ایامِ تشریق، رمیِ جمرات اور طوافِ وداع کے احکام

فونٹ سائز:
قرآن وحدیث کی روشنی میں فقہی احکام و مسائل حج کے مسائل:جلد 01: صفحہ 368
مضمون کے اہم نکات

سوال:

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
ایام تشریق اور الوداعی طواف کے احکام

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

منیٰ میں قیام اور رات گزارنے کا حکم

✔ عید الاضحیٰ کے دن طوافِ افاضہ کرنے کے بعد حاجی واپس منیٰ پہنچے۔
✔ منیٰ میں رات گزارنا واجب ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت میں ہے:
"آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی بھی حاجی کو مکہ میں رات گزارنے کی اجازت نہیں دی تھی، البتہ سیدنا عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اس وجہ سے اجازت دی تھی کہ وہ حجاج کو پانی پلایا کرتے تھے۔” [صحیح البخاری الحج باب سقابۃ الحاج حدیث 1634۔وسنن ابن ماجہ المناسک باب البیتوتہ بمکہ لیالی منی حدیث 3066۔]

✔ اگر حاجی کو جلدی نہ ہو تو وہ منیٰ میں تین راتیں گزارے۔
✔ ذوالحجہ کی 11 اور 12 کی راتیں منیٰ میں گزارنا ضروری ہے۔
✔ منیٰ میں ہر نماز اپنے وقت پر ادا کرے اور قصر کرے۔

ایامِ تشریق میں رمی کا وقت

✔ ایامِ تشریق میں ہر روز زوالِ آفتاب کے بعد تینوں جمرات کی رمی کی جائے۔
✔ سیدنا جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے:

"رمى رسولُ اللهِ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم الجمرةَ يومَ النَّحرِ ضُحًى، وأمَّا بعدُ فإذا زالَتِ الشَّمسُ”
ترجمہ: "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے 10 ذوالحجہ کو چاشت کے وقت جمرہ کی رمی کی، اور اس کے بعد (باقی دنوں میں) جب سورج ڈھل جاتا تو رمی کرتے۔” [صحیح البخاری الحج باب رمی الجمار قبل حدیث1746۔ معلقاً وصحیح مسلم الحج باب بیان وقت استحباب الرمی بعد حدیث1299۔]

✔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے تھے:
"ہم رمی کے وقت کا انتظار کرتے، جب سورج ڈھل جاتا تو ہم جمرات کی رمی کرتے۔” [صحیح البخاری الحج باب رمی الجمار حدیث1746۔]

✔ نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:

"لتأخذوا مناسككم”
ترجمہ: "(مجھ سے) حج کے احکام سیکھو۔” [صحیح مسلم الحج باب استحباب رمی جمرہ العقیقہ یوم النحر راکبا حدیث 1297۔]

✔ ایامِ تشریق میں رمی کا وقت سورج ڈھلنے کے بعد شروع ہوتا ہے، اس سے پہلے رمی درست نہیں۔
✔ جیسے نماز کو وقت سے پہلے (بلا عذر) ادا کرنا جائز نہیں، اسی طرح رمی بھی وقت سے پہلے نہیں کی جا سکتی، کیونکہ عبادات توقیفی ہیں، یعنی ان کے اوقات اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر ہیں۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رمی کی تفصیل

