ایک مسلمان نے کافرہ سے نکاح کر لیا، کیا حق مہر لازم ہوگا؟

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال:

ایک مسلمان نے کافرہ سے نکاح کر لیا، کیا حق مہر لازم ہوگا؟

جواب :

اہل کتاب کے علاوہ کسی کافرہ عورت سے نکاح جائز نہیں۔ یہ نکاح باطل ہے، البتہ اگر کافرہ سے خلوت اختیار کی ، تو وہ پورے مہر کی حق دار ہو گی، کیونکہ جس باطل نکاح میں خلوت اختیار کی جائے ، اس سے مہر واجب ہو جاتا ہے۔
❀ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أيما امرأة نكحت بغير إذن وليها فنكاحها باطل، فنكاحها باطل، فنكاحها باطل، فإن دخل بها فلها المهر بما استحل من فرجها
”جو عورت اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کرتی ہے، اس کا نکاح باطل ہے، اس کا نکاح باطل ہے، اس کا نکاح باطل ہے، اگر مرد اس کے ساتھ دخول کر لیتا ہے، تو اس عورت کو مرد کی طرف سے شرمگاہ کو حلال کرنے کے عوض حق مہر ملے گا۔“
(مسند إسحاق : 499 ، مسند الإمام أحمد : 165/6 ، مسند الحميدي : 228، مسند الطيالسي (منحة : 305/1) ، سنن أبي داود : 2083 ، سنن ابن ماجه : 1879 ، سنن الترمذي : 1102 ، السنن الكبرى للنسائي : 5394، مسند أبي يعلى : 2083، سنن الدار قطني : 221/3 ، السنن الكبرى للبيهقي : 105/7 ، وسنده حسن)
پس کافرہ پورے مہر کی حق دار ہے اور وہ اس کا مطالبہ بھی کر سکتی ہے۔