باجماعت نماز کی اہمیت اور فضیلت صحیح احادیث کی روشنی میں

یہ اقتباس مکتبہ دارالاندلس کی جانب سے شائع کردہ کتاب صحیح نماز نبویﷺ سے ماخوذ ہے جو الشیخ عبدالرحمٰن عزیز کی تالیف ہے۔

جماعت کی اہمیت:

❀ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَارْكَعُوا مَعَ الرَّاكِعِينَ
(البقرة: 43)
نماز قائم کرو، زکوٰۃ ادا کرو اور رکوع کرنے والوں (یعنی جماعت) کے ساتھ رکوع کرو (یعنی نماز ادا کرو)۔
❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من سمع النداء فلم يأته فلا صلاة له إلا من عذر
جو شخص اذان کی آواز سنے اور مسجد میں نہ آئے، (بلکہ گھر میں نماز پڑھ لے) تو اس کی نماز نہیں ہوگی، الا یہ کہ کوئی عذر ہو۔
[ابن ماجه، کتاب المساجد والجماعات، باب التغليظ في التخلف عن الجماعة: 793۔ صحیح]
❀ ایک نابینا شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی: مجھے مسجد میں لے جانے والا کوئی نہیں، کیا مجھے گھر میں نماز پڑھنے کی اجازت ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا اذان کی آواز سنتے ہو؟ اس نے کہا: ہاں! تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تب ضرور (نماز کے لیے مسجد میں آؤ)۔
[مسلم، کتاب المساجد، باب يجب إتيان المسجد على من سمع النداء: 653]
❀ جماعت کی اہمیت بجا لیکن یہ فرض نہیں، کیونکہ سیدنا یزید بن اسود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں نماز پڑھی، جبکہ وہ نوجوان تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ چکے تو دیکھا کہ دو آدمی مسجد کی ایک جانب میں موجود ہیں اور انھوں نے (جماعت کے ساتھ) نماز نہیں پڑھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں بلوایا، انھیں آپ کے سامنے پیش کیا گیا تو ان کی حالت یہ تھی کہ ان کے بیٹھے کانپ رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تمھیں کیا رکاوٹ تھی کہ تم نے ہمارے ساتھ نماز نہیں پڑھی؟ انھوں نے کہا: ہم اپنی منزل میں نماز پڑھ آئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسے نہ کیا کرو، جب تم میں سے کوئی اپنی منزل میں نماز پڑھ چکا ہو، پھر امام کو پائے کہ اس نے ابھی نماز نہیں پڑھی تو اس کے ساتھ بھی مل کر پڑھے، یہ اس کے لیے نفل ہو جائے گی۔
[ابو داؤد، کتاب الصلاة، باب فيمن صلى في منزله: 575۔ صحیح]
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی گھر میں پڑھی ہوئی نماز کو جائز قرار دیا ہے۔

جماعت کی فضیلت:

❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جو شخص اچھی طرح وضو کرے، پھر وہ محض نماز پڑھنے کے لیے مسجد کی طرف چلے تو اس کے تمام سابقہ گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔
[مسلم، کتاب الطهارة، باب فضل الوضوء والصلاة عقبه: 232]
❀ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جو آدمی اچھی طرح وضو کر کے صرف نماز کے لیے مسجد کی طرف جاتا ہے، اس کا اور کوئی مقصد نہیں ہوتا، تو ہر قدم پر اس کا ایک درجہ بلند ہوتا اور ایک گناہ مٹتا ہے، حتی کہ وہ مسجد میں داخل ہو جائے اور جب آدمی مسجد میں داخل ہو جاتا ہے تو جب تک وہ نماز کی وجہ سے وہاں رکا رہے وہ نماز ہی میں ہوتا ہے (یعنی اسے نماز کا ثواب ملتا رہتا ہے) اور جب تک نمازی اپنی نماز والی جگہ بیٹھا رہتا ہے تو فرشتے اس کے لیے دعا کرتے رہتے ہیں، اے اللہ! اس پر رحم فرما، اے اللہ! اسے معاف فرما، اے اللہ! اس کی توبہ قبول کر، یہاں تک کہ وہ کسی کو تکلیف دے، یا وہ بے وضو ہو جائے۔
[مسلم، کتاب المساجد، باب فضل الصلاة المكتوبة: 272/649۔ بخاری: 2119]
❀ اور فرمانِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے:
با جماعت نماز کا ثواب، اکیلے کی نماز سے ستائیس گنا زیادہ ہے۔
[بخاری، کتاب الأذان، باب فضل صلاة الجماعة: 645۔ مسلم: 650]
❀ اور جماعت کی فضیلت بیان کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں میں سے نماز کا زیادہ ثواب اس شخص کو ملے گا جو زیادہ دور سے جماعت کے لیے آئے۔
[مسلم، کتاب المساجد، باب فضل كثرة الخطا إلى المساجد: 1962]
❀اور باوضو ہو کر مسجد کی طرف جانے والے کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جو شخص وضو کر کے فرض نماز کے لیے چلتا ہے تو اسے احرام باندھ کر حج کو جانے والے کے برابر ثواب ملتا ہے۔
[ابو داؤد، کتاب الصلاة، باب ما جاء في فضل المشى إلى الصلاة: 558۔ حسن]
❀ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
آدمی کی نماز ایک آدمی کے ساتھ تنہا کی نماز سے بہتر ہے، دو آدمیوں کے ساتھ ایک آدمی کے ساتھ پڑھی گئی نماز سے افضل ہے اور جو نماز جتنی بڑی جماعت کے ساتھ پڑھی جائے وہ اتنی زیادہ اللہ تعالیٰ کو محبوب ہے۔
[ابو داؤد، کتاب الصلاة، باب في فضل صلاة الجماعة: 554۔ نسائی: 844۔ حسن]
❀ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جو شخص جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کے لیے گھر سے نکلا، مسجد میں جا کر دیکھا کہ جماعت ختم ہو چکی تھی تو اسے جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کا ثواب ہوگا، اسے باجماعت نماز پڑھنے والوں سے ذرا بھی کم ثواب نہیں ہو گا۔
[ابو داؤد، کتاب الصلاة، باب ما جاء فيمن خرج: 564۔ نسائی: 856۔ صحیح]

