مضمون کے اہم نکات
اہل حدیث پر کیے گئے الزامات کا تحقیقی و دلائل پر مبنی جواب
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿وَإِذَا قُلْتُمْ فَاعْدِلُوا﴾
"اور جب بات کرو تو انصاف سے کرو”
(سورۃ الانعام: 152)
نیز فرمایا:
﴿إِن جَآءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوۤاْ﴾
"اگر تمھارے پاس کوئی فاسق خبر لائے تو اس کی تحقیق کر لیا کرو”
(سورۃ الحجرات: 6)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"إِنَّ اللَّهَ لَا يَقْبِضُ الْعِلْمَ انْتِزَاعًا يَنْتَزِعُهُ مِنَ الْعِبَادِ وَلَكِنْ يَقْبِضُ الْعِلْمَ بِقَبْضِ الْعُلَمَاءِ حَتَّى إِذَا لَمْ يُبْقِ عَالِمًا اتَّخَذَ النَّاسُ رُءُوسًا جُهَّالًا فَسُئِلُوا فَأَفْتَوْا بِغَيْرِ عِلْمٍ فَضَلُّوا وَأَضَلُّوا”
بے شک اللہ تعالیٰ علم کو لوگوں سے کھینچ کر نہیں اٹھائے گا بلکہ وہ علماء کو فوت کر کے علم اٹھائے گا حتی کہ جب کوئی عالم نہیں رہے گا تو لوگ جاہلوں کو اپنے پیشوا بنالیں گے پھر ان سے مسئلے پوچھے جائیں گے تو وہ بغیر علم فتوے دیں گے وہ خود بھی گمراہ ہوں گے اور لوگوں کو بھی گمراہ کریں گے۔
(صحیح بخاری ج1 ص20 ح100، صحیح مسلم ج2 ص340 ح2673، ترقیم دارالسلام: 6796)
ان دلائل سے درج ذیل نکات سامنے آتے ہیں:
- ◈ فتویٰ دینے سے قبل سوال کی تحقیق ضروری ہے، خاص کر جب کسی پر الزام ہو۔
- ◈ بغیر علم کے فتویٰ دینا حرام ہے۔
- ◈ عدل و انصاف کے ساتھ غیر جانب دار ہو کر فتویٰ دینا چاہیے۔
- ◈ عوام کو چاہیے کہ وہ قرآن و حدیث کے عالم، صحیح العقیدہ مفتیوں سے رجوع کریں اور جاہلوں سے دور رہیں۔
اب اہل حدیث پر وارد کیے گئے الزامات کا تحقیقی و دلائل سے مفصل جواب پیش کیا جاتا ہے:
1۔ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کو نہ ماننے کا مطلب
- ◈ اگر "نہ ماننے” سے مراد یہ ہے کہ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا وجود، علم اور مرتبہ تسلیم نہیں کرتے، تو یہ سراسر جھوٹ ہے۔ اہل حدیث ان کو عالم مانتے ہیں اور ان کے وجود پر متواتر دلائل موجود ہیں۔
مثال:
- ◈ التاریخ الکبیر للبخاری 8/81 ت2253
- ◈ کتاب الکنیٰ للإمام مسلم، مخطوط مصور ص31/107
امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا قول:
"ما رأيت أحدا أكذب من جابر الجعفي ولا أفضل من عطاء بن أبي رباح”
"میں نے جابر الجعفی سے زیادہ جھوٹا کوئی نہیں دیکھا اور عطاء بن ابی رباح سے زیادہ افضل کوئی نہیں دیکھا۔
(علل الترمذی مع شرح ابن رجب ج1 ص69)
- ◈ اگر "نہ ماننے” سے مراد ان کی تقلید نہ کرنا ہے تو اہل حدیث اس بات کو تسلیم کرتے ہیں، جیسا کہ امام شافعی، امام مالک، امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ نے بھی تقلید کی مخالفت کی ہے۔
دلائل:
- ◈ کتاب الام للمزنی ص1
- ◈ آداب الشافعی لابن ابی حاتم ص51، سندہ حسن
