مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

ایمان میں کمی و بیشی کا عقیدہ

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال:

کیا ایمان بڑھتا گھٹتا ہے؟

جواب:

ایمان میں کمی بیشی ہوتی ہے، نیکیوں سے بڑھتا ہے اور برائیوں سے کم ہوتا ہے۔ اس پر قرآن، حدیث اور اجماع دلیل ہیں۔
❀ امام ابو الحسن اشعری رحمہ اللہ (324ھ) فرماتے ہیں:
إجماع السلف على أن الإيمان يزيد وينقص
سلف کا اجماع ہے کہ ایمان میں کمی بیشی ہوتی ہے۔
(رسالة إلى أهل ثغر، ص 59)
❀ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿الَّذِينَ قَالَ لَهُمُ النَّاسُ إِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوا لَكُمْ فَاخْشَوْهُمْ فَزَادَهُمْ إِيمَانًا وَقَالُوا حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ﴾
(آل عمران: 173)
(ایمانداروں کی حالت یہ ہے کہ) جب لوگ انہیں کہتے ہیں کہ سب لوگ ان کے خلاف جمع ہو چکے ہیں، لہذا ان سے ڈر جاؤ، اس بات نے ان کا ایمان بڑھا دیا اور انہوں نے کہا، ہمیں اللہ کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے۔
❀ فرمان باری تعالیٰ ہے:
﴿وَإِذَا مَا أُنْزِلَتْ سُورَةٌ فَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ أَيُّكُمْ زَادَتْهُ هَذِهِ إِيمَانًا فَأَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا فَزَادَتْهُمْ إِيمَانًا وَهُمْ يَسْتَبْشِرُونَ﴾
(التوبة: 124)
جب کوئی سورت نازل ہوتی، تو ان (کفار) میں سے بعض کہتے ہیں کہ تم میں سے کس کے ایمان کو اس سورت نے بڑھایا ہے، سو جو لوگ مومن ہیں، اس نے ان کے ایمان کو تو بڑھا دیا ہے اور وہ خوش ہیں۔
❀ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ (774ھ) فرماتے ہیں:
هذه الآية من أكبر الدلائل على أن الإيمان يزيد وينقص، كما هو مذهب أكثر السلف والخلف من أئمة العلماء، بل قد حكى الإجماع على ذلك غير واحد
یہ آیت کریمہ ایمان کی کمی و بیشی پر سب سے بڑی دلیل ہے، سلف و خلف ائمہ دین کا یہی مذہب ہے، بلکہ بعض نے تو اس پر اجماع بھی نقل کیا ہے۔
(تفسير ابن كثير: 175/4)

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