ایک یا دوطلاقیں دیں ، بیوی عدت میں تھی کہ شوہر کی وفات ہوگئی، کیا بیوی وارث بنے گی؟

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال :

ایک یا دوطلاقیں دیں ، بیوی عدت میں تھی کہ شوہر کی وفات ہوگئی، کیا بیوی وارث بنے گی؟

جواب :

بیوی وارث بنے گی ، اسی طرح بیوی دورانِ عدت فوت ہو جائے ، تو شوہر وارث بنے گا۔ یہ اجماعی مسئلہ ہے۔
❀ ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
سألت عبد الله بن الزبير عن رجل طلق امرأته فى مرضه فبتها قال : أما عثمان رضى الله عنه فورثها، وأما أنا فلا أرى أن أورثها ببينونته إياها .
”میں نے سید نا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے ایسے آدمی کے متعلق پوچھا، جو اپنے مرض الموت میں طلاق بتہ دے۔ فرمانے لگے : سید نا عثمان رضی اللہ عنہ تو اسے وارث قرار دیتے ہیں، جب کہ میں اسے وارث نہیں سمجھتا، کیوں کہ وہ اسے طلاق بتہ دے چکا ہے ۔
(السنن الكبرى للبيهقي : 362/7، وسنده صحيح)
❀ علامه ابن حزم رحمہ الله (456 ھ ) فرماتے ہیں :
الطلاق الرجعي هو الذى يكون فيه الزوج مخيرا ما دامت فى العدة بين تركها لا يراجعها حتى تنقضي عدتها، فتملك أمرها فلا يراجعها إلا بولي ورضاها، وصداق، وبين أن يشهد على ارتجاعها فقط فتكون زوجته أحبت أم كرهت ولي ولا صداق، لكن بإشهاد فقط ، ولو مات أحدهما قبل تمام العدة وقبل المراجعة ورثه الباقي منهما وهذا لا خلاف فيه من أحد من الأئمة .
”رجعی طلاق یہ ہے، جس میں خاوند یا تو اپنی بیوی کو عدت کے اختتام تک چھوڑے رکھے۔ عدت کے بعد عورت آزاد ہے۔ خاوند دوبارہ بسانا چاہے، تو عورت کی رضا مندی، ولی کی اجازت اور نئے حق مہر کے ساتھ اسے بیوی بنا سکتا ہے، یا پھر (عدت کے دوران ) گواہ بنا کر رجوع کرلے تو وہ اس کی بیوی رہے گی ، بیوی (اس رجوع پر ) راضی ہو، یا نہ ہو۔ اس میں کسی ولی یا نئے حق مہر کی ضرورت نہیں ، بس گواہی کافی ہے۔ عدت ختم ہونے یا رجوع سے پہلے خاوند یا بیوی فوت ہو جائے ، تو دوسرا وارث بنے گا۔ اس میں ائمہ کا کوئی اختلاف نہیں ۔
(المحلى بالآثار : 484/9)
نیز شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے بھی اجماع ذکر کیا ہے۔
(مجموع الفتاوى : 9/33)