سوال:
بارہ خلفاء وملوک کا تعلق کس خاندان سے ہے؟
جواب:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جن بارہ خلفاء وملوک کی خبر دی ہے، ان کا تعلق قریش سے ہے، یہ خلافت و ملوکیت قریش کا خاصہ ہے۔ اس پر احادیث صحیحہ اور اجماع صحابہ دلیل ہیں۔ کسی غیر قریشی کو ان بارہ خلفاء میں شامل کرنا احادیث صحیحہ اور اجماع کی مخالفت ہے۔
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں اپنے والد کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
إن هذا الأمر لا ينقضي حتى يمضي فيهم اثنا عشر خليفة، قال: ثم تكلم بكلام خفي علي، قال: فقلت لأبي: ما قال؟ قال: كلهم من قريش
نظام کائنات اس وقت تک ختم نہیں ہو سکتا جب تک بارہ خلیفہ نہ ہو جائیں، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ آہستہ بات کی میں نہ سن سکا، میں نے اپنے والد محترم سے پوچھا کہ کیا بات کی ہے؟ کہنے لگے: یہ کہ سب خلفاء قریش میں سے ہوں گے۔
(صحيح البخاري: 7222، صحيح مسلم: 1821، واللفظ له)
❀ حافظ نووی رحمہ اللہ (676ھ) فرماتے ہیں:
إن الخلافة مختصة بقريش لا يجوز عقدها لأحد من غيرهم وعلى هذا انعقد الإجماع فى زمن الصحابة فكذلك بعدهم ومن خالف فيه من أهل البدع أو عرض بخلاف من غيرهم فهو محجوج بإجماع الصحابة والتابعين فمن بعدهم بالأحاديث الصحيحة
خلافت قریش کے ساتھ خاص ہے، کسی غیر قریشی کو ان (بارہ) میں شامل کرنا جائز نہیں، اس پر عہد صحابہ اور بعد میں اجماع منعقد ہو چکا ہے۔ اہل بدعت میں سے جو اس کی مخالفت کرے یا کسی غیر قریشی کو خلیفہ بنانے کا اشارہ کرے، تو اس کا رد صحابہ، تابعین اور بعد والوں کے اجماع اور صحیح احادیث سے ہوتا ہے۔
(شرح النووي: 12/200)