علامہ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رمی کی تفصیل یوں بیان کرتے ہیں:
"آپ صلی اللہ علیہ وسلم طواف افاضہ کے بعد اسی دن منیٰ واپس پہنچ گئے تھے اور وہاں رات گزاری۔ پھر اگلا دن آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم زوالِ آفتاب کا انتظار کرنے لگے۔ جب سورج ڈھل گیا تو آپ اپنے خیمے سے پیدل نکلے اور جمرہ اولیٰ (جو مسجد خیف کے قریب ہے) کے پاس آئے، پھر ایک ایک کر کے اس کو سات کنکریاں ماریں، ہر کنکری کے ساتھ اللہ اکبر کہتے۔ پھر آپ آگے بڑھے، تشیب میں آئے، قبلہ رخ ہوئے، ہاتھ اٹھائے اور سورۃ بقرہ کے بقدر طویل دعا کی۔ پھر جمرہ وسطیٰ کے پاس پہنچے، اسے بھی جمرہ اولیٰ کی طرح سات کنکریاں ماریں، پھر بائیں طرف وادی کے قریب نشیب میں اترے، قبلہ رخ ہوئے، ہاتھ اٹھائے اور دعا کی۔ پھر تیسرے جمرے (جمرہ کبریٰ) کو سات کنکریاں ماریں۔ رمی کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کو بائیں جانب اور منیٰ کو دائیں جانب رکھا۔” [صحیح البخاری الحج باب اذا رمی جمرتین یقوم مستقبل القبلہ وبسہل وباب الدعاء عند الجمرتین حدیث 1751۔1751۔وصحیح مسلم الحج باب رمی جمرۃ العقبہ من بطن الوادی حدیث 1296 وداز المعاد 2/285۔]

موصوف آگے لکھتے ہیں:
"جب آپ نے تینوں جمرات کی رمی مکمل کر لی تو نہ تیسرے جمرے کے پاس ٹھہرے اور نہ دعا کی۔ شاید اس کا سبب یہ ہو کہ پہاڑ کی وجہ سے جگہ تنگ تھی یا اس میں یہ حکمت ہو کہ عموماً آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کا موقع و محل عبادت کے اندر ہوتا تھا نہ کہ فراغت پر، چنانچہ جب جمرہ عقبہ کو کنکریاں ماری گئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم رمی والی عبادت سے فارغ ہو گئے اس لیے دعا نہ کی۔ اس کی مثال اسی طرح ہے جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے اندر دعا مانگتے تھے فراغت پر نہیں۔” [زاد المعاد:2/286۔]

(یہ دوسری بات ہی درست معلوم ہوتی ہے۔)

تینوں جمرات کی ترتیب اور مقدار

✔ تینوں جمرات کو ترتیب کے ساتھ کنکریاں مارنا ضروری ہے:
① پہلے جمرہ اولیٰ
② پھر جمرہ وسطیٰ
③ پھر جمرہ عقبہ (بڑا جمرہ)
✔ ہر جمرے کو سات سات کنکریاں ماری جائیں۔

کمزور افراد کے لیے رمی میں نیابت

✔ مریض، عمر رسیدہ، حاملہ عورت، یا ایسا کمزور شخص جسے ہجوم میں کچلے جانے کا اندیشہ ہو—یہ لوگ رمی کے لیے کسی شخص کو اپنا نائب بنا سکتے ہیں کہ وہ ان کی طرف سے کنکریاں مارے، یہ جائز ہے۔

✔ نائب جب جمرہ کے پاس پہنچے تو ایک ہی وقت اور ایک ہی جگہ کھڑے ہو کر:
◈ پہلے اپنی طرف سے کنکریاں مارے، پھر دوسرے کی طرف سے کنکریاں مارے۔
◈ پھر دوسرے اور تیسرے جمرے پر بھی اسی طرح کرے۔

✔ یہ ضروری نہیں کہ نائب پہلے اپنی طرف سے تینوں جمرات کی رمی مکمل کرے، پھر دوسرے شخص کی طرف سے رمی کے لیے دوبارہ پہلے جمرے کے پاس لوٹے، کیونکہ بھیڑ میں یہ نہایت دشوار اور مشقت والا ہے۔ واللہ اعلم۔

بارہ ذوالحجہ میں جلدی یا تاخیر کا حکم

✔ 12 ذوالحجہ کو تینوں جمرات کی رمی کر کے اگر کوئی جلد مکہ واپس جانا چاہے تو غروبِ آفتاب سے پہلے منیٰ سے نکل جائے۔
✔ اور اگر کوئی تاخیر کرنا چاہے تو 13 ذوالحجہ کی رات منیٰ میں گزارے، پھر زوال کے بعد تینوں جمرات کی رمی کر کے منیٰ سے مکہ مکرمہ واپس آئے—اور یہی افضل ہے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿فَمَن تَعَجَّلَ فى يَومَينِ فَلا إِثمَ عَلَيهِ وَمَن تَأَخَّرَ فَلا إِثمَ عَلَيهِ لِمَنِ اتَّقىٰ … ﴿٢٠٣﴾﴾
ترجمہ: "پھر جس نے دو دنوں میں (منیٰ سے مکے کی طرف واپسی میں) جلدی کی تو اس پر کوئی گناہ نہیں، اور جو (ایک دن کے لیے) پیچھے رہ جائے اس پر بھی کوئی گناہ نہیں بشرطیکہ وہ پرہیزگاری اختیار کرے۔” [البقرۃ:2/203۔]

