مضمون کے اہم نکات
سوال
اہل حدیث کہلانے کے متعلق کچھ وضاحت کریں؟
جواب
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
درست اسلام پر وہی ہے اور شریعت کا پیروکار بھی وہی ہے جو قرآن و حدیث پر عمل کرتا ہے۔ قرآن و حدیث میں فرقہ بندی سے سختی کے ساتھ منع فرمایا گیا ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ:
﴿وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّـهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا﴾ (آل عمران: ١٠٣)
"اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور پھوٹ نہ ڈالو۔”
فرقہ بندی کی مذمت
آج کل جو مختلف نام جیسے:
◈ حنفی
◈ شافعی
◈ مالکی
◈ حنبلی
◈ دیوبندی
◈ بریلوی
وغیرہ کے فرقے بنا لیے گئے ہیں، یہ سب دراصل اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی مخالفت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرقہ بندی کی ہرگز اجازت نہیں دی۔ یہ لوگوں کی ایجاد ہے اور ایک بری بدعت ہے، جسے کسی صورت پسندیدہ نہیں کہا جا سکتا۔
اللہ تعالیٰ نے ہمیں "مسلمان” نام دیا ہے۔ البتہ جب کوئی گمراہ فرقوں سے امتیاز کرنے کے لیے پوچھے تو کہنا کافی ہے کہ ہم اہلِ حدیث مسلک کے ہیں۔ یعنی ہم وہ ہیں جو قرآن و حدیث پر عمل کرنے والے ہیں۔
قرآن میں لفظ "حدیث” کا استعمال
قرآنِ کریم میں "حدیث” کا لفظ خود قرآن کے لیے بھی استعمال ہوا ہے:
◈ ﴿فَبِأَىِّ حَدِيثٍۭ بَعْدَهُۥ يُؤْمِنُونَ﴾ (الاعراف:١٨٥)
"پھر اب یہ اس کے بعد کس بات پر ایمان لائیں گے؟”
◈ ﴿فَلْيَأْتُوا۟ بِحَدِيثٍ مِّثْلِهِۦٓ إِن كَانُوا۟ صَـٰدِقِينَ﴾ (الطور:٣٤)
"اچھا اگر یہ سچے ہیں تو اس جیسی ایک بات یہ بھی تو لے آئیں؟”
اسی طرح رسول اللہ ﷺ کے کلام کو بھی قرآن نے "حدیث” کہا ہے:
◈ ﴿وَإِذْ أَسَرَّ ٱلنَّبِىُّ إِلَىٰ بَعْضِ أَزْوَٰجِهِۦ حَدِيثًا﴾ (التحريم:٣)
"اور یاد کرو جب نبی ﷺ نے اپنی بعض بیویوں سے ایک پوشیدہ بات کہی۔”
حدیث شریف میں بھی "حدیث” کا لفظ قرآن اور رسول اللہ ﷺ کی احادیث دونوں کے لیے استعمال ہوا ہے۔ لہٰذا "اہلِ حدیث” سے مراد وہ لوگ ہیں جو قرآن و حدیث پر عمل کرنے والے ہیں۔
لفظ "اہل حدیث” کا مقصد
یاد رکھنا چاہیے کہ یہ لفظ صرف امتیاز کے لیے استعمال ہوتا ہے، فرقہ بندی کے لیے نہیں۔ اصل میں ہمارا نام "مسلم” یا "مسلمون” ہے۔
اب اگر کوئی غیر مسلم جاننا چاہے کہ حق پر کون ہے تو آسان راستہ یہ ہے کہ وہ قرآن اور احادیث صحیحہ کے تراجم کا مطالعہ کرے۔ آج یہ تراجم سندھی، اردو، اور انگریزی سمیت کئی زبانوں میں دستیاب ہیں۔
اگر کوئی غیر مسلم تعصب چھوڑ کر صرف حق کی تلاش میں خالی ذہن کے ساتھ ان تراجم کو پڑھے تو اسے خود معلوم ہو جائے گا کہ:
◈ حق قرآن و حدیث کے ساتھ ہے یا
◈ حنفی، مالکی، شافعی، حنبلی کی طرف ہے یا
◈ بریلوی یا دیوبندی جیسے فرقوں کی طرف ہے؟
قرآن کی ہدایت کی ضمانت
جو شخص اخلاص کے ساتھ حق تلاش کرے گا، اللہ تعالیٰ اس کی رہنمائی ضرور فرمائے گا۔
ارشاد باری تعالیٰ:
﴿وَٱلَّذِينَ جَـٰهَدُوا۟ فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا ۚ وَإِنَّ ٱللَّهَ لَمَعَ ٱلْمُحْسِنِينَ﴾ (العنكبوت:٦٩)
"اور جو لوگ ہماری راہ میں سختیاں برداشت کرتے ہیں ہم انھیں اپنی راہیں ضرور دکھاتے ہیں، یقیناً اللہ تعالیٰ نیکوکاروں کے ساتھ ہے۔”
نتیجہ
حق کے متلاشی کو کسی فرقے کے پیچھے جانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ بلکہ سیدھا قرآن و حدیث کا مطالعہ کرے اور تمام فرقوں کا ان کے ساتھ موازنہ کرے، تو ان شاء اللہ حق واضح ہو جائے گا۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب