سوال:
ایک شخص نے استخفاف کرتے ہوئے قرآن کریم کو پھینک دیا ، کیا حکم ہے؟
جواب:
قرآن کریم کو استخفاف اور اہانت کرتے ہوئے پھینکنا موجب کفر و ارتداد ہے، ایسے شخص کا نکاح ختم ہو جاتا ہے۔
❀قاضی عیاض رحمہ اللہ (544ھ) لکھتے ہیں:
”جان لیجئے کہ جس نے قرآن یا مصحف یا اس کے ایک حصے کا استخفاف کیا، یا ان کے بارے میں کوئی توہین آمیز کلمہ کہا یا قرآن یا اس کے کسی حصے یا آیت کا انکار کیا ، یا اس کی یا کچھ حصہ کی تکذیب کی ، یا اس میں موجود کسی واضح حکم یا خبر کو جھٹلایا ، یا جانتے بوجھتے اس بات کو ثابت کیا، جس کی قرآن نے نفی کی ، یا اس کی نفی کی ، جس کو قرآن نے ثابت کیا ، یا قرآن کے کسی حصہ میں شک کیا، تو وہ اہل علم کے نزدیک بالا اجماع کافر ہے۔“
(الشفا بتعريف حقوق المصطفى : 304/2)