مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

ایک یا دو منٹ خاموش رہنا سوگ ہے یا نہیں؟

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ مبشر احمد ربانی کی کتاب احکام و مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

سوال :

کسی کے مرنے پر ایک منٹ یا اس سے زیادہ عرصہ خاموش رہنے کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ کیا یہ سوگ کا صحیح طریقہ ہے؟

جواب :

لوگوں کا مذکورہ طریقہ کسی دلیل سے ثابت نہیں، البتہ اگر کوئی آدمی کسی کی موت کا سن کر اچانک صدمے میں آجائے تو وہ الگ مسئلہ ہے، فطرتی طور پر ایسا ہو جاتا ہے، جب کسی انتہائی عزیز کی موت کی خبر ملتی ہے تو ایک دم سکتہ طاری ہو جاتا ہے، انسان منہ سے کچھ بول نہیں سکتا، لیکن کسی کی وفات کی خبر سن کر درخواست کر کے اور ایک یا دو تین منٹ کی خاموشی اختیار کرنا، یہ کوئی سوگ کا طریقہ نہیں ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