مرکزی مواد پر جائیں
17 شعبان، 1447 ہجری

ایک مجلس کی تین طلاق کا حکم اور رجوع یا نکاح کا جواز

فونٹ سائز:
ماخوذ : احکام و مسائل، طلاق کے مسائل، جلد 1، صفحہ 344

سوال

ایک آدمی نے اپنی بیوی کو ایک ہی مجلس میں تین طلاقیں دے دیں، تو کیا وہ اپنی مطلقہ بیوی سے رجوع یا نکاح کر سکتا ہے؟

جواب

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے:

«کَانَ الطَّلاَقُ عَلٰی عَهْدِ رَسُوْلِ اﷲِﷺ وَاَبِیْ بَكرٍْ وَّسَنَتَيْنِ مِنْ خِلاَفَةِ عُمَرَ طَلاَقُ الثَّلاَثِ وَاحِدَةٌ، فَقَالَ عُمَرَ بْنُ الْخَطَّابِ: إِنَّ النَّاسَ قَدِ اسْتَعْجَلُوْا فِیْ اَمْرٍ کَانَتْ لَهُمْ فِيْهِ أَنَاةٌ، فَلَوْ أَمْضَيْنَاهُ عَلَيْهِمْ، فَأَمْضَاهُ عَلَيْهِمْ»
(صحيح مسلم، جلد اول، صفحہ 477)

ترجمہ:
رسول اللہ ﷺ، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ابتدائی دو سالوں میں اکٹھی تین طلاقیں ایک ہی طلاق شمار ہوتی تھیں۔ پھر حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ لوگوں نے اس معاملے میں جلد بازی شروع کر دی ہے، جس میں ان کے لیے مہلت اور غور و فکر کا وقت تھا۔ اگر ہم ان پر تینوں طلاقیں نافذ کر دیں تو؟ چنانچہ انہوں نے ان تین طلاقوں کو ان پر لازم کر دیا۔

مسئلہ کی وضاحت

مندرجہ بالا حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اگر ایک شخص نے ایک ہی مجلس میں تین طلاقیں دیں ہیں، تو وہ شرعی طور پر ایک طلاق شمار ہوں گی۔ لہٰذا:

◈ اگر یہ طلاق تیسری طلاق نہیں ہے (یعنی اس سے پہلے دو طلاقیں نہیں دی گئیں)،

◈ تو عدت کے دوران رجوع بغیر نکاح ممکن ہے،

◈ اور عدت کے بعد نیا نکاح کرنا بھی جائز ہے۔

قرآنی دلیل

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿وَإِذَا طَلَّقۡتُمُ ٱلنِّسَآءَ فَبَلَغۡنَ أَجَلَهُنَّ فَلَا تَعۡضُلُوهُنَّ أَن يَنكِحۡنَ أَزۡوَٰجَهُنَّ إِذَا تَرَٰضَوۡاْ بَيۡنَهُم بِٱلۡمَعۡرُوفِۗ﴾
(البقرة: 232)

ترجمہ:
"اور جب تم عورتوں کو طلاق دو اور وہ اپنی عدت پوری کر لیں تو انہیں مت روکو کہ وہ اپنے شوہروں سے نکاح کریں، جب وہ آپس میں اچھی طرح راضی ہوں۔”

نتیجہ

لہٰذا اگر کسی نے ایک ہی مجلس میں بیوی کو تین طلاقیں دے دیں، اور یہ اس کی تیسری طلاق نہ ہو، تو:

◈ عدت کے دوران رجوع ممکن ہے۔

◈ عدت ختم ہونے کے بعد نیا نکاح کرنا بھی جائز ہے۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