سوال:
حوض کوثر کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟
جواب:
اہل سنت والجماعت اس عقیدہ پر متفق ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حوض حق ہے۔ صحیح اور متواتر احادیث میں اس کا ثبوت موجود ہے۔ خارجی اور بعض معتزلہ اس کے منکر ہیں۔ دراصل یہ جنت کا پانی ہوگا، جس سے مومنوں کی میزبانی ہوگی۔ اس کی مسافت ایک مہینے کی ہوگی، اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہوگا، اس کی بو کستوری سے زیادہ خوشبودار ہوگی، اس کے آب خورے سونے اور چاندی کے ہوں گے، جن کی گنتی آسمان کے ستاروں کے مانند ہوگی۔ جو اس سے پی لے گا، اسے کبھی پیاس نہیں لگے گی۔ اللہ تعالیٰ جنت میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حوض عطا فرمائیں گے، جس کا نام الکوثر ہوگا۔ حوض سے صرف مومنین پئیں گے، جبکہ بدعتی اور ظالم اس کی طرف لپکیں گے، تو انہیں روک دیا جائے گا۔ جو بھی اس کا منکر ہوگا، وہ اس سے محروم ہوگا، ان شاء اللہ!
❀ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ
(سورہ الکوثر: 1)
اے نبی! ہم نے آپ کو کوثر عطا کیا۔
❀ علامہ ابوالعباس قرطبی رحمہ اللہ (656ھ) فرماتے ہیں:
مما يجب على كل مكلف أن يعلمه ويصدق به أن الله تعالى قد خص نبيه محمدا صلى الله عليه وسلم بالكوثر الذى هو الحوض المصرح باسمه وصفته وشرابه وآنيته فى الأحاديث الكثيرة الصحيحة الشهيرة التى يحصل بمجموعها العلم القطعي واليقين التواتري إذ قد روى ذلك عن النبى صلى الله عليه وسلم من الصحابة نيف على الثلاثين منهم فى الصحيحين نيف على العشرين وباقيهم فى غيرهما مما صح نقله واشتهرت روايته ثم قد رواها عن الصحابة من التابعين أمثالهم … وأجمع عليه السلف وأهل السنة من الخلف وقد أنكرته طائفة من المبتدعة وأحالوه عن ظاهره وغلوا فى تأويله من غير إحالة عقلية ولا عادية تلزم من إقراره على ظاهره وحقيقته ولا منازعة سمعية ولا نقلية تدعو إلى تأويله خرق به إجماع السلف وفارق به مذهب أئمة الخلف
ہر مکلف پر اس بات کا جان لینا اور اس کی تصدیق کرنا واجب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خصوصی حوض عطا فرمایا ہے۔ صحیح احادیث میں اس کا نام، اس کی صفات، اس کے پانی اور برتنوں کا ذکر موجود ہے۔ یہ احادیث اتنی زیادہ اور مشہور ہیں کہ ان سے علم قطعی اور یقین تواتری حاصل ہوتا ہے۔ یہ احادیث تقریباً تیس سے زائد صحابہ رضی اللہ عنہم نے بیان کی ہیں، ان میں سے بیس سے زائد بخاری و مسلم میں ہیں اور باقی دوسری کتابوں میں، جن کی سندیں صحیح اور متواتر ہیں۔ پھر اس کے بعد اتنے ہی تابعین رحمہم اللہ نے بیان کیا۔ اس بات پر سلف اور بعد والے اہل سنت کا اجماع ہے۔ بعد میں پھر اہل بدعت نے اس کا انکار کیا، اسے ظاہر سے پھیر دیا، اس کی تاویل میں غلو کیا اور ایسی تاویلات کیں جو بنتی ہی نہ تھیں، غیر عقلی تاویلات۔ ان کی تاویلات کا ذکر کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ انہوں نے سلف کے اجماع کی مخالفت کی اور ائمہ خلف کے مذہب سے جدا ہو گئے۔
(المفهم: 90/6)