سوال:
اہل کتاب کی عورتوں سے نکاح کا کیا حکم ہے؟
جواب:
اہل کتاب کی پاکدامن عورتوں سے نکاح جائز ہے۔ اس پر قرآن، حدیث اور اجماع امت دلالت کناں ہیں، یہاں اہل کتاب سے مراد صرف یہود و نصاریٰ ہیں۔
❀ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
وَٱلْمُحْصَنَٰتُ مِنَ ٱلَّذِينَ أُوتُوا ٱلْكِتَٰبَ مِن قَبْلِكُمْ إِذَآ أَتَيْتُمُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ مُحْصِنِينَ غَيْرَ مُسَافِحِينَ وَلَا مُتَّخِذِىٓ أَخْدَانٍ
(سورة المائدة: 5)
اہل کتاب کی پاکدامن عورتیں (تمہارے لیے حلال کر دی گئی ہیں)، بشرطیکہ تم ان کا مہر ادا کرو، تمہارا مقصد پاکدامنی حاصل کرنا ہو، اعلانیہ زنا یا پوشیدہ طور پر آشنائی کی نیت نہ ہو۔
یہ کہنا کہ یہاں اہل کتاب کی عورتوں سے مراد وہ عورتیں ہیں، جو یہودیت اور نصرانیت چھوڑ کر مسلمان ہو گئیں، بے دلیل ہے، کیونکہ اس آیت سے پہلے مؤمن عورتوں کا ذکر گزر چکا ہے، تو یہاں اہل کتاب کی عورتوں کا الگ سے ذکر کرنے کا کیا مطلب؟
نیز عہد نبوی سے مسلمانوں کا متوارث اور متواتر عمل رہا ہے کہ وہ ہر دور میں اہل کتاب کی پاکدامن عورتوں سے نکاح کرتے رہے ہیں۔
❀ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
لما نزلت هذه الآية: ولا تنكحوا ٱلمشركٰت حتىٰ يؤمن، قال: فحجز الناس عنهن، حتى نزلت التى بعدها: وٱلمحصنٰت من ٱلذين أوتوا ٱلكتٰب من قبلكم، فنكح الناس من نساء أهل الكتاب
جب یہ آیت نازل ہوئی: تم مشرک عورتوں سے نکاح نہ کرو، جب تک وہ ایمان نہ لے آئیں، تو لوگ اہل کتاب کی عورتوں سے نکاح کرنے سے رک گئے، یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوگئی: تم سے پہلے اہل کتاب کی پاکدامن عورتوں سے نکاح جائز ہے، تو لوگ اہل کتاب کی عورتوں سے نکاح کرنے لگے۔
(تفسير ابن أبي حاتم، نقلاً عن تفسير ابن كثير: 42/3، المعجم الكبير للطبراني: 105/12، وسنده حسن)
❀ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے یہودی یا عیسائی عورت سے نکاح کے متعلق سوال کیا گیا، تو فرمایا:
تزوجوهن زمان الفتح بالكوفة مع سعد بن أبى وقاص، ونحن لا نكاد نجد المسلمات كثيرا، فلما رجعنا طلقناهن، قال: ونساؤهم لنا حل، ونساؤنا عليهم حرام
صحابہ کرام سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی موجودگی میں فتوحات کے دور میں کوفہ میں اہل کتاب کی عورتوں سے نکاح کرتے تھے۔ اس وقت مسلمان عورتوں کی کثرت نہیں تھی، جب ہم کوفہ سے واپس آئے تو اہل کتاب کی عورتوں کو طلاق دے دی۔ اہل کتاب کی عورتیں ہمارے لیے حلال ہیں، جبکہ ہماری عورتیں ان پر حرام ہیں۔
(مصنف عبد الرزاق: 12677، وسنده صحيح)
❀ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
تزوج طلحة رضى الله عنه يهودية
سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے ایک یہودیہ عورت سے نکاح کیا۔
(السنن الكبرى للبيهقي: 172/7، وسنده حسن)
❀ عبد اللہ بن عبد الرحمن انصاری اشہلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
إن حذيفة بن اليمان نكح يهودية
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے ایک یہودیہ عورت سے نکاح کیا۔
(السنن الكبرى للبيهقي: 172/7، وسنده حسن)
❀ ابو وائل شقیق بن سلمہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
تزوج حذيفة يهودية، فكتب إليه عمر: خل سبيلها، فكتب إليه: أتزعم أنها حرام، فأخلي سبيلها؟ فقال: لا أزعم أنها حرام، ولكن أخاف أن تعاطوا المومسات منهن
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے ایک یہودیہ عورت سے نکاح کیا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کی طرف خط لکھا کہ آپ اس سے علیحدگی اختیار کر لیں۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے جواباً لکھا: کیا آپ اسے حرام خیال کرتے ہیں، اس لیے علیحدگی اختیار کروں؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: میں اسے حرام تو خیال نہیں کرتا، البتہ مجھے خدشہ ہے کہ کہیں تم بدکار یہودی عورتوں سے نکاح نہ کر لو۔
(تفسير الطبري: 366/4، مصنف ابن أبي شيبة: 157/4/2، وسنده صحيح)
حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے اس کی سند کو صحیح کہا ہے۔
❀امام بیہقی رحمہ اللہ (458ھ) فرماتے ہیں:
هذا من عمر رضى الله عنه على طريق التنزيه والكراهة
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا یہ اقدام تنزیہی اور کراہت کی بنا پر تھا۔
(السنن الكبرى: 280/7، دار الكتب العلمية، بيروت، 2003ء)
صحابہ کے ان آثار سے تمام شبہات دور ہو جاتے ہیں، صحابہ نے یہودی اور نصرانی عورتوں سے نکاح کیا۔
❀ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ (774ھ) فرماتے ہیں:
قد تزوج جماعة من الصحابة من نساء النصارى ولم يروا بذلك بأسا، أخذا بهذه الآية الكريمة: وٱلمحصنٰت من ٱلذين أوتوا ٱلكتٰب من قبلكم، فجعلوا هذه مخصصة للآية التى فى البقرة: ولا تنكحوا ٱلمشركٰت حتىٰ يؤمن، إن قيل بدخول الكتابيات فى عمومها، وإلا فلا معارضة بينها وبينها؛ لأن أهل الكتاب قد يفصل فى ذكرهم عن المشركين فى غير موضع، كما قال تعالىٰ: لم يكن ٱلذين كفروا من أهل ٱلكتٰب وٱلمشركين منفكين حتىٰ تأتيهم ٱلبينة، وكقوله: وقل للذين أوتوا ٱلكتٰب وٱلأميين أسلمتم فإن أسلموا فقد ٱهتدوا
صحابہ کرام کی ایک جماعت نے عیسائی عورتوں سے نکاح کیا اور اس میں کوئی حرج خیال نہیں کیا۔ اگر اہل کتاب کی عورتوں کو سورة البقرة کی آیت: تم مشرک عورتوں سے نکاح نہ کرو جب تک وہ ایمان نہ لے آئیں، کے عموم میں داخل سمجھا جائے، تو صحابہ کرام نے انہیں اس آیت سے خاص سمجھا: تم سے پہلے جن لوگوں کو کتاب دی گئی، ان کی پاکدامن عورتوں سے نکاح کر سکتے ہو۔ اگر اہل کتاب کی عورتوں کو سورة البقرة والی آیت کے عموم میں داخل نہ سمجھا جائے تو دونوں آیات میں کوئی معارضہ ہے ہی نہیں، کیونکہ اور بھی بہت سی آیات میں عام مشرکین سے اہل کتاب کو الگ بیان کیا گیا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: جو لوگ کافر ہیں اہل کتاب میں سے اور مشرکین میں سے وہ کفر سے باز آنے والے نہ تھے جب تک کہ ان کے پاس کھلی دلیل نہ آتی۔ نیز فرمان باری تعالیٰ ہے: اہل کتاب اور ان پڑھ لوگوں سے کہو کہ تم بھی اللہ کے فرمانبردار بنتے اور اسلام لاتے ہو؟ اگر یہ لوگ اسلام لے آئیں تو بیشک ہدایت پا لیں گے۔
(سورة البينة: 1، سورة آل عمران: 20، تفسير ابن كثير: 42/3)
❀ حافظ ابن ملقن رحمہ اللہ (804ھ) فرماتے ہیں:
إن الإجماع وقع على إباحة نكاح الكتابيات لقوله تعالىٰ: وٱلمحصنٰت من ٱلذين أوتوا ٱلكتٰب، ولا جائز أن يقول: أراد بالمحصنات هنا اللواتي أسلمن من أهل الكتاب لأنهن مؤمنات، وقد تقدم ذكر المؤمنات قبله، فلا معنىٰ لذكره ذلك بعد، فوجب استعمال النص فى نساء أهل الكتاب مع ما استمر عليه عمل الصحابة فى زمنه إلىٰ يومنا هذا
اس پر اجماع واقع ہو چکا ہے کہ اہل کتاب کی عورتوں سے نکاح جائز ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: اہل کتاب کی پاکدامن عورتیں (تمہارے لیے حلال کر دی گئی ہیں)۔ یہ کہنا جائز نہیں کہ یہاں پاکدامن عورتوں سے مراد اہل کتاب کی وہ عورتیں ہیں، جو اسلام قبول کر چکی ہیں۔ کیونکہ جو اسلام قبول کر چکی ہیں، وہ مؤمن عورتیں ہیں اور مؤمن عورتوں کا ذکر (آیت میں) اس سے پہلے ہو چکا ہے، تو اسے دوبارہ یہاں ذکر کرنے کا کوئی معنی نہیں، لہذا نص کو اہل کتاب کی عورتوں کے بارے میں ہی سمجھا جائے گا، نیز اس پر عہد نبوی میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا عمل رہا ہے اور ہمارے زمانے تک اسی پر عمل ہو رہا ہے۔
(التوضيح: 342/25)
یاد رہے کہ اہل کتاب سے مراد وہ لوگ ہیں، جو کسی آسمانی کتاب پر ایمان رکھتے ہوں، ہمارے زمانے میں بہت سے یہودی اور نصرانی اب دہریے ہو چکے ہیں، وہ خالق کائنات کے وجود کو نہیں مانتے، ایسا عقیدہ رکھنے والی یہودی یا نصرانی نہیں ہو سکتی، لہذا اس سے نکاح جائز نہیں۔