مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

اہل حدیث اور نئی جماعت بنانے یا شامل ہونے کا شرعی حکم

فونٹ سائز:
ماخوذ: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام ومسائل، جلد 01، صفحہ 595

سوال

اہل حدیثوں میں اگر کوئی شخص نئی جماعت قائم کرنا چاہے یا کسی جماعت میں شامل ہو جائے، اور وہ جماعت خالص اللہ کی رضا کے لیے بنائی گئی ہو، تو کیا ایسی جماعت میں شامل ہو جانا درست ہے یا نہیں؟ دوسری طرف قرآن میں یہ بھی بیان ہوا ہے کہ فرقہ بندی نہ کرو۔ براہ کرم قرآن و حدیث کی روشنی میں وضاحت فرمائیں۔

جواب

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

آپ نے خود ہی سوال میں ذکر کیا ہے:

’’قرآن میں آتا ہے فرقہ بازی نہ کرو‘‘

اسی طرح حدیث میں بھی یہ بیان ہوا ہے:

{فَاعْتَزِلْ تِلْکَ الْفِرَقَ کُلَّہَا}
*\[پس تم ان تمام گروہوں سے علیحدہ رہو]*
[مسلم کتاب الامارت، باب وجوب ملازمة جماعة المسلمین عند ظہور الفتن وفی کل حال]

آپ بخوبی جانتے ہیں کہ اہل حدیث کا طریقہ یہی ہے کہ وہ صرف اور صرف قرآن و حدیث کی اتباع کرتے ہیں۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