ترک جماعت پر وعید:

❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لقد هممت أن آمر المؤذن فيقيم، ثم آمر رجلا يؤم الناس، ثم آخذ شعلا من نار فأحرق على من لا يخرج إلى الصلاة بعد
میں نے ارادہ کیا ہے کہ میں موذن کو اذان کا حکم دوں، پھر ایک آدمی کو جماعت کرانے کا کہوں، پھر آگ کا ایک شعلہ لے کر ان لوگوں کے گھروں کو جلا دوں جو نماز پڑھنے کے لیے نہ نکلے ہوں۔
[بخاری، کتاب الأذان، باب فضل صلاة العشاء في الجماعة: 657۔ مسلم: 651]
❀ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
کسی بستی یا جنگل میں صرف تین مسلمان ہوں اور وہ نماز باجماعت کا اہتمام نہ کریں تو ان پر شیطان مسلط ہو جاتا ہے، تم پر جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا لازم ہے، کیونکہ بھیڑیا تنہا بکری کو کھا جاتا ہے (یعنی شیطان تنہا آدمی پر قابو پا لیتا ہے)۔
[نسائی، کتاب الإمامة، باب التشديد في ترك الجماعة: 848۔ ابو داود: 547۔ حسن]

جماعت کے لیے کتنے آدمی ہونے چاہییں؟

❀ دو آدمی ہوں تو انھیں جماعت کروانی چاہیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مالک بن الحویرث رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی سے فرمایا:
إذا حضرت الصلاة فأذنا وأقيما، وليؤمكما أكبركما
جب نماز کا وقت ہو جائے تو اذان اور اقامت کہنا، پھر تم دونوں میں سے بڑا جماعت کرائے۔
[بخاری، کتاب الأذان، باب اثنان فما فوقها جماعة: 658]
❀ کہیں صرف ایک مسلمان ہے تو اسے بھی اذان و جماعت کا اہتمام کرنا چاہیے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن ربك يعجب من راعي غنم على رأس جبل يؤذن بالصلاة ويقيمها فيصلي، فيقول الله: انظروا إلى عبدي هذا يؤذن ويقيم الصلاة وهو يخافني، قد غفرت له وأدخلته الجنة
آپ کا رب بکریوں کے اس چرواہے سے بہت خوش ہوتا ہے جو پہاڑ کی چوٹی پر اذان کہتا ہے (پھر اقامت کہتا ہے اور) نماز پڑھتا ہے۔
[نسائی، کتاب الأذان، باب الأذان لمن يصلى وحده: 6067۔ ابو داؤد: 1203۔ صحیح]

نماز کے لیے جانے کے آداب:

❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جب تم اقامت کی آواز سنو تو نماز کے لیے سکون اور وقار کے ساتھ چل کر آؤ، جلدی نہ کرو اور جتنی نماز جماعت سے پالو، وہ پڑھ لو اور جو رہ جائے بعد میں پوری کر لو۔
[بخاری، کتاب الأذان، باب لا يسعى إلى الصلاة: 636۔ مسلم: 603]
❀ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جب کوئی شخص اچھی طرح وضو کرے، پھر مسجد کی طرف جائے تو وہ ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں نہ ڈالے، کیونکہ وہ نماز میں ہوتا ہے۔
[ابو داؤد، كتاب الصلاة، باب ما جاء فى الهدى فى المشي إلى الصلاة: 562. ترمذي: 386. صحيح]
❀ یعنی مسجد کی طرف جاتے ہوئے آدمی نماز میں ہوتا ہے، لہذا اسے راستے میں بھی نماز کے منافی کوئی کام نہیں کرنا چاہیے۔
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جب کوئی شخص مسجد میں داخل ہو تو بیٹھنے سے پہلے دو رکعات ضرور پڑھے۔
[بخاری، کتاب الصلاة، باب إذا دخل المسجد فليركع ركعتين: 444۔ مسلم: 714]
اگر کسی نے بیٹھنے سے قبل کوئی نفل یا فرض نماز پڑھ لی تو پھر تحیۃ المسجد پڑھنے کی ضرورت نہیں۔

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے