اہل شرک کے مدارس کو زکوٰۃ: جائز یا ناجائز؟

ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال:

اہل شرک واہل بدعت کے مدارس کو زکوۃ دی، کیا حکم ہے؟

جواب:

اہل شرک اور اہل بدعت کے مدارس کوزکوۃ دینا جائز نہیں، یہ گناہ پر تعاون ہے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے:
وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَىٰ ۖ وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ
(5-المائدة:2)
” نیکی اور تقویٰ کے امور پر ایک دوسرے کی معاونت کیا کریں ، گناہ اور ظلم کے کام پر کسی کا ہاتھ نہ بٹایا کریں۔ “
سید نا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا حسد إلا فى اثنتين : رجل آتاه الله مالا فسلط على هلكته فى الحق، ورجل آتاه الله الحكمة فهو يقضي بها ويعلمها
دو طرح کے لوگ قابل رشک ہیں؛ ➊ وہ شخص جسے اللہ تعالیٰ نے مال و دولت سے نوازا ہو، وہ مال کو راہ حق میں خرچ کرتا ہو ➋ وہ شخص جسے اللہ تعالیٰ نے علم و حکمت سے نوازا ہو، جس کی روشنی میں وہ لوگوں کے مسائل کا حل پیش کرتا ہے اور اس کی تعلیم دیتا ہے۔“
(صحيح البخاري : 73 ، صحیح مسلم : (816)
❀ سید نا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من أحب لله، وأبغض لله، وأعطى لله، ومنع لله فقد استكمل الإيمان .
”جس نے کسی سے اللہ کے لیے محبت کی اللہ کے لیے بغض رکھا، اللہ کے لیے دیا اور اللہ کے لیے روکا، تو یقیناً اس نے ایمان کو مکمل کر لیا۔ “
(سنن أبي داود : 4681، وسنده حسن)

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے