام صورتوں میں انسان کافر ہوجاتاہے جس کے کفر پراجماع ہے۔”

شیخ موصوف آگے فرماتے ہیں:

"جس نے دین اسلام کے سوا کسی اور دین کا بھی اتباع کیا یاشریعت محمدی کے ساتھ ساتھ کسی دوسری شریعت کو بھی قابل عمل سمجھا تو وہ شخص بھی بالاتفاق کافر ہے۔اس کاکفر اس شخص کی طرح ہے جو کتاب اللہ کے بعض حصے پر ایمان لایا اور بعض حصے کا انکار کردیا۔”

اور مزید فرماتے ہیں:

"جس شخص نے اللہ تعالیٰ کے کسی وعدے یا وعید کاتمسخر اڑایا یاجس نے اسلام کوچھوڑ کر کسی اور دین کو اپنا لینے والے کو کافر نہ سمجھا(مثلاً:نصاریٰ) یاان کے کفر میں شک کیا یا ان کے مذہب کو صحیح مانا تو وہ بالا جماع وہ کافر ہے۔”

نیز فرمایا:

” جس نے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کو یا ان میں سے کسی ایک کوگالی دی یا اس کا دعویٰ ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ معبود یانبی تھے ۔جبریل علیہ السلام نے غلطی کی تھی تو اس کے کافر ہونے میں کوئی شک نہیں۔”

③ خود ساختہ قانون کو شریعت پر ترجیح دینا

جس شخص نے شریعتِ اسلامیہ کو چھوڑ کر خود ساختہ قانون کو اپنا فیصلہ کن نظام بنالیا، اور اسے اسلامی شریعت سے بہتر سمجھا، یا اسلام کے بدلے سوشلزم یا عربی قومیت جیسی فکر کو متبادل دین کے طور پر اختیار کرلیا، تو اس کے مرتد ہونے میں کوئی شک نہیں۔

④ ارتداد کی مزید صورتیں

ارتداد کی بہت سی اور بھی شکلیں ہیں، مثلاً:

◈ عالم الغیب ہونے کا دعویٰ کرنا

◈ مشرکین کو کافر نہ سمجھنا

◈ ان کے کفر میں شک کرنا

◈ ان کے مذہب کو صحیح اور درست سمجھنا

◈ یہ عقیدہ رکھنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت سے کوئی دوسری شریعت بہتر ہے

◈ اسلام کے کسی حکم، کسی ثواب یا کسی عقاب کا مذاق اڑانا

◈ احکامِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بغض رکھنا

◈ یہ عقیدہ رکھنا کہ بعض لوگوں کے لیے شریعتِ محمدی کی اتباع ضروری نہیں، بلکہ اس سے خروج جائز ہے، جیسا کہ غالی صوفیوں کا باطل عقیدہ ہے

◈ اللہ کے دین کو نہ سیکھنا اور نہ اس پر عمل کرنا

یہ سب امور نواقضِ اسلام اور ارتداد کے اسباب میں داخل ہیں۔

شیخ محمد بن عبدالوہاب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

"ان تمام قسم کے نواقض میں کوئی فرق نہیں،ان کے مرتکب سے ان کا ظہورخواہ مذاق میں ہو یا قصداً یاکسی خوف کی وجہ سے ان کااظہار کرے وہ مرتد اور کافر ہی سمجھا جائےگا سوائے مجبور ومقہور کے۔یہ تمام نواقض انتہائی خطرناک ہیں اورلوگوں سے اکثر ان کا وقوع ہوتارہتاہے۔مسلمان کو چاہیے کہ ان سے بچے اور ان کاخطرہ اپنے لیے محسوس کرے۔ہم اللہ کے غضب کے اسباب اور اس کے دردناک عذاب سے اس کی پناہ مانگتے ہیں۔”

یہ نواقضِ اسلام کی چند مثالیں ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ آدمی انہیں پہچانے تاکہ ان سے بچ سکے۔

یاد رکھیں! جو شخص شرکیہ امور کو جانتا ہی نہیں، اندیشہ ہے کہ وہ خود بھی ان میں مبتلا ہوجائے۔

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:

” جو شخص امور جاہلیت سے واقف نہیں ممکن ہےکہ وہ عہد اسلام میں پیدا ہونے کے باوجود دین اسلام کی ایک ایک کڑی کوادھیڑ کررکھ دے۔”

میرے بھائی! آپ کے لیے مشورہ یہ ہے کہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب "فکر وعقیدہ کی گمراہیاں اور صراط مستقیم کے تقاضے” کا مطالعہ کریں، اور شیخ مجدد محمد بن عبدالوہاب رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب (مسائل الجاهلية التي خالف فيها رسول الله صلى الله عليه وسلم أهل الجاهلية) "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کااہل جاہلیت سے اختلاف” اور اس کی شرح بھی پڑھیں، جسے عراق کے معروف عالم محمود شکری آلوسی رحمۃ اللہ علیہ نے تالیف کیا ہے۔

⑤ مرتد کو توبہ کی مہلت

جو شخص اسلام سے مرتد ہوجائے، اسے تین دن تک توبہ کا موقع دیا جائے گا۔ اگر وہ توبہ کرلے تو بہتر، ورنہ اسے قتل کردیا جائے گا۔

سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خبر ملی کہ ایک شخص مرتد ہوگیا تھا اور اسے توبہ کا موقع دیے بغیر قتل کردیا گیا، تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:

"أفلا حبستموه ثلاثا وأطعمتموه كل يوم رغيفا واستتبتموه لعله يتوب ويراجع أمر الله ثم قال عمر اللهم إني لم أحضر ولم آمر ولم أرض إذ بلغني”

"تم نے تین دن تک اسے مہلت کیوں نہیں دی؟اسے روزانہ ایک روٹی کھانے کو دیتے اور توبہ کا موقع دیتے تو شاید وہ توبہ کرلیتا،پھر فرمایا:اے اللہ! میں اس موقع پر موجود نہ تھا اور نہ میں نے اس کا حکم دیاتھا،مجھے اب خبر ملی ہے اور میں اس کام پر راضی بھی نہیں ہوں۔” [الموطا للامام مالک،الاقضیۃ باب القضاء فیمن ارتد عن الاسلام حدیث 1479۔]

مرتد کو مہلت دینے کی حکمت یہ ہے کہ بعض اوقات ارتداد کا سبب کوئی شبہ ہوتا ہے، اور وہ شبہ فوری طور پر دور نہیں ہوتا، اس لیے حقیقت واضح کرنے کے لیے کچھ مدت درکار ہوتی ہے۔

اور قتل کے وجوب کی دلیل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہے:

"من بدل دينه فاقتلوه”

"جو(مسلمان) اپنا دین بدل دے اسے قتل کردو۔” [صحیح البخاری الجھاد باب لا یعذب بعذاب اللہ،حدیث:3017۔]

⑥ مرتد کو قتل کرنے کا اختیار

مرتد کو قتل کرنے کی ذمہ داری حاکم یا اس کے نائب پر عائد ہوتی ہے، کیونکہ اس کا قتل اللہ تعالیٰ کا حق ہے اور یہ حق حاکم ہی نافذ کرسکتا ہے۔

⑦ قتلِ مرتد کی علت

مرتد کو قتل کرنا اس لیے ضروری سمجھا گیا ہے کہ جب اس نے حق کو اچھی طرح جان کر قبول کیا، پھر اسے چھوڑ دیا، تو اس کا مقصد زمین میں فساد پھیلانا ہوتا ہے۔ اس لیے اس کا زندہ رہنا درست نہیں سمجھا جاتا۔ وہ انسانی معاشرے کے ایک فاسد عضو کی مانند ہے، اس لیے اس کے زہر کے پھیلنے سے پہلے اسے الگ کرنا ضروری کہا گیا ہے۔

⑧ رجوعِ اسلام کیسے ثابت ہوگا

اگر مرتد دوبارہ کلمہ شہادت کا اقرار کرلے تو اس کا رجوع ثابت ہوجائے گا، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا: لاَ إِلٰهَ إِلاَّ الله. فَمَنْ قَالَ: لاَ إِلٰهَ إِلاَّ الله فَقَدْ عَصَمَ مِنِّي مَالَهُ وَنَفْسَهُ إِلاَّ بِحَقِّهِ،”

"مجھے حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں(کافروں) سے قتال کروں یہاں تک کہ وہ لاالٰہ الاللہ کا اقرار کرلیں،جب انھوں نے لاالٰہ الاللہ کا اقرار کرلیا تو اپنا خون اور مال محفوظ کرلیا سوائے اسلام کے حقوق کے۔” [صحیح البخاری الاعتصام باب قول اللہ تعالیٰ:(وَأَمْرُهُمْ شُورَىٰ بَيْنَهُمْ)معلقا وصحیح مسلم الایمان باب الامر بقتال الناس حتی یقولوا:لاالٰہ الااللہ ۔۔۔حدیث:21۔]

اگر کسی شخص کے ارتداد کی وجہ کلمہ شہادت کے علاوہ کسی ایسے حکم کا انکار ہو جو ضروریاتِ دین میں سے ہو، تو اس کی توبہ اسی وقت معتبر ہوگی جب وہ کلمہ شہادت کے ساتھ اس مخصوص مسئلے کا بھی اقرار کرے، جس کے انکار کی وجہ سے اسے مرتد قرار دیا گیا تھا۔

⑨ مرتد کے مال کا حکم

مرتد کے پاس جو مال ہو، اس کے تصرفات سے اسے روک دیا جائے گا، کیونکہ اس کے مال کے ساتھ دوسرے مسلمانوں کے حقوق بھی متعلق ہوجاتے ہیں، جیسے مفلس شخص کو قرضوں کی وجہ سے مال کے تصرف سے روکا جاتا ہے۔

اس کے مال سے مسلمانوں کے قرض ادا کیے جائیں گے، اور اسی کے مال سے اس پر اور اس کے اہل وعیال پر خرچ بھی کیا جائے گا، جب تک وہ تصرف سے روکا ہوا ہے۔

اگر وہ دوبارہ اسلام قبول کرلے تو اس کے مالی اختیارات بحال کردیے جائیں گے۔ لیکن اگر وہ حالتِ ارتداد میں مرجائے یا سزا کے طور پر قتل کردیا جائے تو اس کا مال "مالِ فی” قرار دے کر بیت المال میں جمع کردیا جائے گا، کیونکہ شرعاً اس کا کوئی وارث باقی نہیں رہتا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"لا يرث المسلم الكافر، ولا الكافر المسلم”

"مسلمان کافر کااورکافر مسلمان کاوارث نہ ہوگا۔” [صحیح البخاری الفرائض باب لایرث المسلم الکافر ولا الکافر المسلم۔۔۔حدیث 6764۔ ارتداد سے متعلقہ احکام میں سے ایک یہ ہے کہ مرتد اور اس کی بیوی کے درمیان جدائی ڈال دی جائے گی،اگرعدت ختم ہونے سے پہلے توبہ کرلے تو اس کی بیوی اسے واپس مل جائے گی اور اگر عدت ختم ہوگئی اور اس نے توبہ نہ کی تو وہ اس سے ہمیشہ کے لیے جدا ہو جائےگی اور اس فسخ نکاح کااعتبار اسکے ارتداد کے دن سے ہوگا۔اسی طرح اگر ردت(ارتداد) دخول سے پہلے واقع ہوتوپھر بھی نکاح فسخ ہوگا۔]

اسی طرح وہ لوگ بھی اس کے وارث نہیں ہوں گے جن کا مذہب اس نے اختیار کیا ہو، کیونکہ اسے اس کفریہ مذہب پر قائم رہنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

⑩ اللہ یا رسول کو گالی دینے والے کی توبہ

جس شخص نے اللہ تعالیٰ یا اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دی ہو، اس کی توبہ قبول ہوگی یا نہیں؟ اس بارے میں علماء کے دو قول ہیں:

✔ پہلا قول یہ ہے کہ دنیاوی احکام کے اعتبار سے اس کا رجوع قبول نہیں ہوگا، بلکہ اسے قتل کرنا واجب ہوگا۔ نہ وہ کسی کا وارث ہوگا اور نہ کوئی اس کا وارث ہوگا، کیونکہ اس کا یہ عظیم جرم عقیدے کے فساد اور اللہ تعالیٰ کی عظمت کو ہلکا سمجھنے کا تقاضا کرتا ہے کہ اسے بہرحال قتل کیا جائے۔

✔ دوسرا قول یہ ہے کہ اس کا رجوع قبول ہوگا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿ قُل لِلَّذينَ كَفَروا إِن يَنتَهوا يُغفَر لَهُم ما قَد سَلَفَ …﴿٣٨﴾… سورةالانفال

"آپ ان کافروں سے کہہ دیجئے کہ اگر یہ لوگ باز آجائیں تو ان کے سارے گناہ جو پہلے ہوچکے ہیں سب معاف کردیے جائیں گے۔” [الانفال 8/38۔]

⑪ بار بار ارتداد کرنے والے کا حکم

جس شخص سے بار بار ارتداد سرزد ہو، اس کے رجوع کے قبول ہونے یا نہ ہونے میں علماء کے درمیان اختلاف ہے:

✔ بعض علماء کا کہنا ہے کہ دنیا میں اس کی توبہ قبول نہ ہوگی، اس لیے اگرچہ وہ توبہ کرلے، پھر بھی اس پر مرتد کی سزا نافذ ہوگی، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿إِنَّ الَّذينَ ءامَنوا ثُمَّ كَفَروا ثُمَّ ءامَنوا ثُمَّ كَفَروا ثُمَّ ازدادوا كُفرًا لَم يَكُنِ اللَّهُ لِيَغفِرَ لَهُم وَلا لِيَهدِيَهُم سَبيلًا ﴿١٣٧﴾… سورة النساء

"جن لوگوں نے ایمان قبول کر کے پھر کفر کیا، پھر ایمان لاکر پھر کفر کیا، پھر اپنے کفر میں بڑھ گئے، اللہ تعالیٰ یقیناً انہیں نہ بخشے گا اور نہ انہیں راه ہدایت سمجھائے گا” [النساء:4/137۔]

✔ دوسرا قول یہ ہے کہ اس کا رجوع قبول ہوگا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿ قُل لِلَّذينَ كَفَروا إِن يَنتَهوا يُغفَر لَهُم ما قَد سَلَفَ …﴿٣٨﴾… سورةالانفال

"آپ ان کافروں سے کہہ دیجئے کہ اگر یہ لوگ باز آجائیں تو ان کے سارے گناہ جو پہلے ہوچکے ہیں سب معاف کردیے جائیں گے۔” [الانفال 8/38۔]

یہ آیت اپنے عموم کے اعتبار سے ایسے شخص کو بھی شامل ہے جو بار بار مرتد ہوتا رہا ہو۔

⑫ زندیق کا حکم

زندیق سے مراد وہ منافق ہے جو ظاہر میں مسلمان ہو لیکن باطن میں کفر چھپائے ہوئے ہو۔ اس کے حکم میں بھی اہل علم کے دو قول ہیں:

✔ ایک قول یہ ہے کہ اس کا رجوع قبول نہ ہوگا، کیونکہ اس کے الفاظ یا اعمال سے یقینی طور پر رجوع ثابت نہیں ہوتا۔ ممکن ہے وہ محض دکھاوے کے طور پر رجوع کر رہا ہو۔ چنانچہ ظاہری توبہ کے بعد بھی اس کی حالت وہی ہوسکتی ہے جو پہلے تھی، یعنی ظاہر میں اسلام اور دل میں کفر۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿إِلَّا الَّذينَ تابوا وَأَصلَحوا وَبَيَّنوا …﴿١٦٠﴾… سورة البقرة

"البتہ جن لوگوں نے(اس کام سے) توبہ کرلی اور اپنی اصلاح کرلی اور(جوبات چھپائی تھی اس کی) وضاحت کردی۔” [البقرۃ:2/160۔]

✔ دوسرا قول یہ ہے کہ زندیق کا رجوع قبول ہوگا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿إِنَّ المُنـٰفِقينَ فِى الدَّركِ الأَسفَلِ مِنَ النّارِ وَلَن تَجِدَ لَهُم نَصيرًا ﴿١٤٥﴾ إِلَّا الَّذينَ تابوا وَأَصلَحوا وَاعتَصَموا بِاللَّهِ وَأَخلَصوا دينَهُم لِلَّهِ فَأُولـٰئِكَ مَعَ المُؤمِنينَ وَسَوفَ يُؤتِ اللَّهُ المُؤمِنينَ أَجرًا عَظيمًا ﴿١٤٦﴾… سورة النساء

"منافق تو یقیناً جہنم کے سب سے نیچے کے طبقہ میں جائیں گے، ناممکن ہے کہ تو ان کا کوئی مددگار پالے (145) ہاں جو توبہ کر لیں اور اصلاح کر لیں اور اللہ تعالیٰ پر کامل یقین رکھیں اور خالص اللہ ہی کے لئے دینداری کریں تو یہ لوگ مومنوں کے ساتھ ہیں، اللہ تعالیٰ مومنوں کو بہت بڑا اجر دے گا” [النساء:4/145۔146۔]

نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منافقین سے ہاتھ روکے رکھا، یعنی انہیں سزا نہ دی، کیونکہ انہوں نے ظاہری طور پر اسلام قبول کررکھا تھا۔

زندیق لوگوں میں حلولیہ، اباحیہ اور وہ لوگ بھی شامل ہیں جو اپنے متبوع کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ترجیح دیتے ہیں، یا یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ درجۂ معرفت حاصل ہوجانے کے بعد شریعت کے اوامر ونواہی ساقط ہوجاتے ہیں، یا یہ کہتے ہیں کہ معرفت حاصل ہوجانے کے بعد یہود ونصاریٰ کے دین پر عمل کرنا جائز ہوجاتا ہے۔ ایسے شخص کا حکم بھی یہی ہے۔

⑬ نابالغ باشعور بچے کے ارتداد کا حکم

اہل علم کے ہاں اس مسئلے میں بھی اختلاف ہے کہ اگر کوئی باشعور بچہ، جس کا مسلمان ہونا درست ہے، ارتداد کے کسی سبب کا مرتکب ہوجائے تو کیا اس کا مرتد ہونا معتبر ہوگا یا نہیں؟

ایک قول یہ ہے کہ اس کا ارتداد ثابت ہوگا، بشرطیکہ اس سے ارتداد کا کوئی سبب ظاہر ہوا ہو، کیونکہ جس کا اسلام معتبر ہے اس کا ارتداد بھی معتبر ہوگا۔

البتہ اسے فوراً قتل نہیں کیا جائے گا، بلکہ جب وہ بالغ ہوگا تو اس سے توبہ کا مطالبہ کیا جائے گا اور تین دن کی مہلت دی جائے گی۔ اگر توبہ کرلے تو قبول کرلی جائے گی، ورنہ اسے قتل کی سزا دی جائے گی۔

⑭ تارکِ نماز کا حکم

جو شخص نماز کی فرضیت کا اقرار تو کرتا ہو، مگر سستی اور غفلت کی بنا پر نماز ادا نہ کرتا ہو، اس کے بارے میں بھی اہل علم کے درمیان اختلاف ہے۔ راجح بات یہی معلوم ہوتی ہے کہ وہ بھی کافر ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"إِنَّ بَيْنَ الرَّجُلِ وَبَيْنَ الشِّرْكِ وَالْكُفْرِ تَرْكَ الصَّلَاةِ”

"مسلمان بندے اور اس کےکفر کےدرمیان حد فاصل ترک نماز ہے۔” [سنن ابی داود السنۃ باب فی رد الارجاء حدیث 4678۔]

اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا:

"العهد الذي بيننا وبينهم الصلاة فمن تركها فقد كفر”

"ہمارے اور ان(کفار) کے درمیان عہد،نماز ہے جس نے اسے چھوڑا یقیناً اس نے کفر کیا۔” [سنن ابن ماجہ اقامۃ الصلوات باب ماجاء فیمن ترک الصلاۃ حدیث 1079۔ومسند احمد 5/346۔]

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿ما سَلَكَكُم فى سَقَرَ ﴿٤٢﴾ قالوا لَم نَكُ مِنَ المُصَلّينَ ﴿٤٣﴾… سورة المدثر

"تمھیں دوزخ میں کس چیز نے ڈالا؟وہ جواب دیں گے کہ ہم نمازی نہ تھے۔” [المدثر 74/42۔43۔]

اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿فَإِن تابوا وَأَقامُوا الصَّلو‌ٰةَ وَءاتَوُا الزَّكو‌ٰةَ فَإِخو‌ٰنُكُم فِى الدّينِ …﴿١١﴾… سورة التوبة

"اب بھی اگر یہ توبہ کرلیں اور نماز کے پابند ہوجائیں اور زکاۃ دیتے رہیں توتمہارے دینی بھائی ہیں۔” [التوبۃ:9/11۔]

اس سے معلوم ہوا کہ جو شخص نماز ادا نہیں کرتا، وہ دینی اخوت کے وصف سے محروم ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ اگر وہ نماز کی فرضیت کا اقرار کرلیں، بلکہ فرمایا کہ اگر وہ نماز قائم کریں۔

اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:

"بُنِيَ الإِسْلَامُ عَلَى خَمْسٍ: شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَإِقَامِ الصَّلَاةِ،…..”

"اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے:” گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد( صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ کے رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ہیں اور نماز قائم کرنا۔۔۔” [صحیح البخاری الایمان باب دعاء کم ایمانکم حدیث 8 وصحیح مسلم الایمان باب بیان ارکان الاسلام ودعائمہ العظام حدیث 16/17۔]

اس حدیث میں بھی "نماز قائم کرنے” کا ذکر ہے، محض نماز کے اقرار کا نہیں۔

آج کے زمانے میں نماز کے معاملے میں بہت زیادہ سستی پائی جاتی ہے، اور یہ نہایت خطرناک صورت حال ہے۔ جو لوگ نماز میں کوتاہی کرتے ہیں، انہیں توبہ کرنی چاہیے اور خود کو جہنم سے بچانے کے لیے نماز کی ادائیگی کا اہتمام کرنا چاہیے۔ نماز دینِ اسلام کا ایک عظیم ستون ہے، اور نماز بے حیائی، برائی اور گناہوں سے روکتی ہے۔

ہماری موبائل ایپ ڈاؤنلوڈ کریں

قرآن مع تفاسیر
احادیث مع شرح و تخریج
تحقیقی مضامین
اوقات نماز
آف لائن دستیاب