ایمان کا بڑھنا اور گھٹنا قرآن و حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
ماخوذ : فتاویٰ راشدیہ، صفحہ نمبر 234

سوال

ایمان بڑھتا اور کم ہوتا ہے یا نہیں؟

جواب

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ایمان اعمال صالحہ اور مضبوط یقین کی وجہ سے بڑھتا ہے، جبکہ بدعملی اور کمزور یقین کے باعث گھٹ جاتا ہے۔ اس کی واضح دلیل قرآن و حدیث میں مختلف مقامات پر موجود ہے۔

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:

﴿فَأَمَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ فَزَادَتْهُمْ إِيمَـٰنًا وَهُمْ يَسْتَبْشِرُ‌ونَ ﴿١٢٤﴾
(التوبة:١٢٤)

اور فرمایا:

﴿وَإِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ ءَايَـٰتُهُۥ زَادَتْهُمْ إِيمَـٰنًا ﴿٢﴾
(الانفال:٢)

یہ بات بالکل ظاہر ہے کہ جو چیز بڑھتی ہے، وہ لازمی طور پر کم بھی ہوسکتی ہے۔ جب قرآن سے یہ ثابت ہوا کہ ایمان میں اضافہ ہوتا ہے تو اس کا لازمی تقاضا ہے کہ ایمان میں کمی بھی واقع ہوسکتی ہے۔ یہ ایسی روشن حقیقت ہے جس کا انکار صرف وہی کرسکتا ہے جو ناقص العقل ہو۔
والله أعلم بالصواب۔

مزید وضاحت

اس موضوع پر صحیح بخاری، کتاب الایمان کا مطالعہ نہایت فائدہ مند اور رہنمائی کا ذریعہ ہوگا۔

ھذا ما عندی والله أعلم بالصواب۔