✔ اگر 12 ذوالحجہ کو منیٰ سے نکلنے سے پہلے سورج غروب ہو گیا تو اس پر لازم ہے کہ 13 ذوالحجہ کی رات بھی منیٰ میں گزارے، اور اگلے دن زوال کے بعد رمی کر کے واپس لوٹے، کیونکہ قرآن میں (يَوْمَيْنِ) آیا ہے اور (یوم) سے مراد دن ہے، لہٰذا رات ہو جانے کے بعد وہ (يَوْمَيْنِ) میں جلدی کرنے والا نہیں رہتا۔

حیض و نفاس والی عورت کے احکام

✔ اگر عورت نے احرام باندھا پھر اسے حیض یا نفاس آ گیا، یا اس نے طہر کی حالت میں احرام باندھا پھر حیض یا نفاس آ گیا، تو وہ احرام ہی میں رہے گی اور وہ تمام اعمال کرے گی جو دوسرے حجاج کرتے ہیں:
◈ عرفہ میں وقوف
◈ مزدلفہ میں شب بسری
◈ جمرات کی رمی
◈ منیٰ میں قیام وغیرہ
✔ البتہ بیت اللہ کا طواف اور صفا و مروہ کی سعی اس وقت تک نہ کرے جب تک حیض و نفاس سے پاک نہ ہو جائے۔

✔ اگر اس نے طہر کی حالت میں طواف کر لیا پھر اسے حیض آ گیا تو وہ صفا و مروہ کی سعی کر سکتی ہے، کیونکہ سعی کے لیے طہارت شرط نہیں، لہٰذا حیض یا نفاس سعی کے لیے مانع نہیں۔

طوافِ وداع کا حکم

✔ جب حاجی مکہ مکرمہ میں اپنے تمام امور مکمل کر لے، حتی کہ وطن واپس جانے کی پوری تیاری کر لے، تو مکہ سے نکلنے سے پہلے بیت اللہ کا سات چکروں والا طواف ضرور کرے۔
✔ حاجی کے مکہ کے آخری لمحات بیت اللہ کے پاس بصورت طواف ہوں—اسی کو طوافِ وداع کہتے ہیں۔
✔ حائضہ عورت پر طوافِ وداع لازم نہیں، وہ طواف وداع کیے بغیر روانہ ہو جائے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"أُمِرَ النَّاسُ أَنْ يَكُونَ آخِرُ عَهْدِهِمْ بِالْبَيْتِ , إلاَّ أَنَّهُ خُفِّفَ عَنْ الْمَرْأَةِ الْحَائِضِ”
ترجمہ: "لوگوں کو حکم دیا گیا ہے کہ ان کا آخری عہد بیت اللہ کے ساتھ ہو، مگر حائضہ عورت کو اس (طوافِ وداع) سے رخصت دے دی گئی ہے۔” [صحیح البخاری الحج باب طواف الوداع حدیث 1755۔وصحیح مسلم الحج باب وجوب طواف الوداع و سقوطا عن الحائض حدیث1328۔]

اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہ بھی روایت ہے:

"أن النبي صلي الله عليه وسلم رخص للحائض أن تصدر قبل أن تطوف بالبيت إذا كانت قد طافت في الإفاضة… ”
ترجمہ: "نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حائضہ عورت کو طوافِ وداع کیے بغیر روانہ ہونے کی رخصت دی، بشرطیکہ وہ طوافِ افاضہ کر چکی ہو۔” [مسند احمد 1/370۔]

سیدنا عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی روایت ہے، انہوں نے کہا:

"حَاضَتْ صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٍّ بَعْدَمَا أَفَاضَتْ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَذَكَرَتْ حَيْضَتَهَا لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ” أَحَابِسَتُنَا هِيَ؟ ” قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّهَا قَدْ أَفَاضَتْ، وَطَافَتْ بِالْبَيْتِ، ثُمَّ حَاضَتْ بَعْدَ الْإِفَاضَةِ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ” فَلْتَنْفِرْ "
ترجمہ: "سیدہ صفیہ بنت حُیی رضی اللہ تعالیٰ عنہا طوافِ افاضہ کے بعد حائضہ ہو گئیں۔ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا یہ ہمیں روک لے گی؟ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اس نے طوافِ افاضہ کر لیا تھا اور بیت اللہ کا طواف بھی کر لیا تھا، پھر افاضہ کے بعد حیض آیا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر اسے چاہیے کہ روانہ ہو جائے۔” [صحیح الا بخاری باب الادلاج من المحصب حدیث:1771 وصحیح مسلم الحج باب وجوب طواف الوداع و سقوطا عن الحائض حدیث(382)1211واللفظ لہ]

قربانی کے احکام

قربانی کی مشروعیت اور اصل

✔ قربانی کی مشروعیت پر مسلمانوں کا اجماع ہے۔
✔ علامہ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
"خالق کے لیے قربانی اس جان کے فدیے کے قائم ہے جو گناہوں کی وجہ سے تباہی کی مستحق ہو گئی تھی۔”

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿وَلِكُلِّ أُمَّةٍ جَعَلنا مَنسَكًا لِيَذكُرُوا اسمَ اللَّهِ عَلىٰ ما رَزَقَهُم مِن بَهيمَةِ الأَنعـٰمِ …﴿٣٤﴾﴾
ترجمہ: "اور ہر امت کے لیے ہم نے قربانی کے طریقے مقرر فرمائے ہیں تاکہ وہ ان چوپائے جانوروں پر اللہ کا نام لیں جو اللہ نے انہیں دے رکھے ہیں۔” [الحج 22۔34۔]

✔ اللہ کے نام پر جانور ذبح کرنا اور خون بہانا تمام شریعتوں میں مشروع رہا ہے۔

قربانی کے جانوروں کی دو قسمیں

① ہدی
✔ جو جانور (مثلاً اونٹ، گائے وغیرہ) حرم کی طرف لے جایا جائے اور وہیں ذبح کیا جائے، اسے ہدی کہتے ہیں۔
✔ اسے ہدی اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے لیے حرم میں پیش کیا جاتا ہے۔

② اُضحیہ
✔ وہ جانور جو عید کے دن اور ایامِ تشریق میں اللہ کے تقرب کے لیے ذبح کیا جائے، اسے اُضحیہ کہتے ہیں۔

افضل جانور اور ترجیح

✔ سب سے افضل قربانی اونٹ کی ہے، پھر گائے کی (بشرطیکہ ایک ہی شخص کی طرف سے ہو)، کیونکہ:
❀ یہ مہنگے ہوتے ہیں
❀ فقراء و مساکین کا فائدہ زیادہ ہوتا ہے
✔ پھر بکرے، مینڈھے یا دنبے کا درجہ ہے۔

✔ پھر ہر جنس میں وہ جانور افضل ہے جو:
❀ موٹا تازہ ہو
❀ زیادہ قیمتی ہو

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿ذ‌ٰلِكَ وَمَن يُعَظِّم شَعـٰئِرَ اللَّهِ فَإِنَّها مِن تَقوَى القُلوبِ ﴿٣٢﴾﴾
ترجمہ: "اور جو شخص اللہ کی نشانیوں کی تعظیم کرے تو بلا شبہ یہ دلوں کی پرہیزگاری کی وجہ سے ہے۔” [الحج 22۔32۔]