- ◈ مسائل ابی داؤد ص277
- ◈ مجموع فتاوی ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ ج20 ص10
اہل تقلید کی بھی اپنے امام سے مکمل تقلید نہیں:
- ◈ نماز جنازہ میں امام کی پوزیشن کا مسئلہ (الہدایہ ج1 ص181)
- ◈ زمین بٹائی پر دینا (الہدایہ 2/424)
- ◈ منقود الخبر کی بیوی کا انتظار (الہدایہ 1/623)
- ◈ انڈا بیچنے کا مسئلہ (الہدایہ 2/54)
- ◈ اجرت پر اذان و امامت (الہدایہ 2/303)
کفایت اللہ دہلوی دیوبندی کا فتویٰ:
“اہل حدیث مسلمان ہیں اور اہل سنت والجماعت میں داخل ہیں… محض ترک تقلید سے اسلام میں فرق نہیں پڑتا”
(کفایت المفتی ج1 ص325 جواب نمبر370)
2۔ وضو اور نیند کے متعلق اہل حدیث کا موقف
اہل حدیث کا مؤقف یہ ہے کہ:
- ◈ ہوا کے خارج ہونے سے وضو ٹوٹتا ہے چاہے آواز ہو یا نہ ہو، بدبو ہو یا نہ ہو، دبر سے ہو یا قبل سے۔
(ماہنامہ الحدیث 2 ص29، جولائی 2004ء) - ◈ نیند سے وضو ٹوٹنے کے قائل ہیں۔
دلیل:
- ◈ سنن الترمذی 3535 وقال: حسن صحیح
- ◈ مختصر صحیح نماز نبوی، طبع سوم ص8 فقرہ 13
3۔ آٹھ رکعات تراویح کا مسئلہ
اہل حدیث آٹھ رکعات کو سنت قرار دیتے ہیں، اور یہ بات خود حنفی علماء نے بھی تسلیم کی ہے:
- ◈ ابن ہمام: "قیام رمضان گیارہ رکعات مع وتر سنت ہے” (فتح القدیر ج1 ص407)
- ◈ ابن نجیم: "آٹھ رکعتیں مسنون اور بارہ مستحب” (البحر الرائق ج2 ص67)
- ◈ طحطاوی: "نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آٹھ رکعتیں پڑھی ہیں” (حاشیہ الطحطاوی علی الدر المختار ج1 ص295)
- ◈ خلیل احمد سہارنپوری دیوبندی: "آٹھ رکعت سنت مؤکدہ بالااتفاق” (براہین قطعہ ص195)
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے محبت:
اہل حدیث سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو جلیل القدر صحابی اور جنتی مانتے ہیں، ان سے محبت کو جزو ایمان قرار دیتے ہیں۔
(جنت کا راستہ ص4، علمی مقالات ج1 ص27)
سند صحیح سے روایت:
"عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ابی بن کعب اور تمیم داری کو گیارہ رکعات کے ساتھ نماز پڑھانے کا حکم دیا”
(موطا امام مالک ج1 ص114، آثار السنن ص250 ح775، دوسرا نسخہ ص392)
4۔ منی کے پاک یا ناپاک ہونے پر اختلاف
- ◈ اس مسئلے میں اختلاف موجود ہے۔
- ◈ محمد تقی عثمانی دیوبندی: "حضرت ابن عمر، ابن عباس، امام شافعی اور امام احمد کے نزدیک منی طاہر ہے” (درس ترمذی ج1 ص346)
- ◈ اہل حدیث کے نزدیک منی ناپاک ہے جیسا کہ فتاویٰ علمیہ جلد1 ص671 میں واضح کیا گیا۔
نتیجہ
- ◈ اہل حدیث پر جو الزامات لگائے گئے، وہ یا تو سراسر جھوٹ ہیں یا سیاق و سباق سے ہٹے ہوئے بیانات ہیں۔
- ◈ دیوبندی مفتیوں کا فتویٰ غیر تحقیق شدہ، غیر عادلانہ، اور عدل و علم کے اصولوں کے خلاف ہے۔
- ◈ قرآن و حدیث کی روشنی میں فتویٰ دیا جانا چاہیے نہ کہ تعصب اور اندھی تقلید کی بنیاد پر۔