مضمون کے اہم نکات
اہل حدیث پر منسوخ روایات پر عمل کے الزام کا علمی و تحقیقی جائزہ
سوال کی تفصیل:
الیاس گھمن صاحب نے اپنی تقریر میں دعویٰ کیا ہے کہ:
◈ اہل حدیث منسوخ روایات پر عمل کرتے ہیں۔
◈ دیوبندی حضرات ناسخ روایات پر عمل کرتے ہیں۔
◈ ان کا کہنا ہے کہ محدثین کرام رحمہم اللہ علیہم نے اپنی کتب احادیث میں پہلے منسوخ روایات ذکر کی ہیں اور بعد میں ناسخ روایات کو لائے ہیں۔
◈ بطور مثال انہوں نے ذکر کیا:
❀ پہلے رفع یدین کرنے کی روایات، پھر رفع یدین نہ کرنے کی روایات لائی گئی ہیں۔
❀ پہلے فاتحہ خلف الامام پڑھنے کی روایات، بعد میں نہ پڑھنے کی۔
اس بنیاد پر انہوں نے اصول اخذ کیا کہ اہل حدیث منسوخ پر عمل کرتے ہیں، جبکہ دیوبندی ناسخ پر۔ سوال کیا گیا ہے کہ آیا یہ اصول واقعی جمہور محدثین کا اصول ہے؟ اور کیا واقعی اہل حدیث اس اصول کے خلاف چلتے ہیں جبکہ دیوبندی اس پر عمل کرتے ہیں؟
جواب: گھمن صاحب کا اصول بے بنیاد اور من گھڑت ہے
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
الیاس گھمن صاحب کا دعویٰ اور پیش کردہ اصول متعدد وجوہات سے باطل اور محدثین کرام کے طریقہ کار کے خلاف ہے۔ ذیل میں دس (10) واضح دلائل دیے جا رہے ہیں جو گھمن صاحب کے اصول کو رد کرتے ہیں:
1۔ سنن ابی داود: جہر اور عدمِ جہر کے ابواب
◈ پہلا باب: "باب من لم ير الجهر ب بسم الله الرحمن الرحيم”
(سنن ابی داؤد: ص122 قبل ح782)
◈ بعد والا باب: "باب من جهر بها”
(سنن ابی داؤد: ص122 قبل ح786)
→ اگر گھمن صاحب کا اصول مان لیا جائے تو سراً بسم اللہ پڑھنا ناسخ ہوگا اور جہراً پڑھنا منسوخ۔ کیا وہ اس کے قائل ہیں؟
نوٹ: امام ترمذی رحمہ اللہ نے بھی اسی ترتیب سے ابواب باندھے ہیں۔
(سنن الترمذی: ص67۔28، قبل ح244، 245)
2۔ سنن ترمذی: وتر کی تعداد
◈ پہلا باب: "باب ما جاء في الوتر بثلاث”
(سنن الترمذی: ص122 قبل ح459)
◈ دوسرا باب: "باب ما جاء في الوتر بركعة”
(سنن الترمذی: قبل ح461)
→ کیا گھمن صاحب تین وتر کو منسوخ اور ایک وتر کو ناسخ سمجھ کر عمل کریں گے؟
3۔ سنن ابن ماجہ: قبلہ رخ پیشاب
◈ پہلا باب: "بَاب فِي النَّهْيِ عَنِ اسْتِقْبَالِ الْقِبْلَةِ…”
(سنن ابن ماجہ: ص48 قبل ح317)
◈ بعد والا باب: "باب الرخصة في ذلك في الكنيف…”
(سنن ابن ماجہ: ص49 قبل ح322)
→ کیا گھمن صاحب پہلے باب کی ممانعت کو منسوخ کہیں گے؟
4۔ سنن النسائی: رکوع کی تسبیحات
◈ پہلا باب: "باب الذكر في الركوع”
(سنن النسائی: ص144 قبل ح1047)
◈ دوسرا باب: "باب الرخصة في ترك الذكر في الركوع”
(سنن النسائی: ص145 قبل ح1054)
→ کیا رکوع کی تسبیحات منسوخ ہیں؟ گھمن صاحب واضح کریں۔
5۔ مصنف ابن ابی شیبہ: ہاتھ باندھنے اور چھوڑنے کے ابواب
◈ پہلا باب: "وضع اليمين على الشمال”
(مصنف ابن ابی شیبہ: 1/390 قبل ح3933)
◈ بعد والا باب: "باب من كان يرسل يديه في الصلاة”
(مصنف ابن ابی شیبہ: ج1 ص391 قبل ح3949)
→ کون سا باب منسوخ ہے؟ دیوبندی حضرات فیصلہ کریں۔
6۔ سنن النسائی: عصر کے بعد نفل نماز
◈ پہلا باب: "النهي عن الصلاة بعد العصر”
(سنن النسائی: ص78 قبل ح567)
◈ بعد والا باب: "الرخصة في الصلاة بعد العصر”
(سنن النسائی: ص79 قبل ح574)
→ کیا گھمن صاحب نماز کے بعد ممانعت کو منسوخ سمجھتے ہیں؟
7۔ سنن ابی داود: وضوء کا طریقہ
◈ پہلا باب: "باب الوضوء ثلاثا ثلاثا”
(سنن ابی داؤد: ص29 قبل ح135)
◈ دوسرا باب: "باب الوضوء مرة مرة”
(سنن ابی داؤد: ص30 قبل ح138)
→ کیا تین بار دھونا منسوخ ہے؟
8۔ سنن النسائی: سجدوں کی تسبیحات
◈ پہلا باب: "عدد تسبيح في السجود”
(سنن النسائی: ص157 قبل ح1136)
◈ بعد والا باب: "باب الرخصة في ترك الذكر في السجود”
(سنن النسائی: ص157 قبل ح1137)
→ کیا تسبیحاتِ سجدہ منسوخ ہیں؟
9۔ مصنف ابن ابی شیبہ: گاؤں میں جمعہ
◈ پہلا باب: "لا جمعة ولا تشريق إلا في مصر جامع”
(مصنف ابن ابی شیبہ: 2/101 قبل ح5059)
◈ بعد والا باب: "من كان يرى الجمعة في القرى وغيرها”
(مصنف ابن ابی شیبہ: ج2 ص101-102 قبل ح5068)
→ کیا پہلی روایت منسوخ ہے؟
10۔ نماز جنازہ میں تکبیریں
◈ پہلا باب: "من كبر أربعا”
(مصنف ابن ابی شیبہ: 3/299 قبل ح11416)
◈ بعد والا باب: "من كان يكبر على الجنازة خمسا”
(مصنف ابن ابی شیبہ: 3/302 قبل ح11447)
→ کیا گھمن صاحب چار تکبیروں کو منسوخ کہنے کی جرات رکھتے ہیں؟
دیگر مثالیں:
◈ سنن النسائی: پہلے گھٹنے ٹیکنے کی روایت (ضعیف)، پھر ہاتھ پہلے لگانے والی احادیث۔
(سنن النسائی: ص150-151، قبل ح1090، 1091، 1092)
◈ سنن ابی داود: آگ پر پکا ہوا کھانا کھانے سے وضو کے ترک و وجوب کے الگ الگ ابواب۔
(ح187-193، ح194-195)
→ ثابت ہوا کہ ابواب کی ترتیب ناسخ و منسوخ کی دلیل نہیں بنتی۔
دیوبندی خود منسوخ روایات پر عمل کرتے ہیں
مثال 1: نماز فجر اندھیرے یا روشنی میں
◈ حدیث:
"ما صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم الصلاة لوقتها الآخر حتى قبضه الله”
(المستدرک للحاکم 1/190 ح682)
→ دیوبندی حضرات رمضان کے علاوہ خوب روشنی میں فجر پڑھتے ہیں جو منسوخ وقت ہے۔
مثال 2: فاتحہ خلف الامام
◈ حدیث:
"وإذا قرأ فأنصتوا”
(صحیح مسلم: 404، دارالسلام 905)
◈ جبکہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس کے برخلاف خلف الامام قراءت کا عمل ثابت ہے۔
(جزء القراء للبخاری: 153، آثار السنن: 358)
→ حنفی اصول کے مطابق یہ روایت منسوخ ہونی چاہیے لیکن دیوبندی حضرات اسے بطور دلیل استعمال کرتے ہیں۔
کیا صحابہ منسوخ پر عمل کر رہے تھے؟
◈ سیدنا عمر، ابو ہریرہ، عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہم فاتحہ خلف الامام کے قائل و فاعل تھے۔
(الکواکب الدریہ: ص24-27)
◈ حافظ ابن البر رحمہ اللہ:
"علما کا اجماع ہے کہ جو امام کے پیچھے قراءت کرتا ہے اس کی نماز مکمل ہے۔”
(الاستذکار: 2/193، الکواکب الدریہ: ص31)
→ کیا یہ سب منسوخ پر عمل کرتے تھے؟
رفع یدین منسوخ نہیں
دلائل:
➊ نبی کریم ﷺ سے کسی ایک نماز میں رفع یدین کا ترک باسند صحیح ثابت نہیں۔
➋ کسی صحابی سے بھی ترک رفع یدین باسند صحیح ثابت نہیں۔
➌ عبدالحئی لکھنوی: منسوخیت کا دعویٰ بے دلیل۔
(التعلیق الممجد: ص91)
➍ انور شاہ کشمیری: رفع یدین متواتر اور غیر منسوخ ہے۔
(نیل الفرقدین: ص22)
➎ ابو الحسن سندھی، بدر عالم میرٹھی، شاہ ولی اللہ دہلوی وغیرہ بھی رفع یدین کو غیر منسوخ مانتے ہیں۔
➏ اشرف علی تھانوی: "رفع یدین جائز ہے۔”
(امداد الفتاوی: ج1 ص148 سوال نمبر208)
➐ محمد منظور نعمانی: "دونوں طریقے (رفع و ترک) جائز ہیں۔”
(معارف الحدیث: ج3 ص265)
→ ان حوالوں سے ثابت ہوا کہ دیوبندی اکابر بھی رفع یدین کو منسوخ نہیں مانتے۔
نتیجہ:
الیاس گھمن صاحب کا اصول کہ محدثین نے پہلے منسوخ اور بعد میں ناسخ روایات ذکر کیں، مکمل طور پر غلط، باطل اور بے بنیاد ہے۔ ان کا اہل حدیث پر منسوخ روایات پر عمل کا الزام بھی غلط بیانی اور جھوٹ ہے۔ یہ اصول خود ان کے اکابر اور دیوبندیوں کے عمل سے بھی متصادم ہے۔
"اپنے ہی اصولوں کو توڑنا مذہبی خودکشی کی بدترین مثال ہے۔”