جانور کی عمر

✔ دنبہ یا مینڈھا جذع (چھ ماہ کا) ہو جائے تو اس کی قربانی جائز ہے۔
(جمہور کے نزدیک "جذع” ایک سال کے دنبے یا مینڈھے کو کہتے ہیں)
✔ البتہ اونٹ، گائے اور بکری کا دودانتا ہونا ضروری ہے۔
✔ واضح رہے:
◈ اونٹ چھٹے سال میں
◈ گائے تیسرے سال میں
◈ بکری/بھیڑ/دنبہ دوسرے سال میں داخل ہو جائے تو عموماً دودانتا ہو جاتا ہے۔

حج کی ہدی اور عید کی قربانی میں شراکت

✔ حج میں بطور ہدی بکری یا مینڈھا صرف ایک شخص کی طرف سے قربان ہو سکتا ہے۔
✔ جبکہ عید الاضحیٰ میں ایک بکری ایک شخص اور اس کے اہلِ خانہ کی طرف سے کافی ہے۔
✔ اونٹ اور گائے میں سات افراد شریک ہو سکتے ہیں۔ سیدنا جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے:

"أَنْ نَشْتَرِكَ فِي الْإِبِلِ وَالْبَقَرِ كُلُّ سَبْعَةٍ مِنَّا فِي بَدَنَةٍ”
ترجمہ: "(رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے) ہمیں حکم دیا کہ ہم اونٹ اور گائے کی قربانی میں سات سات افراد شریک ہو جائیں۔” [صحیح مسلم الحج باب بیان وجوہ الاحرام حدیث 1213۔ومسند احمد 3/292۔293۔]

✔ سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک آدمی اپنی اور اپنے اہلِ خانہ کی طرف سے ایک بکری ذبح کرتا، گھر والے خود بھی کھاتے اور دوسروں کو بھی کھلاتے تھے۔ [جامع الترمذی الاضاحی باب ماجاء ان الشاۃ الواحدۃ تجزی عن اھل البیت حدیث 1505۔وسنن ابن ماجہ الاضاحی باب من ضحی بشاۃ عن اھلہ حدیث 3147۔]

✔ واضح رہے کہ اونٹ یا گائے میں ساتواں حصہ لینے کی نسبت ایک مکمل بکری/بکرے کی قربانی افضل ہے۔

قربانی کے جانور کی صحت اور عیوب

✔ جانور کا صحت مند اور تندرست ہونا ضروری ہے:
❀ کمزور نہ ہو
❀ کانا/اندھا نہ ہو
❀ بیمار نہ ہو
❀ لنگڑا نہ ہو
❀ زیادہ بوڑھا نہ ہو

سیدنا براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"أَرْبَعٌ لَا تَجُوزُ فِي الضَّحَايَا : الْعَوْرَاءُ الْبَيِّنُ عَوَرُهَا ، وَالْمَرِيضَةُ الْبَيِّنُ مَرَضُهَا وَالْعَرْجَاءُ الْبَيِّنُ ضَلْعُهَا والكَسِيرُ الَّتِي لا تُنْقِي”
ترجمہ: "چار قسم کے جانوروں کی قربانی جائز نہیں: واضح کانا، واضح بیمار، واضح لنگڑا، اور ٹانگ ٹوٹا ہوا (بغیر گودے والا)۔” [سنن ابن داؤد الضحایا باب یکرہ من الضحایا حدیث :2802۔ وسنن النسائی الضحایا باب ما نھی عنہ من الاضاحی حدیث4374۔]

قربانی کا وقت

✔ قربانی کا وقت نمازِ عید کے بعد سے لے کر 13 ذوالحجہ کے غروبِ آفتاب تک ہے، اور یہی قول صحیح ہے۔

قربانی کے گوشت کی تقسیم

✔ حجِ تمتع/قران کی ہدی ہو یا عید الاضحیٰ کی قربانی—مستحب یہ ہے کہ گوشت کے تین حصے کیے جائیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

"فَكُلُوا مِنْهَا وَأَطْعِمُوا”
ترجمہ: "پس تم (خود) بھی کھاؤ اور (بھوکوں/فقیروں کو بھی) کھلاؤ۔” [الحج 22۔28۔ آیت سے قربانی کے گوشت کے تین حصے بنانے کا استدلال محل نظر ہے۔(صارم)]

✔ البتہ حج کے موقع پر کسی واجب کے ترک یا کسی ممنوع کام کے ارتکاب پر جو کفارے کی قربانی ہو، اس کے گوشت میں سے خود نہ کھائے۔

قربانی والے شخص کے بال و ناخن

✔ جو شخص قربانی کرنے کا ارادہ رکھتا ہو وہ ذوالحجہ کا چاند نظر آنے کے بعد سے قربانی کرنے تک اپنے بال اور ناخن نہ کاٹے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"من كان له ذِبح يذبحه فإذا أهل هلال ذي الحجة فلا يأخذنَّ من شعره ومن أظفاره شيئاً حتى يضحي "
ترجمہ: "جس کے پاس قربانی کا جانور ہو جسے وہ ذبح کرنا چاہتا ہو، جب ذوالحجہ کا چاند نظر آ جائے تو وہ قربانی کرنے تک نہ اپنے بالوں میں سے کچھ لے اور نہ اپنے ناخنوں میں سے کچھ۔” [صحیح مسلم الاضاحی باب نہی من دخل علیہ عشر ذی الحجہ حدیث (42)1977۔]

✔ اگر کسی نے قربانی سے پہلے بال یا ناخن کاٹ لیے تو وہ اللہ تعالیٰ سے استغفار کرے، اس پر کوئی فدیہ نہیں۔

عقیقہ کے مسائل

عقیقہ کی حقیقت اور حیثیت

✔ عقیقہ اولاد کے حقوق میں سے باپ کے ذمے ایک حق ہے، جس میں اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کے لیے ایک جانور (بکرا یا چھترا) ذبح کیا جاتا ہے۔
✔ عقیقہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا عقیقہ کیا، جیسا کہ سنن ابی داؤد میں ہے:

” أن رسول الله – صلى الله عليه وسلم – عق عن الحسن والحسين – رضي الله عنهما – كبشا كبشا….. في رواية النسائي «كبشين كبشين”
ترجمہ: "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا عقیقہ ایک ایک مینڈھا ذبح کر کے کیا۔” [سنن ابی داود الضحایا باب فی العقیقہ حدیث 2841۔]
سنن نسائی میں ہے: "آپ نے دو دو مینڈھے ذبح کیے۔” [سنن النسائی العقیقہ باب کم یعق عن الجاریہ حدیث4224اور یہی راجح ہے دیگر صحیح احادیث کے بھی موافق ہے۔ دیکھیے ارواء الغلیل 4/379۔(ع۔د)]

✔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور پھر تابعین بھی اپنی اولاد کے عقیقے کرتے رہے ہیں۔

عقیقہ واجب ہے یا سنت؟

✔ بعض اہلِ علم عقیقہ کو واجب کہتے ہیں۔ ان کی دلیل سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

” كل غلام مرتهن بعقيقته "
ترجمہ: "ہر بچہ اپنے عقیقہ کے ساتھ گروی ہے۔” [سنن ابن ماجہ الذبائح باب العقیقہ حدیث 3165۔]

✔ امام احمد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
"اس روایت کا مطلب یہ ہے کہ وہ بچہ اپنے والدین کے حق میں سفارش کرنے کا اہل نہ ہو گا جب تک اس کا عقیقہ نہیں کیا جاتا۔” [زاد المعاد 2/326۔]

✔ امام ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
"بچے کا عقیقہ اس کے حسن اخلاق اور اعلیٰ عادات کا سبب ہے۔”

✔ صحیح اور درست بات یہی معلوم ہوتی ہے کہ عقیقہ سنت مؤکدہ ہے۔
✔ عقیقے میں جانور ذبح کرنا اس کی قیمت صدقہ کرنے سے افضل ہے، کیونکہ:
❀ جانور ذبح کرنے میں قربِ الٰہی ہے
❀ فقراء پر صدقہ بھی ہے
❀ نومولود کے لیے فدیہ بھی ہے

عقیقہ میں جانور کی تعداد

✔ لڑکے کے عقیقے میں دو بکریاں ذبح کی جائیں، جو عمر اور شکل میں ایک جیسی ہوں۔
✔ لڑکی کے عقیقے میں ایک بکری ذبح کی جائے۔
سیدہ اُم کرز کعبیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا:

"عن الغلام شاتان مكافئتان وعن الجارية شاة "
ترجمہ: "لڑکے کی طرف سے عقیقے میں دو بکریاں ہوں جو ایک جیسی ہوں، اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری۔” [سنن ابی داود الضحایا باب فی العقیقہ حدیث 2836۔وجامع الترمذی الاضاحی باب الاذان فی اذن المولود حدیث 1516۔وسنن ابن ماجہ الذبائح باب العقیقہ حدیث 3162 واللفظ لہ۔]

✔ لڑکے اور لڑکی کے عقیقے کی مقدار میں فرق کی حکمت یہ بیان کی گئی ہے کہ بہت سے شرعی احکام میں لڑکی لڑکے سے نصف درجہ رکھتی ہے، نیز لڑکا والد کے لیے کامل نعمت ہے اور اس سے خوشی زیادہ ہوتی ہے، اس لیے شکر بھی زیادہ ہونا چاہیے۔

عقیقہ کا وقت اور نام رکھنا

✔ عقیقہ کے لیے افضل اور مسنون وقت ولادت کا ساتواں دن ہے، تاہم ساتویں دن سے پہلے یا بعد میں بھی عقیقہ ہو جائے تو جائز ہے۔
✔ ساتویں دن بچے کا نام رکھنا افضل ہے، جیسا کہ روایت میں ہے:

"تُذْبَحُ عَنْهُ يَوْمَ سَابِعِهِ وَيُسَمَّى ”
ترجمہ: "ساتویں دن اس کی طرف سے عقیقہ کیا جائے اور اس کا نام رکھا جائے۔” [وجامع الترمذی الاضاحی باب العقیقہ حدیث1522۔]

✔ اگر ولادت کے دن ہی نام رکھ دیا جائے تو بھی حرج نہیں، بلکہ بعض کے نزدیک بہتر ہے۔

اچھے نام رکھنے کی تاکید

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"إِنَّكُمْ تُدْعَوْنَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِأَسْمَائِكُمْ وَأَسْمَاءِ آبَائِكُمْ فَأَحْسِنُوا أَسْمَاءَكُمْ "
ترجمہ: "تم (قیامت کے دن) اپنے ناموں اور اپنے باپوں کے ناموں کے ساتھ پکارے جاؤ گے، لہٰذا اپنے نام اچھے رکھو۔” [ضعیف سنن ابی داؤد الادب باب فی تغیر الاسماء حدیث 4946وسلسلہ الاحادیث الضعیفہ حدیث 5460۔]

✔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اچھا نام پسند کرتے تھے اور جس نام میں غیر اللہ کی عبدیت ہو اسے حرام قرار دیتے تھے، مثلاً: عبدالکعبہ، عبدالنبی، عبدالمسیح، عبدعلی، عبدالحسین وغیرہ۔

✔ امام ابن حزم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
"اہل علم کا اس امر پر اتفاق ہے کہ ہر وہ نام رکھنا حرام ہے جس میں غیر اللہ کی طرف عبدیت کی نسبت ہو مثلاً: عبد عمر ، عبد الکعبہ وغیرہ۔ اسی طرح غیر مناسب نام رکھنا بھی مکروہ ہے مثلاً: عاصی، کلیب، حنظلہ، مرہ (کڑوا)، حزن (غم سخت)۔ اسی طرح اپنی اولاد کے وہ نام رکھنا جو برے اشخاص یا بری جگہوں کے ہوں مکروہ ہیں۔”

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"إِنَّ أَحَبَّ أَسْمَائِكُمْ إِلَى اللَّهِ عَبْدُ اللَّهِ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ”
ترجمہ: "اللہ کے نزدیک تمہارے ناموں میں سب سے محبوب عبد اللہ اور عبد الرحمن ہیں۔” [صحیح مسلم الادب باب النھی عن التکنی بابی القاسم حدیث2132۔]

