سوال :
کیا بکری کا ایک سالہ بچہ قربانی کے لیے جائز ہے؟ سنن ابن ماجہ میں عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو قربانی کی بکریاں دیں، انھوں نے وہ اپنے ساتھیوں میں بانٹ دیں، ایک عتودہ یعنی بکری کا ایک سالہ بچہ رہ گیا تو انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اس کی قربانی کر “ ہلال سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جائز ہے۔ مہربانی کر کے اس حدیث کی رو سے وضاحت کریں کہ قربانی کے لیے بکری کا ایک سالہ بچہ جائز ہے یا نہیں؟
جواب :
قربانی کے جانور کے لیے جو شرائک شریعت مطہرہ نے بیان کی ہیں ان میں سے ایک شرط یہ ہے کہ قربانی والا جانور دو دانتا ہو اور اگر دو دانتا ملنا مشکل ہو، یا اس کے خریدنے کی ہمت نہ ہو تو بھیٹر کا کھیرا قربان کرنا جائز و درست ہے۔ جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لا تذبحوا إلا منه إلا أن يعسر عليكم فتذبحوا جذعة من الضان
(مسلم كتاب الأضاحي، باب من الأضحية 1963، ابر دارد 2797، این مسامعه 3141، نسائی 1390، صحیح ابن خزيمة 2918، مسند ابی یعلی 2323 ، 2324، بیهقی 199/9 مسند أحمد 327،312/3 مسند أبي عوانة 228/5 المنتقى لابن الجارود 904)
”تم دو دانتے کے سوا ذبح نہ کرو، الا یہ کہ تم پر عسرت وتنگی ہو تو بھیڑ کا کھیرا ذبح کرلو۔ “
بعض لوگ دو دانتے کی جگہ مطلقاً بھیڑ کے کھیرے کی قربانی درست قرار دیتے ہیں اور اس کی دلیل یہ پیش کرتے ہیں کہ کلیب بیان کرتے ہیں:
كنا فى سفر فحضر الأضحى فجعل الرجل منا يشترى المسنة بالحدعتين والثلاثة فقال لنا رجل من مزينة كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فى سفر فحضر هذا اليوم فجعل الرجل يطلب المسنة بالعين والثلاثة فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم إن الخدع يرقى مما يوفى منه التنى
(سنن النسائي 1388، 1389، مسند أحمد 268/5، ح : 33511، المستدرك للحاكم 226/4)
”ہم سفر میں تھے کہ قربانی والی عید کا وقت آگیا، ہم میں سے ہر کوئی دو یا تین کھیروں کے بدلے دو دانتا خرید نے لگا، تو مزینہ قبیلے کے ایک آدمی نے ہمیں کہا: ”ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے کہ یہ دن آگیا، تو ہر شخص دو یا تین کھیروں کے بدلے دو وانتا طلب کرنے لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ کھیرا بھی اس کام پر پورا اترتا ہے جس کام پر دو دانتا پورا اترتا ہے۔“
لیکن یہی روایت ابو داؤد (2799)، این ماجه (3130)، طبرانی کبیر (20/ 7639 ) مستدرک حاکم (222/3) اور بیہقی (271 ، 270/9 ) میں بھی ہے اور اسے مزی نے بھی تہذیب الکمال میں مجاشع بن مسعود کے ترجمہ میں سفیان ثوری از عاصم بن کلیب از ابیہ کی سند سے ذکر کیا ہے، اس میں ہے:
لا كنا مع رجل من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم يقال له محاشع من بنى سليم فعزت الغنم فأمر مناديا فنادى أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يقول إن الحد يوى منا يوقى منه التنى
”ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے ایک آدمی کے ساتھ تھے، جسے مجاشع کہا جاتا تھا، وہ بنو سلیم میں سے تھا، بکریاں کم پڑ گئیں تو اس نے ایک منادی کرنے والے کو حکم دیا، اس نے منادی کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کھیرا اس کام کے لیے ٹھیک ہے جس کے لیے دو دانتا کام آتا ہے۔“
اس حدیث نے اس بات کی توضیح کر دی کہ یہ حکم دو دانتا جانور کم ہونے کی صورت میں تھا۔ اس میں اور جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں کوئی تعارض نہیں۔ وہ بھی حسرت وتنگی اور دو دانتے کی قلت کی صورت میں بھیڑ کے کھیرے کی قربانی کرنے پر دلالت کرتی ہے اور اس روایت کا سیاقی بھی اس بات پر دال ہے۔
اسی طرح ابو کباش کی ایک روایت پیش کی جاتی ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں ابو ہرہ ہو رضی اللہ عنہ سے ملا اور ان سے سوال کیا تو انھوں نے بتایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا:
نعم أو نعمت الأضحية الجذع من الضان
”بہترین قربانی بھیڑ کا کھیرا ہے۔“
(مسند احمد 4/445، ح: 16937؛ ترمذی ح: 1499)
لیکن اس کی سند میں عدی بن عبد الرحمٰن سلمی اور ابو کبش کی جہالت کی وجہ سے ضعیف ہے۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:
الجذع من الضأن خير من الثني من المعز
”بھیڑ کا کھیرا بکری کے عمدہ دو دانتے سے بہتر ہے۔“
(المستدرک للحاکم 4/227، ح: 7504؛ مسند احمد 2/280، ح: 8921)
اس کی سند میں ابو ثقال المری ثمامہ بن وائل ضعیف ہیں۔ مسند بزار (ح 1207)، بیہقی (9/271) اور مستدرک (3/222-223، ح: 7536) میں اسحاق بن ابراہیم الحنینی از ہشام بن سعد از زید بن اسلم از عطا بن یسار از ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھی موی ہے اور اس میں ایک قصہ بھی مزکرو ہے ۔ امام ذہبی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اس کی سند میں اسحاق ہالک (یعنی سخت ضعیف) ہے۔“ علامہ ہیشمی نے مجمع الزوائد (19/4) میں ذکر کر کے فرمایا ہے۔” اسے ہزار نے روایت کیا ہے، اس میں اسحاق الحنینی ضعیف راوی ہے ۔“ امام حاکم مستدرک (327/3) میں قزعہ بن سوید، حدثنی حجاج بن حجاج ، عن سلمہ بن جنادہ، عن حنش بن حارث، حدثنی ابو ہریرہ کی سند سے بھی اس روایت کو لائے ہیں۔
امام ذہبی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اس میں قزعہ بن سوید ضعیف ہے۔“ علامہ ہیشمی فرماتے ہیں : اس میں قزعہ بن سوید ضعیف ہے۔ “ علامہ ہیشمی فرماتے ہیں :”یہ حنش العبدی کی روایت ہے، مجھے اس کا ترجمہ نہیں ملا۔ “
(مجمع الزوائد 20/4)
اسی مسئلہ کے متعلق ذکر کردہ ایک روایت وہ ہے جو ہلال رضی اللہ عنہ سے مروی ہے :
يجوز الجذع من الضأن أضحية
”بھیڑ کا کھیرا قربانی کے لیے جائز ہے۔“
(ابن ماجہ ح: 3139، مسند احمد 1/398، ح: 27613، بیہقی 9/271، شرح مشکل الآثار5723)
یہ روایت بھی ضعیف ہے، اس کی سند میں ام محمد بن ابو یحییٰ الاسلمی مجہول ہے اور ام بلال بنت ہلال بھی اس روایت کے سوا کہیں معروف نہیں۔
اب رہی عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کی حدیث، تو یہ کئ ایک کتب احادیث میں موجود ہے، جیسے ابن ماجہ (3138)، بخاری (5555)، مسلم (1961/56)، ابن حبان (5898)، مسند ابو عوانہ (5/212)، صحیح ابن خزیمہ (3/293، ح: 1792) وغیرہ میں ہے ۔ اس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بکریاں دیں، انھوں نے اپنے ساتھیوں میں قربانیاں تقسیم کیں تو بکری کا ایک سالہ بچہ باقی رہ گیا، انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا: ”ایک سالہ بچہ ذبح کر لے۔ “ تو یہ عام نہیں بلکہ عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کے ساتھ خاص ہے۔ اس کی تخصیص کی دلیل یہ ہے کہ امام بیہقی رحمہ اللہ نے السنن الکبری (270/9، ح: 19063) میں بطريق ”أخبرنا أبو عبدالله الحافظ اخبرني ابو النضر الفقيه و ابوبكر بن جعفر قالا ثنا ابو عبد الله البوشنجى، ثنا يحيى بن عبدالله بن بكير، ثنا الليث بن سعد، عن يزيد بن أبى حبيب، عن أبى الخير مرثد بن عبدالله البزني، عن عقبه بن عامر رضي الله عنه“
یہ الفاظ بیان کیے ہیں:
ضح بها أنت ولا أرخصه لأحد فيها بعد
”تو اسے قربان کر دے، تاہم میں کسی اور کو اس کی رخصت نہیں دیتا۔“
یہ الفاظ اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ یہ معاملہ عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کے ساتھ خاص ہے، جیسا کہ آپ نے ابو بردہ بن دینار رضی اللہ عنہ کو رخصت دی تھی، دیکھیں صحیح بخاری (5556 ، 5557) و غیره ۔
امام بیہقی نے السنن الکبریٰ (269/9) میں یوں باب قائم کیا ہے:باب لا يجزئ الجذع إلا من الضأن وعدها ويجزئ الثني من المعز والإبل والبقر
”صرف بھیڑ ہی کا کھیرا کفایت کرتا ہے، بکری، اونٹ اور گائے میں سے دو دانتا کفایت کرتا ہے۔ “لہذا بکری کا کھیرا (ایک سالہ جانور ) صرف چند صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے لیے خاص تھا، جن میں سے عقبہ بن عامر، ابو بردہ بن دینار رضی اللہ عنہما ہیں اور زید بن خالد الجہنی رضی اللہ عنہ کو بھی آپ نے بکری کا کھیرا قربانی کرنے کے لیے دیا تھا، جیسا کہ مسند احمد (194/5، ج : 22032)، ابن حبان (5899)، ابوداود (2798)، مسند بزار (3776)، طبرانی کبیر (232/5، 243) اور بیہقی (270/9) میں موجود ہے۔ یہ معاملات ابتدائی معلوم ہوتے ہیں، بعد میں شرع میں اس بات کا تقرر ہو گیا کہ بکری کا کھیرا قربانی کے لیے کفایت نہیں کرتا۔ حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ ابوبردہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کی شرح میں رقمطراز ہیں:
وفي الحديث أن الجذع من المعز لا يجزئ وهو قول الجمهور
(فتح الباری 15/10)
”اس حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ بکری کا کھیرا قربانی کے لیے کفایت نہیں کرتا اور یہی جمہور علماء کا قول ہے۔“