✔ خلاصہ یہ کہ ہر مسلمان کو چاہیے کہ نومولود کا اچھا نام رکھے اور حرام و مکروہ ناموں سے بچے، کیونکہ یہ اولاد کا حق ہے۔ [بچوں کے نام رکھنے سے متعلق مکمل راہنمائی کے لیے کتاب "پیارے نام”کا مطالعہ فرمائیں نیز”اسلامی ناموں کی ڈکشنری طبع دارالسلام کا مطالعہ فرمائیں۔(ادارہ)]

عقیقہ کے جانور کی شرائط اور گوشت

✔ عقیقے میں وہی جانور کافی ہے جو قربانی میں کافی ہوتا ہے:
❀ مناسب عمر ہو (دودانتا ہونا ضروری نہیں)
❀ اچھا، صحت مند، عیب و مرض سے پاک ہو
❀ جسمانی طور پر مضبوط، کامل اور موٹا تازہ ہو

✔ عقیقے کا گوشت خود کھانا، کسی کو ہدیہ دینا اور صدقہ کرنا مستحب ہے۔
✔ بہتر یہ ہے کہ قربانی کے جانور کی طرح گوشت کے تین حصے کیے جائیں۔ [مؤلف رحمۃ اللہ علیہ نے اس سے متعلق کوئی دلیل پیش نہیں کی۔(صارم)]

عقیقہ میں شراکت کا حکم

✔ عقیقے کی قربانی میں شراکت درست نہیں، لہٰذا اونٹ یا گائے عقیقے میں پورا ذبح کیا جائے، کیونکہ عقیقہ جان کا فدیہ ہے جس میں شراکت درست نہیں۔
✔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے کسی سے ایسا ثابت نہیں۔ [ عقیقے میں اونٹ گائے کا ذبح کرنا کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں ۔ حدیث شریف میں صرف شاۃ کا ذکر ہے جس کا اطلاق بکری بکرے مینڈھے یا دنبے وغیرہ پر ہوتا ہے(صارم)]

اولاد کی تربیت سے متعلق نصیحت

✔ والدین کو چاہیے کہ وہ اولاد کی اچھی تربیت، حسن اخلاق اور اچھی عادات کی تشکیل میں خصوصی دلچسپی لیں، کیونکہ بچپن کی تربیت زیادہ مؤثر ہوتی ہے، ورنہ بڑی عمر میں اس کی تلافی مشکل ہو جاتی ہے۔
✔ بہت سے بچوں کے اخلاق و کردار کے بگاڑ کی وجہ یہی ہوتی ہے کہ بچپن میں صحیح تربیت نہیں کی جاتی۔ شاعر نے کہا:

وينشأ ناشئُ الفتيان منا
على ما كان عَّودهُ أبوهُ
ترجمہ: "نوجوان اسی ڈھنگ پر پروان چڑھتے ہیں جس طرح باپ نے انہیں عادت ڈالی ہو۔”

✔ اولاد کو غلط لہو و لعب اور برے دوستوں کی مجالس سے بچانا نہایت ضروری ہے۔
✔ والدین گھر میں اچھا ماحول فراہم کریں، کیونکہ بچے کا پہلا مدرسہ گھر ہوتا ہے۔
✔ بچوں میں خرابی کے اسباب گھروں سے دور رکھیں، مثلاً: مخرب اخلاق رسالے/ڈائجسٹ، فلمی گانے، فحش لطیفوں والی کیسٹیں، ٹی وی، وی سی آر، ڈش، کیبل وغیرہ جن میں فحش، لچر اور لا دینی پروگرام ہوتے ہیں۔

✔ مزید یہ کہ بچوں کی تربیت اس انداز سے ہو کہ ان کا دل و دماغ عبادات، اطاعت، احترامِ دین اور قرآن و حدیث کی تعلیم کی طرف مائل ہو جائے، کیونکہ یہی دنیا و آخرت کی سعادت کا ذریعہ ہے۔

✔ خلاصہ یہ کہ والد اور سرپرست پر لازم ہے کہ وہ خود اپنے بچوں کے اخلاق، معاملات اور عادات سنوارنے میں بہترین نمونہ بنے۔
✔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ایسے اعمال کی توفیق دے جو اسے محبوب اور پسند ہوں۔ آمین۔

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب